میڈم نور جہاں’ ستو کنجری اور باوا مست شاہ ۔۔سبطِ حسن گیلانی

پچھلے دنوں ایک معروف آن لائن اردو ویب سائٹ پر ایک مضمون شائع ہوا ۔میڈم نور جہاں یا فتور جہاں ۔ یہ کسی مذہبی انتہا پسند مولوی کے قلم کا فتور تھا جس نے اپنی کم علمی و کم فہمی و تعصب کا کھل کر اظہار کیا ۔اسے یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ کسی کے فن اور ذاتی زندگی میں بہت فرق ہوتا ہے۔یہ دو الگ الگ چیزیں ہوتی ہیں ۔اپنے قلم سے اعلیٰ درجے کا مزاح تخلیق کرنے والا ذاتی زندگی میں انتہائی سرد مزاج واقع ہو سکتا ہے ۔ انسانی اخلاق و کردار پر صبح و شام قلم گھسانے والا ذاتی زندگی میں انتہائی کمینہ صفت ثابت ہو سکتا ہے ۔ جبہ و دستار میں لپٹا ہوا مذہبی رہنما اپنی ذاتی زندگی میں انتہائی بدکردار ہو سکتا ہے ۔اسی طرح گناہ سمجھے جانے والے پیشوں سے منسلک لوگوں کے درمیان کوئی نیکو کار بھی ہو سکتا ہے ۔کون زیادہ گناہ گار ہے اور کون کم ؟ روز حساب کس کے گناہوں کا وزن زیادہ ہوگا اور کس کی نیکیوں کا؟ یہ کام صاحب میزان پر چھوڑ دیا جاے تو زیادہ مناسب ہے ۔مگر کم ہی اسے سمجھ پاتے ہیں ۔نور جہاں کے گناہ کتنے بھی زیادہ ہوئے تو ہم امید کر سکتے ہیں کہ پوری پوری قوم کو دہشت گردی کی آگ میں جھونکنے والے آمروں، لوگوں کے بچے جہاد کے نام پر مروا کر ان کے خاندانوں کو برباد کرنے والے مذہبی رہنماؤں، اور سیاست کے نام پر لوگوں کے بچوں کے منہ سے نوالہ چھین کر اپنے بچوں کا مستقبل سنوارنے والے سیاسی رہنماؤں، مذہب کو جنس بازار بنا کر منہ مانگے داموں پر فروخت کرنے والے ذاکروں خطیبوں نعت خوانوں عاملوں پیروں اور واعظوں کے گناہوں کے مقابلے میں بہت کم وزن ثابت ہوں گے ۔

میرے ننھیال کے خاندان میں ایک فقیر درویش ہو گزرے ہیں ۔نام اصلی ان کا کیا تھا معلوم نہیں مگر سب لوگ انہیں باوا مست شاہ کہتے تھے ۔وہ سارے علاقے میں اسی نام سے مشہور تھے ۔کبھی ایک جگہ ٹک کر نہیں بیٹھتے تھے ۔کسی پر بوجھ نہیں بنتے تھے ۔ایک جوڑا پہنا ہوا اور دوسرا گٹھڑی میں بندھا ہوا ساتھ ۔ ایک آدھ صابن کی ٹکیہ بچوں کے لیے کچھ ٹافیاں ہاتھ میں کہو کے درخت کی چھڑی اور جیب میں کپڑے کی دو گتھیاں ایک میں تمباکو اور دوسری میں کچھ روپے اور کچھ ریزگاری اور اکثر جوتوں سے بے نیاز ۔اس اثاثے یا زادراہ کے ساتھ یہ تھے باوا مست شاہ سرکار ۔

اپنے حصے کی زمیںن بھائیوں کے حوالے کر رکھی تھی ،وہ ڈھونڈھ دھانڈھ کر جو کچھ دے جاتے وہ ان میں سے کچھ اپنی گتھی میں ڈال کر باقی کسی ضرورت مند مرید کو دے دیتے ۔مرید اگر کچھ دیتے تو وہیں پر موجود اپنے کسی مہمان پر خرچ کر ڈالتے ۔مثلا جس کے گھر ٹھہرے ہوتے اس کو گتھی سے نکال کر پیسے دیتے کہ ایک مرغی ٹماٹر پیاز اور روٹیاں لے آؤ ۔اکثر اپنے کام خود کرتے ۔مثلا ً اپنے کپڑے کسی کنویں ندی یا نالے پر جا کر خود دھوتے ، اکثر گھڑا اٹھا کر اپنے لیے خود ہی پانی بھرنے چل پڑتے ۔

ایسے ہی ایک موقعے کے متعلق ان کے ایک مرید نے مجھے بتایا کہ باوا جی ہمارے منع کرنے پر بھی گھڑا اٹھا کر نزدیک   والے  کسی کنویں پر چلے جاتے جس کا ٹھنڈا پانی سارے گاؤں میں مشہور ہے ۔ایک دن گھڑا بھر کر واپس پلٹے تو میری بیٹی بلقیس نے آگے بڑھ کر گھڑا ان کے ہاتھ سے لے کر تھلی پر رکھا ،اتنے میں اس نے دیکھا کہ باوا جی کے کپڑوں پر موٹے موٹے سیاہ کیڑے رینگ رہے ہیں ، اس نے انہیں بتایا اور کہا ایک منٹ ٹھہریں میں انہیں جھاڑ دیتی ہوں اور اپنے سر سے چادر اتار کر آگے بڑھی مگر انہوں نے اسے منع کر دیا اور گھر سے باہر نکل گے ۔میں حیران تھا کہ باہر کیوں چلے گے ہیں میں بھی کچھ فاصلہ رکھ کر پیچھے پیچھے چل پڑا ،وہ کنویں کی طرف جا رہے تھے ،جب وہاں پہنچے تو اپنا کرتا اتار کر زور زور سے جھاڑا پھر اپنی چادر بھی اسی طرح جھاڑی اور واپس پلٹ آئے ۔میں بھی ان کے پیچھے پیچھے گھر میں داخل ہوا ۔میں نے خود تو نہیں پوچھا مگر اپنی بیٹی سے کہا باوا جی سے پوچھو کہ انہوں نے ایسا کیوں کیا؟ ۔وہ میری بیٹی سے بہت پیار کرتے تھے اس کے اوٹ پٹانگ سوالوں کا برا نہیں مناتے تھے ۔ جب بھی آتے اس کے لیے کچھ نہ کچھ لے کر آتے ۔ جب اس نے پوچھا کہ باوا جی میں کیڑے یہاں جھاڑنے لگی تھی تو آپ نے منع کر دیا ،میں سمجھی آپ پرے ہٹ کر انہیں جھاڑنا چاہتے ہیں مگر آپ تو اتنی دور کنویں پر چلے گے اور وہاں جا کر انہیں اپنے کپڑوں سے جھاڑا ۔ہم سمجھ نہیں سکے باوا جی ۔

باوا جی اب چارپائی پر بیٹھے حقہ پی رہے تھے ۔مسکرا کر بولے او میری بھولی دھی یاد رکھ اور تم بھی محمد حیات دھیان سے سن لو ،دنیا میں سب سے بڑا ظلم اور سب سے بڑا گناہ کسی جاندار کو اس کے گھر سے بے گھر کرنا ہے ۔ بے شک وہ حقیر کیڑے تھے مگر ان کا بھی ایک گھر تھا اور شام کا وقت تھا میں انہیں گھر سے بے گھر کیسے کر دیتا ۔ باوا جی کسی بھی جگہ دو تین ہفتوں سے زیادہ نہیں ٹھہرتے تھے ۔ہر گاؤں میں ان کا ایک خاص ٹھکانا ہوتا ۔ہمیشہ غریبوں کے گھر ٹھہرتے ۔میں محمد حیات ایک معمولی مستری اور اس گاؤں میں بڑے بڑے تکڑے اور زمیندار لوگ باوا جی کے مرید جو اپنی شاندار حویلیوں اور بیٹکھوں میں انہیں ٹھہرانے کے لیے منتیں کرتے ،وہ ان کےہاں چلے بھی جاتے مگر شام کو مجھ غریب کے گھر پلٹ آتے ۔ قریبی شہر پنڈی جاتے تو وہاں کی ایک کنجری ستو کے گھر ٹھہرتے ۔ وہاں بڑے بڑے لوگ ان کے چاہنے والے تھے مگر ٹھکانہ ستو کے گھر ہی کرتے ۔ ستو اب پچاس کے پیٹے میں تھی اس کی بیٹیاں گانا گانے لگیں تھیں ۔ مگر ستو اب بھی بن سنور کر باہر نکلتی تو لوگ اسے بیٹیوں کے ساتھ ان کی بڑی بہن سمجھتے ۔ ستو دور دور تک مشہور بڑے ٹھسے والی کنجری تھی ۔محرم کو شہر کی سب سے مشہور نیاز اسی کی ہوتی ۔پیر فقیر کے قدموں میں بیٹھنے والی تھی ۔باوا مست شاہ اور چکوال کرسال والے پیر ولایت کی مریدنی تھی ۔وہ ہر سال بڑی باقاعدگی سے کرسال میلے پر حاضری دیا کرتی ۔

ایک مرتبہ باوا جی کے قدموں میں بیٹھی ان کے پاؤں دھلوا رہی تھی تو وہاں بیٹھے کسی تماش بین نے دوسرے کے کان میں سرگوشی کی کہ باوا جی کی موجیں لگی ہوئی ہیں ۔باوا مست شاہ جی نے یہ سن لیا پہلی مرتبہ لوگوں نے انہیں جلال میں دیکھا ۔غصے سے سرخ بلتے ہوئے چہرے سے کہنے لگے کوجھی بوتھی آلیا تم ان پر جو نگاہ بھی ڈالتے ہو وہ حرس و ہوس میں ڈوبی ہوئی ہوتی ہے ۔تم لوگ انہیں انسان نہیں گوشت کی بوٹی سمجھتے ہو ۔انہیں ان بستیوں میں بسا کر خود بھی اپنا وقت یہاں گزارنا پسند کرتے ہو مگر خود کو معزز اور انہیں گھٹیا گناہ گار سمجھتے ہو ۔ سنو تم میں اور مجھ میں یہ فرق ہے کہ تم ستو کے جھوٹے عاشق ہو اور میں ستو کو بیٹی سمجھتا ہوں۔بڑے اچھے اور وڈے دل والی ہے یہ میری دھی ۔اسے گناہوں کی پوٹلی نہیں ایک انسان سمجھتا ہوں ۔

ایک دفعہ میرے گھر تشریف لائے ہوئے تھے۔دس بارہ چارپائیاں صحن میں بچھی تھیں ۔بہت سارے لوگ جمع تھے ۔ایک بندے نے پوچھ لیا باوا جی فقیری ایک دولت ہے تو آپ کو یہ دولت کہاں سے ملی ؟ ہم سوچ رہے تھے کہ اپنے کسی مرشد فقیر ولی اولیا کا نام لیں گے ۔مگر باوا جی بولے ستو کے ڈیرے سے ۔ہم سب حیران منہ میں انگلیاں دابے بیٹھے تھے ۔پھر حقے کی ایک سوٹ لی اور بولے ہاں ہاں وہی ستو جسے تم ستو کنجری کے نام سے پکارتے ہو ۔ایک دن صبح صبح ہم ستو کی گلی سے گزرے تو ستو وہاں قرآن پڑھ رہی تھی ۔اب کی بار ہمارے منہ اڈے کے اڈے رہ گے ۔ایک گانے والی کنجری اور اللہ کا پاک کلام ؟ کیا مطلب ؟۔باوا جی نے حقے کے دو اور سوٹے مارے اور منہال چارپائی پر رکھتے ہوے بولے ستو پڑھ رہی تھی ۔ دکھائے جو دل کسی کا وہ آدمی کیا ہے ،جو کسی کے کام نہ آئے  وہ زندگی کیا ہے ۔بس اس دن سے ہم نے یہ سبق پکا لیا اور رب ہم پر مہربان ہو گیا ۔

Avatar
سبطِ حسن گیلانی
سبط حسن برطانیہ میں مقیم ہیں مگر دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتا ہے۔ آپ روزنامہ جنگ لندن سے بطور کالم نگار وابستہ ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *