معاذ بن محمود کی تحاریر
معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

آٹھ فٹ کا گھوڑا اور گجرات کا سفر (حصہ سوئم) ۔۔ معاذ بن محمود

اگلے ساڑھے تین گھنٹے مولانا طارق جمیل کے سیاسی کارناموں اور ایک بار پھر مدارس میں جنسی استحصال پر بات چلتی رہی۔ اتنے میں افضل بھائی نے اعلان کیا کہ انہیں درد ہو رہا ہے۔ چند لمحے ہم مدارس کے واقعات کا افضل بھائی کے درد سے تعلق جوڑتے رہے جو یقیناً فطری فعل تھا تاہم افضل بھائی شاید معاملہ بھانپ گئے اور فورا بولے کہ بھیا سر میں درد ہو رہا ہے۔ بھٹی صاحب کی موجودگی میں کسی اور درد سر کا تصور ہمارے لیے بھی درد سر ہی کے جیسا تھا بہرحال مرتے کیا نہ کرتے، برداشت کرنا پڑا۔ ←  مزید پڑھیے

آٹھ فٹ کا گھوڑا اور گجرات کا سفر (حصہ دوم) ۔۔۔ معاذ بن محمود

دن کے کسی پہر میری آنکھ کچھ اس حالت میں کھلی کہ سانس بند تھا۔ پہلا شک افضل بھائی کی طرف گیا۔ ساتھ نظر ڈالی تو افضلبھائی الٹے پڑے سو رہے تھے۔ یوں سانس اصولا ان کا بند ہونا بنتا تھا تاہم یہاں حالات الٹے تھے۔ کسی طرح میں کھڑا ہوا۔سامنے بھٹی صاحب لاش بنے سو رہے تھے۔ میں نے خود کو گرنے سے روکنے کے لیے بھٹی صاحب کا ہاتھ بے پناہ غیر رومانویطریقے سے پکڑا۔ بھٹی صاحب سوتے سے اٹھ گئے۔ اب وہ مجھے بدروح سمجھ رہے تھے۔←  مزید پڑھیے

کرونا اور پاکستانی تعلیمی ادارے ۔۔۔ معاذ بن محمود

پاکستان میں کرونا اس قدر ہانیکارک ثابت نہیں ہوا جس قدر اس کے نام پر ہونے والی لوٹ مار۔ اس وقت تعلیمی ادارے کروناکے نام پر پیسہ بٹورنے کی مہم پر ہیں۔ چونکہ پوچھنے والا کوئی ہے نہیں لہذا میں اور آپ نقار خانے میں طوطی کا کردار ہی ادا کر سکتےہیں۔←  مزید پڑھیے

آٹھ فٹ کا گھوڑا اور گجرات کا سفر (حصہ اوّل) ۔۔ معاذ بن محمود

ایک گھنٹے تک خان صاحب نہ آئے تو ماتھے پر شکنیں نمودار ہونے لگیں۔ دوکان والے سے پتہ کیا۔ اس نے آگے فون کیا تو معلوم ہوا گاڑی پچھلی گلی میں بند کھڑی ہے اور مکینک کو ٹھیک کر رہی ہے۔ دوسری جانب مکینک کو گمان تھا کہ وہ گاڑی ٹھیک کر رہا ہے۔ مزید آدھے گھنٹے تک معاملہ حل نہ ہوا تو مالک نے چیف انجینئر کو بھجوایا۔ مزید نصف گھنٹا گزرا تب جا کر دونوں گاڑی لے کر یا گاڑی دونوں کو لے کر واپس پہنچی۔ ہک ہا۔۔۔ افضل صاحب اور ان کا آٹھ فٹ کا گھوڑا۔۔۔←  مزید پڑھیے

بحوالہ پوٹینشل ریپسٹ ۔۔۔ معاذ بن محمود

غالباً ضیاء صاحب کے زمانے میں کسی رئیس الجامعات نے ریسرچ پیپر لکھا جس کا عنوان شاید “جنات کے ذریعے بجلی بنانے کےطریقے” یا لچھ ملتا جلتا تھا۔ سنہ ۲۰۰۲ میں سٹاک ہومز یونیورسٹی کے تین طلباء کا ریسرچ پیپر “مرغیاں بھی حسین لوگ پسند کرتیہیں” شائع ہوا۔ کنگ کالج لندن شعبہ فلسفہ کی طالبہ راشل پیٹرسن کی ریسرچ سٹڈی کا عنوان “یونی کارنز کے امکانات” رہا۔←  مزید پڑھیے

خفیہ ہتھیار ۔۔۔ معاذ بن محمود

میٹنگ کے اختتام پر ایک انتہائی خفیہ ٹیکنالوجی کی ڈیولپمنٹ پر حکومت سے مبرا طبقوں اور خفیہ سائینسدانوں کی ٹیم کا اتفاق ہوا۔ سائینسدانوں نے البتہ اتفاق کے باوجود چند خدشات کا اظہار کیا جن کی تلافی کے لیے ایک ایسی شخصیت کی تلاش تھی جسے سائینس اور ٹیکنالوجی اندر باہر سے ازبر ہو۔←  مزید پڑھیے

کیا لکھیں؟ ۔۔۔ معاذ بن محمود

بنام بلوچ برادران۔۔۔ جو کھولیں لب تو اٹھتے ہیں صدائیں دیں تو دبتے ہیں زباں ہے بند، تڑپتے ہیں سہمتے ہیں، سسکتے ہیں، بلکتے ہیں الم کی داستاں بھی کیا لکھیں جو لکھ ڈالیں تو گڑتے ہیں پھر ان کی←  مزید پڑھیے

قاتل انسان، انسان مقتول ۔۔۔ معاذ بن محمود

ریاست کے بھونڈے مذاق پر مفصل رونا پھر کبھی کے لیے رکھتے ہیں۔ فرات کے کنارے کتے کی موت والی مثالیں دینے والے حکمران انسانوں کی کتوں والی موت پر خاموش رہتے ہیں۔ ابھی کے لیے اسی فقرے کو مختصر گریہ سمجھ لیجیے۔ کیا فرق پڑتا ہے جو ایک فرد مارا گیا۔ اتنے سارے کروڑ افراد ہیں۔ کوئی نیا پیدا ہوجائے گا یوں سرعام گولیاں کھانے واسطے۔ میں اور آپ اگر قتل ہونے سے بچ بھی گئے تو یوں ہی اپنے دل کے پھپھولے تو باہر نکالتے ہی رہیں گے۔←  مزید پڑھیے

ممانی دردانہ ۔۔۔ معاذ بن محمود

ممانی دردانہ علم کا منبع ہیں۔ ایک دن چار گھنٹے اس بحث میں گزار چکی ہیں کہ فلاں دینی شخصیت سکالر نہیں عالم ہیں۔ ان کا علم جملہ کتب سے بالا ہے کہ آکسفرڈ ڈکشنری میں سکالر کے معنی عالم دیکھ کر بھی وہ اپنے مؤقف پر قائم رہ چکی ہیں۔ استقامت کے یہ درجات اللہ پاک کسی کسی کو بخشتا ہے۔←  مزید پڑھیے

سفرنامچہ: کراچی تا ملتان ۔۔۔ معاذ بن محمود

“افضل بھائی، نہیں بنا کام۔ اب کیا کریں؟ موٹروے پولیس کو کال کر لیں؟”۔ بولے “سر آپ نے گھبرانا نہیں ہے۔ ایسا کریں بیٹری کے ٹرمینلز پر پانی ڈالیں”۔ پوچھا “افضل بھائی پانی دونوں ٹرمینلز پر ڈالا اور ٹرمینل مل گئے تو کوئی شارٹ وغیرہ نہ ہوجائے”۔ جواب آیا “آپ نے گھبرانا نہیں ہے”۔ اس وقت ہمیں سمجھ آئی کہ خان صاحب فلسفۂ گھبرانا نہیں ہے سے ریاست کس طرح چلا رہے ہوں گے۔ خیر ہم نے یہ کام بھی کر دیکھا۔ گاڑی پھر سٹارٹ ہونے سے انکاری۔ اب کی بار افضل بھائی کو کال کرنے سے ہم گھبرا رہے تھے۔ ←  مزید پڑھیے

سفرنامچہ: ٹنڈو الہہ یار کا تیسرا دورہ ۔۔۔ معاذ بن محمود

یہاں پر کپڑے تبدیل کر کے ہم گھر کی طرف نکلے۔ میاں صاحب کے دل میں نجانے کون سے خواہش مچلی کہ اچانک پوچھا “میرے پپیتے دیکھنے ہیں؟”۔ یہ سوال تھوڑا عجیب کسی حد تک فحش اور بہت حد تک غیر متوقع تھا۔ ہم سب نے میاں صاحب کو گھور کر دیکھا تو انہیں شاید اپنی غلطی کا احساس ہوگیا۔ کہنے لگے “مطلب میرے پپیتوں کی کاشت دیکھنی ہے؟”۔ اگرچہ میاں صاحب کے پپیتوں کی کاشت واضح طور پر ہم جانتے تھے، پھر بھی مزید اعتراض مناسب نہ سمجھا۔ اثبات میں سر ہلایا اور میاں صاحب کے پپیتوں کی طرف نکل پڑے۔←  مزید پڑھیے

ریاست اور فرد کے حقوق ۔۔۔ معاذ بن محمود

زندہ رہنا، آزاد رہنا اور خوشیوں کا حصول ایک انسان کی بنیادی ضرورت اور متفقہ بنیادی ترین حقوق ہیں۔ ریاست کا بنیادی ترین مقصد ان حقوق پر منڈلاتے کسی بھی خطرے سے تحفظ کی یقین دہانی ہے۔ آپ پونے چار ارب صفحات پر مبنی دستاویز لکھ ڈالیں، یہ تین حقوق کا تحفظ نہیں تو ریاست کچھ بھی نہیں۔←  مزید پڑھیے

معرفت، ادراک اور پیر کامل ( حصہ سوئم) ۔۔۔ معاذ بن محمود

تشکیک کسی بھی مرید کی بے راہ و روی کے لیے زہر قاتل ہے۔ پس اے مریدین، آپ پیرِ کامل کے فرامین کی روح تک پہنچیں کہ اس کے بغیر ولی اللہ وقت کی معرفت کا اعتراف و ادراک ناممکن ہے۔ یہ دنیا ایک گولا ہے جو پیرِ کامل کی ہتھیلی پر گھوم رہا ہے۔ وہ جس نگاہ سے اسے دیکھ رہا ہے، مریدین کے زیر مشاہدہ زمان و مکان اس پر حجت نہیں رہتے۔ “جرمنی اور جاپان پڑوسی ہیں”۔ ←  مزید پڑھیے

وباء کے دن اور۔۔ نماز عید ۔۔۔ معاذ بن محمود

اب ہم کھڑے ہوئے۔ ایک دوسرے سے عید ملی تو اجنبی گلے ملنے آنے لگے جنہیں دیکھ کر ایسا محسوس ہوا جیسے کرونا کا بڑا ورژن گلے ملنے آرہا ہو۔ اب کے دماغ میں خبث بھرا آئیڈیا آیا۔ جو اجنبی قریب آتا میں کھانسنا شروع ہوجاتا اور اگلا بندہ فوراً دور۔ الحمد للّٰہ۔ ←  مزید پڑھیے

آئی کو کون ٹال سکتا ہے؟ ۔۔۔ معاذ بن محمود

اس کے بعد سی ای او پی آئی اے کے حق میں ٹھنڈی ہوائیں چلتی ہیں اور ان کی گدی کی جانب اٹھنے والے تمام ہاتھ ٹنڈے کر دیے جاتے ہیں۔ نہ ہی آڈیٹر جنرل آف پاکستان سے پوچھا جاتا ہے کہ گستاخ بھلا تمہاری ہمت کیسے ہوئی اس قدر جلیل القدر شخصیت پر ایسی گھٹیا دشنام طرازی کی، نہ سندھ ہائی کورٹ سے استفسار ہوتا ہے کہ جنگی علوم پر مہارت رکھنے والے ہرے پوش کے لیے ایسا طرز تخاطب۔←  مزید پڑھیے

میرا بے نیاز خدا ۔۔۔ معاذ بن محمود

میرے نزدیک خدا کی صفتِ بے نیازی وہ صفت ہے جسے اگر ٹھیک سے نہ سمجھا جائے تو انسان کے رب باری تعالی سے باغی ہونے کے امکان بہت بڑھ جایا کرتے ہیں۔ یہ صفت خدا کی Integrity پر دلیل ہے۔ وہ کسی سے بلیک میل نہیں ہوتا۔ ہاں وہ ہر شے پر قادر ہے مگر اپنی مرضی سے۔ آپ اسے دہائی دے سکتے ہیں مگر وہ آپ کی سنے نہ سنے یہ اس کی مرضی پر منحصر ہے۔ آپ اسے اس کے پیارے نبی کا واسطہ دے سکتے ہیں مگر وہ یہ واسطہ مانے نہ مانے اس کا فیصلہ۔ کیونکہ وہ بے نیاز ہے۔←  مزید پڑھیے

مرا گھر بھی آج مکاں ہوا ۔۔۔ معاذ بن محمود

میں اس احساس کا مجرم بنا کھڑا تھا کہ کاش ان تمام چیزوں کی زباں ہوتی ضمیر ہوتا اور یہ میرے سامنے کھڑے ہوکر مجھے روک پاتیں۔ پھر میں ان کے کرب کے آگے ہار مان لیتا اور ان سے جان نہ چھڑانے کی کسی تدبیر میں لگ جاتا۔←  مزید پڑھیے

بیرون ملک سے واپسی، وفاق اور حکومت سندھ کی کارکردگی ۔۔۔ معاذ بن محمود

حکومت وقت کا شدید ترین ناقد ہونے کے باوجود دو بہترین کاموں کی داد نہ دینا صریحاً بددیانتی ہوگی۔ پہلا کام بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کی واپسی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر فیصلہ جس کے باعث چالیس ہزار کے قریب پاکستانی واپس اپنے ملک آرہے ہیں۔ پڑوسی ملک بھارت کی جانب سے تاحال اس قسم کے قدم کا عملی مظاہرہ نہیں کیا جاسکا۔ ←  مزید پڑھیے

شدید متفق ۔۔۔ معاذ بن محمود

معاشرے میں دانشوروں کا ایک مسلک ایسا بھی ہے جو عوام میں گھل مل کر ان سے مکالمہ کرنے کو برا نہیں سمجھتا۔ یہ گروہ اپنیدانش عوام الناس میں دان کرنے کی کوشش کرتے کرتے دار فانی کوچ کر جاتا ہے لیکن عوام العام کا عقلی معیار پھر بھی اس عامسے معیار پر ٹکا رہتا ہے جہاں سے سفر کا آغاز ہوا تھا۔ میرے اور میرے مؤکلین کا راسخ عقیدہ ہے کہ دانشوروں کا یا جتھا دو نمبردانشور ہے۔←  مزید پڑھیے

مرغوں پر مضمون ۔۔۔ معاذ بن محمود

مرغا ایک نہایت ہی لطیف اور نازک جاندار ہے۔ اس کا سر، دھڑ کی نسبت پتلا اور لمبا جبکہ دھڑ سر کی نسبت بھاری اور بیضوی ہوا کرتا ہے۔ اس بھاری بھرکم دھڑ سے وہ کئی اہم کام لیا کرتا ہے جن کی منصوبہ بندی اس کے سر کے بالکل اوپری سرے پر واقع دماغ میں ہوا کرتی ہے۔ سر اور دھڑ کا یہ باہمی اشتراک ہی دراصل مرغے کی بقاء کا ضامن ہوا کرتا ہے۔ ←  مزید پڑھیے