“گرین اولمپکس” کا تصور اور چین۔۔زبیر بشیر

عوامی جمہوریہ چین کی ترقی کا ایک بہترین تصور یہ ہے کہ عوامی جمہوریہ چین سرسبز ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ اب اولمکپس کے انعقاد میں بھی اس تصور کو بھر پور انداز میں اجاگر کیا گیا ہے۔ بیجنگ سرمائی اولمپکس  “گرین اولمپکس” کے تصور کی مکمل عکاسی کرتی ہیں۔ بیجنگ سرمائی اولمپکس کی نمایاں ترین خصوصیات میں سے ایک “سبز ماحولیاتی تحفظ” بھی ہے۔

بیجنگ سرمائی اولمپکس اپنی نوعیت کے پہلے اولمپک گیمز ہیں جن میں بولی، تیاری اور میزبانی کے عمل تک اولمپک   ایجنڈے 2020 کا نفاذ کیا گیا ہے جبکہ تیاری کے سارے  مراحل کے دوران گرین اولمپکس کا تصور اپنایا گیا ہے۔ترجمان نے مزید کہا کہ بیجنگ سرمائی اولمپکس کے تینوں بڑے وینیوز کے 26 مقامات تاریخ میں پہلی مرتبہ 100 فیصد گرین پاور سپلائی حاصل کریں گے۔ کہا جا سکتا ہے کہ چین نے ” گرین اولمپکس” کے تصور کا جامع ادراک کیا ہے ۔ اس کا مقصد نہ صرف چین کے “دو کاربن” اہداف کا حصول ہے بلکہ  دنیا کو چینی حل اور چینی دانش کی روشنی میں انسانیت اور فطرت کے درمیان ہم آہنگ ترقی میں معاونت فراہم کرنا بھی ہے۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

چین کے صدر مملکت شی جن پھنگ نے بیجنگ ونٹر اولمپکس کی معیاری تیاری کو یقینی بنانے کے لئے ذاتی دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔ چینی صدر شی جن پھنگ نے 2017 کے بعد سے  سرمائی اولمپکس اور پیرا اولمپکس کی تیاریوں کا 5  مرتبہ خود جائزہ لیا ہے ۔ اس دوران انہوں نے بیجنگ، یان چھنگ اور چانگ جیاکھؤ کے تینوں اولمپک وینیوز کا دورہ کیا ہے ۔ شی جن پھنگ نے سرمائی اولمپکس اور پیرا اولمپکس کی تیاریوں کو ذاتی طور پر نمایاں اہمیت دیتے ہوئے انہیں فروغ دیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ چین کے سرمائی اولمپکس کے نقوش انتہائی خوبصورت اور طاقتور ہیں۔

بیجنگ سرمائی اولمپکس کے لیے تمام مقامات پر سہولیات کی تعمیر   نہ صرف چینی خوبیوں کا مظہر ہے بلکہ یہ چینی ثقافت کی منفرد دلکشی کو بھی  ظاہر کرتی ہے،یہ تعمیر جامع استعمال اور کم کاربن توانائی کے تحفظ پر بھی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے ، اور ٹیکنالوجی، دانش، گرین اور کفایت شعاری کی خصوصیات کو اجاگر کرتی ہے۔چین نہ صرف بیجنگ سرمائی اولمپکس اور پیرا اولمپکس کی عمدہ میزبانی بلکہ اچھے نتائج کے حصول کے لیے بھی کوشاں ہے۔ سرمائی اولمپکس کی تیاریوں کا ثمر ہی ہے کہ 300 ملین سے زائد چینی شہری سرمائی کھیلوں  سے محبت کرنے لگے ہیں، جو عالمی  سرمائی کھیلوں کی ترقی میں چین کا ایک بڑا تعاون ہے۔

چین اولمپکس جذبے کو مزید فروغ دینے کے لئے نہایت پُرعزم ہے۔ بیجنگ سرمائی اولمپکس کی انتظامی کمیٹی نے  19  تاریخ کو ایک رپورٹ جاری کی جس میں بیجنگ سرمائی اولمپکس اور پیرا اولمپک گیمز  2022کی میراث کو آگے بڑھانے اور سماج پر مرتب ہونے والے اثرات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔رپورٹ میں سات شعبہ جات بشمول کھیل، معیشت، معاشرہ، ثقافت، ماحولیات، شہری اور علاقائی ترقی شامل ہیں۔سرمائی اولمپکس کی میراث کا فروغ اور میزبان شہر اور عام لوگوں کے لیے طویل مدتی اور مثبت فوائد لانا بیجنگ سرمائی اولمپکس اور پیرا اولمپکس کی تیاریوں کا ایک اہم حصہ ہے۔بیجنگ سرمائی اولمپکس ورثے کے امور کو آگے بڑھانا نمایاں اہمیت کا حامل کام ہے۔ بین الاقوامی اولمپک کمیٹی اور بین الاقوامی پیرا اولمپک کمیٹی کی رہنمائی میں، بیجنگ سرمائی اولمپکس انتظامی کمیٹی، متعلقہ شہروں اور متعلقہ محکموں نے “سبز، مشترکہ، کھلے اور صاف” اولمپک کھیلوں کے تصور کو مکمل طور پر نافذ کیا ہے۔ بیجنگ سرمائی اولمپکس اور پیرا اولمپک ہیریٹیج اسٹریٹجک پلان کی تیاری کے پورے عمل میں مذکورہ سات پہلووں کے اعتبار سے 35 شعبوں میں سرمائی اولمپکس کی میراث کو آگے بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مذکورہ رپورٹ سرمائی اولمپکس کی کامیاب بولی کے بعد سے لے کر اب تک کی تصاویر اور متن کی صورت میں اہم کامیابیوں کی عکاسی کرتی ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors london

دنیا چین کے “گرین اولمپکس” کے تصور کی معترف دکھائی دیتی ہے۔ عالمی اولمپک کمیٹی کے نائب صدر یو  زائی چھنگ نے حالیہ دنوں ایک انٹرویو میں بیجنگ سرمائی اولمپکس کی موجودہ تیاریوں پر اطمینان ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ بیجنگ سرمائی اولمپکس یقینی طور پر مکمل کامیاب ہوں گے۔ آئی او سی کے صدر تھامس باخ نے بھی واضح کیا ہے کہ ہم بیجنگ سرمائی اولمپکس کی تیاریوں پر انتہائی مطمئن ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ بیجنگ  سرمائی اولمپکس کا کامیاب انعقاد کیا جائے گا۔

  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors
  • julia rana solicitors london

Zubair Bashir
چوہدری محمد زبیر بشیر(سینئر پروڈیوسر ریڈیو پاکستان) مصنف ریڈیو پاکستان لاہور میں سینئر پروڈیوسر ہیں۔ ان دنوں ڈیپوٹیشن پر بیجنگ میں چائنا میڈیا گروپ کی اردو سروس سے وابستہ ہیں۔ اسے قبل ڈوئچے ویلے بون جرمنی کی اردو سروس سے وابستہ رہ چکے ہیں۔ چین میں اپنے قیام کے دوران رپورٹنگ کے شعبے میں سن 2019 اور سن 2020 میں دو ایوارڈ جیت چکے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply