پھلوں کا بائیکاٹ،کیا واقعی غریب کو پھل ملا؟

سوشل میڈیا کی اہمیت سے کسی کو انکار نہیں۔موجودہ دور میں انتشار کی شکار قوموں کا منظم ہونے کےلیے اِس سے اچھا پلیٹ فارم کوئی اور نہیں ہو سکتا۔اپنے خیالات، احساسات، جذبات کے اظہار کا اِس سے بہتر کوئی ذریعہ مل نہیں سکتا. سوشل میڈیا ہی ہے جو دنیا بھر کے لوگوں کو جوڑنے کا سبب بنا ۔جس کے ذریعے ایک دوسرے کو سمجھنے کا موقع ملا. خیالات کا تبادلہ ہوا سوچوں میں تنوع پیدا ہوا. عام آدمی میں تحریک جاگی معاشرے کی اصلاح پر کام شروع ہوا۔
سوشل میڈیا پر کچھ لوگوں کی جانب سے رمضان المبارک میں پھلوں کی اچانک بڑھتی قیمتوں سے تنگ آکر تین روزہ پھلوں کے بائیکاٹ مہم کا آغاز اِس اعتبار سے تو خوش آئند قرار دیا جاسکتا ہے کہ عوام سوشل میڈیا کی طاقت کو استعمال کرتے ہوئے اپنے آپ کو منظم کرنے اور متحرک بنانے میں کامیاب ہوئے اور یقیناََ ان کے اس اقدام کو سراہا جانا بھی چاہئیے۔لیکن یہاں ایک سوال یہ بھی ہے کہ جب اقدام مثبت اور قابلِ ستائش ہے تو پھر اِس کی اتنی مخالفت کیوں؟ اِس وقت سوشل میڈیا پر سوال و جواب کا سلسلہ بڑے زور و شور سے جاری ہے اور مہم کے حامی اور مخالفین اپنے تئیں جواب دینے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں. کچھ لوگوں کی رائے ہے کہ مجھے اِس بائیکاٹ مہم کا حصہ بنتے ہوئے اِس کو سپورٹ کرنا چاہیے تھا جبکہ میں ہر ممکن کوشش کے باوجود کہ غیرجانبدار رہوں مہم مخالف پینل میں آبیٹھا۔
میرا تعلق غریب و متوسط طبقے سے ہے۔ میرا واسطہ علاقے کی چھوٹی چھوٹی گلیوں کچی آبادیوں سے ہے. فروٹ کی ریڑھی لگانے والے سے لیکر زمین پر کپڑا بچھائے پانچ پانچ روپے میں ہرا دھنیا پودینہ بیچنے والے کے پاس میری بیٹھک ہے۔ مجھے معلوم ہے بازار میں کیا چیز کتنے کی ہے چینی، پتی، آٹا، دال، گھی، تیل، چاول، دلیہ، پیاز، لہسن، لونگ، کالی مرچ، ہرا دھنیا، کالا زیرہ سے لیکر سفید زیرہ تک سب کی قیمتوں کا بخوبی اندازہ ہے. اچھا کیلاکتنے کادرجن ہے ہلکا کیلا کتنے کا درجن ہے؟ سندھڑی آم کتنے کا کلو ہے چونساکتنے کا کلو ہے ؟فالسوں کی قیمت اِس وقت کیا ہے اور آڑو تربوز خربوز کی قیمتیں اِس وقت کیا چل رہی ہیں؟ رمضان سے پہلے ان کی قیمتیں کیا تھیں اب کیا ہیں؟ سب کا اندازہ مجھے بخوبی ہے۔ یہ سب چیزیں غریب کی استطاعت میں ہیں کہ نہیں اِس کا ادراک بھی مجھ سمیت ہر ذی شعور کو ہے۔مجھے اِس بات کا بھی علم ہے کہ ڈیفنس میں فروٹ کے ریٹ کیا ہیں اور کورنگی ،اورنگی میں کیا ہیں؟ اِن پھلوں کی اقسام اور کوالٹی کا بھی اندازه ہے،۔
اِن سب باتوں سے ہٹ کر ایک سوال یہ بھی ہے کہ کیا واقعی غریب آدمی صرف اِس وجہ سے پھل خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتا کیونکہ پھل مہنگے ہیں؟ اور اگر پھلوں کی قیمتیں نیچے آبھی جائیں تو کیا غریب آدمی کی پہنچ اُس سستے پھل تک ممکن ہوجائے گی؟ اگر واقعی ایسا ہے تو اندازہ کیجئے بائیکاٹ کے تینوں دن کتنے غریبوں نے پھل خریدے؟
ایک غریب آدمی کا ایشو پھل کی قیمت نہیں ہے صاحِب، غریب آدمی کا مسئلہ کم آمدنی ہے. آپ فروٹ کی قیمت بیس روپے کلو بھی کرادیں غریب آدمی پھر بھی اِس سے محروم رہیگا ۔کیونکہ اُس کی استطاعت اتنی بھی نہیں ہے ۔ایشو مہنگائی نہیں ہے اصل ایشو بے روزگاری کم تنخواہیں ہیں ۔آپ حکومت پر پریشر ڈال کر مزدور کی تنخواہ ایک تولہ سونا کے برابر کرادیجئیے، یقین کریں غریب سو روپے کلو والا پھل بھی کھالے گا۔قیمتیں کم کروانے کے بجائے روزگار کے مواقع بڑھوادیجئے تنخواہوں میں اضافہ کروادیجئیے ۔سوشل میڈیا کی طاقت کو اِس طرح تین تین روزہ چلہ کاٹنے پر ضائع مت کیجئیے اِس طاقت کو صحیح جگہ استعمال کیجئیے۔

علی راج
علی راج
سوشل میڈیا بلاگر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 0 تبصرے برائے تحریر ”پھلوں کا بائیکاٹ،کیا واقعی غریب کو پھل ملا؟

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *