چورنی کی خودکشی۔۔۔عبداللہ خان چنگیزی

وہ اُس کی زندگی کا ایک سیاہ دن تھا۔ جب اُس کے گھر کا ماحول اچانک ماتم کدے میں بدل گیا۔ ایک شخص اُن کے گھر کی گھنٹی بجاتے ہوئے کسی کو پکارتا رہا۔ جب اُس کی ماں دروازے پر موجود شخص کے پاس چلی گئی تو یہ سُن کر سکتے میں آگئی کہ اُس کے سہاگ کو ایک ٹرک والے نے کچل کر ہسپتال پہنچا دیا۔ ماں کی ہذیانی آواز سن کر وہ بھی دوڑتی ہوئی باہر آئی اور حالت سے باخبر ہوتے ہی اُس کی سانسیں جیسے تھم گئی۔ جلدی سے وہ سفید چادر نکال لی اور اوڑھتی ہوئی اماں کے ساتھ گھر سے باہر کو لپکی۔ گلی سے نکلتے ہی ایک رکشے والے کو دونوں ہاتھوں سے رکنے کے اشارے کرتی ہوئی قریباً تیزی سے آتی ہوئی رکشے میں دونوں سوار ہوئیں  اور مطلوبہ ہسپتال کا نام بتا کر اسے جلدی جانے کا کہا۔

ہسپتال پہنچتے ہی وہ دونوں ماں بیٹی نے عملے کے ایک شخص سے جو شاید ایمرجنسی میں ہی تھا ایک شخص جو حادثے کا شکار ہوا تھا کے لائے جانے کا پوچھا تو اُس نے ایک طرف اشارہ کردیا۔ دونوں تیزی کے ساتھ چلتی ہوئی وہاں پہنچی تو دیکھا کہ اُن کے دنیا میں واحد سہارہ ایک سٹریچر پر پڑا ہوا تھا۔ جس کے سر پر پٹی بندھی ہوئی تھی۔ قریب ہی ایک پولیس والا اور دو ڈاکٹر سفید کوٹ پہنے کھڑے تھے۔ ایک نے اپنے شوہر اور دوسرے نے اپنے ابا کا یہ حال دیکھ کر بلند آواز میں رونا اور چیخنا شروع کردیا۔ ساتھ کھڑے پولیس والا دونوں کو تسلیاں دیتا رہا۔ ہسپتال سے رپورٹ ملی اور پولیس نے کیس بنا کر اپنا فرض پورا کیا دستخط لئے اور لاش کو پوسٹ مارٹم کے لئے بھجوا دیا۔

آج ایک کے شوہر اور دوسری کے ابا کا چالیسواں  پورا ہوچکا تھا۔ گھر میں جو کچھ تھا وہ شاید کچھ دن اور چل جاتا پھر نوبت فاقوں تک پہنچتی۔ اُس نے اپنی ماں کو مخاطب کرکے کہا۔

“ماں اب کیا ہوگا؟”

“کچھ نہیں بیٹا پڑوس کی خالہ بلقیس سے بات کی ہے شاید کسی گھر میں کام مل جائے” ماں نے جواب دیا۔

یوں دو دن بعد خالہ بلقیس نے ایک بنگلے میں اُس کی ماں کے لئے کام کا بندوبست کردیا۔ خالہ بلقیس بھی اُسی کالونی میں ایک بنگلے میں برسوں سے کام کرتی رہی تھی۔ اور سیٹھ لوگ کافی اچھے تھے۔ خالہ بلقیس کا بہت خیال رکھتے تھے۔ ہر عید پر سب کے لئے کپڑے اور دوسرا سامان دے جاتے۔ اُس کی ماں صبح سویرے خالہ بلقیس کے ساتھ جاتی اور رات کے کوئی دس بجے واپسی ہوتی۔ اتوار کے دن چھٹی رہتی یوں دونوں ماں بیٹی اُس دن مل کر خوب روتیں  اور ایک دوسرے کے غم میں سہارہ بن جاتیں ۔ ایک دن جب اُس کی ماں رات کو واپس آئی تو اُس کی طبیعت کچھ ٹھیک نہ  تھی۔ شدید بخار اور سر میں درد تھا۔ گھر میں موجود  سر درد کی گولی اس نے ماں کو دی   اور اُس کے ماتھے پر ٹھنڈے پانی میں کپڑا بھگو بھگو  کر  رکھنے لگی۔ مگر شاید بخار زیادہ تھا۔ گولیوں نے بھی کوئی خاص اثر نہیں دکھایا۔ پوری رات یونہی گزری صبح کے قریب اس کی ماں نے   سکھ کا سانس لیا۔ اُس نے آج کام پر  بھی جانا   تھا ورنہ بنگلے والی مالکن ناراض ہو جاتی اور عین ممکن تھا کہ اسے کام سے نکلوا دیتی۔ اُس نے کام  پر جانے کا کہا مگر اُس نے اپنی ماں کو منع کیا اور اُس کی جگہ وہ جانے کا کہنے لگی۔ ماں نے منع کرنا چاہا مگر وہ شاید اِس لئے بھی منع نہ کرسکی کہ اسے اپنی نوکری کھو جانے کا صدمہ بھی تھا۔ آخر اُس نے اجازت دی اور خالہ بلقیس کے ساتھ اسے بھیج دیا۔

خالہ بلقیس رکشے سے اُتر کر اسے لیتی ہوئی سامنے بنگلے کے دروازے پر رکی اور چوکیداد کو اُس کی ماں کی بیماری کا کہتی ہوئی اسے ساتھ لیکر اندر داخل ہوئی۔ مالکن شاید ابھی   جاگی   تھی۔ وہ خالہ بلقیس کے ساتھ ایک اجنبی لڑکی کو آتا  دیکھ کر اس کے بارے میں اندازے لگانے لگی۔

“سلام بیگم صاحبہ”

“وعلیکم سلام یہ کون ہے بلقیس؟” بیگم صاحبہ نے پوچھا۔

” جی یہ اُس عورت کی بیٹی ہے جو آپ کے یہاں کام کرتی ہے۔ آج اُس کی طبیعت خراب تھی بہت تو اپنی بیٹی کو بھیج دیا کام کرنے” خالہ بلقیس نے جواب دیا۔

“اوہ اچھا ٹھیک ہے ویسے کام سے ہی مطلب ہے کوئی بھی ہو” بیگم صاحبہ نے کہا۔

“بیگم صاحبہ میں چلتی ہوں آپ اسے کام بتائیں میں واپسی میں آکر ساتھ لیتی جاوں گی” خالہ بلقیس نے کہا اور رخصت لیتی ہوئی واپس مڑی۔

“کام سمجھایا نہیں تمھاری ماں نے” بیگم صاحبہ نے اُس سے پوچھا۔

“جی کچھ سمجھایا ہے باقی جو کچھ کرنا ہو آپ بتائیں” اُس نے دھیرے اور کسی قدر دبی زبان میں بیگم صاحبہ کو جواب دیا۔

بیگم صاحبہ نے اُسے کچھ کام کا بتایا اور لیجا  کر کچن دکھا دیا۔ وہاں آکر اُس نے سب سے پہلے گندے برتن دھوئے اور اُس کے بعد گھر کی صفائی کرنے لگی۔ صفائی سے فارغ ہوکر وہ دوبارہ کچن میں گئی اور ناشتہ بنانے میں مصروف ہوگئی۔ قریباً دن کے گیارہ بجے بنگلے کے افراد جاگ اٹھے اور اُس نے ڈائنگ ٹیبل پر سب کے لئے ناشتہ لگا دیا۔ بیگم صاحبہ کے شوہر نے اُس کی طرف دیکھا اور اُس کی ماں کی طبیعت پوچھی۔ اُس نے صاحب کو ماں کے بارے میں بتایا اور کوئی چیز لینے کچن کی طرف مڑ کر جانے لگی۔ صاحب کی نظریں  اس کی پشت پر جم کر رہ گئیں ۔

سارا دن یہاں سے وہاں ہوتی رہی اور سب کام بہت خوش اسلوبی سے انجام دیتی ہوئی واپسی کا انتظار کرنے لگی۔ خالہ بلقیس نے نو بجے کے قریب آنے کا کہا تھا۔ آج صاحب نے اُسے دو بار اپنے کمرے میں بلوایا تھا۔ ایک بار چائے کی طلب   تھی اور ایک بار کمرے کی صفائی کرنے کے لئے۔ رات کے کوئی نو بج کر دس منٹ پر خالہ بلقیس آئی  ۔ گھر پہنچ کر وہ تیزی سے گھر میں داخل ہوئی اور چارپائی پر بیٹھتے ہوئے ماں کو پکارنے لگی۔ ماں کو دیکھ کر اسے کچھ اطمنان ہوا جس کی طبیعت اب خاصی بہتر ہو چکی تھی۔ دونوں نے ایک دوسرے کو آج گزرے دن کے واقعات سنائے اور ماں اُس سے بنگلے میں کام کرنے کا پوچھنی لگی۔ اُس نے بتایا کہ سب کام بہت اچھا کیا اور بیگم صاحبہ نے کوئی شکایت نہیں کی۔ ماں نے اُس کا ماتھا چوما اور سو جانے کا کہا۔ کل کام پر اُس کی ماں نے جانا تھا اِس لئے دونوں جلدی سو گئیں۔

“نوراں اچھا ہوگا کہ تم اپنی بیٹی کو بھی لےکر آیا کرو کام میں ہاتھ بٹھایا کرے گی” صاحب نے دوسری صبح چائے پیتے ہوئے کہا۔

“صاحب جی اتنا ہی کافی ہے ہمارے لئے ہم دونوں ہی تو ہیں گھر میں زیادہ کھانے والے تو ہیں نہیں کہ زیادہ کمائیں” نوراں نے صاحب جی سے کہا۔

“کوئی بات نہیں بچی گھر رہ کر پریشان ہوتی رہے گی اچھا ہے یہاں کام کرے کچھ نہ کچھ تو ملے گا” اُس نے پھر کہا۔

نوراں اِس بار کچھ نہ کہہ سکی سوائے “ٹھیک ہے صاحب جی” کے۔ ایک تو اُس گھر میں کام نہیں تھا دوسرا اُس نے سوچا کہ اگر دونوں کام کریں گی تو ایک کی تنخواہ کی تو بچت ہوگی جو اُس کی بیٹی کی شادی میں کام آئے گی ۔ اُس دن واپسی پر نوراں نے اپنی بیٹی کو صاحب جی کا حکم سنایا اور ساتھ ہی بچت والی بات بھی بتائی۔ اُس نے بھی سوچا کہ دن بھر یونہی گھر میں اکیلے رہ کر وہ بھی بور ہوجاتی ہے اچھا ہے کہ دو پیسے ہی ملیں ۔ وہ راضی ہوگئی اور دوسری صبح ماں کے ساتھ خالہ بلقیس کے ساتھ وہ بھی رکشے میں بیٹھی بنگلے میں کام کرنے کے ارادے سے چل پڑی۔

اُس دن کے بعد صاحب جی کے سب کام جیسے اُس کے سپرد ہوگئے۔ وہ نوراں کو کسی کام کا کہتا ہی نہیں تھا۔ چائے، کافی، سگریٹ کی  ایش ٹرے کی صفائی، کمرے میں بے ترتیبی سے بکھرے ہوئے رسائل اور اُس کے بکھرے ہوئے کپڑے وغیرہ سب کی دیکھ بھال وہ کرنے لگی۔ صاحب جی دن میں جب کام سے آجاتے تو اسے ہی بلوا کر چائے کی فرمائش کرتے۔ وہ بھی پوری جانفشانی سے کام نپٹاتی اور مالک اور مالکن کو شکایت کا کوئی موقع نہیں دیتی۔

ایک دن وہ فرش کو کپڑے سے صاف کرتی رہی اور بے دھانی میں اُس کے سر سے دوپٹہ سرک کر نیچے فرش پر جاپڑا۔ ا  س کا دھیان ہی نہ گیا کہ  صاحب جی اُس کے سامنے کھڑے اُسے دیکھ رہے تھے ۔ ۔ جیسے ہی اُس کی نظر اٹھی اُس نے بجلی کی سی تیزی سے دوپٹہ اٹھایا اور اوڑھتے ہوئے صاحب کو سلام کیا۔ صاحب نے مسکرا کر جواب دیا اور ایک کپ چائے لانے کا کہتے ہوئے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئے۔ وہ چائے تیار کرکے صاحب کے کمرے میں جانے لگی۔ دروازہ کھول کر وہ داخل ہوئی اور صوفے پر بیٹھے صاحب کو کپ پیش کردیا۔ صاحب نے چائے   کا کپ لیتے ہوئے  اُس  کی ہاتھ کی کلائی کو اپنی ہتھیلی سے رگڑتے ہوئے کپ لیا اور اُس کی جانب مسکراتے دیکھنے لگا۔ وہ کچھ پریشان ہوئی اور تیزی سے باہر نکلنے لگی۔

اُس دن جب وہ واپس گھر آئی  تو پوری رات اسے نیند نہیں آئی۔ آج دن کے واقعے نے اُس کے دل و دماغ میں بہت اندیشے اُٹھا دیئے تھے۔ مگر وہ سوچتی رہی کہ شاید صاحب جی کا ہاتھ غلطی سے اُس کے ہاتھ سے لگ گیا تھا۔ اسی بنیاد پر وہ کچھ مطمئن ہوئی اور سو گئی۔ دوسری صبح وہ اپنی ماں اور خالہ بلقیس کے ساتھ کام پر جاتی ہوئی بھی رکشے میں یہی سوچتی رہی۔ بنگلے پر پہنچ کر وہ ماں بیٹی اپنے کام میں لگ گئیں اور وہ کل والے واقعے کو بھول گئی۔ چار بجے کے قریب بیگم صاحبہ نے نوراں کو تیار ہونے کا کہا۔ وہ اسے اپنے ساتھ ایک شاپنگ سنٹر لے جانا چاہتی تھیں ۔ کچھ خریداری کرنی تھی۔ نوراں تیار ہوئی اور بیٹی کو باقی ماندہ کام سونپ کر بیگم صاحبہ کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گئی۔

وہ کچن میں گھس گئی اور شام کے کھانے کا بندوبست کرنے لگی۔ اِسی دوران صاحب کی گاڑی آنے کی آواز سنائی دی۔ اور اُس نے کچن سے باہر آ کر دیکھا کہ صاحب گاڑی سے اترتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف جانے لگے تھے۔ کچھ دیر بعد اُسے صاحب کی آواز سنائی دی جو اسے پکار رہا تھا۔ وہ دوڑتی ہوئی صاحب کے کمرے میں آگئی۔

“بیگم صاحبہ کہاں ہیں؟” صاحب نے اُس سے پوچھا۔

“جی وہ کچھ خریدنے گئی ہیں اماں بھی ساتھ ہیں” اُس نے جواب دیا۔

“اچھا ایسا کرو ایک کپ کافی بنا کر لاو”

“جی اچھا” وہ کہتی ہوئی باہر نکلی۔

کافی کا کپ ہاتھ میں پکڑے وہ صاحب کے کمرے میں داخل ہوئی۔ اُس نے دیکھا کہ کمرہ خالی تھا اور واش روم سے پانی گرنے کی آواز آ رہی تھی۔ وہ آگے بڑھی اور کافی کا کپ ایک میز پر رکھتی ہوئی واپس مڑی۔ مگر عین اِسی وقت اُس نے دیکھا کہ صاحب جی نے کمرے کا دروازہ بند کرتے ہوئے اُس کی کنڈی چڑھا دی۔ وہ خوفزدہ سی آواز میں صاحب جی کو دروازہ کھولنے کا کہنے لگی مگر  صاحب جی کے جسم میں ابلیس نے انگڑائی لے لی تھی۔ صاحب جی قریب آئے اور اُس پر جھپٹ پڑے۔ اُس نے بہت کوشش کی کہ وہ اِس صاحب جی نامی درندے سے خود کو چھڑوائے مگر اُس کے  لحیم شحیم بدن کے سامنے وہ ایک بےبس چڑیا دکھائی دے رہی تھی. وہ چیختی رہی مگر اُس کے صاحب جی میں شیطانی درندہ پوری قوت کے ساتھ بیدار ہوچکا تھا۔ اُس درندے نے اِس کے بدن کو نوچ نوچ کر کھایا اور اُس کی دوشیزگی کو پامال کرتا رہا۔ وہ بہت روئی گڑگڑائی خدا کا واسطہ دیتی رہی۔ مگر اُس حیوان کی حیوانیت میں کمی نہ آئی۔ آخر کار وہ جیت چکا اور اُس نے پسینے میں شرابور اپنے غلیظ بدن کی حاکمیت اُس کے جسم سے ختم کردی اور ایک طرف کھڑا ہوکر اُس سے کہنے لگا۔

“مجھے معاف کردو جو کچھ ہوا وہ نہیں ہونا چاہیے تھا مگر تمھاری جوانی نے مجھے انسان سے حیوان بنا دیا۔ خبردار اگر کسی کو خبر کی یا اپنی ماں کو بتایا ورنہ پولیس کو بتا کر چوری کے الزام میں اندر کروا دوں گا اور ساری عمر تم ماں بیٹی سڑتی رہو گی جیل میں۔”

وہ روتی ہوئی اُٹھی اور کپڑے درست کرتی ہوئی لڑکھڑاتے قدموں سے دروازہ کھول کر باہر جانے لگی۔   بنگلے سے باہر آئی چوکیدار نے اسے آوازیں دیں  مگر وہ سنی ان سنی کرتی چلتے چلتے سڑک پر آگئی۔ شام کے قریب وہ اِس پرشور سڑک پر بےجان انداز میں چلتی رہی اور کچھ دیر بعد سامنے سے آتی ہوئی تیز رفتار ٹرک کو دیکھنے لگی۔ اُس کے  بےجان جسم نے زمین کا وہ حصہ چھوڑا اور عین سڑک پر ٹرک کے سامنے کھڑی ہوکر مسکراتی ہوئی آسمان کی جانب دیکھنے لگی۔ ٹرک والے نے شاید زور کے بریک لگائے تھے جن کی چرچراہٹ دور دور تک سنائی دی مگر اُس نے دیکھا کہ ننگے سر کوئی نسوانی وجود ٹرک کی  ٹکر سے اُڑتی ہوئی دور جاگری تھی۔

دوسرے دن اخبار کی سرخیوں میں ایک سرخی کا اضافہ دیکھنے میں آیا۔

“ڈیفنس کے ایک بنگلے میں کام کرتی   خادمہ کا بنگلے میں چوری کرنے کے بعد وہاں سے بھاگتے  ہوئے  ٹرک  سے  ٹکر اور عین موقع پر موت۔ جوان چور بیٹی کی موت کی خبر سن کر بوڑھی ماں کی  گھر میں پنکھے کے ساتھ لٹک کر خودکشی”۔

عبداللہ خان چنگیزی
عبداللہ خان چنگیزی
ایک کمزور سا انسان، جو تلاشِ معاش کے دوران حادثاتی طور پر لکھنے لگا جو محسوس ہوا لفظوں کے حوالے کر دیا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *