مارکسزم اور لایعنیت۔۔۔احمد سہیل

“Absurdly, Marx viewed this whole process as inevitable. The ‘scientific’ laws of socio-economic evolutionary production and distribution, i.e., dialectical materialism, were considered inviolable. Although Marx had great disdain for Hegel’s (1770-1831) philosophical approach, he nonetheless borrowed heavily from his dialectical evolutionary pantheism.
{The Absurdity of Karl Marx’s Dialectical Fundamentalism,…Communistic Social Science & Apocalyptic Revolution}
مارکسزم اور لایعنیت کے مابین فکری نزاع ایک عرصہ سے قائم ہے اور یہ دونوں مکتبہ فکر اپنے رویّوں میں اتنے حساس ہیں کہ ابھی تک ان میں افہام و تفہیم کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔
انگریزی اور دیگر زبانوں میں اس موضوع پر بہت کم لکھا گیا ہے۔ جو تھوڑا بہت لکھا گیا ہے اس سے کوئی بات نہیں بن سکی۔ شاید اردو میں اس متنازع موضوع کو چھیڑا ہی نہیں گیا۔ مگر یہ ضرور ہے کہ مارکسزم، لایعنیت اور وجودیت کو سارتر اور البرٹ کامیو کے حوالے سے مضامین اور مباحث میں جگہ ملتی رہی ہے۔
مارکسزم اور لایعنیت کی فکر میں مذہب بیزاری اور نفی دانش قدر مشترک ہے۔ مارکسزم کے لیے کائناتی وجود غیر معمولی طور پر ‘لایعنیت’ سے عبارت ہے اور لایعنی وجود پرستی کی کئی علامتیں مارکسسٹ نظریے میں جھلکتی ہیں۔ اس میں عضویاتی اور حیاتی موضوعی تجربے کے تناظر میں ایک ‘اجنبی’ فرد دریافت ہوتا ہے کیونکہ مارکسی نظریے میں فرد کے وجود کے لیے کوئی عقلی یا استدلالی جواز پیش نہیں کیا جاتا۔
غالباً اس کا سبب یہ ہو کہ زندگی کی اہم اور معتبر قوتیں ناقابل اعتبار اور ناقابل اعتماد ہیں۔ جن کو کسی طور پر نہ ہی تبدیل اور نہ ہی کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔
تناؤ اور بےچینی کی حالت سے یساریت پسند { بائیں بازو}فکریات بھی تقسیم در تقسیم ہو گئی ہے۔ مارکسی نظریے میں مغائرت کا قوی تصور لایعنیت کی عمدہ مثال ہے جس میں تناقص بھی ہے، ابہام بھی اور تشکیک بھی بھری ہوئی ہے۔ لایعنیت مارکسزم میں جبر اور تصادم کی اخلاقیات کی منکر ہے۔
لینن کی نظر میں انسانی افعال یا ایکشن لایعنیت کی کہانی کو مسترد کرنے کے بعد ایک ‘آزاد خواہش’ کو ابھارتا ہے۔ چاہے انسانی ذہانت کا درجہ کیسا ہی کیوں نہ ہو فرد اپنے عمل کی جانچ مختلف سطحوں پر کرتا ہے۔ وہ اسے درست اور معتبر اور قابل قبول بنانے کے لیے سخت لہجہ اور اقدامات بھی اختیار کرتا ہے تاکہ اس کی پہنچ ‘آزاد خواہش’ تک ہو جائے جس میں فرد کے جبری اصولوں کو انفرادی سطح پر متعین کرنے کی کوشش بھی کی جاتی ہے۔
مگر کارل مارکس نے انسانی عمل یا ایکشن کو کبھی ضروری خیال نہیں کیا اور نہ ہی اسے تاریخی مادیت کے تناظر میں دیکھا ہے، جبکہ البرٹ کامیو کا مارکسزم سے اختلاف ذاتی، سیاسی اور فلسفیانہ بنیادوں پر تھا۔
کامیو نے 1930 کے وسط میں کمیونسٹ پارٹی کے ساتھ اپنی ہمدردیاں واپس لے لی تھیں۔اور پاپولر فرنٹ کا ساتھ دینے سے انکار کردیا تھا۔ اس کے بعد انھوں نے الجزائر میں فرانسیسی نو آبادیات کو چلانے کے لیے کمیونسٹ پارٹی کی آئیڈیالوجی کو بھی مسترد کردیا۔
البرٹ کامیو نے لایعنی فکر کو تاریخی حوالے سے بامعنی بنانے کی کوشش ہے جو کہ مارکسی نظریہ حیات/ آئیڈیالوجی سے گریز ہے۔ 1946 میں کمیونسٹ اخبارات نے ان کے خلاف تحریک بھی چلائی۔
کامیو کا باغی ‘لایعنی باغی’ ہے وہ کسی طور مارکسسٹ باغی اور نراجیت پسند نہیں ہو سکتا۔ کامیو کے خیال میں مارکس کا فلسفہ انیسویں صدی کی نظریاتی جدوجہد کا اقتدارپسند سوشل ازم اور لبرل ازم ہے۔
کامیو کے مطابق مارکس کا منصوبہ یہ رہا ہے کہ پیداواری مطالبات کے ساتھ تنازعات کھڑے کیے جائیں اور تاریخ کی تشکیل کی جو پیش گوئی کی گئی تھی اسے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے۔
کامیو انقلاب کو فرد کی غلامی تصور کرتے تھے جہاں انسان کا شعور غضب کرلیا جاتا ہے۔ مارکسی فلسفہ کوئی سائنسی نظریہ نہیں ہے۔ یہ سائنسی اور فکری نوعیت کا تعصب ہے۔ کامیو کی لایعنی فکر عارضی اقتدار اور طاقت کی بحالی کے نظریے کو رد کرتی ہے ۔ وہ عقل اور دانش کی آزادی کے قائل ہیں۔
یساریت پسند جس ابدی ارتقا کا تصور لیے ہوئے ہیں وہ اصل میں فکر کا زوال اور اختتام ہے۔ مگر اس کےاختتام میں کسی ضمانت کی گنجائش نہیں ہوتی۔ یہ ‘جدلیاتی انقلاب’ نہیں بلکہ یہ صرف نفی دانش کا منفی رویہ ہے جس میں تحریکوں کے مقاصد میں ہر چیز سے انکار ممکن نہیں ہوتا کیونکہ خود اس کا وجود ہی نہیں ہوتا۔
کامیو کا لایعنی ہیرو مارکسسٹ ہیرو سے یکسر مختلف ہے جو دیوتاؤں کی عدم مقتدریت اور باغیوں کے خمیر سے گوندھا گیا ہے۔ 1926 میں جارج لوکاش نے اپنی کتاب ‘تاریخ اور طبقاتی شعور’ میں مارکسزم کی موضوعی توجیہات پیش کی ہیں اور طبقاتی کشمکش میں فرد کی لایعنی صورتحال کو بیں السطور میں بیان کیا ہے جسے لایعنی سچائی بھی کہا جاسکتا ہے۔
لایعنیت، یساریت پسندی اور انسانی آزادی کے حوالے سے عمرانیات کا فکری ڈھانچہ دبے لفظوں میں غیر محسوس طور پر ان فکری مباحث کے پس منظر میں اپنی فکری علمیات کی موجودگی کا احساس دلاتا ہے۔
مارکسزم اور لایعنیت کی فکر میں مذہب بیزاری اور نفی دانش قدر مشترک ہے۔ مارکسزم کے لیے کائناتی وجود غیر معمولی طور پر ‘لایعنیت’ سے عبارت ہے اور لایعنی وجود پرستی کی کئی علامتیں مارکسسٹ نظریے میں جھلکتی ہیں۔ اس میں عضویاتی اور حیاتی موضوعی تجربے کے تناظر میں ایک ‘اجنبی’ فرد دریافت ہوتا ہے کیونکہ مارکسی نظریے میں فرد کے وجود کے لیے کوئی عقلی یا استدلالی جواز پیش نہیں کیا جاتا ۔ اردو کے تنقیدی نظرئیے میں اس موضوع پرشاید ابھی تک نہیں لکھا گیا۔ اردو کے فکشن میں اردو کے ناقدین کو یہ نظریہ اخذ کرنا چاہیے ۔ جو کہ اردو فکشن کے متن اور بیانیے میں چھپا ہوا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *