• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • حضرت سلطان باھوؒ کی شاہکار تصنیف” عین الفقر “کا مختصر مطالعہ۔۔لئیق احمد

حضرت سلطان باھوؒ کی شاہکار تصنیف” عین الفقر “کا مختصر مطالعہ۔۔لئیق احمد

سلطان العارفین حضرت سلطان باھوؒ 1039ھ میں شور کوٹ میں پیدا ہوئے۔ آپؒ کے والد محمد بازیدؒ ایک صالح حافظ قرآن اور فقیہ شخص تھے جو مغلیہ دَور میں قلعہ شورکوٹ ضلع جھنگ کے قلعہ دار تھے۔ ان کی اہلیہ بی بی راستیؒ اولیائے کاملین میں سے تھیں۔ آپؒ کا تعلق قطب شاہی اعوان (علوی) قبیلے سے ہے جو 31 واسطوں سے حضرت علیؓ سے جا ملتا ہے۔ آپؒ کی والدہ ماجدہ کو الہامی طور پر بتا دیا گیا تھا کہ عنقریب آپ کے بطن سے ایک ولی کامل پیدا ہوگا اس کا نام باھوؒ رکھنا ۔ چنانچہ مائی صاحبہ نے آپؒ کا نام باھوؒ ہی رکھا۔

حضرت سلطان باھوؒ نے طالبان مولیٰ کی رہنمائی کے لیے کم و بیش 140 کتب تصنیف فرمائیں اور آپؒ کی تمام تصانیف اور تالیفات کا خاصہ یہ ہے کہ وہ قرآن و سنت سے باہر بات نہیں کرتے پہلے قرآنِ کریم کی آیت مبارکہ لکھتے ہیں پھر نبی کریمﷺ کی حدیث مبارکہ بیان کرتے ہیں اور پھر سالک کو جو بات سمجھانی ہوتی ہے اس کا ذکر فرما دیتے ہیں۔ آپؒ کے متعلق ’’1001 شخصیات عالم کا انسائیکلو پیڈیا‘‘ کے مرتب اور محقق عبدالوحید صاحب نے لکھا ہے:
’’سلطان باھوؒ کی تحریروں کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ وہ صوفیاء کے اس گروہ سے متعلق تھے جو اپنے عقائد میں اتباع کتاب و سنت کو اوّلین درجہ دیتے ہیں یہ کسی ایسے قول و فعل کے قائل نہ تھے جن سے شرح محمدﷺ کی خلاف ورزی ہو ،انہوں نے تصوف کے مسائل کو فلسفیانہ رنگ میں پیش کیا ہے لیکن ہر دعوے کے لیے قرآنِ مجید اور حدیث نبویﷺ سے دلیل لاتے ہیں۔‘‘ (۱)

آپؒ کی تعلیمات میں شرح محمدیﷺ کی پابندی کا درس ملتا ہے۔ آپؒ خود شریعت کی کس قدر سخت پابندی فرماتے تھے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ آپؒ نے اپنی پوری زندگی میں ایک مستحب بھی فوت ہونے نہیں دیا۔ سلطان باھوؒ اپنے فارسی کلام میں اپنے متعلق فرماتے ہیں:
ہر مراتب از شریعت یافتم
پیشوائے خود شریعت ساختم
میں نے ہر مرتبہ شریعت کے ذریعہ حاصل کیا اور شریعت کو اپنا پیشوا بناکر رکھا۔

عین الفقر کی عظمت و اہمیت!
عین الفقر شریف حضرت سلطان باھوؒ کی 140 کتب میں سے سب سے زیادہ قیمتی اور معروف کتاب ہے جو کہ طالبان مولیٰ کے نزدیک (حق نما) کے نام سے پہچانی جاتی ہے اس کتاب کی اہمیت کے متعلق خود حضرت سلطان باھوؒ فرماتے ہیں:
’’جان لے کہ اس کتاب کا نام عین الفقر رکھا گیا ہے  کہ  یہ  کتاب اللہ کے طالبوں اور فنا  فی اللہ فقیروں کی ہر خاص و عام پر خواہ وہ مقام مبتدی ہو یا منتہی ہو رہنمائی کرکے صراطِ مستقیم پر قائم رکھتی ہے اور انہیں مشاہدات تجلیات انوارِ توحید ذات سے مشرف کرکے علم الیقین، عین الیقین اور حق الیقین کے مراتب پر پہنچاتی ہے۔‘‘ (۲)

عین الفقر شریف کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے سلطان العارفینؒ کی کتب پر گہری نظر رکھنے والے محقق پروفیسر سیّد احمد سعید ہمدانی صاحب فرماتے ہیں:
’عین الفقر‘ سلطان الفقر شاہِ جاوداں حضرت سلطان باھوؒ کی اہم تصنیف ہے ،کہا  گیا ہے کہ 140 چھوٹی بڑی کتابیں آپؒ کے قلم سے نکلیں ان میں سے بہت سی پوشیدہ رہ گئیں اور ابھی تک منظرعام پر نہیں آسکیں اور 35 کے قریب اس وقت مسودوں یا ترجموں کی شکل میں دستیاب ہیں۔ عین الفقر کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ خانوادہ سلطان باھوؒ کے صاحبزادگان کو یہ کتاب درسی انداز میں پڑھانے کا اہتمام کیا جاتا تھا گویا یہ ایک ایسی کتاب ہے کہ اگر اس کو پڑھ لیا جائے تو سلطان باھوؒ کے فقر و تصوف کو سمجھنے کی کچھ اہلیت پیدا ہوجاتی ہے اور جب دوسری تصنیف نورالہدی بھی پڑھ لی جاتی تھی تو سمجھ لیا جاتا تھا کہ اب طالب خود بخود حضرت سلطان العارفینؒ کی دیگر تصانیف پڑھ سکتا ہے اور آپؒ کی تعلیمات کو سمجھ سکتا ہے۔ (۳)

عین الفقر میں بیان کردہ آیات مبارکہ
حضرت سلطان باھوؒ کی شاہکار تصنیف مبارک عین الفقر کے 182 صفحات کے فارسی متن میں آیات کی تعداد 151 ہے ۔ اس تصنیف لطیف میں آپؒ نے اس قدر آیات کریمہ سے استدلال کیا ہے کہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ گویا قرآن سے باہر کوئی تصوف ہے ہی نہیں۔ اس کتاب کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ اس میں ہر پارے  کی آیات موجود ہیں۔ آپؒ نے اپنی اس تصنیف میں آیات کریمہ کی جو صوفیانہ تفسیر فرمائی ہے اس کے صرف دو مقامات درج ذیل ہیں:

1۔ فرمان حق تعالیٰ ہے: ’’اے اولاد آدم علیہ السلام شیطان کی پیروی مت کرو بے شک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔‘‘ (۴)
جس آدمی کے دل کا میلان نفس کی طرف ہوجاتا ہے اس کا دل سیاہ ہوجاتا ہے اس میں غفلت پیدا ہوجاتی ہے۔ جب نفس و دل ایک ہوجاتے ہیں تو رُوح عاجز و کمزور ہوجاتی ہے اور جب دل و رُوح ایک ہوجاتے ہیں تو نفس کمزور و عاجز ہوکر غریب و تابع ہوجاتا ہے یہ فقیر باھوؒ  کا کہنا ہے کہ ایک ہدایت الٰہی بہتر ہے ہزاروں دشمنِ نفس وشیطان سے، جس دل پر رحمت خداوندی کی نظر ہے وہ نفس وہ شیطان سے جدا ہے۔ (۵)

2۔ فرمان حق تعالیٰ ہے، ’’علم کے بڑے درجے ہیں۔‘‘ (۶)
علم ہو تو باعمل ہو نہ کہ محض ایک بوجھ، حضور نبی کریمﷺ کا فرمان مبارک ہے۔ علم ایک نکتہ ہے جس کی کثرت اس کی عملی تفسیر ہے جو عالم علم پر عمل نہیں کرتا، علم اس کے لیے وبال جان بن جاتا ہے۔ حضور نبی کریمﷺ کا فرمان ہے، ’’علماء انبیاء کا ورثہ ہیں۔‘‘ انبیاء کا ورثہ وہ عالم ہیں جو قدم بقدم انبیاء کی پیروی کرتے ہیں اور جن کے وجود میں فسق و فجور دروغ و حسد اور کبرو حرص نہ ہو بلکہ حق ہی حق ہو اور وہ راہِ راست کے رہنما ہوں ۔ (۷)

عین الفقر میں بیان کردہ احادیث نبویﷺ
عین الفقر کے 182 صفحات کے فارسی متن میں احادیث نبویﷺ و اقوال کی تعداد 184 ہے ۔ احادیث نبویﷺ کے ساتھ آپؒ نے جن علماء و اولیا کے اقوال کو اس تصنیف میں رقم فرمایا ،ان کے نام درج ذیل ہیں

سیّدنا علی المرتضیٰ، حضرت امام حسن بصریؒ ، سیّدنا شیخ عبدالقادر جیلانیؒ ، حضرت ابراہیم بن دھمؒ ، بازید بسطامیؒ ، منصور حلاجؒ ، رابعہ بصریؒ ، شیخ شبلیؒ ، حضرت حاتم اصمؒ ، امام اعظم ابو حنیفہؒ ، شیخ فرید الدین عطارؒ ، جہانیان جہاں گشتؒ ، حضرت بہاؤ الدینؒ ، شاہ رکن عالمؒ ، مالک بن دینارؒ ، شفیق بلخیؒ ، شیخ واجد کرمانیؒ ۔

آپؒ نے اپنی تصنیف میں دو   کتابوں کا ذکر بھی فرمایا ہے جس میں سے ایک ’’تفسیر اسرار الفاتحہ‘‘ جس کی ایک حکایت آپ نے رقم فرمائی ہے اور ایک رسالہ ’’غوث العالم محی الدین‘‘ ہے جس میں سے آپ نے چند اقوال سیّدنا شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کے نقل فرمائے ہیں:
حضرت سلطان باھوؒ اس کتاب میں دیگر صوفیاء کی طرح احادیث نبویﷺ کو بغیر سند کے نقل فرماتے ہیں لیکن بعض جگہ آپ نے اس روایت کو بیان کرنے والے صحابی یا امام کا ذکر بھی فرمایا ہے۔ جیسے اس کتاب کے باب ہفتم میں آپ نے دو احادیث حضرت معاذؓ کی روایت کردہ بیان فرمائیں  اور کتاب میں دو احادیث حضرت ابو ذرغفاریؓ کی روایت کردہ بیان فرمائی ہیں اور ایک جگہ ایک حدیث کے متعلق فرمایا ہے کہ اسے امام بائلی نے روایت کیا ہے۔ آپ نے احادیث نبویﷺ کی جو صوفیانہ تفسیر فرمائی ہے  ، اس کے صرف دومقامات کا ذکر درج ذیل ہے:
1۔ حضور نبی کریمﷺ کا فرمان ہے ’’جس گھر میں کتا ہو وہاں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔‘‘ دل گھر کی مثل ہے ذکر اللہ فرشتے کی مثل ہے اور نفس کتے کی مثل ہے جو دل حب دنیا کی ظلمت میں گِھر کر خطراتِ شیطانی و ہوائے نفسانی کی آماہ جگاہ  بن چکا ہو۔ اس پر اللہ تعالیٰ کی نگاہِ رحمت نہیں پڑتی اور جس دل پر اللہ تعالیٰ کی نگاہِ رحمت نہ پڑے وہ سیاہ و گمراہ ہوکر حرص و حسد و کبر سے بھرجاتا ہے۔(۸)
2۔ حضور اکرمﷺ کا فرمان ہے، ’’جس راہ کو شریعت رد کردے وہ زندقہ کی راہ ہے۔‘‘ جس راہ کو شریعت ٹھکرا دے وہ کفر کی راہ ہے۔ شیطان و ہوائے نفس اور دنیائے ذلیل کی راہ ہے ،لوگوں کو چاہیے کہ اس سے خبردار  رہیں ۔ (۹)

عین الفقر میں بیان کردہ احادیث قدسیہ
عین الفقر کے 182 صفحات کے فارسی متن میں احادیث قدسیہ کی تعداد 20 ہے ۔ آپ نے احادیث قدسیہ کی جو صوفیانہ تفسیر فرمائی ہے ، اس کے صرف دومقامات کا ذکر درج ذیل ہے:
(1) حدیث قدسی میں فرمان حق تعالیٰ ہے ’’نفس کو چھوڑ دے اور اللہ کو پالے۔

بیت: میں نے اپنے دل سے طلب دنیا و عقبی کو نکال دیا ہے کہ اس گھر میں غم و دنیا و آخرت رہ سکتا ہے یا جمال دوست ۔حدیث مبارکہ ہے ’’عشق ایک آگ ہے جو محبوب کے سوا ہر چیز کو جلا کر راکھ کردیتی ہے۔‘‘ ہر چیز کے ظاہر و باطن میں صرف ایک ہی ذات جلوہ گر ہے اس لیے عارف جب بھی بولتا ہے۔ اس کے منہ سے اللہ ہی نکلتا ہے اور وہ جدھر بھی دیکھتا ہے اسے اللہ ہی دیکھائی دیتا ہے۔ (۱۰)

(2) حدیث قدسی میں آیا ہے ’’اللہ تعالیٰ جاہلوں کو دوست نہیں بناتا۔‘‘
جاہل کون ہے اور جاہل کسے کہتے ہیں؟ جاہل وہ ہے جو حب دنیا میں گرفتار حرص و حوا کا بندہ ہے دنیائے دون کا طالب اور علماء وکلام اللہ کا دشمن ہے۔ (۱۱)

عین الفقر شریف میں بیان کردہ فارسی کلام
عین الفقر کے 182 صفحات کے فارسی متن میں فارسی ابیات کی تعداد 265 ہے ۔ آپ کی اس تصنیف میں 1 رباعی، 3 قطعات، 1 غزل اور ایک ترانہ بھی ہے۔ جسے حضرت سلطان باھوؒ نے ترانے عشق کے نام سے موسوم فرمایا ہے۔ ایک مقام کے چند فارسی ابیات اور ان کا ترجمہ درج ذیل ہے:
باھو الف کافی بودب رامجو
ہرچہ خوانی غیر اللہ زاں دل بہ شو
اے باھوؒ الف (اللہ ہی تیرے لیے کافی ہے توب (غیر حق) کی جستجو مت کر اللہ کے سوا ہرچیز کا نقش اپنے دل سے مٹا دے۔
باھوؒ ذکر خدا ایمان ما
ذکر حاصل می شود از مصطفیﷺ
اے باھوؒ اللہ کا ذکر ہمارا ایمان ہے جو حضور اکرمﷺ کی کرم نوازی سے نصیب ہوتا ہے۔ (۱۱)

عین الفقر شریف کے ابواب کا مختصر خلاصہ
آپ نے اس کتاب کی ابتداء  مقدمہ سے فرمائی ہے، جس میں آپ نے تصوف کے مختلف مضامین پر قرآن و احادیث کی روشنی میں گفتگو فرمائی ہے ۔ باب اوّل میں آپ نے توحید کے اسرار کو بیان فرمایا ہے۔ باب دوم میں آپ نے تجلیات کا ذکر فرمایا ہے کہ جو راہِ سلوک میں چلتے ہوئے سالک پر وارد ہوتی ہے۔ آپ نے ان تجلیات کی تحقیق پر گفتگو فرمائی ہے ، کہ کون سی تجلی اللہ ربّ العزت کی جانب سے ہوتی ہے اور کون سی تجلی نفس و شیطان کا پھندہ ہوتی ہے۔ باب سوم مرشد و طالب کی تعریف   ہے اور راہِ سلوک کے مدارج کو بیان فرمایا ہے۔ باب چہارم میں آپ نے نفس کی مخالفت و تسخیر سے متعلق گفتگو فرمائی ہے کہ کس طرح توفیق الٰہی سے نفس کو تابع کیا جاسکتا ہے۔ باب پنجم میں آپ نے علماء و فقراء کی شان  بیان فرما ئی  ہے۔ باب ششم  میں آپ نے مراقبہ و مشاہدہ کے مراتب کو بیان کیا ہے اور بعض خوابوں کی تعبیر کا ذکر فرمایا ہے۔ باب ہفتم میں آپ نے ذکر جہر و خفیہ پر گفتگو فرمائی ہے ۔ باب  ہشتم  میں  آپ نے عشق و محبت کے احوال اور فقر کی حقیقت پر گفتگو فرمائی ہے ۔ باب نہم میں آپ نے تین اہم موضوعات  ‘ذکر،  شراب، حقائق، اولیائے اللہ اور ترک ماسویٰ اللہ پر گفتگو فرمائی ہے۔ باب دہم میں آپ نے فقر فنا فی اللہ اور ترکِ دنیا پر گفتگو فرمائی ہیں۔

حوالہ جات

۱۔ قاضی حسین احمد، ’’سلطان باھوؒ ‘‘، اشاعت خاص سلطان باھوؒ نمبر میگزین مراۃ العارفین، مئی 2011، لاہور، ص
۲۔ سلطان باھوؒ ، عین الفقر، مترجم سید امیر خان نیازی، لاہور، العارفین پبلیکیشنز، ایڈیشن 14، اپریل 2007، ص:23
۳۔ عین الفقر، ص4
۴۔ پارہ 23، سورۃ یٰسین60
۵۔ عین الفقر، ص151
۶۔ پارہ 28، المجادلہ 11
۷۔ عین الفقر، ص:197,169
۸۔ عین الفقر، ص:39
۹۔ عین الفقر، ص:25
۱۰۔ عین الفقر، ص:47
۱۱۔ عین الفقر، ص:119
۱۲۔ عین الفقر، ص:297

لیئق احمد
لیئق احمد
ریسرچ سکالر شعبہ علوم اسلامیہ جامعہ کراچی ، ٹیچنگ اسسٹنٹ شعبہ علوم اسلامیہ جامعہ کراچی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *