بَلے اور شیر کی لڑائی۔۔۔۔۔عبداللہ خان چنگیزی

میرے ان چند الفاظ کی  شاید کسی کے سامنے کوئی اہمیت نہ ہو۔ اور ہوسکتا ہے کہ کوئی اِس کو ایک عام سی تحریر سمجھ کر نظریں پھیر لے، یا اپنی  موبائل اسکرین کو  سکرول کرکے کچھ اور دیکھنے میں مشغول ہو جائے۔ مگر پھر بھی میں ایک کوشش ضرور کرنا چاہوں گا۔

انسانی تاریخ اِس بات کی گواہی ہر دور میں دیتی رہے گی کہ اُس کے دامن میں لاکھوں کروڑوں کی تعداد میں ایسے سربستہ راز دفن پڑے ہیں کہ اگر کوئی  موجودہ دور میں سرتوڑ کوششیں کرے تب بھی وہ اُن رازوں میں سے پردہ اٹھانے سے قاصر ہی رہیں گے۔ اِس تاریخ میں اچھائی بھی ہے برائی بھی۔ خیر بھی موجود ہے اور شر بھی اپنے دامن میں کچھ نہ کچھ سمیٹ کر اِس میں دفن ہے۔ انسانی قربانی بھی ہے اور غداری بھی۔ ملک و قوم کے لئے اپنی زندگیوں کی قربانیاں دینے والے بھی اور اُسی ملک و ملت کو بیچنے والوں کی لاشیں بھی۔ مگر آج وہ سب ایک قصہ پارینہ بن چکے ہیں۔ وہ سب اِس منوں مٹی  تلے  دفن ہیں جن میں سے  کسی نے  کوئی بھی کارنامہ سر کیا ہو، مگر اختتام میں وہ سب فنا ہی ہوگئے۔

انسانی جذبات اور احساسات کا اگر ہم ایک سرسری جائزہ لیں تو اِس میں شِدت پسندی اور اعتدال دونوں ہمیں نظر آتے ہیں۔ دو انسانوں کا ایک ہی بات پر متفق ہونا خاصا مشکل  ہے ۔۔۔ یہی اصل میں انسان کی ذہنی کیفیت اور سوچ کی قوت کا مظہر ہے۔ ایک انسان کے پیش کردہ ایک نظریئے سے دوسرے کا متفق ہونا شاذ و نادر ہی دیکھنے میں آتا ہے۔ اور جب ایسی کیفیات پیدا ہو جاتی ہیں تب اختلاف جنم لیتا ہے۔ اور اُس اختلاف میں ہر شخص اپنی سوچ کی تکمیل اور اُس کو دوسروں پر مسلط کرنے کے لئے سرتوڑ کوشش میں لگ جاتا ہے۔ کیونکہ ہم انسانی سوچ اور ذہنیت کے غلام ہیں اور یہ بات ہمارے خمیر میں شامل ہے کہ اپنی ذہنی اختراع کو دوسروں پر مسلط کریں۔

جس طرح یہ بات واضح ہوگئی کہ ہم میں ہر ایک کے نظریات و عقائد و وفاداریاں ایک جیسی نہیں رہ سکتیں  تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ ہم اپنے مخالف کو اپنی راہ پر لانے کے لئے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں۔ اور اُس حد تک جانے کے لئے نہ تو اہلِ علم کوئی لکیر کھینچتا ہے نہ ہی جاہل۔ ہم سب اِس دوڑ میں برابر ہیں۔ ایک کے جذبات کو مجروح کرکے اپنے مقاصد حاصل کرنا ہمارا پسندیدہ مشغلہ ہے۔ اور ہم اپنے اِس شغل میں دوسرے کی عزت و ناموس کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے ہر وہ قدم اُٹھاتے ہیں جس کے اختتام   پر ہمیں ہمارا مقصد کسی ہیرے کی طرح جگمگاتا نظر آتا ہے۔ جبکہ اصل میں وہ ہماری وہی  غلیظ کوشش ہوتی ہے جس کی خاطر ہم دوسرے کی عزت اُچھال کر  آگے پہنچنا چاہتے ہیں۔

انسانی نفسیات کی تو بات ہو چکی۔ اب آتے ہیں ملک میں موجود گزشتہ ایک سال سے جاری سیاسی کشمکش اور اُس کشمکش میں روندے جانے  والے پیادے و گھوڑے۔

گُزرے انتخابات میں خواہ جو کچھ بھی ہوچکا ہو میں اُس کی تفصیل میں نہیں جانا چاہتا۔ اور نہ ہی میرا یہ مضمون کسی سیاسی مقصد کے لئے ہے۔ یوں تو ہر روز خواہ دن ہو یا رات سوشل میڈیا پر ہو یا پرنٹ میڈیا  یا الیکٹرانک میڈیا ہو، سب سے زیادہ جو چیز دیکھنے کو ملتی ہے وہ ہے سیاست پر بحث  اور ایک دوسرے کی عزت و وقار کو اُچھالنا۔ ملک کے ہر  ادارے سے لیکر ہر  این جی او تک پر ہم اشرف المخلوقات ایک دوسرے کے ساتھ گتم گتھا دکھائی دیتے  ہیں۔

اِس موضوع پر چونکہ لفظوں کا رقص کچھ شدت اختیار کرجاتا ہے اُس کے لئے پیشگی معذرت۔

ہم دیکھ رہے ہیں کہ   گزرے سال سے لیکر آج تک اور شاید اگلے کچھ سالوں تک یہی حالت رہے گی ۔ جس میں ہم ایک دوسرے کو والدین کے دیئے گئے ناموں کی بجائے سیاسی مخالفین کے دیئے گئے اور وضع کی گئی  اِصطلاحوں  سے پکارتے رہیں۔ بات اگر یہیں تک ہوتی تو ہم یہ سمجھ کر چُپ رہتے کہ چونکہ سیاست میں جانبداری ضروری ہوتی ہے اِس لئے اگر کسی ایک نے یوتھیا اور دوسرے نے اُس کو پٹواری وغیرہ اصطلاح سے مخاطب کیا تو درگزر کرتے ہیں۔ جبکہ اِس طرح کا درگزر خود انسانى معاشرے پر ایک داغ ہے ایک دھبہ ہے۔

مگر حالات اب یہ نہیں رہے۔ بلکہ اب تو بات اِس حد تک پہنچ گئی کہ بڑے بڑے لوگ علم والے عقل و شعور والے ایک دوسرے پر یہی غلاظت اَنڈیلتے نظر آتے ہیں۔ ہمارے معاشرے سے چھوٹے بڑے کی تمیز کا خاتمہ ہوچکا اور اِس حد تک بات بڑھ چکی کہ ایک سفید ریش بزرگ اگر مخالف پر کچھ جملے کہہ دے تو دوسرا اُس کا خاندانی شجرہ نسب اُس کے سامنے کھول کر رکھ دیتا ہے۔

اِس بحث و مباحثہ میں گھر میں بیٹھی ماوں بہنوں کی عزت و تکریم کو لفظوں کے بازار میں سرعام نیلام کیا جاتا ہے۔ کسی کی ماں بہن اور بیٹی اِس بحث سے مبرا نہیں ہوتی۔ جہالت و جذباتیت اِس حد تک بڑھ چکی کہ مخالف کوئی بات برداشت کرنے کے قابل نہیں رہے۔ ایک دوسرے پر طنز و تحقیر میں اتنے حقیر بن چکے کہ اُس ماں کو رگیدنے میں ذرا دیر نہیں لگاتے جس نے اُنہیں  جنم دیا۔ اُس بہن کی عزت اچھالنے میں  بھی ذرا  تامل نہیں  برتتے ۔۔

آج میں اِس دکھ میں لکھ رہا ہوں کہ ہمارے معاشرے کو جہالت کی  دیمک روز بہ روز کھوکھلا کر رہی ہے ۔ ۔ اور ہم یونہی اِس میں پڑے اپنی اخلاقی موت مرنے کے قریب سے قریب تر ہوتے جا رہے ہیں۔ اختلاف کہاں نہیں ہوتے؟ ہوتے ہیں پوری دنیا میں ہر  شخص کے دوسرے سے ہزاروں اختلاف ہوتے ہیں۔ مگر کوئی ہماری طرح کا انداز نہیں اپناتا  کہ اپنے مقصد میں چادر اور چاردیواری  کی حرمت پامال کرے۔۔

آخر میں یہی ایک التجا ہے۔ کوئی التجا سمجھے یا فریاد بس یہی ہے کہ ہم سب نے ایک دوسرے کے ساتھ ہر معاملے پر اختلاف کرنا ہے  ،اور ایک دوسرے کی آراء کو سمجھنا ہے۔ اگر ہم خود ہی ایک قوم بن کر دنیا کے سامنے نہیں آئیں گے اور اپنی عزت خود محفوظ نہیں رکھیں گے تو کوئی دوسرا ہماری عزت کو چادر اوڑھانے  نہیں آئے گا۔ اور نہ ہی کوئی دوسرا پھر ہمیں اِس قابل سمجھے گا کہ وہ ہمیں  عزت و احترام دے۔

سیاسی بحث و مباحثہ اپنی جگہ مگر اِس میں اپنے  پیاروں  کو گھسیٹ کر اُن کی عزتوں کے ساتھ کھلواڑ کرنا، عورتوں کو نازیبا القابات سے مخاطب کرنا، اور بڑے بوڑھے کی تمیز کے بغیر کسی پر بھی اپنا نظریہ تھوپنا ناصرف جہالت ہے بلکہ حد درجہ غیرانسانی اور حیوانی فعل ہے۔ اگر ہم کسی ایک کے چاہنے والے ہیں تو ہوا کریں۔ دوسرے کے ساتھ ہم اختلاف ضرور کریں گے مگر اِس حد تک کہ اُس کے ساتھ ہماری دوستی، رشتہ داری اور معاشرے میں اٹھنے بیٹھنے پر ضرب نہ پڑے۔ کیونکہ یہی ایک زندہ قوم اور باعزت اور شعور و فہم شناس معاشرے کی پہچان ہے۔

عبداللہ خان چنگیزی
عبداللہ خان چنگیزی
ایک کمزور سا انسان، جو تلاشِ معاش کے دوران حادثاتی طور پر لکھنے لگا جو محسوس ہوا لفظوں کے حوالے کر دیا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *