و تعز من تشا ۔۔سائرہ ممتاز

و تعز من تشا ۔۔
اللہ جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور یہ سب کچھ مالک کے اختیار میں ہے. وہ چاہے تو بادشاہوں کے سر مٹی میں رول دے وہ چاہے تو مراثیوں کو تخت پر بٹھا دے. ہے کوئی جو اس کے قبضہ ء قدرت کے آگے اختیار باندھ سکے؟
و تعز من تشا
اللہ چاہے جسے عزت دے اور عزت کمائی جاتی ہے. عزت دینا اور دلوانا اللہ کا کام ہے اور آپ کا کام نیک نیتی اور خلوص دل سے وہ کام انجام دینا ہے جس پر آپ مامور کیے گئے ہوں. شوشے چھوڑ کر عزت نہیں بٹوری جا سکتی صاحب. ریٹنگ البتہ کمائی جا سکتی ہے مجھے افسوس ہے کسی بھی تھرڈ ریٹ پورن سائٹ کی طرح ریٹنگ بڑھانے کا حربہ ایک ایسی سائٹ کے مالکان نے اختیار کر رکھا ہے جو اس ملک کے روشن خیال طبقے کے نمائندہ ہیں اور جو پاکستان کے بہترین صحافیوں میں ایک نمایاں حیثیت رکھتے ہیں کیا انھیں زیبا دیتا ہے کہ وہ عطا اللہ صدیقی صاحب کا وہ مضمون جو کئی  برس پہلے “محدث” میں شائع ہو چکا ہے اسے فاضل مصنف کی وفات کے آٹھ برس بعد اٹھا کر بغیر کسی وضاحت اور ریفرنس کے محض شرارت کے طور پر اپنی سائٹ پر شائع کردیں. کیا ہم پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ ایسا کن ٹھوس وجوہات کی بنا پر کیا گیا؟ کیا آپ کا مقصد محض ریٹنگ کمانا تھا یا مولوی طبقے کو گالیاں پڑوا نا بھی اس میں شامل تھا؟ اگر ایسا ہی تھا تو پھر یاد رکھیں
و تعز من تشا…
کیا ہم یہ پوچھنے میں بھی حق بجانب نہیں ہیں کہ آپ کی دادی کہ عمر کی ایک بزرگ خاتون جو اللہ کے حضور اپنے گناہوں اور نیکیوں سمیت پہنچ چکیں ہیں ان کی تضحیک پر مبنی یہ مضمون شایع کر کے آپ نے کون سی نیک نامی سمیٹی ہے اور نور جہاں کی ذاتیات پر اس قدر مباحثے نے آپ کو کتنا نفع پہنچایا ہے؟ اگر آپ کا مقصد صرف تنقید تھا اور شرارت تھی اور آپ کا مقصد سو کالڈ اسلامسٹ کو نیچا دکھانا یا انھیں گالیاں پڑوا نا تھا تو چلیں اس ضمن میں دو تین پیرا گراف لکھ دیئے ہیں. پڑھ لیجئے اور اگر محض ریٹنگ آپ کا مقصد تھا تو یاد رکھیے  گا نہلہ پہ دہلہ ضرور ہوتا ہے جیسے کو تیسا بھی ہوتا ہے اور ہر فرعون را موسی بھی ضرور ہوا کرتا ہے
وتعز من تشا

اب جو نور جہاں پر طعن کر رہے تھے وہ یاد رکھ لیں

یہ شاید سن دو ہزار کی بات ہے کارگل کی جنگ میں پاکستانی محاذ پر شہید ہونے والے شہید فوجیوں کی بیواؤں اور ان کے یتیم بچوں کے اعزاز میں کوئی سرکاری تقریب منعقد کی گئی  تھی جو پی ٹی وی سے براہ راست نشر کی جا رہی تھی. نور جہاں کے گائے ہوئے مشہور ملی نغمے کی دھن بجی اور بیک گراؤنڈ میں کچھ دیر تک میڈم نور جہاں کی آواز سر بکھیرتی رہی
اے پتر ہٹاں تے نہیں وکدے توں لبھدی پھریں بازار کڑے
چچا جان مرحوم و مغفور کو ہم نے یا نور جہاں کے گانے سنتے ہوئے روتے دیکھا یا پھر شب عاشور علامہ طالب جوہری کو سنتے ہوئے روتے دیکھا. عام گناہگار انسان ایسے ہی روتا ہے. بزعم خود تقوی و پارسائی کا شکار انسان تو کبھی اعتراف نہیں کرے گا کہ فلاں گانا سن کر بھی میری آنکھوں میں آنسو آئے تھے.. اس وقت راقم الحروف اسکول کے آخری سال میں تھی اور قطعاً بے بہرہ کہ آخر اتنی زیادہ جذباتی وابستگی کیوں کر ہو سکتی ہے؟ اور وہ بھی نور جہاں کے گانوں سے..
اچھا پہلے تو یہ طے کر لیتے ہیں کہ اس وقت ملک میں سب سے بڑا خطرہ کیا ہے دہشت گردی؟ کرپشن؟ بے روزگاری یا فحاشی اور بے راہ و روی؟ سیدھی سی بات ہے دین کی بنیاد کتنی آسان آسان سی باتیں ہیں
صفائی نصف ایمان ہے (جو ہمیں چھو کر نہیں گزری)
کم بولو زیادہ تولو (ہماری عادت ہے بغیر سوچے سمجھے بولنے کی بلاوجہ بولنے کی اور ہر جگہ بولنے کی اس کے مضر اثرات پر ایک پورا مضمون لکھا جا سکتا ہے پھر کبھی سہی)
عمل کا دارومدار نیت پر ہے. (ہماری ضد ہے کہ بندے کی شکل دیکھ کر فتوی ضرور لگانا ہے)
مسکرانا صدقہ جاریہ ہے (ہم نے تہیہ کر رکھا ہے راہ چلتے پاس سے گزرتے کو گھور کر ضرور دیکھنا ہے)
سلام میں پہل کرنا، محبت کو بڑھاتا ہے (ہمارا تکبر گردن ٹیڑھی پی نہیں ہونے دیتا کوئی نظر کب آئے گا)
دوسروں کے لیے وہی پسند کرو جو اپنے لیے کرتے ہو (ہم کسی کے باپ کے نوکر تھوڑی ہیں جو اپنے برابر سب کو بٹھاتے پھریں)
ایمانداری اور سچائی انسان کو انسان بناتی ہے
ملاوٹ کرنے والا شدید گناہگار ہے
پردہ پوشی اللہ تعالٰی کو بے حد پسند ہے
عیب گوئی اور غیبت کا مطلب مردہ بھائی کا گوشت کھانا ہے.
بس اتنی ہی کافی ہیں اگر اتنی بھی اچھی عادات ہمارے اندر ہوتیں تو آج کسی کو منہ دکھانے لائق ہو جاتے.. کسی بھی معاشرے کی بنیاد اچھی ہو، وہاں چھوٹے چھوٹے سینکڑوں خطرناک حشرات الارض بے مہار نا گھوم رہے ہوں تو وہاں بڑے بڑے اژدھے یا تو پیدا نہیں ہوتے ہو جائیں تو انھیں پکڑ کر مارنا زیادہ آسان ہو  جاتا ہے آپ کے ہاں جب آپ اژدھوں کا شکار کرنے جائیں تو پیروں تلے آنے والے بچھو اتنا کاٹتے ہیں کہ جب تک اژدھا ہاتھ میں آئے آپ دم ہار جاتے ہیں.

اب آ جائیے اس طرف کہ یہ بڑی بڑی برائیاں بنام فحاشی، جنس زدگی، زنا پرستی، بے راہ روی، عیش پسندی وغیرہ وغیرہ یہ نور جہاں نے پھیلائیں،؟ عجیب بات ہے مدرسوں میں پانچ پانچ سال کے بچوں سے بد فعلی کے پیچھے نور جہاں شامل ہے؟ سنی لیون کی تصاویر اور وڈیوز نور جہاں چھپ چھپ کر دیکھتی ہے؟ پاکستان پورن سائٹس وزٹ کرنے میں نمبر ون نور جہاں کی وجہ سے ہے یا پارسائی کا شکار ان با حیاؤں کی وجہ سے جو ماں باپ سے چھپ کر آدھی رات کو سرفنگ کر کے پاکستان کو نمبر ون بنا رہے ہیں؟ دودھ میں سرف، ڈٹرجنٹ اور خوردنی تیل کی ملاوٹ جیسے کام نور جہاں کر رہی ہے؟ لوگوں کو جعلی ادویات کھلا کھلا  کر مارنے کے پیچھے بھی نور جہاں ہے؟ وطن عزیز کے نیک متقی کلمہ گو گدھے کتے اور بلیوں چوہوں کا گوشت عوام کو کھلا کر بھی مسلمان اور اچھے انسان ہیں اور نور جہاں بس گانے کی وجہ سے نا مسلمان کہلانے لائق ہے نا انسان واہ رے مسلمان تیرا انصاف!

اپنے اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں آپ کا عقیدہ کیا ہے خود آپ کو نہیں معلوم  نور جہاں کے پاس جو تھا آپ کے پاس بھی ہے اس کے پاس خوف خدا تھا وہ مخلوق کا دل توڑنے سے ڈرتی تھی.
نور جہاں کے پاس خالص جذبے تھے اس کے پاس خلوص اور شکر گزاری تھی جو آپ کے پاس مفقود ہے. اس کے دل میں نرمی تھی جو دراصل  بندہ ء مومن کے لیے خاص عنایت ہے. اس کے پاس سوز و گداز تھا جو انسان خاص طور پر مسلمان کے لیے عطیہ ء خداوندی ہے. نور جہاں کے دل میں رب کا بسیرا تھا. کیا نہیں تھا ؟ثابت کر دیجئے نہیں تھا.! نور جہاں کے پاس سچ تھا وہ سچ جس پر عالم کو دوام ہے. صحیح کر کے سچ بولنا کمال نہیں ہے غلط کر کے غلط ہو کر سچ بولنا کمال ہے آپ نے اپنے عالیشان مرتبے کے غرور میں مبتلا ہونے کے بعد کبھی یہ کمال کیا ہے؟ ایسا ہوا ہو کہ دنیا آپ کے قدموں پر جھکی ہو اور آپ اس عزت کے بوجھ سے جھک جھک کر ماتھے پر ہاتھ لے جا کر مخلوق خدا کو سلام کر رہے ہوں نور جہاں تو یہ بھی کر رہی تھی

آپ محض فرقہ پرستی کی آڑ لے کر نواسہ ء رسول کا غم منانے سے بھی انکاری ہوجاتے ہیں اور نور جہاں نے کوئی محرم خالی نہیں جانے دیا. نور جہاں جیسا گلا نا ہو تو پھر بھی درود تاج کی تلاوت کر کے دکھائیے گا. جس کو آپ شہوت زدگی کہہ رہے تھے وہ نور جہاں کے سر تھے جس کو سن کر ٹوٹے دل والے کسی گوشہ ء تنہائی میں آنسو بہا کر دل کا بوجھ ہلکا کر لیتے تھے آج کی طرح گھٹن زدہ ماحول میں جنسی آوارگی کی طرف مائل نہیں ہوتے تھے. آپ نے تو گانا حرام قرار دلوا کر جو داعشی اسلام لانے کی ٹھان رکھی ہے یہ ارادہ جلد یا بدیر سب کو ملحد بنا کر دم لے گا.

خیر کہاں کی بات تھی کہاں جا نکلی. تو نور جہاں نے اور کچھ کیا ہو نا کیا ہو آپ پر آپ کے ملک پر بے شمار احسانات کیے ہیں آپ مانیں یا نا مانیں پینسٹھ کی جنگ حق و باطل کا معرکہ ہو یا نا ہو نور جہاں کی آواز عقاب کی طرح پلٹ کر جھپٹنے کی طاقت ضرور بخشتی رہی ہے. اپنے کم سن بچے گھر پر اکیلے چھوڑ کر محض آدھی رات کو قوم کا حوصلہ بلند رکھنے کے لیے ریڈیو پاکستان جا کر گانے اور ملی نغمے اور ایسے ایسے شاہکار ملی نغمے تیار کروانا خالہ جی کا گھر نہیں ہے. آپ کہیں گے جذباتیت ہے میں کہوں گی ہرگز جذباتیت نہیں یہ حقیقت پسندی ہے! نور جہاں نے کبھی کسی کو حقیر یا کم تر سمجھ کر کسی کی تضحیک نہیں کی. مولانا طارق جمیل صاحب فرماتے ہیں اب جا کر اللہ پر پرچہ کٹوا دو کہ اس نے نور جہاں کو ستائیس رمضان کی شب کیوں مارا؟ بقول آپ کے اتنی گندگی اور غلاظت میں لتھڑی  فتور جہاں کہاں اللہ کو پسند آنی تھی؟(دنیائے موسیقی پر ان کے عظیم احسانات اور ہزاروں انمول گیتوں کا تذکرہ جان بوجھ کر نہیں کیا کہیں گناہوں کا ذکر پڑھ کر آپ کی آنکھیں نا پھوٹ جائیں) تو کب جا رہے ہیں آپ اللہ تعالٰی پر کیس کروانے؟
اور جن کو نور جہاں کے مرنے کے بعد اس کی ذاتیات پر گفتگو سے کچھ مذموم مقاصد حاصل کرنے تھے وہ بھی یاد رکھ لیں
وتعز من تشا!

Avatar
سائرہ ممتاز
اشک افشانی اگر لکھنا ہے تو ہاں میں لکھتی ہوں... درد اگر کشید کرنا اگر فن ہے تو مجھے یہ فن سیکھنے کا شوق ہے!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *