بائیس خواجہ کی چوکھٹ ، قطب مینار اور اشوک کی لاٹ۔۔شکور پٹھان

جس دیش میں گنگا بہتی ہے۔

گھر پہنچے تو خواتین بن سنور کر تیار تھیں ۔وہ کھانا کھا چکی تھیں اور ہم مردوں کے لئے کھانا تیار رکھا تھا۔ دراصل کل شام سے دلی میں تھے اور اب تک انہوں نے دلی نہیں دیکھا تھا۔ اور سنا تھا کہ دلی میں بہت ساری درگاہیں، مزارات ، محل اور قلعے ہیں۔ وہ جلد از جلد یہ سب کچھ ‘نمٹانا’ چاہتی تھیں تاکہ اطمینان سے چاندنی چوک، کناٹ پلیس اور پالیکا بازار میں ” خریدی’ کرسکیں۔
دلی کے رکشہ اور تانگے والوں سے معاملہ کرنا ایک بڑا مسئلہ تھا۔ ہم سے بات کرنے سے پہلے وہ آپس میں ہی لڑنا شروع کر دیتے کہ یہ سواری میری ہے۔ جب کوئی رکشہ ڈرائیور یا کوچوان اپنا ‘ حق’ ثابت کر دیتا تو اس سے کرائے کی بات چیت ہوتی۔ ہم نے اپنا پلان سمجھایا کہ ہم پہلے نظام الدین جائیں گے اور ساری درگاہیں دیکھیں گے۔ یہاں میں نے دخل در معقولات کی اور یاد دلایا کہ یہاں قطب مینار بھی ہے۔

” ہاں ، ہاں وہاں بھی چلیں گے، پہلے زیارت سے فارغ ہوجائیں” فوزان پر ان دنوں تصوف حاوی تھا۔( بعد میں دوچار سال سعودیہ میں اور رہنےاور تبلیغی جماعت کے دوستوں کے زیر اثر اب وہ ‘شرک و بدعت’ کے بارے میں بڑا “ٹچی” ہوگیا تھا).
اور مجھے ساری فکر یہ تھی کہ اگر قطب صاحب دیر سے پہنچے تو اندھیرے میں تصاویر نہیں لے سکوں گا۔ رکشہ والوں نے اپنے مسافروں کی میلان طبع کا درست اندازہ لگا لیا تھا۔ ان سے طے کر لیا گیا تھا کہ وہ اتنے گھنٹے ہمارے ساتھ رہیں گے اور اتنے پیسے دیے جائیں گے۔
” یہ لوجی، حضرت صاحب کی درگاہ آگئی” مزارات کے ایک احاطے کے باہر رکشہ روک کر ڈرائیور نے ہمیں آگاہ کیا۔
” کون سے حضرت کی درگاہ ہے یہ؟
” حضرت نظام الدین اولیاء کی ۔۔۔یہاں کا سب سے بڑا دربار تو انہی کا ہے”
” یار میں نے سنا ہے کہ ان کے مزار کے ساتھ کوئی بڑا مشہور تالاب ہے” میرے اندر کے سیاح کی دلچسپی کچھ اور تھی۔ درگاہوں اور مزارات سے مجھے کچھ زیادہ شغف نہیں تھا، البتہ مزارات کے آس پاس کی کہانیوں سے زیادہ دلچسپی تھی۔ اجمیر میں بھی میں نے درگاہ سے پہلے وہ مشہور دیگ دیکھنا چاہی تھی جس کا تذکرہ میں کراچی میں اپنے بزرگوں سے سنتا آیا تھا۔ اس تالاب کے بارے میں بھی میرے کچھ کرخندار دوستوں کے بزرگ بہت کچھ بتاتے تھے۔
” ہاں جی، نظام دین کی باؤلی وہ بڑے دروازے کے ساتھ ہی ہے۔ ” ڈرائیور نے ایک طرف اشارہ کیا۔

ہماری ٹولی ساتھ کے دروازے سے درگاہ میں داخل ہوچکی تھی۔ باجی اور آزاد بھائی میرے اصرار پر باؤلی دیکھنے جارہے تھے۔ باجی اور آزاد بھائی آگے تھے کہ دروازے سے ایک سوٹڈ بوٹڈ صاحب، ایک مجاور نما شخص کے ساتھ باہر آرہے تھے۔
‘ شیر علی!! باجی شیر علی” میں بے ساختہ چلایا۔
ان صاحب نے خشمگیں نظروں سے مجھے مڑ کر دیکھا۔ میں باجی کو بتانا چاہ رہا تھا کہ یہ جنرل شیر علی ہیں۔
میں نے اب گردن جھکا کر آہستگی سے اور ٹھہر ٹھہر کر باجی کو بتایا ” جنرل شیر علی خاں ” ہیں۔
شاید نوابزادہ صاحب نے میری شرمندہ سی آواز سن لی۔ اپنا وقار بحال ہوتے دیکھ کر ان کے چہرے پر اطمینان کی جھلک تھی۔
یہ جنرل نوابزادہ شیر علی خان تھے جو کبھی یحٰی خان کے دور میں وزیر اطلاعات تھےاور بھارتی کرکٹر منصور علی خان پٹودی کے کچھ لگتے تھےاور اللہ جانے یہاں کیا کرنے آئے تھے۔ یہاں تو ہم جیسے تہی دستوں کا کام تھا۔

شاید میں غلط وقت ہندوستان آیا تھا۔ جے پور میں جل محل کے باہر ان دنوں پانی نہیں تھا اور محل میں کوئی دلکشی نظر نہیں آتی تھی۔ اور اب یہاں نظام الدین کی باؤلی، کائی آلود اور کیچڑ نما پانی جس میں خشک پتے اور کوڑا کرکٹ بھرا ہوا تھا۔ یہ باؤلی ان دنوں شاید مرمت اور تزئین نو کے لئے بند کردی گئی تھی۔ ہم یہاں بن بلائے مہمان تھے۔ اور شاید صرف ہم ہی تھے جو مزار کے بجائے باؤلی پہلے دیکھنے چلے گئے تھے۔ اس گستاخی کا صلہ وہ کوفت اور مایوسی تھی جو ہمارے چہروں سے عیاں تھی۔ اگلے ہی لمحے ہم باہر تھے۔

فوزان، بڑے بھائی، چاچا، غلام نبی بھائی جان وغیرہ کے سروں پر رومال بندھے ہوئے تھے، خواتین کےماتھوں پر نماز کے انداز میں دوپٹّے لپٹے ہوئے تھے اور وہ سب آنکھیں بند کئے نہایت خضوع و خشوع سے دعائیں مانگتے تھے۔ میں نے بھی فاتحہ کے لئے ہاتھ اٹھا دیے۔
ہم کچھ دیر وہیں رکے رہے، باہر آتے ہی ایک نورانی صورت بزرگ نے ، جنھیں دیکھ کر مجھے خواجہ حسن نظامی یاد آئے جن کی تصویر میں نے اپنے چچا کی میٹرک کی اردو کی کتاب میں دیکھی تھی، ہمارے قریب آکر نہایت شفقت سے سلام کیا اور مجھے اور فوزان کو لے کر ایک جانب دریوں پر بیٹھ گئے۔
ان کے ہاتھ میں ایک رجسٹر تھا۔ انہوں نے ہمیں مبارکباد دی کہ ہمیں اتنی دور بمبئی سے یہاں آنے کی سعادت نصیب ہوئی۔ ہمارے درجات کی بلندی، کاروبار میں کامیابی اور دلی مرادیں بر آنے کی نوید دینے کے بعد دریافت کیا کہ ہم سالانہ یا ماہانہ حضرت صاحب کے لئے کتنا چندہ روانہ کیا کریں گے۔
ہمارے نام پتے نوٹ کرنے کے بعد ہمیں سینے سے لگایا اور کہا کہ اب آپ ساتھ والے مزار پر حاضری دیں جہاں حضرت بختیار کا کی رحمتہ اللہ علیہ آسودہ خاک ہیں۔ حضرت محبوب الہی کی زیارت کے بعد ان کے مرید خاص کی زیارت بھی لازمی ہے۔
ہم بختیار کا کی رح کی قبر پر آئے۔ کسی نے بتایا کہ وہ بڑی جلالی طبیعت کے تھے۔ ہم نے جلدی جلدی فاتح پڑھی اور وہاں سے نکل آئے کہ کہیں کوئی غلطی یا گستاخی نہ ہوجائے۔

دو اتنی بڑی بارگاہوں میں حاضری کے بعد ہمارے گھر والے مطمئن سے باہر کی جانب جاتے تھے کہ میری نگاہ ایک اور مقبرے کے دروازے پر پڑی اور مجھے یوں لگا کہ میرا کوئی بہت پرانا دوست، کوئی آشنا اچانک پردیس میں مل گیا ہو۔ میرے قدم بے اختیار اس مزار کی طرف بڑھے جس کے دروازے پر لکھا تھا
” محبوب، محبوب الہی، شیریں سخن، ملک الشعراء، طوطئی ہند”
اگر آپ ان القاب سے انہیں نہیں پہچانتے، تو آپ انہیں جاننے کے مستحق ہی نہیں ہیں۔ ۔پھر تو آپ ” چھاپ تلک سب چھین لی رے مو سے نینا ملائے کے،” اور کاہے کو بیاہی بدیس” اور گوری سوئے سیج پر ، مکھ پر ڈارے کیس” بھی سننے اور سر دھننے کا حقدار نہیں۔
چند سال پہلے حضرت امیر خسرو کا نجانے کتنے سو سالہ جشن منایا جارہا تھا اور پی ٹی وی پر ان کے بارے میں پروگرام پیش کیے جارہے تھے۔ اب یہاں اچانک مزار کے دروازے پر ان کا نام دیکھا تو اس احساس سے تقویت ہوئی کہ دہلی میں کوئی تو ہے جسے میں جانتا ہوں۔
گھر والے میری وارفتگی دیکھ کر حیران ہورہے تھے۔ درگاہوں سے عقیدت کے باوجود انہیں صرف حضرت نظام الدین کے بارے میں علم تھا اور شاید حضرت بختیار کا کی سے واقف تھے۔ امیر خسرو کا نام ان کے لئے اجنبی تھا۔ ہاں باجی کو امیر خسرو کے بارے میں اچھی طرح علم تھا کہ کراچی ریڈیو سے شادی بیاہ کے زیادہ تر گیت امیر خسرو کے ہی ہوتے تھے۔ ” اماں میرے بھیا کو بھیجو ری کہ ساون آیا” اور ثقل بن پھول رہی سرسوں” اور ایسے کتنے ہی گیت اور قوالیاں اور کہہ مکرنیاں اس طوطئی شکر مقال سے منسوب تھیں۔
میں کچھ دیر وہاں ٹھہر کر اس محبوب، محبوب الہی کی صحبت میں کچھ وقت گذارنا چاہتا تھا کہ کسی کی آواز آئی ارے بابو اب تک یہیں ہے۔ میں چونکا اور باہر آگیا جہاں سب رکشوں میں بیٹھ رہے تھے۔
ایک چھوٹے۔سے ٹیلے پر بنی درگاہ کے باہر رکشے رک گئے۔
درگاہ کے آس پاس مٹکے ہی مٹکے نظر آتے تھے۔ قریب ہی مٹکوں کے دکانیں بھی تھیں۔
” یہاں سے ایک مٹکا خرید کر بابا کی درگاہ پر چڑھائیں۔ ” ڈرائیور ں کا لیڈر ہم سب سے مخاطب تھا۔
“ہنڈے والا بابا کے ہاں مٹکا چڑھا کر جو منت مانگو پوری ہوتی ہے” میرے جی میں آئی کے اس سے پوچھوں تیری کتنی منتیں پوری ہوئیں۔
“کیاسب کو مٹکے لینا ہوں گے” ہماری خالہ اماں بہت سادہ تھیں۔
” جس جس نے منت ماننی ہو وہ لے لیوے، باقی فاتحہ پڑھ لیں ” اور میں سوچ رہا تھا کہ حضرت نظام الدین اور بختیار کا کی کی درگاہوں پر جو منتیں مانگی گئیں ان کا کیا ہوگا۔
میں بیزاری کے عالم میں درگاہ کے باہر ہی ٹہل رہا تھا۔ کچھ دیر میں سب باہر آرہے تھے۔

” اب کہاں چلنا ہے؟” میں نے ڈرائیور سے اس امید میں پوچھا کہ شاید کسی تاریخی جگہ کی بات کرے گا۔
” اب شام بی بی کی درگاہ ہے، پھر باؤلے بابا کی درگاہ پر جائیں گے۔ جو ہنڈے والے بابا کی درگاہ پر آتا ہے اسے باؤلے بابا کی درگاہ پر ضرور حاضری دینی ہوتی ہے”
اس ںے اپنا پروگرام بتایا اور میرا ناریل چٹخ گیا۔
” سن بے بھائی میاں” میری آواز میں نجانے کیا تھا کہ وہ کچھ دیر کے لئے میری شکل دیکھتا رہا۔
” درگاہیں ہماری بمبئی میں بہت ہیں۔ اب تم سیدھی طرح قطب مینار چلو”
خالہ اور خالو کو قریب آتے دیکھ کر اس نے پھر درگاہوں کا راگ الاپنا شروع کیا۔ بے چارے میرے سادہ سے بزرگ اس کی بات سن کر گردن ہلاتے تھے۔
یہ ڈرائیور بڑے کائیاں تھے۔ وہ ہمیں یہیں قریب میں گھما کر اپنے پیسے کھرے کرنا چاہتے تھے۔
” قطب مینار کہاں ہے”
” وہ تو جی مہر ولی میں ہے ، ان درگاہوں سے فارغ ہوں گے تو وہاں جائیں گے۔”
” بس اب کسی درگاہ نہیں جانا، نہیں تو چھٹی کرو”
اب فوزان اور بڑے بھائی وغیرہ بھی قریب آچُکے تھے۔ وہ گو مگو کے عالم میں تھے۔ ڈرائیور ان کی عقیدت سے کھیل رہا تھا۔ لیکن انہیں میرا بھی خیال تھا۔
” ارے یہ بابو تو چوبیس نمبری ہے” سسٹر نے بمبئی کی مخصوص اصطلاح میں پیار سے چوٹ کی۔ درگاہوں پر نہ جانے والوں یا دیوبندی مکتبہ فکر کے لوگوں کو چوبیس نمبری کہا جاتا ہے۔
” بھئی خواجہ صاحب کی درگاہ دیکھ لی، نظام الدین پر بھی حاضری ہوگئی اب کچھ اور بھی دیکھیں۔ ” میں نے اپنا مقدمہ پیش کیا۔
” ٹھیک تو کہہ رہا ہے، دلی آیے ہیں تو اور بھی کچھ دیکھنا چاہیے” یہ دیدی تھیں جنھیں آج صبح میں اٹھا کر سیڑھیوں سے اوپر لے گیا تھا۔
” چلو قطب صاحب چلو” فوزان نے فیصلہ سنا دیا تو ڈرائیوروں کے منہ لٹک گئے۔
” وہ تو بہت دور ہے، مہر ولی میں۔۔بہت دیر ہوجائے گی پہنچنے میں” ان میں سے ایک منمنایا۔
” ٹھیک ہے، ہم تمھیں یہاں تک کے پیسے دیتے ہیں ۔ تم لوگ جاؤ۔ ہم دوسرے رکشے کر لیں گے۔ ”
” چلو بے چلو ، جلدی کرو” ان کے لیڈر نہ دیہاڑی جاتے دیکھ کر پینترا بدلا، اسے میری لگن کا یقین ہوگیا تھا۔

ہمارے رکشہ اب تیزی سے نئی دہلی کے علاقوں سے گذر رہے تھے۔
“یہ سنسڈ بھون ہے” اس نے پارلیمنٹ کی عمارت کی طرف اشارہ کیا۔
” چلتے رہو، اسے بعد میں دیکھیں گے۔ ”
” یہ راشٹر پتی بھون ہے۔ یہاں ریڈی صاحب رہتے ہیں’
” تم چلتے رہو۔۔ریڈی صاحب سے بعد میں ملیں گے” مجھے فکر تھی کہ شام ہوگئی تو میں تصویریں نہیں لے سکوں گا۔
پرانی دلی کے بعد دلی کے یہ علاقے بہت صاف اور کشادہ تھے۔ سنسڈ بھون اور راشٹری پتی بھون بڑی خوبصورت عمارتیں تھیں ۔ لیکن ہم قطب مینار صرف آج ہی جاسکتے تھے۔ ہمارا دلی میں صرف دودن کا قیام تھا۔ اور میں قطب مینار کی تصویریں لئے بنا نہیں جانا چاہتا تھا۔
آخر شام سے کچھ دیر پہلے ہم قطب صاحب پہنچ ہی گئے۔ مینار کے احاطے میں چھوٹا سا خوبصورت سا باغ تھا جہاں میں نے پہلی بار ‘ کالا گلاب’ دیکھا۔ یہاں سفید گلاب بھی تھے اور سرخ اور گلابی گلاب بھی تھے اور ان کا سائز بہت بڑا تھا۔
میں نے کہا ناں کا شاید میں غلط وقت میں دلی آیا تھا۔ قطب مینار جنے کس وجہ سے بند تھا۔ ہمیں اندر جانے کی اجازت نہیں ملی۔ میں نے خوب تصویریں بنائیں۔

ایک جانب ایک کھنڈر سا تھا جس کے بارے میں بتایا گیا کہ کسی ہندو راجہ نے بھی مینار بنانے کی کوشش کی تھی لیکن اس کا مینار دو چار منزل کے بعد ہی ڈھے گیا۔
قطب مینار کے قریب ہی ایک پلیٹ فارم کے درمیان سیاہ رنگ کا ایک ستون تھا۔ کچھ لوگ اس سے لپٹ کر تصویریں کھنچوارہے تھے۔ یہ شاید اشوک کی لاٹ تھی۔
میں نے بھی اپنے بازو ستون کے گرد حمائل کئے۔ کسی نے کہا دونوں ہاتھ چھؤو۔ میں ہاتھ چھوئے تو میرا انگلیاں بھی آپس میں مل گئیں۔
” ارے واہ! ” ایک نوجوان ہندو عورت چلائی۔
جو منت ماننی ہے مانگ لو۔ عورت نے مشورہ دیا۔
لوگوں کا عقیدہ ہے کہ اس ستون سے لپٹ کر جس کے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں آپس میں چھولیں تو وہ جو کچھ مانگے پورا ہوتا ہے۔ میرے سامنے کسی کی بھی انگلیاں نہیں چھوتی تھیں۔
میں ان دنوں بہت دبلا پتلا تھا اور میرے بازو بہت پتلے تھے اور شاید کچھ زیادہ لمبے بھی۔ میری انگلیاں ایک دوسرے میں پیوست ہوتی تھیں جبکہ اور کسی کی انگلیاں نہیں چھو رہی تھیں۔
” آپ لکی ہیں۔ یہ تو ونس ان اے لائف ٹائم چانس ہے” خاتون نے رشک سے کہا۔
” اس سے مانگوں؟ ” میں نے استہزائیہ انداز میں کہا تو خاتون کا منہ بن گیا۔
مجھے مانگنا ہی ہوتا تو ہنڈے والے بابا سے ہی مانگ لیتا۔ کم ازکم وہ اپنے تو تھے۔
اشوکا سے بھلا کیوں مانگوں۔

یہ ونس ان اے لائف ٹائم چانس گنوا کر ہم واپسی کے لئے قطب صاحب کے احاطے سے باہر آگئے۔

Image may contain: outdoor

Save

شکور پٹھان
شکور پٹھان
محترم شکور پٹھان شارجہ میں مقیم اور بزنس مینیجمنٹ سے وابستہ ہیں۔ آپ کا علمی اور ادبی کام مختلف اخبارات و رسائل میں چھپ چکا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *