معاذ بن محمود کی تحاریر
معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

اک عہد وفا تمام ہوا ۔۔۔ معاذ بن محمود

اپنے ابتدائی عہد میں اندرونی خلفشار و ریشہ دوانیوں کے عدم میں آپ نے مکمل یکسوئی کے ساتھ انہیں تخلیق کیا اور پھر اپنا پورا وقت ان کے خلاف جدوجہد میں گزارا۔ آپ کا آخری وقت مہم جوئیوں کا دور رہا۔ اس دوران آپ نے اپنے ادارے اور اپنے منصب کی پرواہ کیے بغیر بلا تفریق ہر گدھے، گھوڑے، کتے، بلی یعنی ہر سولین کے ساتھ کامیاب محاذ آرائی فرمائی۔ آپ تاریخ کے پہلے افسر اعلی تھے جو اپنا لکھا پھاڑ کر رجوع کے فضائل سے مستفید ہوا کرتے۔←  مزید پڑھیے

ہیں حاجی؟ توں ہن ایویں کریسیں؟ ۔۔۔ معاذ بن محمود

سول سپریمیسی کے سابق ایڈووکیٹ ہونے کا اعزاز رکھنے کے باوجود اس نظریے کے ساتھ بالجبر کی توجیہہ دے کر آپ نے فواد چوہدریوں جیسے ف چ قسم کے انسانوں کی صف میں اپنا نام کامیابی سے لکھوا لیا ہے۔ ہماری جانب سے اس عظیم کارنامے پر اخراجِ تحسین قبول فرمائیے۔ ہو سکے تو اس کے بعد یہ مشورہ بھی دیجیے کہ ووٹ کو عزت دو کے نعروں کا کیا کرنا ہے؟←  مزید پڑھیے

قصہ حجر اسود تک رسائی کا۔۔۔ معاذ بن محمود

کافی دیر تک غور کرنے کے بعد غور فکر میں اور پھر ماتھے پر ٹھنڈے پسینے کی شکل میں بدل گئی کیونکہ جس جانب میں نے جانا تھا وہاں سے تو ایک جم غفیر جسم پر کفن نما احرام باندھے میری ہی جانب چلے آرہا تھا۔ سوچا تھا تیس کے پیٹے میں چلتا “کڑیل جوان” ہوں، دیکھ لوں گا کون روکتا ہے۔ پر صاحب، دو چار گھڑی ٹس سے مس نہ ہو پایا تو کعبہ کے سامنے موت کی فضیلت دماغ میں ابھرنے لگی۔←  مزید پڑھیے

یہ کیا جج صاحب؟ ۔۔۔ معاذ بن محمود

کیا آپ بھی عوام کو گوبھیاں سمجھتے ہیں کہ جو ذاتی خلش کو گھٹیا پن کی اس نہج تک لے جائے گی؟ کیا آپ کو لگتا تھا کہ ہم مشرف سے اختلاف نہیں نفرت رکھتے ہیں اور نفرت بھی آپ کے درجے کی کہ جس پر ہم اس سطح پر چلے جائیں گے جہاں آپ ہیں؟ جج صاحب کیا ہم آپ کو ایک سازش کا حصہ مان لیں جس کے تحت آپ نے ایک درست فیصلے میں ایک ایسی ذیلی شق ڈال دی ہے جو پورے فیصلے پر حاوی ہو کر آئیندہ کے لیے ایسے فیصلوں پر پہنچنا مشکل تر بنا ڈالے گی؟←  مزید پڑھیے

گدھوں خچروں کا معرکہ اور لنگور کا فیصلہ ۔۔۔ معاذ بن محمود

اس کے بعد ہر گروہ دوسرے کو نیچا دکھانے کے درپے ہوگیا۔ جنگل کے سوشل میڈیا پر گھمسان کا رن جاری تھا۔ گدھے خچروں کو اپنی اولاد میں سے ہونے پر پھبتیاں کسے جارہے تھے۔ خچر تھے کہ گدھوں کو اپنی جسمانی فضیلت پر نیچا دکھانے پر تلے ہوئے تھے۔ یہ طوفان بدتمیزی زور و شور سے جاری تھا کہ سرکار نے ان دونوں کے درمیان تصفیہ حل طلبی کے لیے لنگور کی عدالت میں بھیج دیا۔ ←  مزید پڑھیے

بخدمت جناب۔۔۔ معاذ بن محمود

بعد سلام عرض ہے کہ بندہ ناچیز محسوس کرتا ہے کہ احقر دور حاضر کے مقبول فنون لطیفہ و دلچسپیات ما بعد از کار ہائے وظیفہ کا کسی حد تک واقف کار ہے۔ غریب، قطعہ ریاست مملکت پاکستان کے ایک مخصوص حصے میں بند بھی نہیں رہا لہذا خود کی بابت کنویں کے مینڈک والا حساب بھی بعد از قیاس محسوس کرتا ہے۔←  مزید پڑھیے

یہ غازی یہ تیرے پراسرار بندے ۔۔۔ معاذ بن محمود

جہاد کی اصل جہد ہے۔ جہد مطلب کوشش کرنا، دوڑ دھوپ میں جتے رہنا۔ نئی پیڑھ اقبال کو ہلکا لیتی ہے حالانکہ علامہ صاحب دہائیوں پہلے حیات مجاہدوں کے ذوقِ خدائی کے بارے میں تنبیہ دے گئے تھے۔ ظاہر ہے تب کی مجبوریاں الگ تھیں۔ سیدھی جگتیں مار نہیں سکتے تھے کہ سنجیدہ شخصیت تھے۔ اوپر سے مجاہد تب بھی ایسے ہی جلالی تھے۔ جوابِ شکوہ کو آپ ناروے واقعے کے بعد ٹیلی نار کی جانب سے معذرت خواہانہ ٹویٹ کا مترادف سمجھ لیجیے۔ زندگی بھلا کسے پیاری نہیں ہوتی۔ اقبال کو بھی پیاری تھی۔ تبھی مجاہدوں کے بارے میں ذوق خدائی جیسی ذو معنی حقیقت لکھ گئے۔←  مزید پڑھیے

خوف ۔۔۔ معاذ بن محمود

اس کے آگے کئی گاڑیاں خود پر مختلف نام سجائے طبقاتی تفریقات کے تکبر میں غرق رواں تھیں۔ اس کو مگر گاڑیوں کے رنگ نسل سے کہیں زیادہ اندھیرے میں ان کی سرخ روشنیاں پرکشش لگ رہی تھیں۔ وہ فاسٹ لین میں انہی روشنیوں میں گم اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھا کہ اچانک۔۔۔←  مزید پڑھیے

ایم آر آئی، پندرہ منٹ اور کوک سٹوڈیو ۔۔۔ معاذ بن محمود

زندگی میں تنوع کی بڑی اہمیت ہے۔ پندرہ منٹ کی انوکھی مثال کو لے لیجیے۔ کئی عمل ایسے ہیں جنہیں سرانجام دینے کو ۱۵ منٹ کا پتہ ہی نہیں چلتا۔ مثال کے طور پر۔۔۔۔ جی وہی۔ کئی حالات ایسے بھی ہوتے ہیں جن سے گزرتے ہوئے پندرہ منٹ پندرہ سال طوالت اختیار کرتے دکھائی دینے لگتے ہیں۔ ایسے ہی ایک کاموں میں دماغ کی ایم آر آئی بھی شامل ہے۔ ←  مزید پڑھیے

ڈرامہ انڈسٹری، آئی ایس پی آر اور عوامی رائے ۔۔۔ معاذ بن محمود

ان مثالوں کو پیش کرنے کا مقصد یہ ہے کہ حب الوطنی یا دفاعی اداروں سے متعلقہ ڈرامے دنیا بھر میں ایک نارم ہیں۔ ہم اپنے جذبات کو ایک جانب رکھ کر تجزیہ کریں تو آئی ایس پی آر نے کوئی انوکھا یا نیا کام نہیں کیا۔ پھر بھی تنقید جاری ہے۔ اس تنقید کی جڑیں کہاں ہیں یہ دیکھنا بھی ضروری ہے۔ ←  مزید پڑھیے

سب ایکتا کپور ہیں ۔۔۔ معاذ بن محمود

میں بھارتی اداکاروں کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں رکھتا۔ ایک بھارتی دوست کے توسط سے معلوم ہوا کہ ایکتا کپور ایک غیر شادی شدہ جذباتی خاتون ہیں جن کا پسندیدہ موضوع سیکس ہے۔ کم از کم آلٹ بالاجی کی حد تک یہ بات سمجھ آتی ہے۔ مزید یہ کہ ایکتا خود نمائی، خود پسندی اور نرگسیت کے چکر میں ہر چلڑ کو اداکاری کا پلیٹ فارم فراہم کر کے انہیں پیسا کمانے کا ذریعہ فراہم کرتی ہیں اور ان سے “واہ واہ” وصول کر کے اپنی نرگسی کھجلی کو مٹانے کا سامان پیدا کرتی ہیں۔ آلٹ بالاجی سٹریمنگ پلیٹ فارم یہ بات بھی کنفرم کرتا ہے۔ ←  مزید پڑھیے

سیاں مورے پریشاں ۔۔۔ معاذ بن محمود

سیاں پریشان ہیں کہ سائیکل کا سوچا تھا آگے چندرایان دوئم کی پائلٹ سیٹ پر بٹھا دیا گیا۔ سوچا تھا یونان جائیں گے ایمسٹریڈم والا ماحول بنائیں گے پر یہاں تو پتوکی چھوڑ دیا گیا اور ساتھ یار دوست بھی گنڈا پور جیسے ف چ قسم کے انسان، پھر دعوے بھی ریاست مدینہ والے؟ بندہ کرے تو کیا۔ وظائف کی کثرت اور بدہضمی کے نتیجے میں کیے گئے استخارے کا نتیجہ بزداری قسم کا وزیراعلی اور موجودہ کابینہ جیسا ہی نکلتا ہے۔ ←  مزید پڑھیے

سُومو ریسٹلنگ یا تقریر؟ ۔۔۔ معاذ بن محمود

قیامت قریب ہے۔ اس کی نشانی یہ مضمون ہے جو بدقسمتی سے مجھے لکھنا پڑ رہا ہے۔ کوئی بھی بات شروع کرنے سے پہلے میں آپ کو جاپانی سُومو ریسٹلنگ کی یاد دلانا چاہتا ہوں۔ یہ دیکھیں۔ خان صاحب نے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے ۷۴ ویں اجلاس کے دوران پوڈیم پر کھڑے ہو کر بحیثیت پاکستانی وزیراعظم اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ پچھلے فقرے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔←  مزید پڑھیے

بسلسلہ کھوتا و ڈڈو شریف ۔۔۔ معاذ بن محمود

ایک شام موسم کمال عاشقانہ تھا۔ مزے کی ہوا ساتھ ہلکی ہلکی پھوہار، سیدھے ہاتھ پر میامی بیچ اور الٹے ہاتھ پر طرح طرح کے ریسٹورینٹ جن میں زیادہ تر میں ہسپانوی رقص و موسیقی جاری تھے۔ سب کچھ خوب رومانوی تھا تاہم میامی میں رومان بھی پورن کی کیفیت جگانا شروع کر دیا کرتا ہے۔ میں دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر طبیعت سے اعلی ریسٹورینٹ چن کر بیٹھا اور مینیو پر نظر دوڑائی۔ ایک سینڈوچ جس کی صورت اچھی لگی، آرڈر کر دیا۔ سینڈوچ کا نام کوئی سا بیکن سینڈوچ تھا۔←  مزید پڑھیے

“دعا کریں حاجی مان جائے” ۔۔۔ معاذ بن محمود

رہی سہی کسر مارکیٹ میں دستیاب حاجی پوری کر دیتے ہیں۔ پشتون علاقے میں جو جتنا بڑا حاجی ہوگا اتنا ہی بڑا منشیات کا ڈیلر بھی۔ میرے ایک جاننے والے صاحب نے پہلے حج کے بعد نوادرات کی سمگلنگ کا کاروبار شروع کیا (نوادرات نادرہ کی جمع ہرگز نہیں۔۔ بلکہ ہو بھی سکتی ہے)۔ دوسرے حج کے بعد گاڑیوں کے پارٹس کی سمگلنگ کا۔ اس کے بعد میں نے ان کے کاروبار کی گنتی چھوڑ دی۔ پچھلے ہفتے اماں بتا رہی تھیں حاجی صاحب نے سات حج کر لیے ہیں۔ میرے ذہن میں سمگلنگ کی کل چار پانچ ہی اقسام ہیں۔ سوچتا ہوں مل ہی لوں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی میں کچھ نہیں رکھا۔←  مزید پڑھیے

محرم کے حوالے سے چند مشاہدات و گزارشات ۔۔۔ معاذ بن محمود

بھائیوں، حسین علیہ السلام کا کردار اس قدر بلند ہے کہ ان پر اوّل تو انگلی اٹھانے کے لیے بہت بڑا اور سرد مہر جگر چاہئے اور جو ایسا کر بھی دے تو چاند پر تھوکنے کے مترادف ہی رہتا ہے۔ اس پر بحث کرنے کا فائدہ کم نقصان زیادہ ہیں۔ پھر بحث بھی اگر ایسے شخص سے ہو جس کی معلومات کا منبع ہی مسجد کے مولوی (تحقیر مقصد نہیں) ہو تو پھر لاحول پڑھ کر آگے نکل چلنا زیادہ اہم ہے۔ ←  مزید پڑھیے

ٹی وی سیریز تجزیہ: کارنیوال رو

سیزن ریویو: کارنیوال رو Carnival Row IMDB Rating 8.1/10 یہ کہانی ہے نسل انسانی کی دیگر مخلوقات پر اثر اندازی کی جو حقیقی دنیا کے برعکس انسانوں جتنی ہی ذہین ہے مگر ظاہری طور پر مختلف ہے۔ انسان اس مخلوق←  مزید پڑھیے

شادی کی گیارہویں سالگرہ ۔۔۔ معاذ بن محمود

نصرت صاحب فرما گئے “غم ہے یا خوشی ہے تو۔۔ میری زندگی ہے تو” تو بھیا ایسا ہے کہ آج مجھے ٹائم مشین ملے اور دوبارہ انتخاب دیا جائے تب بھی میں دوبارہ اسی رفیقہ حیات کا انتخاب کروں گا جس کا گیارہ سال پہلے کیا۔ اس میں عقل والوں کے لیے نشانیاں بھی ہیں اور یہی عقل مندی کا تقاضہ۔ عین ممکن ہے آپ کا ٹائم مشین پر ایمان آخرت کی زندگی سے زیادہ ہو، کم از کم میرا تو نہیں۔ اور مجھے بتایا گیا ہے کہ وہاں بھی آپ کی موجودہ رفیقہ حیات آپ کے ساتھ نتھی ہوں گی۔ سمجھ آئی؟ “غم ہے یا خوشی ہے تو۔۔ میری زندگی ہے تو”۔ ←  مزید پڑھیے

نفرت سے نروان تلک ۔۔۔ معاذ بن محمود

میں نروان کی تلاش میں سکون کے درجات سے گزرتا ایک نئے درجے پر پہنچتا ہوں۔ یہاں میں بدروحوں کو دی جانے والی اہمیت سے برات کا اظہار کرتا ہوں۔ میں ان سے بیزاری کا اعلان کرتا ہوں۔ یہ ہانپتی کانپتی ناچتی بدروحیں میرے لیے کوئی معنی نہیں رکھتیں۔ جو معنی رکھتا ہے وہ ہے میرا قلبی سکون۔ میں اسے پاچکا ہوں۔ میں خوش ہوں۔ ←  مزید پڑھیے

مسئلہ کشمیر یا کشمیری، اہم کون؟ ۔۔۔ معاذ بن محمود

ہندوستان کا بٹوارہ ہوا تو مسلمانوں نے کچھ سہانے خواب دیکھے۔ سوچا الگ دیس بنائیں گے وہاں آزاد رہیں گے، اپنی مرضی سے گائے کاٹا کریں گے، سنڈاس بنایا کریں گے۔ ہر وہ مسلمان جو ایسی آس لگائے بیٹھا تھا،←  مزید پڑھیے