معاذ بن محمود کی تحاریر
معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

ممانی دردانہ ۔۔۔ معاذ بن محمود

ممانی دردانہ علم کا منبع ہیں۔ ایک دن چار گھنٹے اس بحث میں گزار چکی ہیں کہ فلاں دینی شخصیت سکالر نہیں عالم ہیں۔ ان کا علم جملہ کتب سے بالا ہے کہ آکسفرڈ ڈکشنری میں سکالر کے معنی عالم دیکھ کر بھی وہ اپنے مؤقف پر قائم رہ چکی ہیں۔ استقامت کے یہ درجات اللہ پاک کسی کسی کو بخشتا ہے۔←  مزید پڑھیے

سفرنامچہ: کراچی تا ملتان ۔۔۔ معاذ بن محمود

“افضل بھائی، نہیں بنا کام۔ اب کیا کریں؟ موٹروے پولیس کو کال کر لیں؟”۔ بولے “سر آپ نے گھبرانا نہیں ہے۔ ایسا کریں بیٹری کے ٹرمینلز پر پانی ڈالیں”۔ پوچھا “افضل بھائی پانی دونوں ٹرمینلز پر ڈالا اور ٹرمینل مل گئے تو کوئی شارٹ وغیرہ نہ ہوجائے”۔ جواب آیا “آپ نے گھبرانا نہیں ہے”۔ اس وقت ہمیں سمجھ آئی کہ خان صاحب فلسفۂ گھبرانا نہیں ہے سے ریاست کس طرح چلا رہے ہوں گے۔ خیر ہم نے یہ کام بھی کر دیکھا۔ گاڑی پھر سٹارٹ ہونے سے انکاری۔ اب کی بار افضل بھائی کو کال کرنے سے ہم گھبرا رہے تھے۔ ←  مزید پڑھیے

سفرنامچہ: ٹنڈو الہہ یار کا تیسرا دورہ ۔۔۔ معاذ بن محمود

یہاں پر کپڑے تبدیل کر کے ہم گھر کی طرف نکلے۔ میاں صاحب کے دل میں نجانے کون سے خواہش مچلی کہ اچانک پوچھا “میرے پپیتے دیکھنے ہیں؟”۔ یہ سوال تھوڑا عجیب کسی حد تک فحش اور بہت حد تک غیر متوقع تھا۔ ہم سب نے میاں صاحب کو گھور کر دیکھا تو انہیں شاید اپنی غلطی کا احساس ہوگیا۔ کہنے لگے “مطلب میرے پپیتوں کی کاشت دیکھنی ہے؟”۔ اگرچہ میاں صاحب کے پپیتوں کی کاشت واضح طور پر ہم جانتے تھے، پھر بھی مزید اعتراض مناسب نہ سمجھا۔ اثبات میں سر ہلایا اور میاں صاحب کے پپیتوں کی طرف نکل پڑے۔←  مزید پڑھیے

ریاست اور فرد کے حقوق ۔۔۔ معاذ بن محمود

زندہ رہنا، آزاد رہنا اور خوشیوں کا حصول ایک انسان کی بنیادی ضرورت اور متفقہ بنیادی ترین حقوق ہیں۔ ریاست کا بنیادی ترین مقصد ان حقوق پر منڈلاتے کسی بھی خطرے سے تحفظ کی یقین دہانی ہے۔ آپ پونے چار ارب صفحات پر مبنی دستاویز لکھ ڈالیں، یہ تین حقوق کا تحفظ نہیں تو ریاست کچھ بھی نہیں۔←  مزید پڑھیے

معرفت، ادراک اور پیر کامل ( حصہ سوئم) ۔۔۔ معاذ بن محمود

تشکیک کسی بھی مرید کی بے راہ و روی کے لیے زہر قاتل ہے۔ پس اے مریدین، آپ پیرِ کامل کے فرامین کی روح تک پہنچیں کہ اس کے بغیر ولی اللہ وقت کی معرفت کا اعتراف و ادراک ناممکن ہے۔ یہ دنیا ایک گولا ہے جو پیرِ کامل کی ہتھیلی پر گھوم رہا ہے۔ وہ جس نگاہ سے اسے دیکھ رہا ہے، مریدین کے زیر مشاہدہ زمان و مکان اس پر حجت نہیں رہتے۔ “جرمنی اور جاپان پڑوسی ہیں”۔ ←  مزید پڑھیے

وباء کے دن اور۔۔ نماز عید ۔۔۔ معاذ بن محمود

اب ہم کھڑے ہوئے۔ ایک دوسرے سے عید ملی تو اجنبی گلے ملنے آنے لگے جنہیں دیکھ کر ایسا محسوس ہوا جیسے کرونا کا بڑا ورژن گلے ملنے آرہا ہو۔ اب کے دماغ میں خبث بھرا آئیڈیا آیا۔ جو اجنبی قریب آتا میں کھانسنا شروع ہوجاتا اور اگلا بندہ فوراً دور۔ الحمد للّٰہ۔ ←  مزید پڑھیے

آئی کو کون ٹال سکتا ہے؟ ۔۔۔ معاذ بن محمود

اس کے بعد سی ای او پی آئی اے کے حق میں ٹھنڈی ہوائیں چلتی ہیں اور ان کی گدی کی جانب اٹھنے والے تمام ہاتھ ٹنڈے کر دیے جاتے ہیں۔ نہ ہی آڈیٹر جنرل آف پاکستان سے پوچھا جاتا ہے کہ گستاخ بھلا تمہاری ہمت کیسے ہوئی اس قدر جلیل القدر شخصیت پر ایسی گھٹیا دشنام طرازی کی، نہ سندھ ہائی کورٹ سے استفسار ہوتا ہے کہ جنگی علوم پر مہارت رکھنے والے ہرے پوش کے لیے ایسا طرز تخاطب۔←  مزید پڑھیے

میرا بے نیاز خدا ۔۔۔ معاذ بن محمود

میرے نزدیک خدا کی صفتِ بے نیازی وہ صفت ہے جسے اگر ٹھیک سے نہ سمجھا جائے تو انسان کے رب باری تعالی سے باغی ہونے کے امکان بہت بڑھ جایا کرتے ہیں۔ یہ صفت خدا کی Integrity پر دلیل ہے۔ وہ کسی سے بلیک میل نہیں ہوتا۔ ہاں وہ ہر شے پر قادر ہے مگر اپنی مرضی سے۔ آپ اسے دہائی دے سکتے ہیں مگر وہ آپ کی سنے نہ سنے یہ اس کی مرضی پر منحصر ہے۔ آپ اسے اس کے پیارے نبی کا واسطہ دے سکتے ہیں مگر وہ یہ واسطہ مانے نہ مانے اس کا فیصلہ۔ کیونکہ وہ بے نیاز ہے۔←  مزید پڑھیے

مرا گھر بھی آج مکاں ہوا ۔۔۔ معاذ بن محمود

میں اس احساس کا مجرم بنا کھڑا تھا کہ کاش ان تمام چیزوں کی زباں ہوتی ضمیر ہوتا اور یہ میرے سامنے کھڑے ہوکر مجھے روک پاتیں۔ پھر میں ان کے کرب کے آگے ہار مان لیتا اور ان سے جان نہ چھڑانے کی کسی تدبیر میں لگ جاتا۔←  مزید پڑھیے

بیرون ملک سے واپسی، وفاق اور حکومت سندھ کی کارکردگی ۔۔۔ معاذ بن محمود

حکومت وقت کا شدید ترین ناقد ہونے کے باوجود دو بہترین کاموں کی داد نہ دینا صریحاً بددیانتی ہوگی۔ پہلا کام بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کی واپسی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر فیصلہ جس کے باعث چالیس ہزار کے قریب پاکستانی واپس اپنے ملک آرہے ہیں۔ پڑوسی ملک بھارت کی جانب سے تاحال اس قسم کے قدم کا عملی مظاہرہ نہیں کیا جاسکا۔ ←  مزید پڑھیے

شدید متفق ۔۔۔ معاذ بن محمود

معاشرے میں دانشوروں کا ایک مسلک ایسا بھی ہے جو عوام میں گھل مل کر ان سے مکالمہ کرنے کو برا نہیں سمجھتا۔ یہ گروہ اپنیدانش عوام الناس میں دان کرنے کی کوشش کرتے کرتے دار فانی کوچ کر جاتا ہے لیکن عوام العام کا عقلی معیار پھر بھی اس عامسے معیار پر ٹکا رہتا ہے جہاں سے سفر کا آغاز ہوا تھا۔ میرے اور میرے مؤکلین کا راسخ عقیدہ ہے کہ دانشوروں کا یا جتھا دو نمبردانشور ہے۔←  مزید پڑھیے

مرغوں پر مضمون ۔۔۔ معاذ بن محمود

مرغا ایک نہایت ہی لطیف اور نازک جاندار ہے۔ اس کا سر، دھڑ کی نسبت پتلا اور لمبا جبکہ دھڑ سر کی نسبت بھاری اور بیضوی ہوا کرتا ہے۔ اس بھاری بھرکم دھڑ سے وہ کئی اہم کام لیا کرتا ہے جن کی منصوبہ بندی اس کے سر کے بالکل اوپری سرے پر واقع دماغ میں ہوا کرتی ہے۔ سر اور دھڑ کا یہ باہمی اشتراک ہی دراصل مرغے کی بقاء کا ضامن ہوا کرتا ہے۔ ←  مزید پڑھیے

یہ وقت بھی گزر جائے گا ۔۔۔ معاذ بن محمود

یکم جنوری ۲۰۲۰ کو ہم سب کسی نہ کسی حال میں ہوں گے۔ یہ حال اچھا ہو سکتا ہے برا بھی ہو سکتا ہے۔ اپنی مثال دوں تو میں یکم جنوری کو کعبہ کے گرد شاید ساتواں طواف کر رہا تھا یا غالباً کر کے فارغ ہوا تھا۔ اس کے بعد مجھے سعی کرنی تھی۔ سعی سے پہلے دو نفل ادا کرتے ہوئے سجدے کی حالت میں کسی نے میرے بالوں کی ایک لمبی لٹھ پر پیر رکھا ہوا تھا۔ میں سجدے سے اٹھا تو پوری لٹھ جڑ سے باہر آئی اور کچھ اس طرح آئی کہ میری آنکھوں سے باقاعدہ آنسو نکل آئے۔ ←  مزید پڑھیے

عورت مارچ ۔۔۔ معاذ بن محمود

اس نے بلا روک ٹوک سڑک پر قدم بڑھائے۔ اپنے دوستوں سمیت دیگر شرکاء کو اکٹھا کر کے ہجوم بنایا۔ بغل سے پلے کارڈ نکالا جس پر جلی حروف میں آزادی کے حصول سے متعلق نعرہ لکھا تھا۔ ہجوم پورا←  مزید پڑھیے

میرا جسم میری مرضی ۔۔۔ معاذ بن محمود

“میرا جسم میری مرضی” ایک نعرہ ہے۔ ہو سکتا ہے آپ اس کی تشریح “میرے جسم کو میری مرضی کے بغیر نہیں چھوا جاسکتا” لے رہے ہوں جبکہ مقابل فرد اسے “میری مرضی میں جسے چاہوں چھونے کا حق دوں” سمجھ رہا ہو۔ جس جانب ہم چل رہے ہیں وہ دن بھی آ ہی جانا ہے بلکہ شاید آ ہی چکا ہے۔ آج کل کتنا مشکل رہ گیا ہے اپنے جسم کو اپنی مرضی کے فرد کے آگے دان کر دینا؟ ←  مزید پڑھیے

تم دینا ساتھ میرا ۔۔۔ معاذ بن محمود

افشین سرخ کپڑے زیب تن کیے دبے پاؤں کمرے میں داخل ہوئی۔ اس کے چہرے پر شرارت بھری مسکراہٹ تھی۔ وہ عاصم کو بھی ڈھونڈ رہی تھی اور کیک کی جانب بھی متوجہ تھی۔ افشین کے ایک ہاتھ پر پچھلے روز پیر پھسل کر گرنے کے باعث پلستر چڑھا ہوا تھا۔ وہ پھر بھی خوش تھی۔ وہی، ہر حال میں خوش رہنے والی عادت۔۔←  مزید پڑھیے

بزنس آئیڈیاز ۱۰۱: آن لائن عقیدت فروشی ۔۔۔ معاذ بن محمود

تمہید باندھنے کا مقصد ایک آپ کی قیمتی توجہ ایسی جنس کی جانب مبذول کرانا تھی جو سوشل میڈیا کے اس غیر مرئی بازار میں نئی بھی ہے، حقیقتاً چمکتی بھی ہے، جس کو پرکھنے کا کوئی طریقہ بھی موجود نہیں اور جس پر شدھ قسم کی عقیدت کا لیبل بھی چسپاں ہے۔ یہ ایک ہزار فیصد آرگینک بھی ہے۔ جس کی طلب رسد کا بندوبست قدرت کی جانب سے متعین ہے، اور جس میں مزید انوویشن کے امکانات بھی خوب ہیں۔ ←  مزید پڑھیے

لب کشائی ۔۔۔ معاذ بن محمود

اہم بات یہ ہے کہ آپ نے بس گھبرانا نہیں ہے۔ جو سکون میسر ہے فی الوقت اسی پر قناعت کیجیے اور ایمان رکھیے کہ وزیراعظم ہاؤس کا مسکن مسکین آپ کے سکون کی خاطر رات دوگنی دن چھنکنی کوششیں کر رہا ہے۔ آپ کا سکون اس باوصف باکردار شخص کا نصب العین ہے۔ اور سکون آپ جانتے ہیں صرف قبر میں ہے۔ ←  مزید پڑھیے

خلیل الرحمن قمر پر اعتراضات کا جائزہ ۔۔۔ معاذ بن محمود

یا تو آپ وفا کے تصور کو سرے سے خرافات مان لیجیے، تب تو بات سمجھ آتی ہے کہ رشتوں میں بندھے دو افراد کے درمیان وفا نامی بندھن ہی نہیں لہذا کل کلاں کسی بھی بات کو بنیاد بنا کر کوئی بھی ایک فرد رشتے کو توڑ سکتا ہے اور اس پر برا منانا بے کار ہے۔ تاہم جب تک وفا نامی شے کا وجود رہے گا تب تک پیسے یا کسی اور دنیاوی خواہش کے تحت نکاح توڑنا بے وفائی ہی کہلائے گا۔ یاد رہے، عورت یا مرد دونوں کو یہ اختیار قانون بھی دیتا ہے اور مذہب بھی کہ وہ جب چاہے نکاح کے بندھن سے آزادی اختیار کر لیں تاہم معاشرتی اعتبار سے اسے بہرحال غلط ہی سمجھا جائے گا۔ ←  مزید پڑھیے

اک عہد وفا تمام ہوا ۔۔۔ معاذ بن محمود

اپنے ابتدائی عہد میں اندرونی خلفشار و ریشہ دوانیوں کے عدم میں آپ نے مکمل یکسوئی کے ساتھ انہیں تخلیق کیا اور پھر اپنا پورا وقت ان کے خلاف جدوجہد میں گزارا۔ آپ کا آخری وقت مہم جوئیوں کا دور رہا۔ اس دوران آپ نے اپنے ادارے اور اپنے منصب کی پرواہ کیے بغیر بلا تفریق ہر گدھے، گھوڑے، کتے، بلی یعنی ہر سولین کے ساتھ کامیاب محاذ آرائی فرمائی۔ آپ تاریخ کے پہلے افسر اعلی تھے جو اپنا لکھا پھاڑ کر رجوع کے فضائل سے مستفید ہوا کرتے۔←  مزید پڑھیے