عبداللہ خان چنگیزی کی تحاریر
عبداللہ خان چنگیزی
عبداللہ خان چنگیزی
منتظر ہیں ہم صور کے، کہ جہاں کے پجاری عیاں ہوں۔

حضرت محمد ﷺ بطور ترقی پسند رہنما۔سیاسی اور سماجی اصلاحات/مکالمہ سیرت ایوارڈ۔۔۔عبداللہ خان چنگیزی

جناب رسالت مآبﷺ کے ساتھ نسبت اور عقیدت و محبت کا اظہار ہمارے ایمانی تقاضوں میں سے ہے اور ہر مسلمان کسی نہ کسی انداز میں اِس کا اظہار ضرور کرتا رہتا ہے۔ اِس کے ساتھ یہ بات بھی پیش←  مزید پڑھیے

پاکستان کا قومی شناخت کا بحران۔۔۔عبداللہ خان چنگیزی

تعارف: ہم کون ہیں؟ دنیا کے ہر ملک میں وہاں کے رہنے والوں میں ایک پہچان اور شناخت کا ہونا ایک متحد قوم کی پہچان ہوتی ہے۔ زیادہ تر ممالک میں اپنی قومی پہچان ہی اصل پہچان سمجھی جاتی ہے۔←  مزید پڑھیے

نظامِ پاکستان اور مذہب کارڈ۔۔۔عبداللہ خان چنگیزی

سیاست ہر ملک میں ایک الگ انداز سے ہوتی ہے اور اُس اندازِ سیاست میں روایتی طنز و تنقید ہوتی رہتی ہے اور ہوتی رہے گی۔ سیاسی رہنما اپنے مخالف پر لفظی گولہ باری کرتے ہیں اور اُن کے پیروکار←  مزید پڑھیے

ایک خط کا جواب۔۔۔۔عبداللہ خان چنگیزی

  جان سے پیاری آج آپ کا تیسرا  خط ملا مگر میں نے جواب لکھنے تک بہت سوچا۔ شاید تاخیر تم پر گراں گزری ہو۔ بار بار لکھنے لگا اور اپنا لکھا ہوا ٹکڑے ٹکڑے کرتا رہا۔ تم نے پوچھا←  مزید پڑھیے

تشدد زدہ لاشیں اور شدت پسند عوام۔۔۔۔عبداللہ خان چنگیزی

انسان کو اللہ تعالی نے اشرف المخلوقات کے عظیم درجے کے ساتھ اِس دنیا میں اُتارا ہے۔ بیشک انسان اللہ تعالی کی ایک عظیم مخلوق ہے۔ اسی عظیم مخلوق میں ہر وہ جذبہ موجود ہے جو اُس کے لئے زندگی←  مزید پڑھیے

مُطمئن روح۔۔۔عبداللہ خان چنگیزی

  گھر کے ماحول میں ایک عجیب سی طلب چھپی بیٹھی تھی۔ ہر کسی کی نظروں میں اُس کے آنے کی اُمید دیکھی جا سکتی تھی۔ چھوٹے بڑے اور بزرگ سبھی کو اُس کی آمد کا شِدت کے ساتھ انتظار←  مزید پڑھیے

ایک نیا انقلاب۔۔۔عبداللہ خان چنگیزی

  سارے ملک میں جیسے کہرام برپا ہوچکا تھا۔ تبدیلی   سرکار پر طنز و تحقیر میں اپنا الثانی نہ رکھنے والوں کی زبان بھی جیسے گویائی سے محروم ہوگئی تھی۔ ہر طرف ایک وحشت نے ماحول کو اپنی  لپیٹ ←  مزید پڑھیے

گندا ہے پر دھندا ہے ۔۔۔ عبداللہ چنگیزی

افسوس اِس بات کا نہیں ہو رہا کہ تنقید کی وجہ بغض اور کینہ ہے۔ افسوس اِس بات کا ہے کہ کاش بطور ایک پاکستانی متعلقہ حضرات ماضی کے گزرے ہوئے خودساختہ نجات دہندگان پر بھی اِسی طرز کے جملے کس دیتے تاکہ ملک و قوم میں ایک پائیدار ریاست کا ظہور وجود میں آ جاتا۔←  مزید پڑھیے

گھُٹتی سانس۔۔۔عبداللہ خان چنگیزی

غزہ کی ایک رات۔۔۔ پانچ سالہ نجلا اپنے پاپا کے ساتھ کھیل کھیل کر تھک چکی تھی اور اب وہ گہری نیند میں ڈوبی ہوئی تھی۔ اُس کے پاپا نے آج اُس کے لیے بازار سے ایک کھلونہ بندر خریدا←  مزید پڑھیے

فاکہہ، چارٹ بسٹرز اور دو ہزار دس کے چاچے۔۔۔عبداللہ خان چنگیزی

مولا بخشے ہمارے محلے میں ایک “چاچے” کو جن کے جنازے میں ہم شریک نہ ہوسکے۔ نام تو اُس کا سرور خان تھا مگر سب محلے والے اُسے “چاچے” کہہ کر پکارتے تھے۔ کمال کے انسان تھے۔ یوں سمجھیں کہ←  مزید پڑھیے

قلمِ بےنیام کی شمشیری کاٹ۔۔۔عبداللہ خان چنگیزی

کہتے ہیں کہ تب تک پڑھو جب تک آگے پڑھنے کی اُمنگ و آرزو قائم نہ ہو جائے۔ یہ جملہ شاید کسی کسی کو سمجھ میں آتا ہے اور کچھ لوگ اِس کو لکھاری کی کچھ لفظی کاوش سے زیادہ←  مزید پڑھیے

غریب مہ شے (حصۂ اوّل)۔۔۔ عبداللہ چنگیزی

ہمارا تعلق ایک متوسط خاندان سے ہے یا آپ اسے سفید پوش کہہ سکتے ہیں۔ والد صاحب کی ایک ڈاکخانے میں سرکاری نوکر تھے۔ جس کی تنخواہ اتنی تھی کہ ہمارے کنبے جن میں ہم ہمارے تین بھائی ایک بہن والدہ اور چاچی کے ساتھ ہمارا ایک چچا زاد ہے شامل تھے کا گزارہ بڑی مشکل سے ہوتا تھا۔ چچا ہمارے باہر ملک دبئی میں ہوتے تھے مگر ایسے گئے کہ جب بھی پاکستان سے گئے پانچ یا سات سال تک واپس گھر نہیں آتے تھے۔←  مزید پڑھیے

چورنی کی خودکشی۔۔۔عبداللہ خان چنگیزی

وہ اُس کی زندگی کا ایک سیاہ دن تھا۔ جب اُس کے گھر کا ماحول اچانک ماتم کدے میں بدل گیا۔ ایک شخص اُن کے گھر کی گھنٹی بجاتے ہوئے کسی کو پکارتا رہا۔ جب اُس کی ماں دروازے پر←  مزید پڑھیے

بَلے اور شیر کی لڑائی۔۔۔۔۔عبداللہ خان چنگیزی

میرے ان چند الفاظ کی  شاید کسی کے سامنے کوئی اہمیت نہ ہو۔ اور ہوسکتا ہے کہ کوئی اِس کو ایک عام سی تحریر سمجھ کر نظریں پھیر لے، یا اپنی  موبائل اسکرین کو  سکرول کرکے کچھ اور دیکھنے میں←  مزید پڑھیے

لاشیں بیچو لاشیں۔۔۔عبداللہ خان چنگیزی

  ہماری قومی ساخت ہی کچھ ایسی بن چکی ہے کہ جہاں دیکھیں ہم کو ہر دوسرا شخص جھوٹا، دھوکے باز، چور اُچکا، زانی، ڈاکو، ظالم، اور حرام خور نظر آتا ہے۔ جُرم ہوجاتا ہے اور جب خوب دوڑ دھوپ←  مزید پڑھیے

تاریخ پہ تاریخ، تاریخ پہ تاریخ۔۔۔عبداللہ خان چنگیزی

فرشتہ مومند سمیت تمام مَسلی ہوئی کلیوں کے نام۔ کبھی کبھی میں اپنی سوچ و خیال کے محور میں خود کو سنی دیول کے روپ میں محسوس کرتا رہتا ہوں۔ اور اُس کے ڈائیلاگ اور مکالمے منہ ہی منہ  میں←  مزید پڑھیے

نشئی ۔۔۔۔عبداللہ خان چنگیزی

ماجد  ایک بڑے اخبار میں کالم نویس تھا۔ اُس کا اندازِ بیان اِس طرح تھا کہ ہر کوئی اُس کا مداح بنتا جا رہا تھا۔ سیاست ہو یا پھر معاشرت، جرائم پر لکھنا ہو یا کہ ملک میں موجود اُونچ←  مزید پڑھیے

لفظی خیرات و صدقات بذریعہِ آفسانہ و مضامین۔۔۔۔۔عبداللہ خان چنگیزی

  ہم پاکستانی لوگ بھی کافی سمجھدار اور عجیب و غریب خصلت کے مالک ہیں۔ باشعور اتنے کہ وطن عزیز میں جیسے ہی کوئی واقعہ رونما ہوجاتا ہے خواہ وہ اتفاقی ہو یا پھر سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ہم←  مزید پڑھیے

آنکھیں۔ایک انوکھی کتھا۔۔۔۔۔۔عبداللہ خان چنگیزی

گہرے کالے رنگ اور گھنگریلے بالوں والا عاشر گاوں میں وہ واحد نوجوان تھا جِس کی طرف کسی نے نگاہِ اُلفت سے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ یوں تو گاوں میں اور بھی بہت سے لوگ رنگ و صورت سے اتنے←  مزید پڑھیے

مِٹی کے انسان۔۔۔۔عبداللہ خان چنگیزی

پہلا منظر۔ چلتی بس میں خاصا ہجوم تھا سیٹوں پر مرد اور عورتیں جیسے اپنی زندگی کی تھکن اُتار رہے تھے ہر ایک کے چہرے سے گرمی کی شِدت ٹپک رہی تھی کچھ کے تو پسینہ  بہہ بہہ  کر اُن←  مزید پڑھیے