وقت زندگی میں کبھی رکتا نہیں ہے۔ نہ ہی کسی کا انتظار کرتا ہے۔ یہ بس چلتا ہی جاتا ہے چاہے اچھا ہو یا برا پر کسی کے لئے یہ تھم نہیں سکتا۔ اس کی رفتار میں کمی کبھی نہیں← مزید پڑھیے
گھر کے ماحول میں ایک عجیب سی طلب چھپی بیٹھی تھی۔ ہر کسی کی نظروں میں اُس کے آنے کی اُمید دیکھی جا سکتی تھی۔ چھوٹے بڑے اور بزرگ سبھی کو اُس کی آمد کا شِدت کے ساتھ انتظار← مزید پڑھیے
میر حاصل بزنجو پہ آئی ایس آئی چیف کا نام لینے کی وجہ سے کسی نے عدالت میں مقدمہ کر دیا ہے ۔ یہ کیس گوجرانوالہ کی عدالت میں کیا گیا اور میر حاصل بزنجو کو نوٹس بھیج دیا گیا← مزید پڑھیے
کرہ ارض پر رہنے والا ہر شخص کامیاب ہونا چاہتاہے ۔اور آگے بڑھنے کی جستجو ہمیشہ سے موجود رہتی ہے مگر بہت سے لوگ کامیابی کی خواہش اور تڑپ رکھنے کے باوجود ناکام ہوتے ہیں اور مطلوبہ مقصد کو حاصل← مزید پڑھیے
کچھ دن پہلے میں صبح دس بجے کے قریب اٹھا اور اپنے دوست خیام کو کال کی کہ ہم بٹ خیلہ ملاکنڈ جا رہے ہیں تم سامان لے کے میرے پاس آ جاؤ۔ ہم نے اپنے دوست مرتضیٰ کو کال← مزید پڑھیے
تین دن سے ناران میں ہی ہوں اور دیکھ رہا ہوں کہ میڈیا نے بغیر کسی تحقیق کے نہ تھمنے والے جھوٹ کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ جس نے لوگوں کو خوفناک حد تک ڈرایا ہوا ہے۔ چار← مزید پڑھیے
مولانا طارق جمیل صاحب کی وزیراعظم عمران خان صاحب سے ملاقات کا خوب چرچا ، ہونا بھی چاہیے، ایسے وقت میں جب قادیانیت کے قصّے سر چڑھ کر بول رہے ہیں، تو دونوں صاحبان کی یہ ملاقات دل کے سکون← مزید پڑھیے
ویسے تو پاکستانی سیاست میں “ڈگری ،ڈگری ہوتی ہے اصلی ہو یا نقلی”,اذان بج رہا ہے”,مجھے کیوں نکالا”,میرے پاکستانیوں گھبرانا نہیں” اور اس جیسے کافی سارے ضرب الامثال مل جائیں گے جو پاکستانی سیاست کو چار چاند لگاکر اس کے← مزید پڑھیے
ایک چیز اپنی ضرورت اپنی کمائی سے حاصل کی جائے تو اُس کی قدر ہوتی ہے، جس طرح کسی نے محنت کر کے اپنے وزن میں توازن برقرار رکھا ہو تو اُسے معلوم ہوتا ہے کہ کیا اُس نے منہ← مزید پڑھیے
ڈئیر مایا! تمہارا خط ملا،جواب دینے میں تاخیر ہوئی۔ دراصل خط کو ایک نشست میں پڑھنا دشوار لگ رہا تھا،پڑھائی والی عینک بھیگ جاتی تھی،لرزتے ہاتھوں سے شیشہ ٹوٹنے کے ڈر سے عینک سوکھنے کا انتظار کرنا پڑتا تھا۔ سامان← مزید پڑھیے
“منقول ہے کہ سوچنے کی صلاحیت ہی علم کا اصل مقصد ہے،اور ظاہر ہے کہ بندہ اگر ایک جملہ بھی لکھے، اس کیلئے بھی سوچنا ہی پڑتا ہے، تو پھر ایک کتا ب لکھنے کیلئے کتنا سوچنا پڑے گا،اور کتاب← مزید پڑھیے
میں جس دور جدیدیت میں رہتا ہوں اس کو دنیا گلوبل ولیج کہتی ہے۔اگرچہ ٹیکنالوجی کے ذریعے ہونے والی ترقی کی بدولت ہم چاند پر پہنچ چکے ہیں ،لیکن ابھی تک انصاف کے تقاضے پورے کرنے میں خاطر خواہ← مزید پڑھیے
ابا جی کی وہ قبر۔ اس کے پیچھے ایک چھوٹا سا آنگن ٹائپ ہے۔ اور وہاں اس آنگن میں ہے ایک کنواں۔ موت کی خاموشی کے درمیان زندگی کا بنیادی عنصر پانی۔ کنواں نہ ہوتا تو شاید اس کے ارد گرد کی قبریں بھی ویسی ہی پلین سی پیسو سی حقیقت لگتیں۔ مگر کنویں پر زندگی ہمیشہ حرکت میں ہوتی ہے۔ یوں زندگی کے کنٹراسٹ کے باعث موت کا استعارہ وہ قبر مزید تنہائی کا احساس دیتی ہے۔ جیسے بھوکے کے سامنے کوئی کھانا کھا رہا ہو تو بھوک اپنا تشخص شدت کے ساتھ ظاہر کرتی ہے۔ بس ویسے ہی۔← مزید پڑھیے
ابھی یہ منظر جاری تھا کہ اسی اثناء میں گوالے کے ساتھ کئی لوگ پائریلو کو پکڑنے سرکس میں پہنچ گئے۔ اس سے پہلے کہ وہ اسے پکڑپاتے۔ رِکی نے گوالے سے پوچھا کہ وہ گھوڑے کوبیچنا چاہتا ہے؟ گوالے نے اثبات میں جواب دیا اور مزید کچھ سنے بغیر اپنی رقم لے کر چلتا بنا جو اس نے پائریلو کو خریدنے پر خرچ کی تھی۔ وہ اس گھوڑے سے مزید دودھ کا نقصان نہیں چاہتا تھا۔ اس کے جانے کے بعد رِکی نے کارلو کو بھی پائریلو کے ساتھ سرکس میں کام کرنے کی آفر کی جو اس نے خوشی سے قبول کرلی۔← مزید پڑھیے
سارے ملک میں جیسے کہرام برپا ہوچکا تھا۔ تبدیلی سرکار پر طنز و تحقیر میں اپنا الثانی نہ رکھنے والوں کی زبان بھی جیسے گویائی سے محروم ہوگئی تھی۔ ہر طرف ایک وحشت نے ماحول کو اپنی لپیٹ ← مزید پڑھیے
ملک پاکستان میں تبدیلی کے دعویداروں نے اپنا قدم رکھا تو سب سے پہلے احتساب کی بات کی۔ خان صاحب اور ان کے کھلاڑیوں نے احتساب کے عمل کو شفاف طریقے سے انجام دینے کے وعدے کیے۔ چاہے وہ اپوزیشن← مزید پڑھیے
میں ہنسی خوشی اپنے مالک کے ساتھ زندگی گزار رہا تھا۔ میرا مالک میرا بہت خیال رکھتا تھا۔ مجھے مختلف اقسام کا ترو تازہ چارہ کھلایا کرتا تھا۔مجھے روزانہ باہر گھمانے لے کر جایا کرتا تھا۔ ادھر میرے بہت سے← مزید پڑھیے
ن لیگ کی ایک ہفتہ پہلے ہونے والی پریس کانفرنس میں شہباز شریف کی باڈی لینگویج سے صاف ظاہر تھا انہیں ترلے واسطے کے ساتھ اُدھر بیٹھایا گیا تھا۔ میرا ماننا ہے شہباز شریف اس پریس کانفرنس کے بالکل بھی← مزید پڑھیے
ان الفاظ کا کیا جائے جو حلق تک آ کر رکے ہوئے ہیں، مگر ہائے وہ احترام کا رشتہ جس نے ہم سے بولنے کی صلاحیت چھین لی۔ یہ ناقابل بیان تکلیف ہے وہ ہمارے سامنے ہمیں بے بس کر← مزید پڑھیے