نائن الیون کی جدلیات۔۔۔ فاروق بلوچ

امریکہ میں ستمبر گیارہ کی دہشت گردی کو سولہ سال گزر چکے ہیں، مگر دھماکوں اور تباہی کی بازگشت ابھی باقی ہے. اِن واقعات کی بنا پہ امریکہ بدمست ہاتھی کی طرح دنیا کے کئی ممالک پہ چڑھ دوڑا تھا۔وہ قبضہ وہ جنگ اور وہ مصیبت ابھی بھی جاری ہے. کچھ دن قبل یورپین سائنٹفک انسٹی ٹیوٹ کے مشہور سائنسی جریدے “یورپین سائنٹفک جرنل” نے ایک تحقیق شائع کی ہے جس کا عنوان بھی بہت دلچسپ ہے یعنی؛ “پندرہ سال بعد،بلند و بالا عمارتوں کی تباہی کی طبیعات”.

برمنگھم ینگ یونیورسٹی کے اسٹیون جونز، میک ماسٹر یونیورسٹی کے رابرٹ کوروم، انتھونی سمبوتی اور ٹیڈ والٹر نے یہ تحقیق مشترکہ طور پہ لکھی ہے. اِس مضمون میں اُنہوں نے تینوں عمارتوں کی تباہی کا تجزیاتی مطالعہ پیش کیا ہے. اِس تحقیق کے نتائج اِس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی عمارتوں کو باضابطہ طور پر منصوبہ بند تباہی کے تحت تباہ کیا گیا. یہ متنازعہ مضمون دنیا بھر میں موجود مشہور کالجوں اور یونیورسٹیوں کے محققین پہ مبنی ایک ادارتی بورڈ کی چھان بین سے گزر کر شائع ہوا ہے. اِس مضمون کی اشاعت ستمبر گیارہ کے حادثے کی “اصل سچائی” سامنے لانے والوں کی ایک چھوٹی سی فتح سمجھا جا سکتا ہے۔

tripako tours pakistan

مشہور انارکسسٹ، پروفیسر اور امریکی دانشور “ناؤم چومسکی” کی مقبول تصنیف “سرکش ریاستیں” (ROUGE STATES) اِس حوالے سے قابلِ مطالعہ ہے کہ کیسے امریکی سامراج اپنی اقتصادی طاقت کے بل بوتے پر دنیا بھر میں جرائم کرتا ہے۔ امریکہ اپنے اقتصادی مفادات کے تحفظ کیلیے سیاسی و عسکری چالیں چلتا ہے، اور اِن چالوں کو جواز مہیا کرنے کیلیے ستمبر گیارہ جیسے واقعات کی منصوبہ بندی کرتا ہے. امریکہ ایک انسان دشمن سامراج ہے، اور سامراجیت اِس بدبودار نظامِ زر “سرمایہ داری” کا منطقی نتیجہ ہے. لبرل ازم کا حقیقی چہرہ یہی امریکہ ہے، گھناؤنا اور خون آلود… موجودہ عہد کے ہر خونی کھلواڑ کی پشت پہ یہی امریکی سامراج ہے۔

ستمبر گیارہ کے واقعہ کی بنیاد پر کئی ممالک کو تباہ اور برباد کیا گیا.کئی کروڑ لوگوں کو قتل اور اپاہج کیا گیا ہے. کئی لاکھ لوگ اپنے گھر بار اور علاقے چھوڑ کر کیمپوں میں ذلت سے بھرپور گھٹیا زندگی جی رہے ہیں. دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پہ اِس خونی کھلواڑ کے دو ہی مقاصد تھے، اور کون ذی شعور ایسا ہے جو اِن پسِ پردہ مقاصد سے آگاہ نہیں ہے؟ اولاً ہتھیاروں کی بےپناہ اور اندھا دھند پیداوار کا استعمال، دوم وسائل سے مالا مال خطوں کی لوٹ مار اور تاراج کرنا ہی اِس نام نہاد جنگ کے مقاصد ہیں.امریکی سامراج نے اِن مقاصد کو بخوبی حاصل کیا ہے، مگر جن نام نہاد مقاصد کو بیان کیا گیا تھا کہ “دنیا سے دہشت گردی کا خاتمہ” ہو گا آج تک اُن مقاصد کے حصول میں دنیا کا طاقتور ترین ملک ناکام ہے کیونکہ یہ ناکامی بےحد ضروری ہے. اگر دنیا سے دہشت گردی کا خاتمہ ہو گیا تو امریکی سامراج کی پَھلتی پھولتی دوکانداری کا خاتمہ ہو جائے گا۔

عراق پہ حملے کیلیے امریکہ نے القاعدہ اور بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا بہانہ بنایا تھا۔حالانکہ عراقی ڈکٹیٹر صدام حسین کا القاعدہ سے دُور پرے کا بھی تعلق نہیں تھا،اور تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی خبر بھی جھوٹی نکلی۔مگر امریکی سامراج کا عراق پہ قبضہ تاحال جاری ہے، اور مشرقِ وسطیٰ میں تباہی مزید بڑے پیمانے پہ پھیل کر جاری و ساری ہے. جنگِ عظیم کے دوران امریکی صدر روز ویلیٹ نے جاپان کو پرل ہاربر پر جان بوجھ کر حملہ کرنے دیا تھا کہ جنگ میں شمولیت کا جواز فراہم ہو جائے. بالکل ایسے ہی امریکی سامراج نے عراق کے حوالے سے جھوٹ بول کر وسائل سے مالا مال ملک کو تباہ کر کے وہاں سے لوٹ کھسوٹ کو جاری رکھے ہوئے ہے۔

ایک طرف افغانستان اور پاکستان کے عوام کو اِس جنگ کی قیمت ادا کرنی پڑی ہے، قتل و غارت گری میں مبتلا ہونا پڑا، تباہی اور غربت کی آگ میں جلنا پڑا. دوسری طرف تقریباً پورا عرب اِس آگ کے شعلوں کی لپیٹ میں آگیا۔ سامراجیوں نے جو خونی کھیل اِس خطے پہ مسلط کیا وہ نہایت ہی تکلیف دہ اور گھناؤنا ہے، انسانی تاریخ میں ایسی مثالیں بہت کم ہیں. جبکہ تیسری طرف اِس جنگ سے پینٹاگون، ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس اور ہیلی برٹن جیسے اداروں نے بےپناہ فائدہ اور منافع کمایا ہے۔لیکن امریکہ کی عوام نے اِس جنگ کی قیمت ادا کی ہے۔ ستمبر گیارہ کے واقعات کے فوراً بعد جنگ کیلیے صرف نئے جنگی جہازوں کی تیاری پہ 250 بلین ڈالرز خرچ کیے گئے. اِسی بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اگر یہی رقم کیلیفورنیا کی عوام پہ خرچ کی جاتی تو آج وہاں کی چوبیس فیصد آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی نہ بسر کر رہی ہوتی۔

ویتنام کی جنگ کے دوران تو امریکی عوام پہ براہ راست ٹیکس عائد کیے گئے تھے، مگر نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکی عوام قرضوں کے بوجھ تلے دب چکی ہے. یہ قرضے عوام ادا کرے گی، مگر جنگ کے سارے فوائد ملٹی نیشنل اداروں اور سرمایہ داروں کی جیب میں جا رہے ہیں،مزید برآں دوسرے سامراجی گِدھوں کی اِس جنگ میں شمولیت کے بعد دنیا کے کئی ممالک کے عوام متاثر ہوئے ہیں. راہول کے الفاظ میں؛
“سامراج کی مداخلت نے عوام کو مزید برباد اور رسوا کیا ہے۔ جنگ کے آغاز کے وقت شاید القاعدہ جیسے دہشت گرد گروہوں کی کوئی تنظیمی اکائی موجود ہو اوروہ کسی مخصوص مقصد کے لئے لڑ رہے ہوں لیکن آج کی کیفیت ظاہر کرتی ہے کہ درجنوں دہشت گرد گروہ پوری دنیا میں کرائے پر دستیاب ہیں اور دنیا جہان میں کوئی بھی ریاست یا فرد انہیں اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرسکتا ہے۔ آج سے پندرہ سال قبل جس جنگ کو سامراج نے عالمی قوت کے طور پر شروع کیا تھا وہ اب اس کی محدود قوتوں، کئی سارے دھڑوں اور برباد فوجی مورال کے ساتھ سب کے سامنے ہے۔ آج یورپ سے لیکر امریکہ تک جنگ میں شامل تمام شرکا کے سامنے یہ واضح ہوچکا ہے کہ جنگ کس کے خلاف تھی اور اس میں فتح کس نے حاصل کی ہے”.

امریکی محنت کش، غریب اور متوسط عوام ہی اِس جنگ کی قیمت ادا کر رہی ہے. ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی تباہی میں بھی تین ہزار ہلاک شدگان کی اکثریت محنت کشوں پہ مبنی تھی. افغانستان، پاکستان، عراق، شام اور دیگر جنگ زدہ ممالک میں بھی محنت کش، غریب اور متوسط عوام ہی قتل ہو رہے، اپاہج ہو رہے ہیں، اور یہی طبقات ہی معاشی، سیاسی اور مذہبی استحصال کا شکار ہیں. سیکورٹی آپریشنوں میں بھی یہی طبقات ذلیل و خوار ہیں. جنگوں، پراکسی جنگوں اور عسکریت کے تمام تر فوائد سرمایہ دار حاصل کر رہے ہیں، جبکہ اُس کی ہمہ قسمی قیمت یہی طبقات ادا کر رہے ہیں. پوری دنیا کے محنت کشوں اور غریبوں کو اِن سامراجیوں کے چہرے پہچاننے ہونگے. سرمایہ دار اور سامراج ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں،جبکہ دہشت گردی اِس نظامِ زر کا ایک مالیاتی ادارہ ہے۔

فاروق بلوچ
فاروق بلوچ
مارکسی کیمونسٹ، سوشلسٹ انقلاب کا داعی اور سیاسی کارکن. پیشہ کے اعتبار سے کاشتکار.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *