آئیے کالاش چلتے ہیں۔۔نسرین چیمہ

کالاش کا نام بچپن سے سن رکھا تھا ۔ کالاش کی تاریخ صدیوں پرانی ہے۔ اس کو دریافت ہوئے بھی کچھ صدیاں گزر چکی ہیں۔ کتابوں کی زینت بننے والا یہ خطہ ذہن کے کسی گوشے ‏میں تجسس اور امنگ بن کر محفوظ رہا۔ کالاش کی کہانیاں ذہن کے پردے سے ابھرتی اور ڈوبتی رہیں۔ زندگی کے بےشمار ماہ و سال گزر گئے۔ مگر ہم دنیا کے اس عجوبے کو نہیں دیکھ ‏سکے۔ آخر خواہش غالب آئی اور ہم تمام رکاوٹوں سے ٹکر لیتے ہوے ایک دن کالاش کے کٹھن سفر کے لیے روانہ ہو گئے۔ ٹوٹی ہوئی ناہموار، کہیں سے کچی اور کہیں سے پتھریلی ‏اور تنگ سائیڈ پر دیکھیں تو گہری کھائیاں نظر آئیں۔ خدانخواستہ گاڑی الٹ جائے تو باقی کچھ نہ بچے۔ہم نے اپنے دل کو مضبوطی سے تھام لیا کہ جو ہوگا سو ہو گا کالاش ضرور دیکھنا ‏ہے۔ رستے کا حسن خوف و ہراس کے باوجود نظروں میں سمو گیا۔ اونچی نیچی بل کھاتی ہوئی سڑکیں ، لکڑی کے نازک سے پل، سر پر کھڑے بلند و بالا پہاڑ ، قدرت کے تراشیدہ کٹاؤ، ‏نالوں کے اوپر چلتے نالے جن کے اندر پانی کی دوڑ لگی ہوئی تھی۔ چھوٹی چھوٹی قدرتی حسن کی غمازی کرتی ہوئی کھیتیاں جن میں سبز رنگ بھرا ہوا تھا۔ نگاہیں اوپر اٹھتیں تو مناظر ‏نظروں میں کھب جاتے، نیچے جھکتیں تو سحر طاری ہوجاتا۔‏

ایسے میں کالاش آ گیا۔ سامنے دریا کے بےہنگم شور نے اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ دریا کے پار کیلاشی لڑکیاں اپنے روایتی مخصوص لباس میں گھومتی پھرتیں چہل قدمی کرتی حسن کا ‏مرقع نظر آ رہی تھیں۔ انہوں نے ہماری طرف ہاتھ ہلائے اور ہم ان سے ملنے کی خواہش میں پل کراس کر کے دریا کی دوسری جانب چلے گئے۔ زبان کا اتنا زیادہ فرق کہ نہ ہم ان ‏کی بات سمجھ سکیں اور نہ وہ ہماری۔ مجبوراً مسکراہٹوں کے تبادلے پر ہی اکتفا کرنا پڑا۔ سامنے عجائب گھر تھا۔ عجائب گھر کی ہر چیز کو بغور دیکھا تو اندازہ ہوا کہ کالاش کی تاریخ ‏صدیوں پرانی ہے۔ چترال کے باسیوں سے سن رکھا تھا کہ کالاش کی آبادی سے پہلے چترال اور گرد و نواح میں کسی آبادی کا کوئی وجود نہ تھا۔ یونان کے بادشاہ سکندر اعظم کی فوج ‏جب مختلف علاقوں سے گزری تو ایک عورت کے بیمار ہونے کی وجہ سے ایک قافلہ جس میں رمبور، بمبوریت اور بریر خاندان کے لوگ تھے انہیں رک جانا پڑا۔ بعد میں رستہ بھول ‏جانے کی وجہ سے یہ پہاڑوں میں پھنس گئے۔ بالآخر وہیں کے ہو کے رہ گئے۔ کوئی سوچ سکتا ہے کہ کالاش جو سیاحوں کی سیر کا مرکز ہے وہاں کے مکینوں کے آباواجداد کی نسلیں ایسی ‏بےیارومددگار زبوں حالی سے دوچار ہوئی ہیں کہ وہ جانوروں سے زیادہ لاچار تھیں۔ نہ رہنے کو جگہ، نہ کچھ کھانے کو اور نہ پہننے کو۔ درختوں کے پتے اور گھاس پھونس ان کا اوڑھنا اور ‏بچھونا تھا۔ آخر گلگت کے راستے مہتر چترال میں داخل ہوئے۔ انہوں نے بہت عرصہ چترال پر حکومت کی اور یوں کالاش بھی دریافت ہو گیا۔ آہستہ آہستہ کچھ تبلیغی جماعتیں ‏کالاش پہنچنے میں کامیاب ہوگئیں ۔ یہ سلسلہ چلتا رہا۔ آخرکار چالیس ہزار کی آبادی میں سے کچھ لوگ مسلمان ہو گئے جنہوں نے اپنا کلچر تبدیل کر لیا ہے۔ مگر آج بھی وہاں بڑی تعداد ‏میں کافر موجود ہیں جو یونان کی صدیوں پرانی ثقافت کو سنبھالے ہوئے ہیں۔ ‏

ہمیں سیر سے زیادہ لوگوں کے طرز بودوباش سے دلچسپی تھی۔ بمبوریت کے ایک آدمی نے ہمیں گائیڈ کیا۔ ہم بمبوریت کی آبادی میں گھس گئے۔ جگہ جگہ پر دکانیں تھیں جن میں ‏خواتین دکاندار اپنی ثقافتی اشیاء فروخت کر رہیں تھیں، وہ چیزیں ہمارے استعمال کی نہیں تھیں۔ ہم گھروں کو اندر سے دیکھنا چاہتے تھے ۔ ہر گھر کو تالہ لگا ہوا تھا ۔ کیونکہ عورتیں ‏گھروں کو تالے لگاکر سارا دن کھیتوں میں کام کرتی ہیں اور شام کو گھر واپس آتی ہیں اور مرد نکمے گپیں ہانکتے نظر آتے ہیں۔ یا کسی سیاح  کی فرمائش پر اپنا مخصوص روایتی ڈانس دکھا کر ‏پیسے وصول کرتے ہیں۔ بڑے پیمانے پر ناچ گانا دکھانا ہو تو سیٹی بجاتے ہیں ۔ سیٹی کی آواز سن کر تمام مرد عورتیں لڑکے لڑکیاں گاؤں کے مرکز میں جمع ہوکر ناچنا اور گانا شروع کر ‏دیتے ہیں وہ نہ صرف خوشی کے موقع پر بلکہ میت کو رخصت کرتے ہوئے بھی گاتے ہیں۔

گائیڈ ہمیں قبرستان لے گیا جہاں لاتعداد لکڑی کے باکس پڑے تھے جو زیادہ تر ٹوٹے ہوے تھے ۔ مردوں کو لکڑی کے باکس میں بند کر کے قبرستان میں رکھ دیا جاتا تھا ۔ جانور ‏باکس توڑ دیتے اور لاشوں کو باہر پھینک دیتے جس سے لاشوں کی بےحرمتی ہونے کے علاوہ علاقے میں تعفن پھیلنا شروع ہو گیا تو گورنمنٹ نے مردوں کو قبروں کے اندر دفن ‏کرنے کا  پابند کر دیا۔ لواحقین میت کو دفن کرنے کے بعد اس کا قیمتی سامان قبر کے اوپر رکھ دیتے اور چارپائی الٹی کر کے رکھ دیتے۔ ان کے خیال میں مسلمان لالچی لوگ ہیں جو ‏مرنے والوں کی چیزوں پر قبضہ کر لیتے ہیں۔ قبرستان میں کھلے تابوت اور ہڈیاں دیکھ کر ہمارے جسموں میں سنسنی پھیل گئی ہم فوراً قبرستان سے نکل کر آبادی کی طرف چل ‏پڑے۔ گائیڈ کے تعاون سے کچھ گھروں کے تالے کھلوا کر گھروں کو اندر سے دیکھا۔ ہر گھر میں بڑے بڑے تخت پوش جن کے اوپر وہ خود بھی بیٹھتے ہیں اور مہمانوں کو بھی بٹھاتے ‏ہیں ۔ ایک بڑا کمرہ جس کے مرکز میں قالین بچھا ہوا ، اردگرد بچھی ہوئی مسندیں جہاں وہ سب رات کو بیٹھتے اور سوتے ہیں۔ ساتھ میں کچن جہاں بلیوں کے سر لٹکے ہوئے تھے ۔ ‏پوچھنے پر معلوم ہوا کہ وہ بلیوں کا گوشت کھاتے ہیں۔ سوچ کا دھارا بدلا اور شوق کا نشہ ہرن ہوگیا۔ ہمارے اندر کا انسان جاگ اٹھا اور درد غالب آ گیا ۔ ایک بوجھ تھا جو دل و دماغ پر پڑ ‏گیا ۔ ہم یہاں کیوں آئے ہیں ؟ آج تک سیاح ان کی جہالت اور لادینیت کا تماشہ دیکھنے آتے رہے ہیں؟ تاریکیوں میں ڈوبا ہوا یہ خطہ ہمارا محتاج تھا۔ ہم نے اپنی سیاحت کے حسن ‏کی خاطر اور انکی ثقافت بچانے کی خاطر انہیں کفر کے اندھیروں میں دفن رہنے دیا۔ چالیس ہزار کی آبادی جن کے پاس نہ کوئی کتاب ہے اور نہ رسول نہ کوئی مذہب جس پر وہ ڈٹے ‏ہوئے ہیں ۔ وہ تو ایک اشارے کے منتظر ہیں آج اگر ہم اپنی تفریح کی خاطر ان سے تغافل برتیں گے تو روز محشر ہم سے یہ سوال ضرور کریں گے کہ ہمارا قصور کیا تھاَ؟ آپ نے ‏ہمیں ایمان کی روشنی سے روشناس کیوں نہ کیا؟ آپ ہمارے پاس کیا لینے آتے تھے؟ ہمیں اسلام سے قرآن سے دور کیا رکھا؟ تو کیا ہم یہ جواب دیں گے کہ اگر آپ مسلمان ہو ‏جاتے تو کہانی کا حسن ختم ہو جاتا۔ سیاحوں کے لیے دلکشی نہ رہتی۔ دور دراز سے آنے والوں کے لیے یہ علاقہ ایک عجوبہ نہ رہتا۔ ہم نے دنیا کی نمائش کے لیے آپ لوگوں کو مختص ‏کر لیا اور آپ کو بلیوں کا گوشت کھانے کو چھوڑ دیا۔ اگر سڑکیں، رستے آسان ہو جاتے تو سفر آسان ہو جاتا۔ وہاں اللہ کے دین کا پیغام دینے والے پہنچتے اور اللہ کے دین کا بول بالا ‏ہو جاتا۔ سکول کالج بنتے۔ لوگ علم کی روشنی سے بہرہ ور ہوتے۔ مسلمانوں کے ہوٹل بنتے تو آنے جانے والوں کا تانتا بندھا رہتا، کلچر تبدیل ہو جاتا۔ لوگ اسلامی طریقوں اور ‏روایات کو اپناتے مگر ہماری حکومتوں نے ان کو ایک گوشے میں مقید کر دیا تاکہ حیرت انگیز داستانیں ختم نہ ہو جائیں۔ یہ علاقہ سیر و سیاحت کرنے والوں کے زیب نظر رہے اور ہم ‏کالاش کی عجیب و غریب کہانیوں کو کتابوں کے اوراق میں سجا لیں۔

‏آج ہمارے اندر کی آواز ہمیں جھنجھوڑ رہی ہے کہ ہم ظالموں کی صف میں کھڑے ہیں۔
آئیے کالاش چلتے ہیں ، سیر و سیاحت کے لیے نہیں ، قبرستانوں سے قیمتی سامان لوٹنے کے لیے نہیں، تماشہ دیکھنے اور دکھانے کے لیے نہیں بلکہ ان تک ایمان کی روشنی پہنچانے کے ‏لیے، انہیں تاریکی سے نکالنے کے لیے، شاید ہم اپنے دامن پہ لگے داغ دھو سکیں۔

Avatar
نسرین چیمہ
سوچیں بہت ہیں مگر قلم سے آشتی اتنی بھی نہیں، میں کیا ہوں کیا پہچان ہے میری، آگہی اتنی بھی نہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *