سودے۔۔۔ اسحاق جنجوعہ

جنگ ختم ہو گئی،
سپہ سالار دفتروں سے اٹھ کر شبستانوں کو آباد کرنے چلے گئے،
تنازعہ پیدا کرنے والے رہنماؤں نے ہاتھ ملا لئے،
مگر گرد اڑاتی راہوں میں ایک بوڑھا باپ ابھی تک کھڑا اپنے وردی پہن کر گھر سے جانے والے جوان بیٹے کی راہ دیکھ رہا ہے،
گرد تھوڑی سی بھی بیٹھتی ہے تو وہ اپنا موٹے عدسوں والا ٹوٹا ہوا چشمہ اپنے دامن سے بار بار صاف کرکے پھر سے ٹکٹکی باندھ لیتا ہے،
مگر اس کا مسکراتے ہوئے گھر آنے والا بیٹا اسے ابھی تک نظر نہیں آرہا،

ایک ماں ہے، جس نے اپنا بچہ نہلا دھلا کر گھر سے سکول بھیجا تھا،
اس کے ٹکڑے اس کے اور اس کے بہت سے ساتھیوں کے لہو میں ڈوبے ہوئے گھر آۓ،
مذمتیں ہوئیں،
دشمنوں کی کمر توڑنے کے اعلان ہوۓ،
بڑے بڑے اجلاس ہوۓ،
میڈیا والے بھی آۓ ۔۔اسے بچے کی یاد دلا دلا کر جذباتی کیا،
فلم بنائی، طربیہ موسیقی میں لبریز کر کے چلائی،
شاعروں نے اندوہناک واقعے پر نغمے لکھے،
موسیقاروں نے دھنیں ترتیب دیں، گلوکاروں نے درد بھرے راگوں میں گا کر عوام کو سنایا اور انہیں بھی رلا دیا،
بیان دینے والے، مذمتیں کرنے والے، فلمیں بنانے والے نغمے لکھنے والے، موسیقی ترتیب دینے اور درد بھری آوازوں میں گانے والے سب اپنے شب و روز چین سے گزار رہے ہیں،
مگر اسے ابھی تک یقین نہیں آتا کہ وہ ٹکڑے اس کے بچے ہی کے تھے،
وہ اب بھی روز چھٹی کے وقت سکول کے سامنے جا کھڑی ہوتی ہے، کہ شاید اس کا بیٹا اب بھی واپس آ جاۓ،
لوگ کہتے ہیں یہ پاگل ہو گئی ہے۔۔

tripako tours pakistan

ایک اور ماں ہے جسے غربت کے باوجود اپنی اولاد کو پڑھانے کا شوق تھا،
علاقے کے رسم و رواج اور تنگدستی نے سکول جانے کی اجازت نہ دی تو اپنی ننھی سی گڑیا کو مدرسے بھیج دیا،
طاقت کے نشے میں اندھے فرعونوں نے مدرسہ ریزہ ریزہ کر دیا ،انہیں شک تھا کہ مدرسے میں کچھ دہشت گرد ہیں،
فرعون اپنا کام کر کے چلے گئے،
ایمان والوں نے مدرسے کے شہیدوں کا نام لے لے کر چندہ جمع کیا اور ہیں،
دوبارہ تعمیر کر لیا،
یہ ماں روز نئے مدرسے میں جا کر جھاڑو دیتی ہے،
اسے مدرسے کی گرد سے اپنی گڑیا کی خوشبو آتی ہے، جسے سونگھ سونگھ کر یہ اپنی وحشت زدہ روح کو چین دلانے کی ناکام کوشش کرتی ہے،
مگر اسے گڑیا کی خوشبو نہیں آتی،
جلے ہوئے گوشت اور خون کی بساند آتی ہے، جو اسے رونے پر مجبور کر دیتی ہے،
یہ سارا سارا دن اس دیوار کی اوٹ میں بیٹھ کر روتی رہتی ہے، جس کے عقب میں بنے دفتر میں علامہ صاحب چندے کے گوشواروں کا حساب کتاب کرتے رہتے ہیں،،
لوگ اسے بھی پاگل ہی سمجھتے ہیں،

ایک بھائی ہے، جس کی بہن اپنے پیر صاحب کی زیارت کرنے گئی تھی،
پیر صاحب کے مریدوں نے استقبال کی خاطر رستے بند کیے تو انتظامیہ سے جھگڑا ہو گیا،
تو تکار سے شروع ہوئی بات لاٹھیوں، پتھروں اور گولیوں تک چلی گئی،
ایک گولی اس کی بہن کو بھی مار گئی،
پیر صاحب کو بھی اپنے شہید ہونے والے مریدوں اور مریدنیوں سے بہت پیار تھا،
انہوں نے خوب واویلا کیا،
انہیں جب بھی دور کسی امن کے دیس میں چین سے بسنے والے اپنے بال بچوں کے نازونعم سے فرصت ملتی ہے تو وہ وطن واپس آکر شہدا کا بدلہ لینے کیلئے بھرپور احتجاج کرتے ہیں۔۔۔اور یہ بیچارہ سر پر کفن کا عمامہ باندھے ہاتھ میں لاٹھی پکڑے اس سٹیج کے نیچے مستعد کھڑا رہتا ہے جس کی بلندی پر ایک آرام دہ کرسی پر براجمان، جوش وجذبے کے ساتھ حکومت سے قصاص طلب کررہے ہوتے ہیں،
اسے یقین ہے کہ پیر صاحب کی جدوجہد ضرور رنگ لائے گی اور حکومت ایک دن انہیں قصاص میں کچھ گڑیاں اور گڈے دے گی جنہیں پیر صاحب اپنی کرامت سے شہدا کے قالب میں ڈھال دیں گے اور اس کی ویران آنکھیں اپنی بہن کا چہرہ دیکھ پائیں گی!
مگر نہ جانے کیوں جب اسے یقین ہونے لگتا ہے کہ قصاص بس ملنے ہی والا ہے تب اچانک ہی پیر صاحب احتجاج ختم کر کے اپنے بچوں کو ملنے چلے جاتے ہیں،

ایک بچہ ہے جو دور کسی گاؤں سے اپنے باپ کے ساتھ شہر دیکھنے آیا تھا،
اس کا مقدر کہ شہر میں ہنگامہ جاری تھا،
باپ نے بیٹے کو کندھے پر اٹھایا اور بھگدڑ سے بچا کر منزل کی جانب چلنے لگا،
مگر کسی عقل کے اندھے کی چلائی اندھی گولی کا نشانہ بن گیا،
وہ اپنے تڑپتے ہوۓ باپ کو۔۔اٹھ ابا، چل چلیے، اٹھ ابا چل چلیے کہہ کر گھسیٹتا  رہا اور اس کا ابا آخری سانس تک گھسٹتا رہا،
ہنگامہ ختم ہو گیا!
ہنگامہ کرنے والے گروہوں میں مزاکرات کامیاب ہو گئے،
بچ جانے والے گھروں کو لوٹ گئے،
مرنے والوں کو اٹھانے ایمبولینسیں آ گئیں،
لوگوں نے باپ کے بے جان بدن کے پاس اٹھ ابا اٹھ ابا کہہ کر سسکتے ہوئے بچے سے پوچھا، یہ کون ہے، بولا میرا ابا ہے،
پوچھا تم کون ہو،
بولا، ابے نوں پتہ اے،

پوچھا ، کہاں سے آۓ ہو،
وہ بولا ،ابے نوں پتا اے۔۔
پوچھا، کہاں جانا ہے،
بولا، ابے نوں پتا اے،
پھر اس کے ابے کا پتا شہر کا لاوارث قبرستان ہو گا،
اور اس کا پتہ وہی فٹ پاتھ جہاں اس کے ابے نے جان گنوا دی تھی،
رحم دل لوگوں نے بہت کوشش کی کہ اسے یتیم خانے لے جائیں، کسی خیراتی مدرسے لے جائیں، کسی بے اولاد کو سونپ دیں مگر وہ نہ مانا، اور اسی فٹ پاتھ پر پڑ رہا،
وہ اب بڑا ہو گیا ہے اب اسے لوگوں کا بچا ہوا کھانا اور اترے ہوۓ کپڑے پہننے کی حاجت نہیں رہی،
وہ اسی فٹ پاتھ پر جوتے پالش کرتا ہے اور آتے جاتے لوگوں کے چہرے دیکھتا رہتا ہے،
شاید کوئی اس کے گاوں کا ہردیسی ادھر آنکلے اور وہ اسے پہچان کر اپنا پتہ پوچھ لے،
یا شاید کوئی اسے پہچان کر اسے اس کا پتہ یاد کرا دے
مگر وقت کی گرد نے سب نقش دھندلا دئیے ہیں،

ایک بہن ہے ۔۔۔
جس کا بھائی اس کی مہندی کا سامان لینے بڑے بازار گیا تھا،
وہاں اس کی پسندیدہ لیڈر کا جلسہ ہو رہا تھا،
وہ تقریر کے بعد عوام کے درمیان پہنچیں تو یہ بھی ایک جھلک دیکھنے قریب چلا گیا،
بس پھر سماعتیں مسمار کرنے والا ایک دھماکہ ہوا اور سب خاک وخون ہو گیا،
بے رحمی سے اجل کے دھانے میں پھینکی جانے والی ہردلعزیز رہنما کے وارثوں کو عوام کی بھرپور ہمدردی ملی اور وہ حاکم بن گئے،
مرنے والی کے خاوند نے حکومت کی گدی پر اور اس کے بیٹے نے پارٹی کی گدی پر بیٹھ کر اس کا خلا پر کر دیا ،
مگر بغیر مہندی کے گھر بیٹھی بہن کے بھائی کا خلاء پر نہیں ہو سکا ،
اس کی ضد یہی رہی کہ بھائی کی بے قصور جان لینے والے شیطان کا سراغ لے کر اس پر لعنت کیے بنا ہر گز خوشی نہ منائے گی ،
برس پر برس بیت گئے وہ اپنی حسرت بھری آنکھوں سے ِبس ایک ہی تماشا دیکھ رہی ہے جس میں ہر سمت فرشتے ہی فرشتے ہیں جو اک دوجے کو شیطان ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں،
مگر شیطان کا پتہ کوئی نہیں بتا رہا۔۔۔

جنگیں امن میں بدل جاتی ہیں ۔۔۔ ہنگامے تھم جاتے ہیں ،مقدمے نمٹ جاتے ہیں، احتجاج ختم کر دیے جاتے ہیں،
سودے ہو جاتے ہیں،
کون بکتا ہے کون خریدتا ہے کس کو خبر ،
مگر جو قیمت ادا کرتے ہیں وہ ہم سب کے سامنے سہک سہک کر عذاب حیات کے دن پورے کر رہے ہیں،

میں نے اپنی تقریر ختم کر کے سامعین کی جانب دیکھا تو پورے ہال میں سکتہ طاری تھا ، قریباًً  ہر آنکھ نم تھی ، مرد اپنے ہونٹ کاٹ رہے تھے اور خواتین تو باقاعدہ ہچکیاں لے رہی تھیں،
یہ سب لوگ میری فوٹوگرافی کی نمائش کے شرکاء تھے،
دفعتا ً ہال کے کسی کونے سے تالی کی ایک آواز آئی اور پھر سب لوگ اپنی جگہ پر کھڑے ہو کر دیر تک تالیاں بجاتے اور آنسو بہاتے رہے ،
شرکاء نے بعد میں سب تصاویر کا قریب سے معائنہ کیا اور اس درد کو محسوس کرنے کی کوشش کی ،جس کا نقشہ میں نے اپنی تقریر میں کھینچا تھا،
نمائش کے احتتام پر ایک معروف سماجی ادارے کے سربراہ نے بھاری رقم کے عوض ساری تصاویر خرید لیں !

میں اسی رقم کا استعمال کر کے یورپ جا رہا ہوں ،مجھے اب اس میں رہنے کی ضرورت ہے اور نہ  ہی اپنے بےکار سے فوٹوگرافی کیریئر کی ،
ویسے بھی وہ سب تصویریں میں نے تھوڑی بنائی تھیں،
وہ تو میں نے ایک بیگ سے نکالی تھیں جو مجھے ایک دھماکے میں مرنے والے کسی لوکل اخبار کے فوٹوگرافر کی لاش کے پاس پڑا ملا تھا۔۔۔!!

Avatar
اسحاق جنجوعہ
کوئ خاص نہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *