گندا ہے پر دھندا ہے ۔۔۔ عبداللہ چنگیزی

ایک شاعر سے کسی نے پوچھا کہ جناب آپ کی شاعری سُن کے لوگ مار دھاڑ اور قتل و غارت گری کے عادی ہوتے جا رہے ہیں۔ شاعر نے جواب میں کہا کہ محترم میری شاعری میں کوئی برائی نہیں بلکہ برائی معاشرے میں چھپے اُن بیماریوں میں ہے جس کی میں صرف نشاندہی کر رہا ہوں۔ اب لوگ اُن بیماریوں کا علاج اپنے طریقے سے کر رہے ہیں تو میرا اِس میں کیا قصور؟

مثال تھی تو ایک فرضی سی مگر اِس کی کاٹ شاید آج بھی برقرار ہے۔ جہاں نظر گھمائیں ہمیں ہر دوسرا شخص پہلے کو روندھ کر کسی تیسرے کی گردن ناپنے میں لگا ہوا دیکھائی دے رہا ہے۔ ہر کوئی خود سے ناخوش اپنی ذات سے بےخبر دوسروں کی ٹوہ میں دیکھائی دے رہا ہے۔

سیاسی بکھیڑوں کی بات ہی الگ ہے۔ وہ بچے نما مخلوق جِن کو اپنی مستقبل پر توجہ دینی چاہئے وہ اپنے قائد کے خیالی ترجمان بنے بیٹھے ہیں۔ اصلیت اور حقائق کو پسِ پشت ڈال کر مخالف پر ہر وہ انداز استعمال کرنے میں جتھ گئے ہیں جس میں اُسے مخالف کی سبُکی اور بےعزتی دیکھائی دے رہی ہو۔ ملک میں کیا ہو رہا ہے کیا ہونا ہے اور کیا ہوگا اِن تمام اکایوں سے لے کر انجام تک سب سیاہ سفید چشم زدن میں آپ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

ایک اپر کلاس کا بندہ اگر اِن خرافات میں اپنا وقت ضائع کرنے پر تُل جائے تو بات سمجھ آتی ہے کہ باپ دادا نے بہت کچھ کما کر دیا ہوگا۔ جس کے بل بوتے پر جناب مستیاں کرنے اور دوسروں پر طنز و مزاح کرنے کے لئے فارغ ہے۔ مڈل کلاس کا پیرو بھی اپنی ایک پوٹلی سیاسی بحث و مباحثہ کی گھٹڑی میں کہیں چھپا کر اُس گھٹڑی میں چھپے خود لذتی سے محظوظ ہونے کی خوشش کرنا چاہتا ہے۔ بات آتی ہے ایک نچلے درجے کے شہری کی۔ اُس کو دیکھیں تو جناب کے پاس ایسا کوئی مسئلہ ہی نہیں جس کا حل موجود نہ ہو۔ ساری رات انہی سوچوں میں گزارتا ہوگا کہ کل صبح دہاڑی لگانے کہاں جاوں گا مگر جیسے ہی اُس کے سامنے کسی نے سیاست پر بات چھیڑ دی جناب والا پلک جھپکتے ایک فلسفی بن جاتا ہے۔ اور ایسے ایسے دلائل دینے شروع کردیتا ہے جس کے سر اور پیر کا اِس جہاں میں سرا ملنا مشکل ہی نہیں ناممکن نظر آتا ہے۔

کیا وقت آگیا ہے کہ چوروں کی پردہ پوشی کی جا رہی ہے۔ اور ایسے لوگ بھی اُن میں شامل ہیں جو ماضی میں انہی چور اور لٹیروں کو ملک و قوم کے لئے ناسور ثابت کرنے پر جنونی انداز میں اپنا انتخابی مہم چلاتے نہیں تھکتے تھے۔ شرفاءِ وطن نے ملک لوٹا اور قوم کو کشکول تھما کر بھیک مانگنے سڑکوں پر لا پٹکایا مگر وہی لوگ آج پھر گیت بھی انہی کے گاتے ہیں جن کی بدولت گردن میں کشکول جھولا جھول رہی ہے۔

جہاں جاو جس گلی جس نکڑ پر سامنے ہو یہی تکرار سماعت سے گزرتی ہوگی کہ فلاں نے فلاں کے ساتھ فلاں حرکت کرکے خود کو فلاں ثابت کردیا۔ انسانی ضروریات اور معاشی حالات سے نظریں پھرے ہر کوئی اِسی تنقید پر لگا ہوا ہے کہ نئے نئے آنے والوں نے ملک و قوم کو اِس ڈگر پر لاکھڑا کیا ہے کہ جہاں آگے کھائی اور اب پیچھے کنواں ہے۔ آپ بات کرنا چاہو گے اصلاح و تجدید کی مگر آگے سے وہ آپ کو یہی طعنے دینے آجائیں گے کہ چونکہ تبدیلی کا نعرہ لگانے والوں نے ہی اب سب کچھ کرنا ہے۔ اِس لئے جو بھی ہے ہم نہیں جانتے اور نہ جاننا چاہتے ہیں۔ بس اگر اُن کو کچھ چاہئے ہوتا ہے تو وہ صرف یہی کہ ملک کے حالات کو کسی جادو کی چھڑی سے سنوارا جائے اور از سرِ نو چشمِ زدن میں سب کچھ ایک ہائی کلاس سوسائٹی میں تبدیل کردیا جائے۔

افسوس اِس بات کا نہیں ہو رہا کہ تنقید کی وجہ بغض اور کینہ ہے۔ افسوس اِس بات کا ہے کہ کاش بطور ایک پاکستانی متعلقہ حضرات ماضی کے گزرے ہوئے خودساختہ نجات دہندگان پر بھی اِسی طرز کے جملے کس دیتے تاکہ ملک و قوم میں ایک پائیدار ریاست کا ظہور وجود میں آ جاتا۔

عبداللہ خان چنگیزی
عبداللہ خان چنگیزی
منتظر ہیں ہم صور کے، کہ جہاں کے پجاری عیاں ہوں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *