طلوع سحر:بارش رحمت یا زحمت۔۔۔۔ایم اے صبور ملک

بارش اللہ کی رحمت ہے،زندگی کا وجود روشنی،پانی اور ہوا کے بنا محال ہے،اور پانی کا ایک اہم ذریعہ بارش ہے،لیکن کبھی کبھی یہی بارش  کسی بڑے نقصان کا باعث بھی بن جاتی ہے،دنیا کا ساتواں اور پاکستان کا سب سے بڑا شہر کراچی،جہاں سالانہ بارش ہونے کی ریشو نہ ہونے کے برابر ہے،لیکن اگر کھل کر بارش ہو جائے یا پھر ساون رُت ایک دو روز شہر قائد میں بسیرے ڈال لے تو عملاً کراچی میں کاروبار زندگی رک جاتا ہے،راقم کو ذاتی معاملات زندگی کے لئے ہرسال کراچی جانا ہوتا ہے،ہر بار اس اُمید پر شاید اس بار شہر کا نقشہ کچھ بدلا ہو،لیکن افسوس پاکستان کا سب سے بڑا شہر اس وقت کوڑے کرکٹ کا ڈھیر بن  چکا ہے،امسال بھی کوڑے کے ڈھیر دیکھ کر میں یہ سوچ رہا تھا کہ اگر یہاں موسلادھا ر بارش ہو گئی تو تعفن سے کوئی بھی وبا پھوٹنے میں زیادہ وقت نہیں لگے گاحالیہ بارش نے ایک بار پھر صوبائی اور مقامی حکومت کی ناقص کارکردگی کا پول کھول دیا ہے،رہا کے الیکٹرک تو ابھی بادل کی دو بوندیں نہیں گرتیں کہ بجلی غائب،جس سے فراہمی آب کا مسئلہ بھی کھڑا ہو جاتا ہے،پچھلی کئی دہائیوں سے کراچی کی اَ ن داتا بنی ایم کیوایم کے موجودہ سٹی میئر فرماتے ہیں کہ کراچی کا سٹرکچر اتنی بارش کا متحمل نہیں،کیونکہ پچھلے دس سالوں میں سیوریج کے حوالے سے کوئی کام نہیں ہوا،بندہ پوچھے پچھلے دس سالوں میں شہر کی مئیر شپ کس کے پاس تھی؟یہ سوال تو مئیر وسیم اختر کو اپنی صفوں میں موجود لوگوں سے کرنا چاہیے،کوئی شک نہیں کہ اس وقت پاکستان کا سب سے بڑامسئلہ بڑھتی ہوئی بے ہنگم آبادی ہے،جس نے تما م شعبہ ہائے زندگی کو اتھل پتھل کےر کھ دیاہے،اورکراچی جیسا شہر بھی اس سے متاثر ہوئے بنانہیں رہ سکا، لیکن دنیا کے دوسرے بڑے شہروں میں اس جانب خصوصی توجہ دی جاتی ہے،ایسا نہیں ہوتا کہ ایک بارش ہو اور شہر کئی دنوں تک تالاب کا منظر پیش کرتا رہے،گندگی اور تعفن سے بیماریاں پھیلیں،یا اللہ نہ کرے کوئی وبا پھوٹ پڑے،اس وقت کراچی کی جو صورت حال ہے اس سے یہ اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت اور ایم کیو ایم کی مقامی حکو مت کے درمیان چپقلش کی وجہ سے شہر قائد کے باسیوں کو سزا مل رہی ہے،کیونکہ اول الذکر اس وقت مرکز میں اپوزیشن ہے اور موخرالذکر وفاقی حکومت کے  اتحادی،ہر دو کے درمیان اختیارات اور فنڈز  کی تقسیم کا جھگڑا ہے،صوبائی حکومت شہر میں کوئی کام کروانے کو تیار نہیں اور سٹی حکومت کو فنڈز کی کمی کا رونا،شہر جائے بھاڑ میں،پنجاب کے بڑے شہروں لاہور،فیصل آباد،ملتان اور راولپنڈی سے کراچی جانے والے کو یوں لگتا ہے کہ وہ کسی انتہائی غریب ملک میں آگیا ہے،مانا کہ ان شہروں میں بھی ابھی بہت سے کام ہونا باقی ہیں،لیکن ان کے مقابلے میں ملک کے سب بڑے شہر میں تو زیادہ بہتر صورتحال ہونی چاہیے لیکن عملاًہو ا کچھ بھی نہیں،شہر کی برسوں پہلے بنی سڑکوں،گلیوں میں اس وقت مٹی اور ریت اُڑ رہی ہے،جابجاپڑے گڑھوں سے منٹوں کا سفر گھنٹوں میں طے ہوتا ہے،گھروں اور بازاروں کا سیوریج سسٹم مکمل طور پر جواب دے چکا ہے،جو گھروں اور بازاروں کا روزانہ کا گندہ پانی سنبھالنے سے قاصر ہے وہ مردہ نظام ساون کی اس موسلادھار بارش کو کیسے  برداشت کرے گا،کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ قدرت کراچی والوں پر مہربان ہے کہ وہاں بارش کم ہوتی ہے وگرنہ جتنی بارش اسلام آباد راولپنڈی میں ہوتی ہے اگر یہی بارش کراچی میں ہوتو یقیناً پور ا سال شہر وینس کا منظر پیش کررہا ہو،لیکن نہیں قدرت کا اپنا ایک نظام ہے،جس کی وجہ سے یہ کائنات چل رہی ہے،اور جب بھی بارش برسانے والانظام اور بادل کراچی کا رخ کریں گے تو مینہ کھل کربرسے گا،قدرت یہ نہیں دیکھتی کہ کس کی کھیتی ہری ہے اور کس کی سوکھی؟ کہاں سیوریج کا نظام بہتر ہے اور کہاں خراب؟کہا ں یہ بارش رحمت بنے گی اور کہاں زحمت؟بارش امیر کے بنگلے سے لے کر غریب کی کُٹیا  سب پر برابر برستی ہے،اب یہ ہمارا کام ہے کہ ہم اس بارش کو اپنے لئے رحمت سمجھیں یا زحمت،اپنے شہروں،گلیوں،بازاروں اور گھروں کا نظام درست کرنا ہماری ذمہ داری ہے،ہمارے ہاں ملکی سطح اور گھریلو سطح پر کوئی بھی عمارت تعمیر کرتے وقت اس بات کی جانب دھیان ہی نہیں دیا جاتا کہ سارا سال ایک جیسا موسم نہیں ہوتا،لہذا بارش،گرمی،سردی،دھوپ اور چھاؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے تعمیرات نہ ہونے،خاص طور سیوریج لائن کے لئے بڑے پائپ کے بجائے چھوٹا پائپ جس میں کچرا پھنس جانے کی صورت میں سارا پانی یا تو گھر میں یا پھر گلی میں پھیل جاتا ہے،اور کراچی کا بھی یہی حال ہے، بارش ہو گئی،شہر بند،بجلی بند،پینے کا صاف پانی نایاب،اور مقامی وصوبائی حکومتیں ایک دوسرے سے باہم دست وگریبان،رہے بیچارے شہری تو ان کی پہلے کسی نے سنی ہے جو اب سنے گا،رو دھو کر خود ہی چپ کر جائیں گئے کیونکہ برسوں سے اپنے ہاں یہ ہوتاآرہا ہے اور نجانے کب تک ہوتا رہے گا؟

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *