چھت۔۔شکور پٹھان

وہ چھت اس کی تھی۔ یعنی وہ اس چھت کا بلا شرکت غیرے مالک تھا۔ وہ اس چھت کا کرایہ دیتا تھا۔ یا شاید نہیں ، وہ اس کمرے کا کرایہ دیتا تھا جو چھت پر تھی اور وہ اس میں رہتا تھا۔ اس کمرے کے پیچھے ایک بغیر دروازے والا غسل خانہ تھا۔ دروازے کی ضرورت بھی نہیں تھی۔ چھت پر اس کے علاوہ اور کوئی رہتا بھی نہیں تھا۔ چھت پر جانے کے لئے ایک دروازہ بھی تھا۔ لیکن معاہدے کے تحت وہ یہ دروازہ بند نہیں رکھ سکتا تھا۔ یہ معاہدہ کہیں لکھا ہوا نہیں تھا۔ یہ معاہدہ وہ شرائط و ضوابط تھیں جو مکان مالکن نے اسے چھت پر رہنے کی اجازت دیتے ہوئے اور کرایہ وصول کرتے ہوئے سمجھائی تھیں۔مالکن نے بہت ساری باتیں گوش گذار کی تھیں اور اس نے ساری باتیں سن کر گردن ہلا دی تھی۔ جیسے لوگ باگ بنکوں کے قرضے کے فارم کی شرطوں پر بنا پڑھے دستخط کرتے ہیں اور بعد میں وہ شرطیں یکے بعد دیگرے ان کےسامنے کھلتی چلی جاتی ہیں۔

یہ چھت تیسری منزل پر تھی۔ کوئی اسے دوسری منزل کہتا تھا۔ پہلی منزل یعنی گراؤنڈ فلور کو کوئی پہلی منزل نہیں کہتا بلکہ دوسری منزل کو پہلی منزل کہتے۔ لیکن کچھ لوگ اسے دوسری منزل کہتے۔ اسی لئے کچھ لوگ چھت کو تیسری منزل کہتے لیکن ایسے بھی تھے جو اسے دوسری منزل یا دوسرا مالہ کہتے۔ حکیم جی جب ہانپتے کانپتے اوپر آتے تو کہتے کہ بھئی یہ تیسری منزل تک چڑھنا آسان نہیں۔ تیسری منزل تھی یا دوسری ، اسے تو یہ بھی نہیں پتہ کے وہ چھت یا وہ کمرہ اس کا ہے یا بھی نہیں۔ اور اگر اس کا ہے تو کتنا اس کاہے اور کتنا اوروں کا؟۔

julia rana solicitors london

پہلی منزل ، یعنی گراؤنڈ فلور کے دو حصے تھے۔ پچھلے حصے میں دو کمرے تھے جس میں مکان مالکن رہتی تھی۔ مکان مالک یعنی احسان خان جس نے یہ چھوٹا سا بنگلہ نما مکان بنایا تھا ، مکان بنانے کے کچھ عرصے بعد گذر چکا تھا۔ احسان خان کے بھائی شیر خان نے مالکن سے شادی کرلی تھی لیکن شیر خان خود یہاں نہیں رہتا تھا۔شیر خان اپںی پہلی بیوی کے ساتھ داؤد خیل میں رہتا تھا۔ اس نے اپنے نمائندے کے بطور اپنے بڑے بیٹے کو اس کی چاچی یعنی سوتیلی ماں کے ساتھ رکھا ہوا تھا تاکہ مکان کے کرایوں وغیرہ پر نظر رکھی جاسکے۔ اس کا بیٹا سردار خان شادی شدہ تھا اور اس کے دو بچے اور بیوی داؤد خیل میں رہتے تھے جو کبھی کبھار کراچی بھی آجاتے تھے۔

سامنے والے حصہ میں ایک کمرہ اور بالکونی تھی جس میں حکیم صاحب اور ان کی بیگم رہتی تھیں۔ گھر میں دائیں جانب جو صحن نما گلی تھی جہاں دوسرے گھروں میں کام والی ماسیاں آکر برتن کپڑے وغیرہ دھوتی ہیں، اس گلی میں کرایہ داروں کے لئے ایک غسل خانہ، ایک باورچی خانہ بنادیا گیا تھا۔ بیت الخلا دروازے کے پاس زینے کے نیچے بنا تھا۔ اس زینے سے دوسری منزل والے یعنی، پہلی منزل والے اور چھت والے یعنی دوسری منزل والے یا تیسری منزل والے آیا جایا کرتے تھے۔ اکثر زینے پر جانے سے پہلے حکیم جی بیت الخلاء سے برآمد ہوتے نظر آتے، اور گھر کے دروازے تک پاجامے میں ہاتھ ڈالے نجانے کیا کرتے ہوئے چلتے رہتے۔

دوسری منزل یعنی پہلی منزل والے بڑے اچھے لوگ تھے۔ یہاں ایک خاتون تھی جو ساڑھی میں ملبوس کبھی سرخی پاؤڈر لگاکر کہیں جاتی نظر آتی تو بڑی باوقار، پڑھی لکھی اور دولتمند نظر آتی۔ دوسری منزل یعنی پہلی منزل کا نقشہ بھی ویسا ہی تھا جیسا پہلی منزل یعنی گراؤنڈ فلور کا تھا۔ ان کے پاس بھی دوکمرے اور ایک بیٹھک تھی یا شاید تینوں کمرے تھے، بیٹھک کوئی نہیں تھی۔ اور ایک بالکونی  تھی۔لیکن خاتون کو دیکھ کر لگتا کہ کسی بڑے سارے بنگلے کی رہنے والی ہیں۔ ان کا باورچی خاں کمرے کی قطاروں سے ہٹ کر باہر کی جانب تھا اور چھت سے باورچی خانے کی کھڑکی نظر آتی جہاں سے ایک بار اس نے خاتون کی بیٹی کو چپاتیاں پکاتے دیکھا تھا۔ کھلی نکھری رنگت ، جاذب نظر نین نقش اور بوٹے سے قد والی یہ لڑکی شاید کالج میں پڑھتی تھی۔ لیکن اسے حکم تھا کہ وہ چھت پر کھڑا ہوکر باورچی خانے کی طرف نہیں دیکھے گا۔ خاتون کے دو لڑکے بھی تھے جو اسکول میں پڑھتے تھے اور اپنی ماں اور بہن کی طرح ہی نظر آتے۔ بڑا لڑکا کرکٹ کا بلا لئے میدان آتے جاتے نظر آتا۔ چھوٹا گلی کے بچوں کے ساتھ کھیلتا۔ گلی کے بچے بھی اس جیسے ہی صاف ستھرے اور خوبصورت سے تھے کہ یہ گلی ہی خوشحال لوگوں کی تھی اور یہاں گھر بھی خوشنما ہی بنے ہوئے تھے۔ ان کے ہاں کسی بڑے مرد کو اس نے کبھی نہیں دیکھا۔

اور چھت پر یعنی دوسری منزل پر یا حکیم جی کے مطابق تیسری منزل پر وہ خود رہتا تھا۔ یہ چھت اس مکان جیسی تھی نہ اس گلی کے دوسرے گھروں جیسی۔ یہ گلی میں سب سے اونچی چھت تھی کیوں کہ یہ گلی ایک ٹیلے پر واقع تھی اور یہ گھر اس ٹیلے کی چوٹی پر تھا۔ اس چھت سے آس پاس کی ساری چھتیں نظر آتیں لیکن دوسری چھتوں سے یہ چھت نظر نہیں آتی تھی۔ لیکن آس پاس کی چھتوں پر اتنا بہت زیادہ کچھ نہیں تھا کیوں کہ آس پاس مکان ہی بہت کم تھے۔ یہ ہم بعد میں بتائیں گے پہلے ذرا چھت کا نقشہ سمجھ لیں۔

چھت اچھی خاصی بڑی اور کھلی ہوئی تھی۔ مشرقی دیوار جہاں سے چھت پر داخل ہونے کا دروازہ تھا جس میں کنڈی بھی تھی لیکن جسے بند نہ رکھنے کا حکم تھا، دروازے کے ساتھ ایک چھوٹا سا باورچی خانہ تھا جس میں ایک مٹی کے تیل کا چولہا پڑا ہوا تھا۔باورچی خانے میں بجلی نہیں تھی کیونکہ وہاں کوئی بلب نہیں تھا۔ ایک سوئچ تھا لیکن اس میں کرنٹ نہیں تھا۔ آس پاس کچھ پرانے برتن پڑے تھے۔ وہ کھانا باہر کھاتا تھا۔ گلی کے نکڑ پر ، سڑک کی جانب ملباری کے ہوٹل سے۔ کبھی کبھار چھٹی کے دن اس چولہے پر بغیر دودھ کی چائے بنا لیتا تھا اور بس۔

باورچی خانے کے ساتھ ہی ایک چھوٹا سا کمرہ تھا۔اتنا چھوٹا کہ ایک چارپائی بچھ جانے کے بعد اتنی ہی اور جگہ بچی ہوئی تھی۔ اس جگہ پر وہ ایک میز اور کرسی لاکر رکھنا چاہتا تھا لیکن یہاں دیوار کے ساتھ بہت ساری شیشیاں اور بوتلیں دھری ہوئی تھیں۔ یہ حکیم جی کی ملکیت تھیں۔ وہ یہاں آتے، شیشیوں اور بوتلوں کا معائنہ کرتے ، بیچ بیچ میں اس کی جانب مشتبہ نظروں سے دیکھتے۔ دوچار شیشیاں یا بوتلیں منتخب کرتے۔ اس پر ایک نظر ڈالتے، دوسری نظر بوتلوں پرڈالتے ہوئے لوٹ جاتے۔

چھت کا دروازہ بند نہ رکھنے کا حکم تھا لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ کمرے یا کوٹھڑی کا دروازہ بھی بند رکھ سکتا تھا۔ اس کی ایک وجہ تو حکیم صاحب کی بوتلیں اور شیشیاں تھیں جنہیں وہ کسی بھی وقت بغیر نوٹس ملاحظہ فرما سکتے تھے۔ دوسرے یہ کہ کمرے کے باہر مالکن کے مٹی اور چینی کے برتنوں اور مرتبانوں میں اچار رکھے ہوئے تھے، جنہیں دن بھر وہ دھوپ میں رکھتیں اور شام کو گھسیٹ کر کمرے میں لے آتیں۔ وہ کمرے میں آتا تو کڑوے تیل اور مرچ مسالے کی تیز بو اس کی ناک، اس کے دماغ میں گھستی ہوئی محسوس ہوتی۔ بستر کی چادر، رضائی، تکیہ، تولیہ اور کھونٹی پر لٹکے کپڑوں سے اچار کی بو آتی۔ دفتر میں اسے یوں لگتا کہ آم کے اچار کی پھانک بنا گھوم رہا ہے۔ اس کے ساتھیوں کو یہ بو اتنی محسوس نہ ہوتی لیکن خود اس کے حواسوں پر ہر وقت یہی بو چھائی رہتی۔ وہ کمرے سے باہر آکر جھلنگے نما چارپائی پر لیٹ جاتا جو وہاں دیگر نوادرات کے ساتھ رکھی ہوئی تھی۔ کپڑے بھی کھونٹیوں سے نکال کر باہر الگنی پر ڈال دیتا۔

اور یہ الگنی درمیانی منزل ، یعنی دوسری منزل جسے پہلا مالہ بھی کہتے تھے، والوں کی ملکیت تھی۔ ایک بار اتوار کے دن اس نے درمیانی منزل والی خاتون کو دیکھا تھاجو اس الگنی پر کپڑے پھیلانے آئی تھیں اور اس دن ساڑھی نہیں، شلوار قمیض میں تھیں اور سرخی پاؤڈر نہیں لگایا تھا اور قریب سے دیکھنے پر بہت بیمار اور لاغر سی لگ رہی تھیں۔ لیکن وہ زیادہ دیر وہاں کھڑا نہیں رہا کہ یہ بھی ان احکامات میں شامل تھا۔ وہ کمرے میں آیا لیکن یہ بھی اسے مناسب نہ لگا۔ وہ باہر آکر تیزی سے سیڑھیاں اتر کر گلی میں آگیا۔ اور ایک دن جب وہ شام کو جلدی گھر آگیا تو اس نے اس خاتون کی بیٹی کو کپڑے سمیٹ کر نیچے جاتے ہوئے دیکھا۔ اس نے گھڑی پر ایک نظر ڈالی اور مایوس ہوکر گردن جھکالی۔ ہرروز تو وہ اس وقت نہیں آسکتا تھا۔

ان وجوہات کی بناء پر وہ دروازہ بند نہیں کرسکتا تھا۔ کمرے یعنی کوٹھڑی کے پیچھے کی جانب غسلخانہ اور بیت الخلا تھا جس کی چھت نہیں تھی نہ ہی دروازہ تھا۔ یہاں ایک پردہ پڑا رہتا تھا۔ وہ اسے علیٰ  الصبح استعمال کرتا۔ باقی کام دفتر میں یا گھر واپس آکر رات گئے انجام دیتا۔
کمرے کے سامنے کا حصہ کھلا ہوا تھا جہاں جھلنگا پڑا ہواتھا۔ کمرے کے ساتھ چھت کے پچھلے حصے پر جانے سے پہلے مغربی دیوار کے ساتھ سیمنٹ کی ٹنکی تھی۔ یہاں تک چھت میں کوئی برائی نہیں تھی۔ یہ چھت کا پچھلا یعنی مشرقی، جنوبی اور مغربی حصہ تھا جس پر نحوست ٹپکتی تھی۔ اس پورے حصے میں بے تحاشا کاٹھ کباڑ بکھرا ہوا تھا جس کے اغراض و مقاصد سمجھنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں تھی۔

یہاں ٹوٹا ہوا فرنیچر، لکڑی کے ٹکڑے، بانس، ٹین ڈبے، ٹوٹے پھوٹے، ٹیڑھے میڑھے برتن، ایک جلا ہوا پانی کا موٹر، مکان مالکن نے جب موزائک کا فرش توڑ کر ٹائل کا بیت الخلا بنوایا، وہاں کا اکھڑا ہوا کموڈ، فلش کی ٹنکی، بجلی کے پرانے اور زنگ آلود فیوز اور سوئچ، ایک ادھڑا ہوا فوم کا گدا جس کے اسپرنگ باہر نکلے ہوئے تھے اور جگہ جگہ سے میل آلود روئی باہر جھانک رہی تھی۔ بقیہ حصوں پر پیشاب کے بڑے بڑے نشان جغرافیہ کی کتاب کے نقشوں کی طرح بنے ہوئے تھے۔ بہت ساری بوتلیں، کنستر اور اینٹیں ۔ اللہ جانے انہیں یہاں رکھنے والے کون تھے۔ ان کی نیت ان چیزوں کو دوبارہ استعمال میں لانے کی تھے یا پھر وہ انہیں مستقبل میں اچھے داموں بیچنے کی امید لگائے بیٹھے تھے۔

کچھ دن پہلے کوئی یہاں ایک کرسی پھینک گیا تھا جس کے تین پائے تھے۔ وہ یہ کرسی اٹھا لایا۔ چوتھے پائے کے نیچے ٹین کا کنسٹر اور اینٹ رکھ کر اس نے جھلنگے کے سامنے کرسی رکھ دی تھی۔ اب اس کے فرنیچر میں ایک کرسی کا اضافہ ہوگیا تھا۔ اس سے پہلے وہ کمرے والی چارپائی اور باہر والے جھلنگے کا مالک تھا۔ شام کو وہ بڑی احتیاط سے جھلنگے پر پاؤں پھیلا کر کرسی پر ایسے بیٹھتا جیسے بڑے ہوٹلوں کے سوئمنگ پول پر لوگ لمبی لمبی آرام کرسیوں پر نیم دراز، نیم عریاں ، غسل آفتابی لینے، لیٹے ہوتے ہیں۔

لیکن جھلنگے کا بھی وہ بلا شرکت غیرے مالک نہیں تھا۔ ایک شام جب وہ کچھ تھکا ہوا سا تھا اور گھر جاکر آرام کرنا چاہتا تھا۔ گھر پہنچا تو دیکھا جھلنگے پر ایک چادر پر ، بڑیاں، سوکھ رہی ہیں۔ اس نے ہاتھ لگاکر دیکھا بڑیاں سوکھ چکی تھیں۔ چادر دیکھ کر اسے حکیم جی کی دھوتی کا خیال آیا۔ وہ اکثر اس دھوتی میں نظر آتے۔ اتنے میں حکیم جی کی گھر والی آگئیں اور دھوتی، یعنی چادر کو چاروں کونوں سے اٹھا کر تھیلا سا بنایا اور چل دیں۔ اس نے جھلنگے پر لیٹنا چاہا۔ اس میں مونگ کی دال کی بو بسی ہوئی تھی۔ پر وقت کوئی نہ کوئی بو ضرور اسے ملتی۔ کبھی اچار کی تو کبھی الگنی پر سوکھنے والے کپڑوں کی تو کبھی بڑیوں اور پاپڑوں کی۔

الگنی پر لٹکنے والے کپڑے زنانہ بھی تھے اور مردانہ بھی۔ شلوار، قمیض، ساڑھی، بلاؤز، پتلون ، بش شرٹ، اسکول کی یونیفارم۔ اور کبھی کبھی پوتڑے اور لنگوٹ بھی۔ ان دنوں نیچے والے کسی گھر سے بچے کے رونے کی آواز بھی آتی۔
پہلی، دوسری اور تیسری منزل کے جھنجھٹ سے بچنے کے لئے اب ہم گراؤنڈ فلور والوں کو نیچے والے، پہلی منزل والوں کو اوپر والے پکاریں گے۔ اور چھت تو ہے ہی چھت۔ اسے چھت ہی پکاریں گے۔

اب ذرا مکان کے آس پاس کا بھی احوال جانچ لیں۔ یہ علاقہ شہر کے پرانے، پسماندہ اور غریب محلوں جیسا نہیں تھا۔ یہاں کھاتے پیتے ، پڑھے لکھے اور خوشحال لوگ رہتے تھے۔ زیادہ تر مکان نئے اور خوبصورت تھے۔ کہیں کہیں بہت بڑے بنگلے بھی تھے ۔ ان کے بیچ چھوٹے مکان بھی بنگلہ نما ہی تھے۔ بہت سے نئے بنگلے بھی زیر تعمیر تھے۔
اس نے یہاں گھر اس لئے لیا تھا کہ اس کا دفتر یہاں سے بہت قریب تھا۔ گھر کے قریب ہی ایک ملباری ہوٹل اور لانڈری وغیرہ تھے چنانچہ وہ کھانے پینے اور کپڑے دھونے کی فکروں سے آزاد تھا۔ کرایہ البتہ بہت زیادہ تھا۔ اس کرائے میں وہ شہر کے کسی اور حصے میں باقاعدہ قسم کا مکان لے سکتا تھا۔ لیکن جس چھت پر وہ رہتا تھا وہ ایک بنگلہ نما مکان کی چھت تھی اور وہ بنگلہ نما مکان ایک متمول علاقے میں تھا چنانچہ کرایہ بھی مکان اور علاقے کی مناسبت سے تھا۔ چھت پر اس کا عمل دخل کتنا تھا اور چھت کے کیا حالات تھے، اس کا کرائے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

آئیے اب دیکھیں کہ چھت سے کیا کچھ نظر آتا تھا۔ چھت کی مشرقی جانب ایک خالی پلاٹ تھا۔ چونکہ یہ مکان اونچائی پر تھا ، چنانچہ ملحقہ پلاٹ بھی اونچائی پر تھا۔ اس کے آگے مزید مشرق کی جانب ایک مکان کچھ اس طرح تھا کہ اس کا شمالی دروازہ گھر میں کھلتا تھا لیکن جنوبی دروازے سے آنے والا خود کو چھت پر پاتا تھا۔ جنوبی دروازہ اس کے مکان کی گلی کی جانب تھا اور گلی کے بچے اس گھر کو ، پانی کی ٹنکی  والا گھر کہتے تھے۔ بیچ کے خالی پلاٹ میں خس وخاشاک بھرا ہوا تھا۔ یہ مکانوں کی تعمیر کے اینٹ روڑی ، لکڑی کے ٹکڑوں اور اسی طرح کی الا بلا سے آٹا ہوا تھا۔ اللہ جانے یہ کون سے گھر کا کچرا تھا کہ اس زمانے میں مکان بنانے کا رواج تو تھا لیکن اس طرح کے خس وخاشاک کو ٹھکانے لگانے کا کوئی نظام نہیں تھا۔

چھت کی جنوبی جانب صورتحال اور گمبھیر تھی۔ یہاں پیچھے کی جانب ایک بڑا سا گڑھا تھا۔ مکان کی پچھلی دیوار زمین سے چھت تک سیدھی چلی جارہی تھی اور بیچ میں کوئی کھڑکی اور روشندان نہیں تھا۔ یہ سنیما کی اسکرین کی طرح بالکل سپاٹ سی دیوار تھی اور گڑھے کی وجہ سے اور زیادہ بڑی اور اونچی نظر آتی۔ اس گڑھے میں برابر والے پلاٹ سے زیادہ اینٹ روڑا بھرا ہوا تھا۔ گڑھے کے اگلی جانب پکی سڑک تھی جس کے پار چھوٹے چھوٹے خوشنما مکان بنے ہوئے تھے۔ لیکن چھت سے دیکھنے پر اس کے مکین نظر نہیں آتے۔ وجہ ایک تو یہ تھی کہ وہ دور تھے اور بہت نیچے تھے اور زیادہ تر درختوں میں چھپے ہوئے تھے۔ دوسرے یہ کہ دیوار کے نیچے کچرے کے ڈھیر کی وجہ سے اس دیوار کے نیچے دیکھنے کا جی ہی نہیں چاہتا تھا۔ لیکن تیسری اور سب سے بڑی وجہ یہ تھا کہ اس دیوار کے ساتھ ہی کاٹھ کباڑ کا وہ ڈھیر تھا جو دیوار تک پہنچنے میں رکاوٹ تھا۔ اور کوئی بھی اس جانب پہنچ ہی نہیں سکتا تھا۔

اب بائیں جانب یعنی مغرب کی طرف نظر دوڑائیں تو یہاں درمیان میں ایک کچے مکان کے بعد ایک اور بنگلہ نما مکان تھا جو تقریباً اسی گھر جیسا تھا جس کی چھت پر وہ رہتا تھا۔ لیکن یہ مکان ذرا ہٹ کے تھا اور نیچائی پر تھا۔ لیکن اس کے پیچھے کے مکان بالکل نظر نہیں آتے تھے۔ درمیانی پلاٹ کے کچے مکان کی وجہ سے اس گھر کا صحن وغیرہ بھی نہیں دکھائی دیتے البتہ ایک طویل سی گیلری ضرور تھی لیکن وہاں کبھی کبھار ہی کوئی نظر آتا کہ یہ مشرقی جانب تھی اور اس جانب سے ہوا نہیں آتی تھی۔ اس مکان میں ایک گورے سے صاحب رہتے تھے جن کے پاس کار بھی تھی۔ کبھی کبھار ان کی اپنی بیگم سے اونچا اونچا بولنے کی آواز آتی۔ وہ صاحب کسی دفتر میں بہت بڑے افسر تھے اور انہیں بانسری بجانے کا شوق تھا۔ جس شام ان کے گھر سے اونچا بولنے کی آواز آتی وہ صاحب رات کے اندھیرے میں چھت پر آکر بانسری پر کوئی درد بھری دھن چھیڑ دیتے۔

اور یہ ہیں سامنے یعنی جنوبی جانب کے مکان ۔ یہاں بالکل سامنے قطار سے چار گھر ہیں۔ سب سے پہلا ایک چھوٹا سا لیکن بہت خوبصورت سا مکان خانجی صاحب کا ہے۔ یہ خان جی نہیں، خانجی ہیں۔ بہت با رعب شخصیت اور سنجیدہ طبیعت کے مالک ۔ اس گھر میں ان کی بیگم اور بیٹا رہتے ہیں۔ خانجی صاحب بہت قابل آدمی ہیں اور کسی بڑی کمپنی میں کسی بڑے عہدے پر ہیں۔ لگتا ہے خانجی صاحب ہی اس گلی کے مکھیا ہیں۔ ہر معاملے میں گلی والے ان کی بات بہت غور سے سنتے ہیں۔ چھت سے کبھی کبھار خانجی صاحب کی بیٹھک کی جھلک نظر آتی ہے ۔ رات کو جب کبھی بیٹھک میں روشنی ہو اور کھڑکی کا پردہ ہٹا ہوا ہو تو خانجی صاحب سگار یا کافی پیتے نظر آتے ہیں۔

ان کے برابر والا گھر جج صاحب کا ہے۔یہ گھر اس کی چھت کے عین سامنے ہے۔ شفیق صورت اور تھوڑے عمر رسیدہ سے جج صاحب بھی اپنی اسٹڈی میں تب نظر آتے ہیں جب کمرے میں روشنی ہو اور پردہ ہٹا ہو۔ جج صاحب کبھی مطالعے میں غرق نظر آتے ہیں تو کبھی کبھار رات گئے سجدے میں پڑے نظر آتے ہیں۔ ان کی اسٹڈی میں کتابوں کی الماری نظر آتی ہے جن میں موٹی موٹی کتابیں ترتیب سے رکھی نظر آتی ہیں۔ جج صاحب اپنے بیٹے اور بہو کے ساتھ رہتے ہیں۔ بیٹا بھی لگتا ہے کسی اچھی جگہ ملازم ہے۔ اس کے پاس بڑی قیمتی کار ہے۔

تیسرا گھر دو بھائیوں کا ہے جو اپنی ماں کے ساتھ رہتے ہیں اور اس گھر سے ہر وقت لڑنے کی آواز آتی رہتی ہے۔ ایک بھائی بینک میں اور دوسرا سرکاری ملازم ہے۔ زور زور سے لڑنے کے بعد اکثر وہ سامنے چھوٹے سے لان میں کرسیاں ڈالے بیٹھے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ان کی اماں گلی کے باہر دوسری عورتوں سے باتیں کرتی رہتی ہیں۔
چوتھا گھر کسی گجراتی یا میمن خاندان کا ہے۔ ان کے تین چار بچے ہیں ۔ سب سے بڑی لڑکی ہے۔ یہ بچے اکثر اپنی چھت پر نظر آتے ہیں۔ لڑکی نوجوانی کی عمر میں ہے اور جب بھی وہ چھت پر آتی ہے یہ نظریں بچا کر اسے دیکھتا ہے۔ لیکن ایک دن وہ گلی میں قریب سے نظر آئی۔ وہ اپنی سہیلی سے باتیں کرتی ہوئی جارہی تھی۔ پتہ نہیں کیوں اس کے بعد اس نے کبھی اس لڑکی کو دیکھنے کی کوشش نہیں کی۔

چھت پر دھرا کاٹھ کباڑ، کمرے میں رکھی حکیم جی کی بوتلیں اور چاچی کے اچار کے مرتبان، الگنی پر سوکھتے کپڑے، بغیر روشنی کا باورچی خانہ، بغیر کنڈی کا غسلخانہ اور بغیر کنڈی کا چھت کا مرکزی دروازہ جو نیچے سے اوپر تمام رہنے والوں کے لئے ہر وقت کھلا رہتا تھا۔ اس چھت پر دلبستگی اور وقت گذاری کا ایسا کوئی سامان نہیں تھا۔ لیکن شام کو گھر آنے کے بعد وہ کہیں نہیں جاتا تھا۔ چھت کی دیوار سے لگا باہر دیکھتا رہتا یا تین پائے والے کرسی پر بیٹھا رہتا ، یا پھر جھلنگے پر پڑا آسمان تکتا رہتا۔

اس چھت سے وہ شام کا منظر دیکھتا۔ سورج کے مغرب میں غروب ہوتے ہوئے شفق پر طرح طرح کے رنگ بکھرتے نظر آتے اور اگر ہلکے بادل بھی چھائے ہوں تو یہ رنگ اور دیدہ زیب ہوجاتے۔ اندھیری راتوں کا الگ مزہ تھا۔ وہ جھلنگے پر پڑا آسمان تکتا رہتا جہاں جھلملاتے تارے، طرح طرح کی چال چلتے نظر آتے۔ کبھی کوئی ستارہ ٹوٹ کر گرتا۔ اماں کہتی تھی کہ وہ شیطان کو گرز مارتے ہیں۔ ایسے وقت لاحول پڑھنا چاہئیے۔ کبھی وہ کہکشاں پر غور کرتا تو کبھی ،دب اکبری، کو ڈھونڈتا۔ اور اگر چاندنی رات ہو تو اس کا اپنا سحر تھا۔دودھیا چاندنی میں اسے شہر دور تک نظر آتا۔ اور جب بادل بھی ہوتے اور چاند بادلوں میں آنکھ مچولی کھیلتا تو وہ بادلوں کے بدلتے رنگوں میں کھو جاتا اور اسے پتہ بھی نہ چلتا کہ وہ کب نیند کی وادیوں میں گم ہوگیا تھا۔ گرمیوں کی راتوں میں جب بنگلے والے بھی ا پنے  کمروں میں پنکھوں کے نیچے گھٹن اور حبس کے مارے کسمساتے ، ساری رات کروٹیں بدلتے، وہ کھلی ہوا میں بڑی میٹھی نیند سویا کرتا۔

اور پھر ایک دن ہمت کرکے وہ مکان مالکن، چاچی کے روبرو بیٹھا تھا۔ نیچی نظریں کئے ، جھینپے جھینپے سے شرمندہ انداز میں ، بہت دھیمی آواز میں چاچی سے کچھ کہہ رہا تھا اور چاچی زیر لب مسکراتی، گردن ہلاتی جاتی تھی۔
اور اسی اتوار کو کباڑئیے کے آدمی چھت سے سارا کاٹھ کباڑ اکٹھا کررہے تھے۔چھت کی دیواروں پر سفیدی ہورہی تھی۔ بجلی کا مستری باورچی خانے کی لائن ٹھیک کررہا تھا اور ایک بڑھئی غسلخانے کا دروازہ لگا رہا تھا۔ مکان مالکن کے اچار کے مرتبان نیچے پہنچا دئیے گئے تھے اور شیشیاں اور بوتلیں گتے کے بڑے کارٹن میں بھر کر حکیم جی کے پاس روانہ کردی گئی تھیں۔ کمرے اور باورچی خانے میں نیا رنگ ہورہا تھا۔ الگنی وہاں سے ہٹا کر چھت کے پچھلے حصے میں لگادی گئی تھی۔ درمیانی منزل والوں نے بھی اپنی مشرقی بالکونی میں ایک رسی یہاں سے وہاں تان دی تھی۔
اگلے ہفتے وہ چاچی اور حکیم جی کی بیگم کو اپنی بیوی سے ملوا رہا تھا جس کے ساتھ تین دن پہلے اس کا ٹنڈو آدم میں نکاح ہوا تھا۔

Advertisements
julia rana solicitors london

آج بھی چاندنی چٹکی ہوئی تھی۔ وہ جھلنگے پر بیٹھا دونوں ہاتھوں کے پیالے میں تھوڑی دئیے آسمان کو تک رہا تھا۔ جھلنگا اب جھلنگا نہیں تھا۔ اس پر نئے بان کس دئے گئے تھے اور ایک دری پر سفید چادر بچھی ہوئی تھی۔ اس کی نوخیز، نئی نویلی، سانولی سلونی اور سادہ سی بیوی اس کے پاس آبیٹھی ۔
“ کیا یہ چھت ہماری ہے؟” اس نے چاند کو تکتے ہوئے پوچھا۔
“ یہ چھت ہی نہیں “ وہ خمار آلود آواز میں بولا “ یہ چاند، یہ آسمان ، یہ جہان سب ہمارا ہے”۔
اب چھت کے دروازے پر بھی کنڈی لگ چکی تھی ۔

  • julia rana solicitors
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors london

شکور پٹھان
محترم شکور پٹھان شارجہ میں مقیم اور بزنس مینیجمنٹ سے وابستہ ہیں۔ آپ کا علمی اور ادبی کام مختلف اخبارات و رسائل میں چھپ چکا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply