اور ولیمہ کھل گیا۔۔عظمت نواز

وطن عزیز میں بیاہ شادیوں پر ہر خاص و عام اپنی بساط کے مطابق شرکاء کو کھانا لازماً دیتا ہے – پچھلے دنوں ایک واقف کار نے ولیمہ پر بلا لیا اور ہم بھی سوئے ولیمہ چلے گئے کہ چلو مفت ہاتھ آئے تو برا کیا ہے بھلے وہ ایک آدھ ولیمہ ہی کیوں نہ ہو – اپنے دیس میں تو صفر سے لوگ مفتا مفت میں ارب پتی بن گئے یہاں تو پھر مفت میں ایک ولیمہ ہڑپنے کا ارادہ ہی تو ہے -ہم نے ایک روز قبل ہی گھر پر کھانا منع کر دیا کہ ہمیں اگلے روز ولیمے پر جانا ہے تاکہ پرایا مال حسب قومی عادت اپنے پیٹ میں ٹھونسنے کی زیادہ سے زیادہ گنجائش پیدا ہو سکے –

سویرے سویرے بس دل کملے کی تسلی واسطے مقام ولیمہ پر بائیک پر جاتے جاتے ایک نگاہ ڈالی کہ انتظامات روٹی اپنی اکھیوں سے دیکھ لوں – بعد از تسلی اسی دوپہر اپن کوئے گھر سے نکل کر سوئے ولیمہ چلے اور گن گن کر ان عظیم گھڑیوں کا انتظار کرنے لگے کہ کب ہمارے کانوں میں یہ رس گھولتی آواز پڑے “روٹی کھل گئی جے” بہرحال انتظار کے مراحل بھلے محبوب کے ہوں یا روٹی کے ہر دو صورت میں کٹھن ہوتے ہیں – چاک و چوبند ہال کا چکر لگا کر اندازہ کر لیا کہ زیادہ آسانی سے کس راستے سے مال لوڈ کیا جا سکتا  ہے اور ہنگامی صورتحال میں بچاؤ  کا راستہ کون سا اپنایا جائے گا – ایک آدھ بار دولہے کو بھی منہ دکھایا اور حاضری لگوا کر پھر در سلسلہ روٹی مصروف ہو گئے –

کچھ دیر یونہی مہمانوں کی بے چینی کا مشاہدہ کیا کہ ہر چہرے پر ان سہانی گھڑیوں کے انتظار میں کیا کیا تاثرات ابھرتے ہیں ابھی انہی مشاغل میں غرق تھا کہ اچانک “روٹی کھل گئی جے” کی صدا کبیر بلند ہوئی اور فدوی اپنی تمام تر تیاریوں اور مشقوں کے باوجود ایک فٹ بھی حرکت نہ کر پایا کیونکہ بعد از اعلان ہر شخص سپیائیڈر مین کی مانند ہر سمت سے اڑتا ہوا ڈشز کی جانب انتہائی سرعت سے حرکت کر رہا تھا – میں جو ایک زمانے سے وطن عزیز میں کوئی ولیمہ تناول نہ کر پایا تھا ،پرایا مال لوڈ کرنے کی ان مشقوں سے قطعی نابلد تھا کہ یوں ہے ،یوں ہے۔۔ اور اس کا پورا پورا نقصان بھی فدوی نے اس موقع  پر اٹھایا –

ایک بابا جی کو دیکھا تو اول یہی محسوس ہوا ابھی تو میں جوان ہوں – کسی طریقے سے اس بے فیض مقام تک پہنچ گیا جہاں فیض بٹ رہا تھا اور پلیٹ ہاتھ میں تھامے کچھ بھائیوں بزرگوں کو شکست سے دوچار کرتا ہوا جب اس بے چین گھڑی کو پانے ہی والا تھا کہ اب پلیٹ میں مرغ مسلم رکھنے سے کوئی مائی کا لعل روک نہ پائے گا عین اسی وقت( جیسے اپنے ہاں جونہی جمہوریت انڈے دینے لگتی ہے کوئی آکر اس کو اس مخصوص جگہ سے اکھاڑ پھینکتا ہے  جہاں وہ انڈے دینے کا ارادہ رکھتی ہے). کوئی مجاہد رہ سلوک کی منزلوں پہ منزلیں مارتا ہوا سیدھا آ کر مرغ مسلم والے بڑے ڈونگے میں سجدہ ریز ہوا اور ڈونگا شریف( بر وزن بونگا )کلٹی ہوا اور وہ مجاہد بھی چہرہ آستینوں سے صاف کرتا ہوا کچھ فاصلے پر جا کھڑا ہوا –

بہت سوچ بیچار کے بعد فدوی اس نتیجے پر پہنچا کہ ” اے کھیڈ” میرے وس میں ہے ہی نہیں۔۔ تو مودبانہ انداز میں ایک دیوار کا آسرا لے کر حسرت بھری نگاہوں سے شاہینوں کو جھپٹتے، پلٹتے، پلٹ کر جھپٹتے دیکھتا رہا اور گرم آہیں بھرتا رہا – کئی مجاہدین کو دیکھا کے ٹو کی بلندی جتنا مال ڈال لیتے اور آن کے آن میں پلیٹ یوں چمکنے لگتی کہ پھر سے اپنا چہرہ اسی صاف ستھری پلیٹ میں دیکھنے لگتے – اسی اثنا میں ہماری نظر دولہا کے بھائی پر پڑی جو حضرت اقبال کے مفکرانہ پوز میں دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے اپنی بستی کو اجڑتا خاموش مگر متحیر نگاہوں سے دیکھ رہا تھا اور بے بس تھا، میں نے بھی جا کر ان کے کندھے کو تھپتھپایا اور دلاسا دے کر نکل آیا –

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *