موت اور عشق۔۔۔۔۔اجمل صدیقی

آپ نے محاورے سُنے ہوں گے۔۔

“میں اس پر مرتا ہوں ”
“وہ مجھے دیکھ کر مر مٹی ”
“تیری بے ایمان آنکھوں نے میرا خون کردیا ”

یہ جملے سیکس اور موت کے لاشعوری تعلق کا اظہار ہیں

فرائڈ نے اپنے آخری دور میں death urgeاور Eros شہوت کے تعلق پر بہت لکھا ہے۔

Eros and thanatosحیاتیات میں semelparityایک اصطلاح ہے جس کا مطلب ہےSuicidal reproduction

جس میں جفتی mating کے لیے کوئی species اتنی انرجی جمع کرکے صَرف کرتی ہیں کہ ان میں مذکرMatingکے فوری بعد مرجاتا ہے۔ اورPraying mantis Spiderمیں توMating جفتی کے دوران فی میل اپنے میل پارٹنر کا سر کا ٹ کے کھا جاتی ہے لیکن سر کٹی باڈی کےساتھ ہی mating جاری رکھتی ہے ۔

فرائیڈ نے کہا ہے جنسی لذت لاشعوری طور پر موت سے فرار ہے اور موت کی آرزو بھی کیوں کہ اس عمل میں جبلت فرد کو یہ دھوکہ دیتی ہے کہ وہ اپنی نسل کو جاری رکھنے یعنی خود کو جاری رکھنے کا بنیادی فریضہ ادا کر چکا ہے ۔وہ اپنا حیاتیاتی مقصد پورا کرچکا ہے۔۔ لیکن یہ اس کے خاتمے کا اعلان بھی ہے۔یہ تکمیل اور ابدیت سے ہم آہنگی کا احساس حیات آفریں ہوتا ہے اور حیات کش بھی ۔
دوسرے لفظوں in losing we find ourselves!

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *