اونچی سوسائٹی اور افطار پارٹی

ماں جی کا کتنا شوق تھا کہ ان کا بیٹا” پڑھ لخ” کر کش بن جائے، اچی سوسائٹی میں بیھن کھلون ہو۔بہت قائل کرتیں، کتنی دعائیں مانگیں ۔۔جانے کونسی قبولیت کی گھڑی کا آخری سرا تھا ۔آدھی دعا قبول ہوگئی۔کہ ہم پڑھ لخ بھی گئے اور کش نہ کش بن بھی گئے ۔پر یہ کمبخت اچی سوسائٹی ۔۔۔۔۔یہ ہم سے ہمیشہ کوئی چھ انچ اونچی ہی رہی۔ مقدور بھر کاوش کے بعد بھی ہماری اچی سوسائٹی میں داخلے والی دال نہ گلی تو ہم نے عین دیسی فارمولا اپناتے ہوئے اس کی خرابیاں ڈھونڈنا شروع کردیں ۔
دیکھو بھائی جو گھڑی وقت دیکھنے کے لئے پہنی جائے تو عوام اور یہی گھڑی اگر اپنی”اوقات “دکھانے کے لئے پہنی جائے تو اشرافیہ ۔کپڑے اگر اس لئے پہنیں کہ کوئی “ہمیں” دیکھ نہ لے تو عام آدمی، اور اگر کپڑے ایسے پہنے کہ کوئی تو ہمیں دیکھے تو اونچی سوسائٹی ۔عینک اس لیے لگائے کہ اسے نظر آئے تو عام، اور اگر اس لئے لگائے کہ عینک نظر آئے تو خاص۔ فیس بُک کی کیفیت ایسے ہو، “علامہ اقبال انٹرنیشنل ائیر پورٹ لاہور سے دوبئی روانگی” تو عام آدمی، اگر ایسا ہو”وی آئی پی لاؤنج علامہ اقبال انٹرنیشنل ائیر پورٹ لاہور سے دوبئی روانگی بذریعہ ایمریٹس بزنس کلاس”تو اشرافیہ ۔ بند بجلی میں موم بتی جلا کر دس روپے کی کھجوروں، بیس کے پکوڑوں اور روح افزا کے گلاس کے ساتھ افطاری کرے تو عوام اور اگر اپنی مرضی سے بتی بجا کر اور موم بتی جلا کر وہی کھجوریں، پکوڑے اور روح افزا دوہزار سات سو میں لیکر افطاری کرے تو اشرافیہ ۔۔۔۔وعلی ھذالقیاس ۔
ادھر ہم اونچی سوسائٹی کی “خوبیوں “کی تلاش میں لگے تھے اور ادھر ہمارے کچھ ہم جماعت “جیک”لگا کر اس میں داخل ہو گئے۔بس پھر کیا تھا لگنے لگے ہمیں زہر۔پر جناب دنیا داری بھی کوئی چیز ہے ۔مجال ہے جو ان کو کانوں کان خبر ہونے دی ہو کہ وہ ہمیں کیا لگتے ہیں،یا میل ملاپ میں کوئی فرق آیا ہو۔ان میں سے ایک صاحب ہیں بلند اختر خان۔ اللہ کریم نے بہت نوازا ہے ۔اسم بمسمیٰ ہیں۔ جتنے رئیس ہیں اس سے دیڑھ گناہ جلالی ۔بات بے بات فشارِ خون بینک بیلنس کے برابر ہوجاتا ہے ۔اور بعض اوقات اس سے متجاوز ۔ہم سے خصوصی شفقت فرماتے ہیں ۔ہر نئی کامیابی اور نئی واردات کا گواہ بنانا فرضِ اولین سمجھتے ہیں ۔کہ تماشائیوں کے بغیر تماشہ کس کام کا۔۔گاہے مختلف دعوتوں میں “طلب”کرتے رہتے ہیں ۔
چند روز ہوئے کہ ہمارے فون کی گھنٹی بجی۔ دیکھا تو” بلند اختر خان “آنکھیں اچھی طرح مل کر دوبارہ دیکھا. نتیجہ وہی. لرزتے ہاتھوں سے کال ملائی۔ہیلو سن کر کپکپاتے ہونٹوں سے سلام عرض کیا. کمال شفقت سے افطاری کی دعوت دی گئی. عرض کیا کہ جناب کوئی استثنا کی صورت، فرمایا ہرگز نہیں عرض کیا ہر گز اعراض نہ ہوگا, ضرور حاضر ہوجاؤں گا. حقیقت یہ ہے کہ میں ہچکچا رہا تھا۔اول تو یہ کہ نصف درجن سے زائد پر تعیش دعوتیں پہلے ہی اڑا چکا ہوں اور جواباً چائے رس بھی ابھی تک نہیں کھلائے ان کو خلافِ قرینہ بات ہے۔ اور دوسرے عام طور پر ایسی افطار دعوتوں سے لوٹنے میں نا چاہتے ہوئے بھی دیر ہو جاتی ہے۔ اور نمازِ عشاء باجماعت رہ جاتی ہے۔
محلِ وقوعہ کی بابت دریافت کیا تو جواب ملا “گیریژن کلب”عرض کیا حضور غریب محنت کش ہوں نا آشنا ہوں امرا کے ایسے ٹھکانوں سے. بھئ سچی بات تو یہ ہے کہ ہم جیسے اردو میڈیم ایسی جگہوں پر دو ہی صورتوں میں جاتے ہیں۔ کہ جب کوئی خان صاحب جیسا صاحبِ ثروت مدعو کرے یا پھر ان کی کوئی ٹوٹی ووٹی خراب ہو اور وہ طلب کریں کہ”پاانجینئر”; ذرا آنا ٹونٹی کو دیکھنا.
بہرحال جی حکمِ حاکم تھا ۔نہ پائے رفتن نہ جائے ماندن۔اب مرحلہ تھا خود کو اچی سوسائٹی کی افطاری کے قابل بنانے کا ۔سو بعد از دوپہر ہی تیاری شروع کردی. سب سے پہلی دھیان سواری کی طرف گیا۔ جی میں آئی کہ کسی رئیس شناسا سے نئی گاڑی مستعار لے لوں کہ اپنی ٹھہری “ٹوٹی کرولا”. مبادا رؤساوامرا ٹھٹھہ کریں کہ کیسی گاڑی رکھی ہوئی ہے۔ پھر خیال آیا کہ جتنی خفت اس رئیس کو مائل بہ مستعار کرنے میں اٹھانی پڑے گی۔ اس سے نصف میں شاید یہاں جان چھوٹ جائے، سو اس کو دھو چمکا کر تیار کرلے اورہاں , وہاں گاڑی کھڑی وقت تھوڑاسا عقل سے کام لیتے ہوئے دور افتادہ جگہ کا انتخاب کرنا تاکہ حتی المقدور مہربانوں کی خشمگیں نگاہوں سے بچا جا سکے۔ سو ایسا ہی کیا گھنٹہ بھر لگا مالٹا ریل منصوبے کی دین کوئی اکیس کلو اور ساڑھے تین سو گرام وطن عزیز کی خالص مٹی سے اس کو آزاد کیا اور کوئی اڑھائی سال پہلے خریدی گئی چمکانے کی پالش سے بھی اسکو پہلی بار روشناس کرادیا .ایسا کرنے میں خود کو تو بحالتِ صوم دن میں مختلف تارے چانداور دیگر اجرامِ فلکی وغیرہ نظر آگئے لیکن اپنی ٹوٹی کرولا کی تھوڑی سی” ٹور”نکل آئی.
اب باری تھی اپنی ٹور نکالنے کی. گھنٹہ بھر آئینہ کے سامنے کھڑا ہو کر غور کیا کہ کسی طور یہ تھوبڑہ تھوڑی سی قبول صورت اوڑھ لے کہ اشرافیہ کے سامنے امیر امیر لگے.ہر ہر زاویہ سے تمام تر دستیاب “عقلِ سلیم “کے گھوڑے دوڑائے لیکن عقدہ یہی کھلا کہ شکل سے غریب دکھنا ایک پیدائشی نقص ہے اور اس کی اصلاح ناممکن ہے۔ سو صبر و شکیب کے سوا چارہ نہیں۔ ہاں البتہ لباس کے معاملہ میں میدان کھلا ہے۔ سو الماری کے سامنے کھڑے ہو کر فیصلہ کیا کہ شکل نہ سہی لباس سے حیران ضرور کردوں گا. لہٰذا سب سے نئے اور زرق برق شلوار قمیض کا انتخابات کیا جو محض تین سال پہلے ہی کسی عزیز کی شادی میں بڑے نامی درزی سے اجرت میں بغیر رعائت کروائے سلوایا تھا۔ اور اب تک صرف بیس بائیس بار سرف ایکسل میں دھلا تھا۔ سو چمک خراب ہونے کا تو سوال ہی نہیں۔ بالکل نیا کا نیا ہے. ویسے یہ تو آپ جانتے ہی ہونگے کہ غریبوں کے گھروں میں صرف اپنے تئیں قیمتی پارچہ جات ہی سرف ایکسل میں دھوئے جاتے ہیں۔ اور باقی سب دیسی صابن یا بونس ٹرائی سٹارسے!
اسی طرح لباس کی مناسبت سے سب سےقیمتی کوہاٹی چپل نکالی، یہاں یہ بتانا غیر ضروری محسوس ہوتا ہے کہ چپل کی عمر لباس سے ہر گز زیادہ نہیں اور ہمیشہ مشہورِ زمانہ چیری بلاسم سے ہی اس کے گالوں پہ غازہ لگایا گیا ہے .تو بقول کمپنی کے، اس کی چمک دمک اب نئی سے بھی زیادہ ہے۔ اس سارے عمل سے فارغ ہوا تو نمازِ عصر کا ٹائم ہو چکا تھا۔ نماز ادا کی اور بستر پر اس نیت سے بیٹھ گیا کہ ابھی آدھ گھنٹہ میں اٹھتا ہوں اور تیار ہو کر چلتا ہوں بجلیاں گرانے اہلیانِ محفل پہ. اور ساتھ ہی ساتھ یہ خیال بھی لذت کام ودہن کا سامان کئے ہوئے تھا کہ ایک ساتھ ڈھیروں قسم ہا قسم عمدہ کھانے کھانے کو ملیں گے کہ آخری بار بھی خان صاحب کی دعوت میں ہی کھائے تھے اور…..
اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی ۔۔۔۔
وہ کہتے ہیں نا کہ نیند تو سولی پر بھی آجاتی ہے، سو آگئی کمبخت. اور آج نیند کے ہاتھوں ہم بھی سولی پہ لٹک گئے, تاسف کی محرومی کی سولی پر. خواب میں دیکھتا کہ بڑے بڑے میزوں پر درجنوں کھانے سجے ہیں۔ ان میں ایک وہ ڈش بھی ہے کہ جس میں پورا بکرا آلتی پالتی مارے بیٹھا ہوتا ہے۔ اور جس کو دیکھ کر پختہ پختہ لوگوں کا بھی دم نکل جاتا ہے.ہم نے آج تک یہ ڈش صف ٹی وی ڈراموں اور خوابوں میں دیکھی ہے۔ابھی اس کو پکڑنے کیلئے ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ کسی نے ہاتھ ٹہوکا اور ہماری آنکھ کھل گئی۔گھڑی دیکھی تو سات بج چکے تھے۔ برق رفتار سے بھی تیار ہوتا اور دو پہیوں پر ہی کیوں نہ گاڑی اڑاتا تو بھی چالیس پینتالیس منٹ سے پہلے نہیں پہنچ سکتا تھا.. سو جی کڑا کر کے گھر کے ہی پکوڑوں پہ گزارہ کیا۔

ابن فاضل
ابن فاضل
معاشرتی رویوں میں جاری انحطاط پر بند باندھنے کا خواہش مندایک انجینئر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *