معاذ بن محمود کی تحاریر
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

شیطان۔۔۔ معاذ بن محمود

واپس چلتے ہوئے بھی اس کے دماغ میں اپنی پوری زندگی ایک فلم کی طرح چل رہی تھی۔ یقیناً یہ ایک پرتشدد فلم تھی۔ مار پیٹ اس کی یادوں کو دھندلا کر چکی تھیں۔ اسے بس زندگی کے ہر موڑ پر خود پہ اٹھتے ہاتھ نظر آتے۔ کبھی درخت کی شاخ سے مار جو اس کی کھال ادھیڑ کر رکھ دیتی۔ کبھی ربڑ کے پائپ سے مار جو کئی سرخ لکیریں اس کے جسم پر ڈال دیتی۔←  مزید پڑھیے

اور طالبان پھر آگئے۔۔۔ معاذ بن محمود

دیگر افغان حکومتوں کی نسبت پاکستان کے تعلقات طالبان کے ساتھ بہتر رہے ہیں۔ اس کی اپنی وجوہات ہیں اور اپنی ایک تاریخ ہے تاہم یہ حقیقت ہے۔ پچھلی بار کی طرح اس بار مغربی میڈیا انہیں خاص ڈریکولا بنا کر پیش نہیں کر رہا۔ مطلب آپ کچھ بھی کہہ لیں یہ روش جاری رہی تو کچھ عرصے میں آپ ان کا ماضی کچھ کچھ بھول کر ان کے حال اور مستقبل پر نظر رکھنا شروع ہوجائیں گے۔ ←  مزید پڑھیے

ما بعد از پائے۔۔۔ معاذ بن محمود

تو صاحبو، ہمیں بلوغت سے ہم کنار ہوئے جمعہ جمعہ آٹھ دن ہی ہوئے تھے۔ سردیوں کا ہر جمعہ نت نئے بالغ بچگان کے لیے بھاری ہوتا ہے۔ جب جب آپ آنے والے روز کا جمعہ فقط وضو سے بھگتانے کا فیصلہ کرتے ہیں، قدرت آپ کو “شٹ اپ اینڈ فک یو” کہتی انگشتِ منجھل کا دیدار کراتی ادھر سے آتی ادھر گم ہوجایا کرتی ہے۔ ہمارے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔←  مزید پڑھیے

امریکہ کے پتے از کپتان نیازی۔۔۔ معاذ بن محمود

“اچھا مجھے نیند آ رہی ہے” نیازی ذرا بےزاری سے بولا۔ “آپ بے شک سو جائیں مگر پلیز فون بند مت کیجئے گا۔ وہ جیسے التجا کر رہا تھا۔” “جب میں کچھ بولوں گا ہی نہیں تو آپ کیا سنیں گے؟” “میں آپ کی خاموشی سنوں گا کپتان!” ←  مزید پڑھیے

زیادتی کا شکار مجسمہ۔۔۔ معاذ بن محمود

علامہ عمر شریف کامیڈین سے مروی ہے مفہوم جس کا کچھ یوں کہ پاکستانی قوم ستاروں کی پے در پے گردش کے باعث ایک قسمکے ذہنی دباؤ المعروف ٹینشن کا شکار ہے۔ ایک بندہ گھر سے نکل کر سگریٹ لینے جا رہا ہوگا، راستے میں ٹیکسی کے نیچے کتا آرام سےسکون سے سویا پڑا نظر آئے گا، ہمارا پاکستانی بھائی بلاوجہ کتے کو لات مارتا نکل جائے گا۔←  مزید پڑھیے

بسم اللہ اولہ وآخرہ ۔۔۔ معاذ بن محمود

دروازہ کھلتے ہوئے ہلکی سی احتجاجی آواز نکالتا جس کا گلا گھونٹنے کے لیے ٹی وی کی آواز ضروری تھی۔ وہ دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا۔ چپل اتار کر ہاتھ میں تھامی اور خاموشی سے کوریڈور میں بڑھتا چلا گیا۔ کوریڈور ختم ہونے پر ٹی وی لاؤنج واقع تھا۔ قریب چار فٹ دور ہی سے وہ جھک گیا اور دبے قدموں چلتا ہوا بائیں ہاتھ پر واقع کمرے میں چلا گیا۔←  مزید پڑھیے

ناڑہ نگاری۔۔۔ معاذ بن محمود

ناڑوں کو نظرانداز کرنے والے ویسے بھی دیسی لاسٹک اور بدیسی بیلٹوں کے شکار ہوتے ہیں جن کا مسئلہ یہ ہے کہ اوّل الذکر حفاظتی اعتبار سے ناقابل بھروسہ تو مؤخر الذکر کافر انگریز کا مستعمل ہونے کے باعث مردود۔ ناڑہ بدن پہ عین کمر کے گرد حمائل ہونے پر تسکین ملنے والی اشیاء میں آج بھی دوسرے نمبر پر ہے۔ اہلِ ایماں و غیر ایماں کے یہاں پہلا نمبر بدستور تخیلِ عفیفہ محترمہ میا خلیفہ مد ظل علیہا کے پاس ہے۔←  مزید پڑھیے

عہدِ الست اور شوقیہ ملحدین ۔۔۔ معاذ بن محمود

میں ۲۲ اگست ۱۹۸۵ کو آغا خان ہسپتال کراچی میں پیدا ہوا۔ یہ وہ معلومات ہے جو مجھے یاد نہیں کیونکہ اس وقت میرا دماغ میرے جسم کو آپریٹ کرنے کے لیے کم ترین آپریشنل انسٹرکشنز کی بنیاد پر چل رہا تھا، اور یادداشت اس وقت میرے زندہ رہنے کے لیے غیر ضروری تھی۔ تب میں فقط بھوک کے احساس اور تکلیف پر سگنل دینے جیسی بنیادی انسٹرکشنز پر اکتفاء کرتا تھا۔←  مزید پڑھیے

بریکنگ: پاکستان برطانیہ کی ریڈ لسٹ میں شامل

مکالمہ نیوز ڈیسک ۔ اطلاعات کے مطابق برطانوی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ کرونا کی بڑھتی وبا کے پیش نظر پاکستان کو ان ممالک میں شامل کر رہا کے جو ریڈ لسٹ میں شامل ہیں۔ چنانچہ اب برطانیہ←  مزید پڑھیے

آم کشی کا غیر سنجیدہ مسئلہ ۔۔۔ معاذ بن محمود

مندرجہ بالا تمام دلائل کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس حقیقت میں کوئی دو رائے نہیں بچ پاتی کہ یہ انتہائی غیر سنجیدہ معاملہ ہے جسے سوشل میڈیا میں اچھال کر ناصرف غیر ضروری سنسنی پھیلائی جا رہی ہے بلکہ ریاست اسلامی جمہوریہ پاکستان میں یہود و نصاری کے ایجنڈے کو بھی مضبوط کیا جا رہا ہے۔←  مزید پڑھیے

کینگرو کے دیس سے۔۱۔۔۔ معاذ بن محمود

باچیز ۲۷ دسمبر ۲۰۲۰ کو کینگرو کے دیس میں قدم رنجہ ہوتا ہے۔ اس کے بعد سے تجربات اور مشاہدات کا لامتناہی سلسلہ شروع ہوتا ہے جو شاید تاحیات جاری رہے گا۔ آج ایک دوست کے سوال کا جواب دیتے چند سطور رقم کرنا چاہیں اور بین السطور فیصلہ کیا کہ اپنے تجربات و مشاہدات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک سلسلہ شروع کیا جائے جس کا مقصد دل جلانا کم اور ایک مثبت تعمیری موازنہ زیادہ ہو۔←  مزید پڑھیے

ویلنٹائنز ڈے ۔۔۔ معاذ بن محمود

ضروری نہیں کہ ویلنٹائنز ڈے پر سیکس ہی دماغ میں آئے (پچھلی سطور پر یہی ممکنہ اعتراض ہو سکتا تھا)۔ یہ بات درست ہے تاہمدرست یہ بات بھی ہے کہ اگر ایسا ہو بھی جائے تو آپ کو کیا تکلیف؟ انصاری صاحب سے روایت ہے “یہ پیار ویار کچھ نہیں سبکھودنے کے مختلف بہانے ہیں”۔ لعنت برگردن انصاری صاحب، کہ نہ تو یہ میرا قول ہے نہ ہی میں اس سے متفق ہوں۔←  مزید پڑھیے

سوراخ پر ایک تحقیقی مضمون ۔۔۔ معاذ بن محمود

سوراخوں کی ہئیت پر اردو ادب بلکہ اردو بے ادب میں اس سے پہلے ایسا سیر حاصل تجزیہ نہیں ہوا۔ ستم ظریفی دیکھیے کہ میں “بے ادب” ٹائپ کر رہا تھا تو آزاد خیال آئی فون نے اسے آٹو (ان) کریکٹ کر کے اردو “گے ادب” کر ڈالا۔ خیر بات ہو رہی تھی سوراخوں کی ہئیت و اقسام کی۔←  مزید پڑھیے

سردیاں اور رومانس: ایک مغالطہ ۔۔۔ معاذ بن محمود

گھر پر گیزر کا انتظام موجود ہے تاہم گیزر کے استعمال سے فوری پہلے اور فی الفور بعد گرم ٹھنڈے پانی کی مناسب آمیزش کے دوران جو کچھ سہنا پڑتا ہے، مجبوری نہ ہو تو اس استعمال کو متروک کرنے میں فائدے زیادہ نظر آتے ہیں۔ ذہن میں پہلا خیال یہی آتا ہے کہ بندہ ایسی مجبوریاں پالے ہی کیوں کہ ٹھنڈ میں نہانا مجبوری بن جائے؟ اور آپ کہتے ہیں کہ سردیاں رومان انگیز ہوتی ہیں؟ ←  مزید پڑھیے

میں ایک مسئلۂ لاینحل ہوں ۔۔۔ معاذ بن محمود

کشمور میں دل چیر دینے والا واقعہ رونما ہوا۔ بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ کشمور میں ایک قیامت برپا ہوئی۔ میں بچوں کا باپ ہوں۔ ایسی خبریں دیکھ کر ان پر سوچنا چھوڑ دیا کرتا ہوں، بات کرنے سے گریز کرتا ہوں۔ مجھے لگتا ہے میں ان پر بات کروں گا تو ان واقعات کا مزید عادی ہوتا چلا جاؤں گا۔ لیکن دوسری جانب میں بے حس ہو کر ان کے وجود سے نظر پھیرنے پر مجبور ہوں۔ ذاتی حیثیت میں یہ میری شخصیت میرے کردار کے لیے ایک المیہ ہے۔←  مزید پڑھیے

آٹا گوندھتے ہلتی کیوں؟ ۔۔۔ معاذ بن محمود

ہماری خواتین کی پرورش ابھی تک امتیازی بنیادوں پر ہو رہی ہے۔ نتیجتاً ہماری خواتین کا ایک بڑا حصہ کسی قسم کی زیادتی پر ردعمل دینے کی بجائے اس پر خاموش رہنے پر ترجیح دیا کرتا ہے۔ اس پر مزید ستم یہ کہ اپنے حق کے لیے بولنے والی لڑکیوں کے لیے ہم نے بدتمیز، منہ پھٹ، بدلحاظ وغیرہ جیسے ٹیگ ہمہ وقت تیار رکھتے ہوئے ہیں۔ یعنی لڑکی اپنے استحصال پر بولے تو مسئلہ، نہ بولے تو مسئلہ۔ ←  مزید پڑھیے

اور حاجی صاحب مان گئے ۔۔۔ معاذ بن محمود

محبت کے معاملے میں حاجی صاحبان جانے کیوں امریش پوری کا کردار ادا کرتے ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ کردار بھی بھرپور ادا کرتے ہیں۔ ساری فلم کے دوران کبھی یہاں سے طمانچہ رسید کرتے ہیں تو کبھی وہاں سے لات لیکن پھر بھی شفقت کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے۔ اختتام ہمیشہ “جا سمرن جی لے اپنی زندگی” پر ہی ہوتا ہے۔ بندہ پوچھے، میاں یہی کرنا تھا تو پچھلے ڈھائی عشرے اتنے پاپڑ بیلنے پر کیوں لگایا۔ لیکن شاید حاجی بھی ادراک رکھتے ہیں کہ وہ محبت ہی کیا جس کی قدر نہ کروائی جائے۔ ←  مزید پڑھیے

بکھری یادوں سے بکھرے تبسم تلک ۔۔۔ معاذ بن محمود

اب ہوتا یوں تھا کہ یہاں ہمارے گھر کی گھنٹی بجی وہاں گھر کا کوئی فرد کھڑکی کی جانب بھاگا کہ دیکھا جائے آیا کون ہے۔ کھڑکی پہنچتے ہی پہلی نظر کھڑکی کے سامنے اکو خالہ کے گھر میں جھانکتی اکبری بیگم پر پڑتی اور قبل اس کے کہ ہم نیچے دیکھ کر سرپرائز کا مزا لے پاتے اکبری بیگم گویا ہوتیں “وہ تمہاری خالہ کا لڑکا آیا ہے”۔←  مزید پڑھیے

کتابی باتیں۔۔۔ معاذ بن محمود

جمہوریت عوامی نمائیندگی کا نام ہے، کم از کم کتابوں کی حد تک۔ جن کتابوں نے جمہوریت کی یہ تعریف کی ہے وہی کتابیں ایک جمہوری ریاست کی تعریف بھی کرتی ہیں۔ یہی کتابیں اس ریاست کو ریاستی طاقت جیسی قوت کا امین بناتی ہے تاکہ عوام کے حقوق کا تحفظ کرتی ہیں۔ یہی طاقت انصاف کی بنیاد پر مستعمل رہتی ہے۔ انصاف کی بنیاد عمل ہوا کرتی کے ناکہ پہچان۔ لیکن یہ سب کتابوں کی حد تک ہے۔ ←  مزید پڑھیے

آٹھ فٹ کا گھوڑا اور گجرات کا سفر (حصہ سوئم) ۔۔ معاذ بن محمود

اگلے ساڑھے تین گھنٹے مولانا طارق جمیل کے سیاسی کارناموں اور ایک بار پھر مدارس میں جنسی استحصال پر بات چلتی رہی۔ اتنے میں افضل بھائی نے اعلان کیا کہ انہیں درد ہو رہا ہے۔ چند لمحے ہم مدارس کے واقعات کا افضل بھائی کے درد سے تعلق جوڑتے رہے جو یقیناً فطری فعل تھا تاہم افضل بھائی شاید معاملہ بھانپ گئے اور فورا بولے کہ بھیا سر میں درد ہو رہا ہے۔ بھٹی صاحب کی موجودگی میں کسی اور درد سر کا تصور ہمارے لیے بھی درد سر ہی کے جیسا تھا بہرحال مرتے کیا نہ کرتے، برداشت کرنا پڑا۔ ←  مزید پڑھیے