ایک نیا انقلاب۔۔۔عبداللہ خان چنگیزی

 

سارے ملک میں جیسے کہرام برپا ہوچکا تھا۔ تبدیلی   سرکار پر طنز و تحقیر میں اپنا الثانی نہ رکھنے والوں کی زبان بھی جیسے گویائی سے محروم ہوگئی تھی۔ ہر طرف ایک وحشت نے ماحول کو اپنی  لپیٹ  میں لے رکھا تھا۔ کیا خاص ،کیا عام ہر  انسان کی زبان گنگ تھی۔ آج کوئی کسی کو ایرا غیرا کہہ کر نہیں پکار رہا تھا۔ بالکل سارے جہاں میں ایک اجنبیت سی سرائیت کرگئی تھی۔ نہ کوئی سلیکٹڈ کا نام لیتا تھا اور نہ  کوئی الیکٹڈ کا۔ شہرِ اقتدار کی فضاؤں پر گہرا سکوت طاری تھا۔ ہر شاہراہ ویران دکھائی دے رہی تھی۔ انسان جیسے کسی  اَن دیکھے خوف سے اپنے اپنے گھروں میں محصور ہوچکے تھے۔ شہرِ اقتدار کے علاوہ بھی ملک کے ہر ایک گوشے میں یہی حالت تھی۔

اسکول ویران ہوچکے تھے۔ ہسپتالوں میں اِکا دُکا مریض آہ و بکا کر رہے تھے۔ جو مریض کچھ ہلنے جلنے کی سکت رکھتے تھے وہ آہستہ آہستہ سے سرکتے ہوئے چوروں کی طرح خود کو ایک طرف گھسیٹ رہے تھے۔ ایک انجانا خوف تھا۔ ملک کے سبھی ٹی وی سینٹرز بند ہوچکے تھے۔ ریڈیو پر بھی سوائے شور کے کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا۔ گھروں میں دُبکے بیٹھے لوگ اپنے ہاتھوں میں پکڑے قیمتی موبائل فونز کو الٹ پلٹ کر دیکھ رہے تھے مگر کسی سے رابطہ ممکن نہیں تھا۔ پانی کی کمی سے کچھ گھروں میں قیامت صغریٰ  سی بپا ہوچکی تھی۔ کچھ علاقوں میں لوگ گرمی کے سبب مجذوب بنے وئے تھے۔

جیلوں میں قید بہت سے قیدی بھوک سے نڈھال ہوکر مرنے کے قریب تھے۔ جیل کے کچھ کمروں میں کچھ لوگوں کی مسخ شدہ لاشیں پڑی تھیں جن کو لگتا تھا کہ خوب زدوکوب کرکے موت کے گھاٹ اتارا گیا ہوگا۔ ملک کی ایسی حالت نہ کبھی کسی نے پہلے دیکھی تھی اور نہ ہی شاید بعد میں کوئی دیکھنے کو  زندہ بچ پائے گا۔ پولیس نامی کسی شے کا وجود نہ تھا۔ سڑکوں اور شاہراہوں پر آوارہ کتوں کی چیاؤں چیاؤں  سنائی دی رہی تھی۔ دنیا حیران و پریشان تھی کہ اِس ملک پر یہ عذاب کِن وجوہات کی بنا پر نازل ہوا؟ وجہ فی الحال معلوم نہ تھی۔

اسی دوران بہت دور سات سمندر پار ایک شخص ایک بڑی سی ایل سی ڈی پر سیٹلائٹ لائیو اسٹریم کے ذریعے اُس ملک کی حالت دیکھ دیکھ کر کبھی مسکراتا رہتا اور کبھی اُس کی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب بہہ نکلتا۔ اچانک اسے کچھ دکھائی دیا۔ اُس نے اپنے پاس پڑا ریمورٹ کنٹرول ڈیوائس اٹھایا اور وہ منظر قریب کرنے لگا۔ اُس نے دیکھا کہ سوٹ بوٹ میں ملبوس کچھ لوگ ایک ٹیرس پر کرسیوں پر بیٹھے کچھ کاغذات پر  دستخط کر رہے تھے۔ اُس شخص نے وہ منظر کچھ اور قریب کیا اور وہ کاغذات پڑھنے کی کوشش کرنے لگا۔ وہ کاغذات پڑھ کر ایک قہقہہ لگاتا ہوا مسلسل ہنسنے لگا۔ اور اتنا ہنسا کہ اُس کے قہقہے بلند سے بلند ہوتے گئے۔ تبھی اُس نے اچانک اپنی ہنسی روک دی اور دوبارہ اُس منظر کو دیکھنے لگا۔ اِس بار اُس نے دیکھا کہ ٹیرس پر موجود اَشخاص نے اٹھ کر مصافحہ کیا اور اُن میں سے کچھ لوگ  نیے کی طرف جانے لگے۔

وہ دیکھتا ہے کہ اترنے والے لوگوں میں دو اشخاص کے سر کے بال صفا چٹ ہیں اور وہ دونوں باقیوں سے آگے آگے چلتے ہوئے کچھ دوری پر کھڑے ایک دیو ہیکل بوئنگ 777 ہوائی جہاز کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ وہ شخص یہ منظر دیکھنے میں اِس قدر مگن تھا کہ اُس اچانک نمودار ہونے والے ہجوم کو پہلی نظر میں دیکھ نہ پایا تھا۔ جب اُس کی نظر اُن لوگوں پر پڑی اور اُن کے ہاتھوں میں موجود بڑے بڑے جھنڈوں پر پڑی تو چکرانے کے انداز میں اسٹائلش صوفے پر ڈھے  سا گیا۔ اُس کی آنکھوں سے متواتر آنسوؤں کے قطرے جاری ہو چکے تھے۔ وہ اُن لوگوں کی حالت دیکھ دیکھ کر دل ہی دل میں   مرتا گیا۔

اُس ہجوم کی حالت یہ تھی کہ پھٹے پرانے کپڑے، ننگے پیر، خاک آلودہ بال اور چہروں پر ہیجان سی کیفیت طاری تھی۔ وہ لوگ ہاتھوں میں موجود جھنڈوں کو تیزی کے ساتھ دائیں بائیں گھما رہے تھے اور فلک شگاف نعرے بلند کر رہے تھے۔ اچانک دونوں صفا چٹ دیو ہیکل ہوائی جہاز کے قریب پہنچے اور جہاز کے اندر دیکھنے کی کوشش کرنے لگے۔ جہاز کے اندر اور بھی بہت سے “ڈبلو ببلو” نما لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ دونوں صفا چٹوں کے چہروں پر ایک مسکراہٹ عود آئی۔ اور پلٹتے ہوئے ایک طائرانہ نگاہ اُس مخلوق پر ڈالی جو ہاتھوں میں جھنڈے اٹھائے چیخ رہے تھے۔

اچانک اُس ہجوم میں ایک شخص نہایت تیزی کے ساتھ ہجوم سے نکلا اور دوڑتا ہوا اِن دونوں صفا چٹوں کے پاس آ پہنچا۔ اِن کے قریب آتے ہی وہ دو زانوں بیٹھ گیا اور آس و حسرت سے دونوں کو جہاز کی سیڑھیوں پر کھڑے دیکھنے لگا۔ دو زانوں بیٹھا شخص کچھ سرکتا ہوا اُن دونوں کے  قریب ہونے لگا جب فاصلہ انتہائی کم ہوا تو دونوں صفا چٹوں نے اپنی اپنی کوٹ میں اڑسے ہوئے رومال نکالے اور اپنی ناکوں پر رکھ لئے۔ تبھی اچانک ایک صفا چٹ کچھ آگے بڑھا اور نیچے دو زانوں بیٹھے شخص کو لات مار کر خود سے دور کر دیا۔

لات مارتے ہی وہ واپس جہاز کی طرف مڑا اور سیڑھیاں چڑھتا ہوا جہاز میں داخل ہوا۔ اُس کے پیچھے دوسرا صفا چٹ بھی جہاز میں داخل ہو چکا تھا۔ دونوں نے جہاز میں داخل ہوتے ہی ایک نظر جہاز کے اندرونی منظر پر ڈالی اور مسکراتے ہوئے جہاز کے آخری سرے تک اپنے پورے کُنبے کے لوگوں کی موجودگی کو پا کر مُسرت آمیز قلقاری ماری اور جہاز کے پائلٹ کو جہاز اڑانے کا حکم جاری کردیا۔

یہ سارا منظر وہ دور دراز بیٹھا  شخص دیکھتا رہا اور جہاز کو اڑان بھرتے بھی دیکھا۔ جہاز اڑ جانے کے بعد اُس نے وہ شخص دیکھنے کی کوشش کی جس کو لات مار کر خود سے دور کیا گیا تھا۔ وہ کچھ بڑبڑا رہا تھا۔ اُس نے ایک نظر ہجوم پر بھی ڈالی جو اب دھڑا دھڑ رو رہے تھا اور دھاڑیں مار رہے تھے ساتھ ہی کچھ کہہ بھی رہے تھے۔

اُس نے وہ اسکرین آف کردی  اور سر پیچھے صوفے پر ٹِکا کر سوچنے لگا۔

وہ اُن کاغذات کے بارے میں سوچتا رہا جن پر جلی حروف میں لکھا تھا کہ

” آج تگڑا مال ملنے اور بیرونی ممالک میں ہر جگہ پلازے و محل بنانے کے بعد وہ دونوں صفا چٹ مملکت سے دستبردار ہوچکے ہیں اور ساتھ ہی اُن لوگوں سے بھی جو اُن کے لئے نعرہ بازی کرتے آرہے تھے”

صوفے پر بیٹھے شخص نے وہ رقم کا حساب بھی دیکھا تھا جو اتنا بڑا تھا کہ شاید ہی کوئی پڑھ پاتا۔

سب سے زیادہ افسوس اُس صوفے پر بیٹھے شخص کو اِس بات کا ہو رہا تھا کہ وہ ہجوم جہاز اُڑ جانے کے بعد بھی کچھ ” تیرے جانثار بے شمار بے شمار” کے نعرے لگا رہے تھے۔ اور وہ ہجوم یہ نعرے اُن لوگوں کے لئے بلند کر رہے تھے  جو  اِن سب کو بیچ کر جا چکے تھے۔

آخر کار وہ شخص اُٹھا اور سامنے لگی الماری میں اپنی لکھی ہوئی کتابوں کے انبار جو کہ سلیقے سے شیلفوں میں  سجے ہوئے رکھے تھے اُن میں سے ایک کتاب نکالنے لگا۔ اُس نے ایک کتاب کو نکال کر دیکھا اور کتاب کا نام پڑھ کر ایک بار پھر ہنسنے لگا۔

کتاب کا نام تھا:

“جب قوم چوروں کی حمایت کرتی ہے تو اُس قوم کے نتائج و انجام کیا نکلتے ہیں”

نیچے مصنف کا نام لکھا تھا:

“دی ہیرو آف اینٹی کرپشن یونٹ اینڈ ریفارمز ان ڈیموکریسی و سسٹم”

اُس نے وہ کتاب کھولی اور پڑھتے پڑھتے پوری کتاب پڑھ کر ختم کرلی۔ کتاب کے ختم ہوتے ہی اُس کے چہرے پر بشاشت نمایاں تھی۔ وہ زیر لب کچھ کہنے لگا۔

“کاش میرے لوگ چوروں، ڈاکوؤں اور لٹیروں کی حمایت نہ کرتے تو آج ایک عظیم قوم بنتی اور یوں کسی کے زر خرید غلام نہ بنتے”۔

عبداللہ خان چنگیزی
عبداللہ خان چنگیزی
ایک کمزور سا انسان، جو تلاشِ معاش کے دوران حادثاتی طور پر لکھنے لگا جو محسوس ہوا لفظوں کے حوالے کر دیا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *