مُطمئن روح۔۔۔عبداللہ خان چنگیزی

 

گھر کے ماحول میں ایک عجیب سی طلب چھپی بیٹھی تھی۔ ہر کسی کی نظروں میں اُس کے آنے کی اُمید دیکھی جا سکتی تھی۔ چھوٹے بڑے اور بزرگ سبھی کو اُس کی آمد کا شِدت کے ساتھ انتظار رہتا تھا۔ یوں لگ رہا تھا جیسے اُس کے آنے سے گھر والوں کے انتظار کو پَر لگنے والے ہوں اور وہ کہیں دور ویرانوں میں روپوش ہو جائے گا۔ ہر گزرتا دن اُس کے ملن کی خوشیوں میں کچھ اضافہ کردیتا اور گھر میں چہ مگوئیاں ہوتی رہتیں۔ بچوں سے تو اب اُس کی آمد کا انتظار برداشت نہیں ہوتا تھا۔ وہ روز گھر میں اُس کے بارے میں ہر دم ہر کسی سے ہر طرح کے سولات پوچھتے نہیں تھکتے تھے۔ مگر اُن کو ٹال دیا جاتا اور کوئی مثبت قابلِ خوشی نوید اُن کے کانوں میں داخل نہ ہوتی۔

آخر کار وہ تاریخی دن آ ن پہنچا۔ شام کے ملگجھے سائے اُبھرنے کو تھے کہ گھر میں ایک عجیب سی لہر دوڑ گئی۔ ہر کوئی اُس کے انتظار میں گھر کے دروازے تک آ چکاتھا،دھڑکنیں تیز ،سانسوں کی آوازیں ایسی سنائی دے رہی تھیں  جیسے  بے شمارا ژدھےویران غار میں شکار ڈکارنے کے بعد پُھنکار رہے ہوں۔

گھر کے باہر گاڑی رُکنے کی آواز آئی اور کچھ لمحوں بعد گھر کا بڑا دروازہ کھولنے بہت سے بڑے بوڑھے آگے بڑھے۔ دروازہ کھل چکا تھا۔ گاڑی اندر داخل ہوئی اور اُن کے درمیان چلتی ہوئی کچھ دوری پر رک گئی۔ سب کی نگاہیں بیک وقت گاڑی کی اُس جگہ پر ٹھہری ہوئی تھیں جہاں سے اُس نے اترنا تھا۔ آخر کار انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں اور اُس کے دیدار کا وقت آن پہنچا۔ اب کی بار اُس کی خوبصورتی میں کچھ اضافہ دیکھنے کو مل رہا تھا۔

خوبصورت کالی آنکھیں جن پر لمبی لمبی پلکوں نے خُمار سا طاری کر رکھا تھا۔ چہرے کے دائیں اور بائیں گال پر گوشت کی تہہ اِس طرح چڑھی ہوئی تھی کہ گمان ہوتا تھا جیسے کابلی سیب اپنے جوبن پر دیدار کرانے آیا ہو۔ سر کے بال بھی   ایسے تھے جیسے کسی یونانی سنگ تراش نے ایک ایک بال کو صدی لگا کر تراشا ہو۔ مانگ نکلتی ہوئی زَلفوں کی تاثیر ایسی کہ ہر کوئی گرویدہ ہوجائے۔ اُس کی جسم کی تراش ایسی ہو چکی تھی جیسے کوئی الہڑ جوانی مست شباب میں مدہوش کسی پہاڑی ندی کی طرح بل کھاتی جا رہی ہو۔ پاؤں کی دھمک اور جوتوں کی کٹک کٹک ایسی جیسے کسی  دربار میں مقابلہِ حُسن کے لئے کوئی پُرشباب جوانی ناز و ادا سے قدم رنجہ ہو رہی ہو۔

سب اِسی طرح اُس کی شخصیت میں گم کسی حیرت کدے میں گم تھے  کہ اچانک اُس کے چہرے پر کچھ شکنیں ظاہر ہو ئیں۔ سب نے محسوس کیا کہ یوں اُن کا اُسے یک ٹک دیکھنا اب اُسے اپنی توہین محسوس ہو رہی ہے تو سب آناً  فاناً یہاں وہاں ہو گئے۔ کوئی کچن میں جابسا اور دعوت کی تیاریوں میں مصروف ہوگیا۔ کسی نے ٹھنڈے پانی کے کٹورے پیش کرنے میں خود کو مصروف کردیا۔ ہاں کچھ بزرگ اسے عزت و احترام سے ایک جگہ لے کر آئے جو شاید اُس کے آرام کے لئے مختص کی گئی تھی۔ اپنی نشت گاہ تک پہنچتے ہی وہ کسی کمسن دوشیرہ کی طرح نشت پر براجمان ہوئی اور اپنے آس پاس کے ماحول پر نظریں دوڑانے لگی۔

طعام کا بندوبست ہوچکا تھا۔ اُس کے سامنے طرح طرح کی اشیائے خوردونوش پیش کی  گئی۔ وہ چُن چُن کر اُن میں سے اپنی پسند کی چیزیں  کھاتی رہی اور اِس دوران اُن کی طرف بھی دیکھتی رہی۔ جب اسے لگا کہ وہ کافی کھا چکی تو شانِ بےنیازی  کےساتھ ایک کروٹ بیٹھ گئی۔ اُس کے سامنے سے سامان خوردونوش اٹھایا گیا اور پینے واسطے صندل ملا پانی رکھا گیا۔

رات کافی ہو چکی تھی۔ لہذا سب کو اُس کے آرام کا خیال ستانے لگا تھا۔ اُس کے کمرے کا ماحول اِس انداز سے بنایا گیا تھا کہ موسمی شدت کا اندازہ نہیں ہوتا تھا۔ لہذا سب لوگ باری باری اُس کے کمرے میں جاتے گئے اور انہیں مطمئن پا کر اپنے کمروں میں سونے کے لئے چل پڑے۔ وہ بھی جب خود پر نیند  کو طاری   ہوتا محسوس کرنے لگی تو ایک انگڑائی لی اور سکون کی وادیوں میں کہیں کھو گئی۔

آج اُس کا آخری دن تھا۔ سب گھر والے آج خصوصی طور پر اُس کے آس پاس گھوم رہے تھے۔ وہ بچوں کے ساتھ بہت اچھا محسوس کر رہی تھی۔ یہی بچے تو تھے جن کی جدائی نے اُسے اِس موڑ تک پہنچا دیا تھا۔ سامنے کھیلتے دو بچوں کو دیکھتے دیکھتے اُس کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور وہ ضبط کی کوششوں میں مصروف رہی۔ اُس کے سامنے خشک میوہ جات پیش کیے گئے۔ اور ساتھ ہی تازہ فروٹ سلاد وافر مقدار میں سامنے دھری تھی۔ وہ اِس گھر کو اور گھر میں رہنے والوں کو جاتے جاتے بہت یاد کرے گی۔ یہی باتیں سوچتے سوچتے وہ دن بھی گزر گیا۔ آج آخری رات تھی کل اسے جانا تھا۔ اُن سب کی محبت اِس قدر زیادہ تھی کہ جانے کو اُس کا دل نہیں چاہ رہا تھا۔ مگر اسے تو جانا تھا پچھلے سال کی طرح۔ وہ مجبور تھی۔ یہی اُس کی تقدیر تھی اور وہ جانتی تھی کہ اُس کی تقدیر میں ہی اُس کی بھلائی ہے۔

آخر کار وہ رات بیت گئی۔ صبح ہی صبح گھر والوں کے چہروں پر آج افسردگی کی بجائے مُسرت تھی۔ ہاں چھوٹے بچے اُس کو نم ناک آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔ اُس کو اُٹھانے کے لئے کچھ لوگ کمرے میں آئے اور وہ کھڑی ہوگئی۔ باہر جانے کا وقت آچکا تھا۔ وہ کمرے سے باہر نکلی اور سامنے صحن میں اُسے وہ سب کچھ دکھائی دیا جو اُس نے سوچا تھا۔ اُس نے ایک نظر گھر پر ڈالی اور گھر والوں کو بھی دیکھا جو شوق سے اِس منظر کو دیکھ رہے تھے۔ کچھ ہی دیر باقی تھی شاید۔ اُس نے سامنے اُچھلتے کودتے بچوں کو دیکھا اور اُن کی طرف شکر گزار نگاہوں کے ساتھ شکریہ ادا کیا۔ تبھی اُس کے کانوں نے یہ آواز سنی۔

“او بھائی جلدی لے کر آؤاِس بکری کو۔ میں نے کسی اور جگہ بھی جانا ہے جانور ذبح کرنے عید الاضحی کا دن ہے وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے”

جب اُس نے یہ آواز سنی تو خود چلتی کوئی اپنے آپ کو کسی مطمئن روح کی طرح قصائی کے حوالے کر دیا کیونکہ وہ جانتی تھی کہ اسے جانا کہاں تھا۔

عبداللہ خان چنگیزی
عبداللہ خان چنگیزی
ایک کمزور سا انسان، جو تلاشِ معاش کے دوران حادثاتی طور پر لکھنے لگا جو محسوس ہوا لفظوں کے حوالے کر دیا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *