معاذ بن محمود کی تحاریر
معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

عصمت ۔۔۔ معاذ بن محمود

درانی کے لیے اس کی مدد اور اس کی قربت دو الگ معاملات تھے۔ اس کے پاسپورٹ کی تصحیح میں کچھ تکنیکی مسائل تھے۔ اسلام آباد سے بھیجے جانے والے خاص بیوروکریٹ کی حیثیت سے مگر وہ کراچی میں بھی اچھا خاصہ اثر و رسوخ رکھتا تھا۔ پاسپورٹ ٹھیک ہونے میں وقت لگنا لامحالہ تھا۔ دوسری جانب اس کی جسمانی ساخت درانی کو اس میں دلچسپی لینے پر مجبور کیے رکھتی۔ عمر میں وہ درانی سے بیس سال کم تھی مگر کھاتے پیتے آسودہ گھرانے سے تعلق رکھنے کے باعث خوشحال ظاہر اس کے افسردہ باطن پر حاوی رہتا۔←  مزید پڑھیے

ملازمت، نجی زندگی اور کارپوریٹ ایتھکس ۔۔۔ معاذ بن محمود

تنخواہ دفتر میں کام کرنے کی ملتی ہے۔ پڑوسی سے نہ لڑنے کی نہیں۔ ہمیں ملازمت کی تعریف کو دیکھنا ہوگا۔ ملازمت اپنی خدمات کے عوض معاوضہ لیے جانے کا نام ہے۔ ہر معاہدے کی طرح اس معاہدے کے حقوق و فرائض بھی محدود پیمانے پر طے کیے جا سکتے ہیں۔ ہر معاہدے کی طرح یہ معاہدہ بھی ریاستی قوانین کی خلاف ورزی کرتی کوئی شق نہیں ڈال سکتا۔ ہاں ادارے کا کوڈ آف کانڈکٹ ہو جس کے تحت آپ نے سوشل میڈیا پر بھی اچھا بچہ بن کر رہنا ہے، اور جسے معاہدے کے حصے کے طور پر قبول کر کے آپ نے ملازمت قبول کی ہو تو معاملہ الگ ہے۔ تب آپ پابند ہیں سوشل میڈیا پر وہ سب کچھ نہ کرنے کے جسے نہ کرنے کا آپ نے معاہدے میں عہد کر کے دستخط کیا ہے۔ ←  مزید پڑھیے

او کچھ تو بولو ۔۔۔ معاذ بن محمود

معاملہ کچھ یوں ہے کہ وینا جی ہم سب کو امید سے کر کے، ہندوستان پدھارنے کے بعد، زمان و مکاں پر آئی ایس آئی کے نشان چھوڑنے کر، اور ایک بھرپور قسم کے فلاپ فلمی کیرئیر کی معراج پا لینے کے بعد گوشہ نشینی کی زندگی اختیار کر چکی تھیں۔ راقم کے لیے وہ تب بھی قابل احترام ستارہ تھیں جب وہ ہم سب کو امید سے کیا کرتی تھیں، تب بھی جب وہ خٹک صاحب سے شادی کر کے محترم طارق جمیل سے رجوع کرنے کے بعد ایک خاموش زندگی بسر کر رہی تھیں۔ ہمیں اب بھی ان کی نجی زندگی، اداکاری یا ان کے کسی قسم کے اثاثہ جات سے مسئلہ نہیں ناں ہی ہم نے ان تمام قصے کہانیوں پر بات کرنی ہے۔ ←  مزید پڑھیے

مکالمہ خصوصی: جسٹس فائز عیسٰی کا دوسرا خط ۔ مکمل اردو متن

جناب صدر صاحب، مورخہ ۲۸ مئی ۲۰۱۹ کو میں نے آپ کو (ایک خط) لکھا جس میں اپنے خلاف کسی ریفرینس کی بابت استفسار کیا گیا اور (درخواست کی گئی کہ) اگر ایسا ہے تو براہ مہربانی مجھے اس کی←  مزید پڑھیے

پانچویں نسل کے مجاہدین ۔۔۔ معاذ بن محمود

اس کے والدین خصوصاً جدّی سلسلے کے بارے میں کوئی حتمی معلومات دستیاب نہیں۔ شنید ہے کہ یہ راولپنڈی کی چند انگلیوں کی شرارت تھی جنہوں نے اس کے ظہور واسطے کی بورڈ پر “حرکت” کی۔ حرکت میں اتنی برکت ہوئی کہ ایک ایک کر کے اس کے دس پندرہ ہزار بہن بھائی معرض وجود میں آگئے۔←  مزید پڑھیے

دعوت ۔۔۔ معاذ بن محمود

بہت ہی بڑی تقریب ہے۔ باہر کھڑے پولیس والے اندر جانے سے روک رہے تھے۔ پرویز بخت نے دعوت نامے کی کاپی دی تھی۔ بس وہی دکھا کر مشکل سے اندر داخل ہو پائی۔ یہاں اچھے اچھے کپڑے پہنے بڑے بڑے صاحب لوگ موجود ہیں۔ کرسیاں خالی ہیں مگر مجھے ان پھٹے بدبودار کپڑوں میں سب کے بیچ کون بیٹھنے دے گا بھلا۔←  مزید پڑھیے

بسلسلہ چوپائے یا مردے سے وطی ۔۔۔ معاذ بن محمود

دوسری جانب ایسے frequently asked questions کی بابت یہ بات بھی حقیقت ہے کہ ایسے سوالات پوچھے جائیں تو کیا اس معاشرے میں بڑے ہوتے نوعمر جوانوں کے لیے ایسے کاموں کو قبیح نہ ماننے کا جواز میسر نہیں ہو گا؟ کیا یہ بہتر نہیں کہ مسئلے کا حل بتاتے ہوئے اس فعل کی قباحت پر بھی بات ہوتی کہ یہ جواز نہ لگتا؟ یہ بات ہمارے فقہاء کو ایسی کتب تحریر کرتے سوچنی چاہئے۔ شاید سوچتے بھی ہوں اور مذکورہ بالا کتاب ایک تخصیص ہو۔←  مزید پڑھیے

چئیرمین نیب اور نظریاتی زومبی ۔۔۔ معاذ بن محمود

مزاجی تنوع پر غور کیجیے گا کہ ایک جانب ایک پاکستانی دل کے اچاٹ ہونے کی شکایت کر رہا ہے تو دوسری جانب ایک اور پاکستانی بوس و کنار کے عزم کا اعادہ کر رہا ہے۔ بقول مدیر اعلی جناب انعام رانا، “ہم ایسی مذہبی قوم ہیں کہ چمی چاٹا بھی انشااللہ کہہ کر پلان کرتے ہیں۔ الحمداللہ”۔ ←  مزید پڑھیے

سانجھے دکھ ۔۔۔ اداریہ مکالمہ

ادارہ مکالمہ اپنی تمام تر انتظامیہ، لکھاری اور قارئین کے ہمراہ محترم قمر الزمان کائرہ صاحب کے اس دکھ میں برابر کا شریک ہے۔ اللہ تعالی مرحوم اسامہ کے اگلے جہاں بہترین فرمائے اور کائرہ صاحب اور اہل و عیال کو صبر جمیل عطاء فرمائے۔ آمین۔←  مزید پڑھیے

تماش بین ۔۔۔ معاذ بن محمود

واقعی، دنیا فقط تماشہ ہے ان کے آگے۔ یہ اخلاق کا تماشہ دیکھتے ہیں، جذبات کا تماشہ دیکھتے ہیں، حالات کا تماشہ دیکھتے ہیں، اجسام کا تماشہ دیکھتے ہیں، اغلاط کا تماشہ دیکھتے ہیں، اوصاف کا تماشہ دیکھتے ہیں، اولاد کا تماشہ دیکھتے ہیں، افکار کا تماشہ دیکھتے ہیں۔ یہ اس قدر بے حس ہیں کہ انسان ہو کر بھی انسان کا تماشہ دیکھتے ہیں۔←  مزید پڑھیے

مقدمۂ پولیس ۔۔۔ معاذ بن محمود

اس کے بعد مقدمات کے سلسلے میں اوسط ۷ چکر ہائی کورٹ اور ۱۰ چکر ڈی پی او آفس کے لگانے پڑتے ہیں۔ رحیم یار خان کے ایک تھانے کے لیے فی چکر پیٹرول کا خرچ ۲۰۰۰ روپے پڑتا ہے۔ کھانا پینا اس کے علاوہ۔ اس خرچ کو پورا کرنے کے لیے TA/DA الاؤنس نامی الگ سے کوئی شے اب وجود نہیں رکھتی۔ پہلے اس کا نفاذ تھا جو مختلف وجوہات بشمول کرپشن کے ختم کر دی گئی۔ وردی میں پبلک ٹرانسپورٹ قابل عمل نہیں۔ اہلکار کسی طرح ذاتی ٹرانسپورٹ خرید بھی لے تب بھی فیول کا خرچ ایک آسیب سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں۔ کسی اہلکار کے گھر بیماری یا پریشانی یا بچوں کے شادی بیاہ کے لیے نہ کسی قسم کا قرضہ دستیاب ہوتا ہے نہ کوئی امداد۔ ایسے حالات میں رشوت انتخاب نہیں مجبوری بن جاتی ہے۔ یاد رہے ہر اہلکار رشوت لیتا بھی نہیں اور نہ ہی لینا چاہتا ہے۔←  مزید پڑھیے

تھیسز برائے ریسرچ پراجیکٹ “معیشت پر سفلی اثرات” ۔۔۔ معاذ بن محمود

مثل مشہور ہے ایک بار شیطان جو کرنے کی ٹھان لے پھر وہ اپنی بھی نہیں سنتا۔ الحمد للّٰہ خان نے کسی کی نہ سنتے ہوئے وزیر سائینس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری اور خاتونِ سوئم کی مشاورت سے سنہ ۲۰۱۹ میں القادر یونیورسٹی آف سائینس اینڈ روحانیات کا قیام عمل پذیر فرمایا۔ آج تین سال گزر جانے کے بعد یہ جامعہ مدنی تکیے میں برف اور ہتھوڑے کی فعالی، ریاست مدینہ کی نظریاتی سرحدوں کی سائنسی و روحانی مانیٹرنگ، لفظ “روحانیت” کی مختلف غیر مروجہ طریقوں سے ادائیگی، پرچی کی کرامات، محکمۂ زراعت کی جانب سے فصلوں اور فصلی بٹیروں کی کٹائی کے نت نئے طریقے اور پشاور میٹرو کی روزِ قیامت تکمیل پر اہم ریسرچ جاری رکھے ہوئے ہے۔ ←  مزید پڑھیے

عوامی لیڈران، اکابرینِ سوشل میڈیا اور اخلاقیات ۔۔۔ معاذ بن محمود

مشرف دور میں جن دنوں دہشتگردی اپنے عروج پر تھی ان دنوں خود کش حملہ آوروں کی نسبت سے ایک سافٹ کارنر ضرور رکھا جاتا تھا۔ بدقسمتی سے ن لیگ ہو یا تحریک انصاف، جہاں موقع ملتا حکومت کی ضد میں یا اپنی کرسی کی ہوس میں مخالف جماعتیں دہشتگردی کی ان تاویلات میں اپنا وزن ڈال دیتیں۔ جماعت اسلامی کا تو خیر اس معاملے میں ذکر کرنا فضول ہے کہ امیر کی جانب سے قتال کا کلچر عام کرنے کی استدعا والا بیانیہ نری دہشت گردی ہی ٹھہری۔ ←  مزید پڑھیے

فاصلے ۔۔۔ معاذ بن محمود

ہاں یہ ٹھیک ہے کہ میں نے ساری زندگی اسے سختی سے صراطِ مستقیم پر چلائے رکھا۔ یقیناً اسے برا محسوس ہوتا ہوگا جب وہ رات بھر کتابیں سامنے رکھے اپنے مستقبل کی تیاری پر مجبور ہوتا ہوگا، شاید میری ناراضگی کے پیش نظر۔ لیکن اسے محسوس کرنا چاہئے تھا کہ یہ سب اسی کی بہتری کے لیے ہے ورنہ یہ ظالم دنیا اسے رزق کے حصول میں خوب ستائے گی۔ یہ سماج، جس زاویے سے میں اسے دیکھتا، ایک جاہل یا کم تعلیم یافتہ شخص کو مستقبل میں ساتھ بٹھانے سے بھی انکاری ہوتا۔ اسے غصہ بھی آتا ہوگا جب اس کی دوسری پوزیشن پر میں اسے پہلی پوزیشن حاصل نہ کی یاد دہانی کرواتا رہا۔ لیکن اسے سمجھنا چاہئے تھا کہ کل کو اس کے ساتھ پوری دنیا یہی رویہ رکھے گی۔ کیا اسے زمانے کی سرد مہری کے لیے تیار کرنا میری ذمہ داری نہیں تھی؟←  مزید پڑھیے

شب برأت اور حاجی صاحب کی ڈائری ۔۔۔ معاذ بن محمود

حاجن نیک بخت کو ہم پر پہلے ترس اور پھر پیار آیا۔ پرانا باسی جوڑا ہونے کے ناطے معافی تلافی کے بعد ہم نے باجماعت نماز قضاء کرنے کا فیصلہ کیا اور محبت کی وہ لازوال داستان ایک بار پھر سے رقم کرنے کی ناکام کوشش کی جسے یاد کرتے ہوئے ہم دونوں ہی قدرے شرمندہ سے ہوگئے۔ ہم آخر کو شہر کے گنجان آباد علاقے میں کپڑوں کا کام کرتے ہوئے روزانہ کی بنیاد پر صنف مخالف کی نوخیز کلیوں کو جھیلا کرتے ہیں۔ دوسری جانب حاجن نیک بخت ہر ہندوستانی فلم کی دیوانی ہیں۔ یوں درازیِ عمر کے باوجود ہم دونوں کے جذبے جوان تھے۔ نتیجتاً قضائے فجر کے فیصلے کی اہتمام کے ساتھ توثیق تو ہوئی تاہم ہزار میں ہر ہر خواہش پر ایک ایک کر کے دم ہی نکلتا رہا۔ ←  مزید پڑھیے

ارماڑہ کی وہ رات۔۔۔ معاذ بن محمود

  یہ قصہ  اس ایک رات کا ہے جس کا احساس میں آج بھی لفاظی کا سہارہ لے کر سہی معنوں میں بیان نہیں کر سکتا۔ کوشش کرنے میں بہرحال کوئی مضائقہ نہیں۔ ۲۰۱۳ جنوری میں ان دنوں ارماڑہ نیول←  مزید پڑھیے

آداب، اخلاقیات اور شمیم آراء ۔۔۔ معاذ بن محمود

  دو عدد مثالوں سے بات شروع کرتے ہیں۔ پہلی مثال: “آپ اخلاقیات کے معاملے میں شمیم آراء والی سسکیوں کے عادی ہیں”۔ دوسری مثال: “آپ کا یہ کمنٹ ہمیں برا لگا، وجہ بتانے کا میرے پاس وقت نہیں، یہ←  مزید پڑھیے

معرفت، ادراک، اولیاء اور پیرِ کامل ۔۔۔ معاذ بن محمود

جاتی عمرہ سے تعلق رکھنے والے ایک سابق ولی کو بھی جوانی تک ولایت کا علم نہ تھا۔ تب مذکورہ سابق ولی گاڑیوں کے ساتھ شاہدرہ کی پہاڑیوں پر تصویریں کھنچوایا کرتا۔ پھر اس نے بحالت مجبوری ایک ڈنڈا پیر کے ہاتھ پر بیعت کا اعلان کیا۔ یہاں سے اس پر ادراک کے کشف منکشف ہوئے اور وہ صوبائی ولایت سے ہوتا ہوا وفاقی ولایت تک تین بار کامیابی سے پہنچا۔ یہ شخص ولایت کے درجے پر کئی دہائیوں تک فائز رہا۔ پھر ایک دن اسے معلوم ہوا کہ اسے تفویض کردہ ولایت تو محض نام کی ہے، اصل اختیار تو آج بھی پیرِ کامل کے پاس ہے۔ معاملہ اختیار تک ہوتا تو بات قابلِ فہم بھی رہتی، پیرِ کامل دراصل ولایت کے مالیات یعنی چندے کے ڈبے تک پر سانپ بن کے براجمان رہتے ہیں۔ جس دن سابق ولی کو یہ معاملہ سمجھ آیا، اس نے نے اختیار و مالیاتِ اعلی کے لیے جدوجہد شروع کر دی جو پیرِ کامل کو ہرگز پسند نہ آئی۔←  مزید پڑھیے

حقوقِ نسواں،مذاہب اور رویے ۔۔۔ معاذ بن محمود

میری ناقص رائے میں یہود بھی اپنی الہامی کتب کے حوالے سے عورت کے معاملے میں کنزرویٹو ہیں اور عیسائی بھی۔ اس کے باوجود اسلام سے پہلے کی روایات اور معاشرہ کچھ ایسا تھا کہ سیدہ خدیجہ رض نے نبی کریم ص کو شادی کا پیغام بھجوایا۔ کہیں اسے برا سمجھنے کی روایت نہیں ملتی۔ آج کے اسلامی معاشرے کی عام عورت ایسا کرے تو اکثر اسے کم سے کم بھی عجیب ضرور کہیں گے۔ مطلب تب بیشک معاشرتی روایات مذہبی احکامات سے نہ ٹکراتی ہوں مگر اب ایسا ہوتا ہے۔←  مزید پڑھیے

پولی پولی ڈھولکی؟ ۔۔۔ معاذ بن محمود

مجھے آپ سب قارئین کی معصومیت پر پورا بھروسہ ہے۔ پھر بھی ڈھٹائی کہہ لیجیے یا چند معصومین کے وجود پر ایمان، یہ چھوٹا سا لطیفہ پھر سے سنائے دیتا ہوں۔ اس کے بعد باقی کی بات کرتے ہیں۔ ایک←  مزید پڑھیے