معاذ بن محمود کی تحاریر
معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

“دعا کریں حاجی مان جائے” ۔۔۔ معاذ بن محمود

رہی سہی کسر مارکیٹ میں دستیاب حاجی پوری کر دیتے ہیں۔ پشتون علاقے میں جو جتنا بڑا حاجی ہوگا اتنا ہی بڑا منشیات کا ڈیلر بھی۔ میرے ایک جاننے والے صاحب نے پہلے حج کے بعد نوادرات کی سمگلنگ کا کاروبار شروع کیا (نوادرات نادرہ کی جمع ہرگز نہیں۔۔ بلکہ ہو بھی سکتی ہے)۔ دوسرے حج کے بعد گاڑیوں کے پارٹس کی سمگلنگ کا۔ اس کے بعد میں نے ان کے کاروبار کی گنتی چھوڑ دی۔ پچھلے ہفتے اماں بتا رہی تھیں حاجی صاحب نے سات حج کر لیے ہیں۔ میرے ذہن میں سمگلنگ کی کل چار پانچ ہی اقسام ہیں۔ سوچتا ہوں مل ہی لوں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی میں کچھ نہیں رکھا۔←  مزید پڑھیے

محرم کے حوالے سے چند مشاہدات و گزارشات ۔۔۔ معاذ بن محمود

بھائیوں، حسین علیہ السلام کا کردار اس قدر بلند ہے کہ ان پر اوّل تو انگلی اٹھانے کے لیے بہت بڑا اور سرد مہر جگر چاہئے اور جو ایسا کر بھی دے تو چاند پر تھوکنے کے مترادف ہی رہتا ہے۔ اس پر بحث کرنے کا فائدہ کم نقصان زیادہ ہیں۔ پھر بحث بھی اگر ایسے شخص سے ہو جس کی معلومات کا منبع ہی مسجد کے مولوی (تحقیر مقصد نہیں) ہو تو پھر لاحول پڑھ کر آگے نکل چلنا زیادہ اہم ہے۔ ←  مزید پڑھیے

ٹی وی سیریز تجزیہ: کارنیوال رو

سیزن ریویو: کارنیوال رو Carnival Row IMDB Rating 8.1/10 یہ کہانی ہے نسل انسانی کی دیگر مخلوقات پر اثر اندازی کی جو حقیقی دنیا کے برعکس انسانوں جتنی ہی ذہین ہے مگر ظاہری طور پر مختلف ہے۔ انسان اس مخلوق←  مزید پڑھیے

شادی کی گیارہویں سالگرہ ۔۔۔ معاذ بن محمود

نصرت صاحب فرما گئے “غم ہے یا خوشی ہے تو۔۔ میری زندگی ہے تو” تو بھیا ایسا ہے کہ آج مجھے ٹائم مشین ملے اور دوبارہ انتخاب دیا جائے تب بھی میں دوبارہ اسی رفیقہ حیات کا انتخاب کروں گا جس کا گیارہ سال پہلے کیا۔ اس میں عقل والوں کے لیے نشانیاں بھی ہیں اور یہی عقل مندی کا تقاضہ۔ عین ممکن ہے آپ کا ٹائم مشین پر ایمان آخرت کی زندگی سے زیادہ ہو، کم از کم میرا تو نہیں۔ اور مجھے بتایا گیا ہے کہ وہاں بھی آپ کی موجودہ رفیقہ حیات آپ کے ساتھ نتھی ہوں گی۔ سمجھ آئی؟ “غم ہے یا خوشی ہے تو۔۔ میری زندگی ہے تو”۔ ←  مزید پڑھیے

نفرت سے نروان تلک ۔۔۔ معاذ بن محمود

میں نروان کی تلاش میں سکون کے درجات سے گزرتا ایک نئے درجے پر پہنچتا ہوں۔ یہاں میں بدروحوں کو دی جانے والی اہمیت سے برات کا اظہار کرتا ہوں۔ میں ان سے بیزاری کا اعلان کرتا ہوں۔ یہ ہانپتی کانپتی ناچتی بدروحیں میرے لیے کوئی معنی نہیں رکھتیں۔ جو معنی رکھتا ہے وہ ہے میرا قلبی سکون۔ میں اسے پاچکا ہوں۔ میں خوش ہوں۔ ←  مزید پڑھیے

مسئلہ کشمیر یا کشمیری، اہم کون؟ ۔۔۔ معاذ بن محمود

ہندوستان کا بٹوارہ ہوا تو مسلمانوں نے کچھ سہانے خواب دیکھے۔ سوچا الگ دیس بنائیں گے وہاں آزاد رہیں گے، اپنی مرضی سے گائے کاٹا کریں گے، سنڈاس بنایا کریں گے۔ ہر وہ مسلمان جو ایسی آس لگائے بیٹھا تھا،←  مزید پڑھیے

اٹھ ۔۔۔ معاذ بن محمود

ابا جی کی وہ قبر۔ اس کے پیچھے ایک چھوٹا سا آنگن ٹائپ ہے۔ اور وہاں اس آنگن میں ہے ایک کنواں۔ موت کی خاموشی کے درمیان زندگی کا بنیادی عنصر پانی۔ کنواں نہ ہوتا تو شاید اس کے ارد گرد کی قبریں بھی ویسی ہی پلین سی پیسو سی حقیقت لگتیں۔ مگر کنویں پر زندگی ہمیشہ حرکت میں ہوتی ہے۔ یوں زندگی کے کنٹراسٹ کے باعث موت کا استعارہ وہ قبر مزید تنہائی کا احساس دیتی ہے۔ جیسے بھوکے کے سامنے کوئی کھانا کھا رہا ہو تو بھوک اپنا تشخص شدت کے ساتھ ظاہر کرتی ہے۔ بس ویسے ہی۔←  مزید پڑھیے

خان صاحب کا امریکی خیر مقدم اور چند (غیر) سنجیدہ حقائق ۔۔۔ معاذ بن محمود

دوسری بات یہ کہ اس دورے میں خان صاحب ایک عام مسافر کی طرح گئے ہیں۔ قطر ائیر ویز کی پرواز پر ایک عام مسافر کی طرح۔ لہذا ان کا استقبال بھی کوئی خاص نہیں ہوگا۔ میرے ماموں کا بیٹا کامران بتلاتا ہے کہ نواز شریف کے دور خبیثہ میں ہم امریکیوں کو رن وے سے رکشہ کرا کر دیتے تھے۔ خان صاحب کے دور میں اوبر اور کریم کا کاروبار خوب پھلا پھولا ہے، جو ایک الگ حقیقت ہے اور ہماری معاشی خوشحالی کی جانب کھلا اشارہ کرتی ہے (یہ اور بات ہے کہ اس اشارے کے لیے انگشت ایک ہی مستعمل رہتی ہے)۔ ←  مزید پڑھیے

ریاست، سیاست اور خباثت ۔۔۔ معاذ بن محمود

ریاست میں بحیثیت سیاستدان منتخب ہونے کا عمل کئی وسائل کا متقاضی ہوا کرتا ہے جس میں وقت اور دولت سرفہرست ہیں۔ اب عین ممکن ہے جس شخص کو آپ اپنے علاقے کا منتخب نمائیندہ چننا چاہتے ہیں وہ خلوص اور عقل سے مالا مال ہو تاہم اللہ تعالی کی دوسری دونوں نعمتوں (وقت اور دولت) سے محروم ہو۔ ایسی صورت میں انتخاب کی سو فیصد آزادی کا تصور ویسے ہی ختم ہوجاتا ہے۔←  مزید پڑھیے

اقراء و یاسر: جوابِ شکوہ ۔۔۔ معاذ بن محمود

محترمہ سوال اٹھاتی ہیں کہ کیا اسلام پسندوں کا حق نہیں کہ بے حیائی، بے پردگی اور بے شرمی کو ان پر مسلط نہ کیا جائے۔ عرض ہے کہ سارا مدعا اسی آزادی کا ہے جس کی بابت اوپر بات کی گئی۔ یہ انٹرنیٹ، سینکڑوں چینلز اور لاکھوں پیجز کا دور ہے۔ مسلط کرنا یہ ہوتا ہے کہ رمضان میں ہوٹل بزور قوت بند کر دیے جائیں۔ مسلط کرنا یہ ہرگز نہیں ہوتا کہ سینکڑوں دستیاب چینلز میں سے وہی چینل لگا کر بچوں کو دکھایا جائے جو آپ کے نزدیک بے حیائی پھیلا رہا ہے۔ اگر آپ کو خوف ہے کہ بچے بے حیائی کی جانب جائیں گے تو آپ یہ مان رہے ہیں کہ نئی نسل کا میلان آزاد طبع ہونے پر ہے یا کسی قسم کی مذہبی گھٹن کے خلاف ہے۔←  مزید پڑھیے

تحریک انصاف کے دوستوں سے گزارش ۔۔۔ معاذ بن محمود

آپ ٹیکس نیٹ بڑھانا چاہتے ہیں، ہم اس قدم کا بھرپور ساتھ دیتے ہیں لیکن آپ یہ نہیں سوچ رہے کہ ایک جانب ہوشربا ٹیکس کا بار عوام پر ڈالا جا رہا ہے تو دوسری طرف روپے کی قدر کم ہونے کے باعث بڑھنے والی مہنگائی کا بوجھ بھی اسی دوکاندار اور اسی نجی یا سرکاری ملازم پر ہے جس کی تنخواہ مہنگائی کی شرح کے حساب سے نہیں بڑھتی، ہاں اخراجات بڑھتے رہتے ہیں۔ اس کا نتیجہ آج یا کل آپ سی نفرت کی صورت میں ہی آئے گا۔ آنا شروع ہو بھی چکا ہے۔ ←  مزید پڑھیے

عصمت ۔۔۔ معاذ بن محمود

درانی کے لیے اس کی مدد اور اس کی قربت دو الگ معاملات تھے۔ اس کے پاسپورٹ کی تصحیح میں کچھ تکنیکی مسائل تھے۔ اسلام آباد سے بھیجے جانے والے خاص بیوروکریٹ کی حیثیت سے مگر وہ کراچی میں بھی اچھا خاصہ اثر و رسوخ رکھتا تھا۔ پاسپورٹ ٹھیک ہونے میں وقت لگنا لامحالہ تھا۔ دوسری جانب اس کی جسمانی ساخت درانی کو اس میں دلچسپی لینے پر مجبور کیے رکھتی۔ عمر میں وہ درانی سے بیس سال کم تھی مگر کھاتے پیتے آسودہ گھرانے سے تعلق رکھنے کے باعث خوشحال ظاہر اس کے افسردہ باطن پر حاوی رہتا۔←  مزید پڑھیے

ملازمت، نجی زندگی اور کارپوریٹ ایتھکس ۔۔۔ معاذ بن محمود

تنخواہ دفتر میں کام کرنے کی ملتی ہے۔ پڑوسی سے نہ لڑنے کی نہیں۔ ہمیں ملازمت کی تعریف کو دیکھنا ہوگا۔ ملازمت اپنی خدمات کے عوض معاوضہ لیے جانے کا نام ہے۔ ہر معاہدے کی طرح اس معاہدے کے حقوق و فرائض بھی محدود پیمانے پر طے کیے جا سکتے ہیں۔ ہر معاہدے کی طرح یہ معاہدہ بھی ریاستی قوانین کی خلاف ورزی کرتی کوئی شق نہیں ڈال سکتا۔ ہاں ادارے کا کوڈ آف کانڈکٹ ہو جس کے تحت آپ نے سوشل میڈیا پر بھی اچھا بچہ بن کر رہنا ہے، اور جسے معاہدے کے حصے کے طور پر قبول کر کے آپ نے ملازمت قبول کی ہو تو معاملہ الگ ہے۔ تب آپ پابند ہیں سوشل میڈیا پر وہ سب کچھ نہ کرنے کے جسے نہ کرنے کا آپ نے معاہدے میں عہد کر کے دستخط کیا ہے۔ ←  مزید پڑھیے

او کچھ تو بولو ۔۔۔ معاذ بن محمود

معاملہ کچھ یوں ہے کہ وینا جی ہم سب کو امید سے کر کے، ہندوستان پدھارنے کے بعد، زمان و مکاں پر آئی ایس آئی کے نشان چھوڑنے کر، اور ایک بھرپور قسم کے فلاپ فلمی کیرئیر کی معراج پا لینے کے بعد گوشہ نشینی کی زندگی اختیار کر چکی تھیں۔ راقم کے لیے وہ تب بھی قابل احترام ستارہ تھیں جب وہ ہم سب کو امید سے کیا کرتی تھیں، تب بھی جب وہ خٹک صاحب سے شادی کر کے محترم طارق جمیل سے رجوع کرنے کے بعد ایک خاموش زندگی بسر کر رہی تھیں۔ ہمیں اب بھی ان کی نجی زندگی، اداکاری یا ان کے کسی قسم کے اثاثہ جات سے مسئلہ نہیں ناں ہی ہم نے ان تمام قصے کہانیوں پر بات کرنی ہے۔ ←  مزید پڑھیے

مکالمہ خصوصی: جسٹس فائز عیسٰی کا دوسرا خط ۔ مکمل اردو متن

جناب صدر صاحب، مورخہ ۲۸ مئی ۲۰۱۹ کو میں نے آپ کو (ایک خط) لکھا جس میں اپنے خلاف کسی ریفرینس کی بابت استفسار کیا گیا اور (درخواست کی گئی کہ) اگر ایسا ہے تو براہ مہربانی مجھے اس کی←  مزید پڑھیے

پانچویں نسل کے مجاہدین ۔۔۔ معاذ بن محمود

اس کے والدین خصوصاً جدّی سلسلے کے بارے میں کوئی حتمی معلومات دستیاب نہیں۔ شنید ہے کہ یہ راولپنڈی کی چند انگلیوں کی شرارت تھی جنہوں نے اس کے ظہور واسطے کی بورڈ پر “حرکت” کی۔ حرکت میں اتنی برکت ہوئی کہ ایک ایک کر کے اس کے دس پندرہ ہزار بہن بھائی معرض وجود میں آگئے۔←  مزید پڑھیے

دعوت ۔۔۔ معاذ بن محمود

بہت ہی بڑی تقریب ہے۔ باہر کھڑے پولیس والے اندر جانے سے روک رہے تھے۔ پرویز بخت نے دعوت نامے کی کاپی دی تھی۔ بس وہی دکھا کر مشکل سے اندر داخل ہو پائی۔ یہاں اچھے اچھے کپڑے پہنے بڑے بڑے صاحب لوگ موجود ہیں۔ کرسیاں خالی ہیں مگر مجھے ان پھٹے بدبودار کپڑوں میں سب کے بیچ کون بیٹھنے دے گا بھلا۔←  مزید پڑھیے

بسلسلہ چوپائے یا مردے سے وطی ۔۔۔ معاذ بن محمود

دوسری جانب ایسے frequently asked questions کی بابت یہ بات بھی حقیقت ہے کہ ایسے سوالات پوچھے جائیں تو کیا اس معاشرے میں بڑے ہوتے نوعمر جوانوں کے لیے ایسے کاموں کو قبیح نہ ماننے کا جواز میسر نہیں ہو گا؟ کیا یہ بہتر نہیں کہ مسئلے کا حل بتاتے ہوئے اس فعل کی قباحت پر بھی بات ہوتی کہ یہ جواز نہ لگتا؟ یہ بات ہمارے فقہاء کو ایسی کتب تحریر کرتے سوچنی چاہئے۔ شاید سوچتے بھی ہوں اور مذکورہ بالا کتاب ایک تخصیص ہو۔←  مزید پڑھیے

چئیرمین نیب اور نظریاتی زومبی ۔۔۔ معاذ بن محمود

مزاجی تنوع پر غور کیجیے گا کہ ایک جانب ایک پاکستانی دل کے اچاٹ ہونے کی شکایت کر رہا ہے تو دوسری جانب ایک اور پاکستانی بوس و کنار کے عزم کا اعادہ کر رہا ہے۔ بقول مدیر اعلی جناب انعام رانا، “ہم ایسی مذہبی قوم ہیں کہ چمی چاٹا بھی انشااللہ کہہ کر پلان کرتے ہیں۔ الحمداللہ”۔ ←  مزید پڑھیے

سانجھے دکھ ۔۔۔ اداریہ مکالمہ

ادارہ مکالمہ اپنی تمام تر انتظامیہ، لکھاری اور قارئین کے ہمراہ محترم قمر الزمان کائرہ صاحب کے اس دکھ میں برابر کا شریک ہے۔ اللہ تعالی مرحوم اسامہ کے اگلے جہاں بہترین فرمائے اور کائرہ صاحب اور اہل و عیال کو صبر جمیل عطاء فرمائے۔ آمین۔←  مزید پڑھیے