جدید ذہن اور روایت پسندانہ رویے۔۔فاروق الٰہی

حالیہ دنوں میں فیس بک پر ایک روایت پسند عالم حافظ محمد زبیر صاحب یہ گلہ کرتے نظر آئے کہ موجودہ دور میں نوجوان نسل کے اندر روایت شکن فکر (جسے وہ متجددانہ فکر سے تعبیر کرتے ہیں) کی مقبولیت کی اہم وجہ روایت پسند اہل علم کا فکری کام سے دور ہونا ہے۔ اُن کے مطابق تجدد پسند اہل علم( جن میں جاوید احمد غامدی، پروفیسر ڈاکٹر ابراہیم موسی، ڈاکٹر قبلہ ایاز، خورشید ندیم اور عمار خان ناصر کا انہوں نے نام لے کر ذکر کیا) نے اپنی فکر کو پھیلانے کےلئے جدید ذرائع کا خوب خوب استعمال کیا اور بڑی لگن سے جدید فکری ذہن رکھنے والوں کی کھیپ تیار کر رہے ہیں۔ اس مسئلہ کا سدباب کرنے کے لئے اُنہوں نے یہ تجویز پیش کی کہ ہر مکتب فکر سے ایک فکری ذہن رکھنے والے روایت پسند عالم کو سامنے لانا چاہیے جو سیمینارز اور ورکشاپس کے ذریعے نوجوان نسل میں بڑھتے ہوئے تجدد پسندانہ فکر کے آگے بندھ باندھ سکے۔ اس مقصد کے لئے انہوں نے فیس بک پر موجود چند روایتی فکری ذہن رکھنے والے اہل علم کا تذکرہ بھی کیا جن میں بریلوی، دیوبندی اور اہل حدیث مکتب فکر کے اہل علم شامل ہیں۔ اُنہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ ان سب کو مل کر روایت شکن اور متجددانہ فکر کے مقابل میں اپنا کلیدی کردار ادا کرنا چاہیے۔
ابھی اُنہیں اپنی تجاویز پیش کیے کچھ گھنٹے ہی گزرے تھے کہ انہی کی فکر کے ایک روایت پسند عالم نے ان کے خلاف تحریک چلائی جس کا لب لباب یہ تھا کہ مرعوبیت زدہ لوگ اب مشرکوں اور گمراہوں سے ہاتھ ملا کر دینی کام کرنے کی بات کررہے ہیں۔ یوں خود انہی کے روایت پسند فکر والوں نے اُن کی مخالفت کر ڈالی۔ پھر حافظ زبیر صاحب نے ایک اور پوسٹ لکھی جس پر اپنے اوپر تنقید کرنے والے اُن روایت پسند عالم کو ایک غیرثقہ عالم ثابت کرنے کی کوشش کی۔
میں کوئی دین کا عالم نہیں ہوں لیکن دین کے مختلف اہل علم سے بذریعہ سوشل میڈیا اور سوشل میڈیا کے علاوہ بھی گفتگو رہتی ہے۔ یونیورسٹی میں جدید ذہن رکھنے والے طلباء سے بھی دینی موضوعات پہ تبادلہ خیال ہوتا رہتا ہے۔ جتنا کچھ میں سمجھ سکا ہوں جدید ذہن کی روایت پسندانہ فکر سے دوری کی سب سے بڑی وجہ وہ فتویانہ رویہ ہے جس کی ایک جھلک اوپر نظرآئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سوشل میڈیا پہ روایت پسند جتنی بڑی تعداد میں اپنی روایتی تعبیر کو پھیلاتے ہوئے نظر آتے ہیں روایت شکن اہل علم اُس کا عشر عشیر بھی نہیں ہیں۔ لیکن روایت شکن اہل علم کا دعوتی اسلوب داعیانہ و حکیمانہ جبکہ روایت پسند اہل علم کا فتویانہ و استبدانہ ہونے کی بنا پر اپنے اثرات کے حوالے سے نمایاں فرق پیدا کرتا ہوا نظر آتا ہے۔
ہمارے روایت پسندوں کے ہاں معمولی اختلاف پر فوراً شخصیت زیر بحث آجاتی ہے۔ نکتہ نظر پر تنقید کرنے کی بجائے پورا زور اس بات پر ہوتا ہے کہ کسی طرح دوسرے کی علمی حیثیت کو مجروح کردیا جائے اور معاشرے میں اُسے غیرثقہ اور  پھر  اس   سے بھی آگے بڑھ کر کافر، مشرک اور ملحد  قرار دے کر مبینہ فتنے  سے بچایا جا سکے۔ جبکہ روایت شکن اہل علم کے ہاں صرف نکتہ نظر ہی زیر بحث آتا ہے کبھی کسی شخصیت کی علمی حیثیت متعین نہیں کی جاتی۔ یہی وجہ ہے کہ جدید ذہن روایت پسند فکر سے دور اور روایت شکن فکر کے قریب تر ہوتا چلا جاتا ہے۔
ایک اور اہم وجہ روایت پسندوں کا کئی سوالات پر پابندی لگانا بھی ہے جبکہ جدید ذہن کی نفسیات یہ ہوتی ہے کہ وہ سوال کو لٹمس ٹیسٹ کے طور پر لیتی ہے وہ یہ دیکھنا چاہتی ہے کہ مذہبی فکر کیا رویہ اپناتی ہے۔ جو بھی سوالوں کے جوابات دینے کے لئے  تیار ہوگا جدید ذہن اُسی کی طرف لپکے گا۔ صورتحال یہ ہے کہ ایک روایت شکن عالم سے سوال کرتے ہوئے سوچنا نہیں پڑتا کہ سوال کیا جائے کہ نہ کیا جائے۔ جو بھی ذہن میں سوال آئے انسان بےدھڑک پوچھ سکتا ہے۔ جبکہ روایت پسند عالم سے سوال پوچھنے سے پہلے ہزار بار سوچنا پڑتا ہے کہ کہیں سوال کرنے کے نتیجے میں الحاد یا گستاخی کا فتوی ہی نہ لگ جائے۔
اس تناظر میں کچھ عرصہ پہلے سوشل میڈیا پہ ہی ایک روایت پسند عالم سے گفتگو ہوئی۔ ان عالم کا کہنا یہ تھا کہ مذہب کے اوپر خاص طور پر عقائد کے حوالے سے سوالات  اٹھانے سے اجتناب کرنا چاہیے کہ یہ ایمان کو زائل اور بندے کو گمراہ کرنے کا باعث بنتا ہے، اس ضمن میں اُنہوں نے سائنس کا حوالہ دیا کہ اُس کی بہت سی باتیں  ہم بس مان لیتے ہیں جبکہ ثبوت کا مطالبہ نہیں کرتے اس لئے مذہب کو بھی بس مان لینے کی پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔اس کے علاوہ انہوں نے مذہب سے دوری کی وجہ علماء حق سے دوری بتائی۔ اس حوالے سے میں نے اُن کے سامنے کچھ گزارشات رکھیں جو درج ذیل ہیں:
“دیکھیں یہ مطالبہ تو اُسی صورت میں کیا جا سکتا ہے کہ جب مذہبی لوگ سائنسدانوں کو مذہب کے حوالے سے یہ استثناء دے دیں کہ وہ مذہب کو مانیں یا نہ مانیں تو مذہبی حوالے سے کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوتا۔ لیکن ظاہر ہے کہ ایسا استثناء نہیں دیا جاسکتا، اسی لئے یہ مطالبہ بھی نہیں کیا جا سکتا کہ مذہب کے حوالے سے وہ اپنی زبان بند رکھیں اور بس مذہب کو محض اس لئے مان لیں کیونکہ یہ ہمارے ہاں مطلق سچائی کا درجہ رکھتا ہے۔ دوسرا یہاں سائنس اور مذہب کا موازنہ کر کے سوال نہ کرنے کا جو مقدمہ قائم کیا جارہا ہے اُس پر بھی کئی سوالات پیدا ہوتے ہیں۔
سائنس اگر ماننے کا مطالبہ کرتی بھی ہے تو اُس کا نتیجہ صرف اِسی دنیا کے حوالے سے متعین کرتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر انسان میڈیکل سائنس کو نہیں مانتا تو اُس کا نتیجہ صرف اِسی دنیا کے حوالے سے طے کیا جاتا ہے کہ انسان بیمار ہو جائے گا، مزید خطرناک بیماریاں لاحق ہو جائیں گی، یہاں تک کہ موت واقع ہو جائے گی۔ جبکہ مذہب کو نہ ماننے کے نتائج زیادہ سنگین بیان کیے جاتے ہیں، مذہب کو نہ ماننے کے نتیجے میں جو وعید سنائی جاتی ہے وہ ابدی جہنم کی ہوتی ہے جو موت کے بعد کا ابدی تسلسل ہے، اِس لئے جب ماننے کا مطالبہ کیا جائے گا تو سوال فطری طور پر پیدا ہوگا ہی، جن کے جوابات دینے کی ذمہ داری اہل مذہب کی ہی بنتی ہے۔
جب محض ماننے کا مطالبہ کیا جاتا ہے تو اُس وقت تو یہ بہت اچھا لگتا ہے جب اپنے مذہب کے حوالے سے یہ مطالبہ رکھا جائے اور اُس سے بھی آگے بڑھ کر یہ کہ اپنے مسلک کی تعبیر دین کے حوالے سے رکھا جائے۔ ورنہ اگر ایک ہندو، عیسائی یا قادیانی عالم اپنے مذہب کو ماننے کا مطالبہ ایک سائنس دان کے سامنے رکھے تب بھی کیا اُس کو سوال اٹھائے بغیر محض اِس لیے مان لینا چاہیے کیونکہ ایک مذہبی عالم اُس کے سامنے یہ مطالبہ رکھ رہا ہے؟ چلیں ہندو یا قادیانی کو چھوڑیں اگر سرسید احمد خان یا غلام احمد پرویز صاحب ہی اپنی تعبیرِ دین کو ماننے کا مطالبہ کر دیں تو کتنے روایت پسند اہل علم ہونگے جو اِس پر کوئی اعتراض نہیں کریں گے؟ میرے خیال سے اِس پر تبصرہ کرنے کی ضرورت نہی۔
یہاں علمائے حق کے انتخاب کی جو بات کہی گئی ہے اُس پر بھی کئی سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ عالم کے “حق” پر ہونے کا انتخاب فرد کا اپنا ذاتی ہی ہوتا ہے وہ موروثی ہوسکتا ہے، کسی تعصب کا نتیجہ ہوسکتا ہے اور شعوری بھی ہوسکتا ہے۔ اِس لئے جیسے آپ کو اور مجھے اختیار حاصل ہے کہ جس مرضی عالم کا انتخاب کریں ایسے سائنس دان کو بھی حق حاصل ہے کہ مذہب کی سچائی جاننے کیلئے کسی عالم کا انتخاب کرے یا خود تحقیق کر کے حقیقت جاننے کی کوشش کرے، آخر کو مطالبہ تو اُسی کی ذات سے کیا جارہا ہے۔
آخری بات، اِس وقت اکیسویں صدی میں جب ہر ہر موضوع سے متعلق علم کا  سمندر محض ایک کلک پر موجود ہو اِس طرح کے مطالبے انتہائی سطحی سے لگتے ہیں اور مذہب کا مقدمہ کمزور کرتے ہیں، کسی قادیانی عالم سے آپ کوئی سوال پوچھیں اور وہ یہ کہے کہ بھائی ایسے سوال پوچھنے کا ہمارا مذہب اجازت نہیں دیتا تُم بس مان لو کیونکہ ہمارا مذہب ہی برحق ہے تم سائنس کی فلاں اور فلاں بات بھی تو بن دیکھے بغیر سوال کیے مانتے ہی ہو، تو آپ اُن کے مذہب کے بارے میں کیا رائے قائم کریں گے؟ ظاہر ہے کہ یہی نتیجہ نکالیں گے کہ اُن کا مذہب اِس حوالے سے کمزور ہے یا کوئی جھول موجود ہے جو جوابات نہیں دے پا رہا، ایسا ہی پھر دوسرے ہمارے مذہب کے بارے میں بھی خیال کریں گے۔”
میرے اس جواب کے بعد انہوں نے مجھے بلاک کر دیا۔ یہ سب بتانے کا مقصد یہ تھا کہ جدید ذہن کو اگر کسی مبینہ گمراہی سے بچانا ہے تو آپس کے علمی اختلافات کو گوارہ کیا جائے اور ذاتیات پہ گفتگو نہ کی جائے۔ ہر طرح کے سوالات کو ویلکم کیا جائے اور سوال کے پوچھے جانے کو محض شرارت پر محمول نہ کیا جائے۔ اس سے نہ صرف یہ ہے کہ روایت پسند اور روایت شکن اہل علم میں دوریاں ختم ہوں گی بلکہ ایک جدید ذہن رکھنے والا بیک وقت دونوں اطراف کے اہل علم سے استفادہ بھی حاصل کر سکے گا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *