قلمِ بےنیام کی شمشیری کاٹ۔۔۔عبداللہ خان چنگیزی

کہتے ہیں کہ تب تک پڑھو جب تک آگے پڑھنے کی اُمنگ و آرزو قائم نہ ہو جائے۔ یہ جملہ شاید کسی کسی کو سمجھ میں آتا ہے اور کچھ لوگ اِس کو لکھاری کی کچھ لفظی کاوش سے زیادہ نہیں سمجھتے۔ علم اور جذبات میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ جس کے نظارے ہم آئے روز سیاستدانوں، وکیلوں اور بڑے بڑے کاروباری حضرات کے شب و روز میں دیکھتے ہیں۔ ہر ایک انسان خواہ وہ باعلم ہو یا جاہل اُس کے پاس دنیاوی علوم میں کچھ نہ کچھ حصہ ضرور ہوتا ہے۔ وہ انسان یا تو کمال کے جذبات رکھتا ہے۔ یا پھر وہ کمال کی سیاسی بصیرت اور دنیاوی رموز و اوقاف سے باخبر ہوتا ہے۔

جس طرح کسی شیر کا شکار کرنے کے دو طریقے ہیں۔ ایک یہ طریقہ ہے کہ شکاری شیر کے آمنے سامنے ہوجائے اور اُس کے ساتھ گُتھم گُتھا ہوجائے۔ اب اگر وہ شیر سے زیادہ طاقتور ہوا تو وہ شیر پر قابو پالے گا ورنہ وہ شیر کے لئے ایک تر نوالے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ شکاری گھات لگا کر شیر کے آنے کا انتظار کرتا ہے۔ جیسے ہی وہ اُس کے لگائے پھندے میں آجاتا ہے وہ شیر کسی بےبس جانور کی مثال بن کر اُس شکاری کے پیروں میں پڑا ہوتا ہے۔ دونوں طریقے ایک ہی مقصد کے لئے استعمال ہوتے ہیں ۔۔شیر کا شکار !مگرکامیاب کون ہوا؟ وہی جس نے عقل و شعور سے کام لے کر شکار کھیلا۔

سوشل میڈیا ایک ایسی دنیا ہے جہاں آج نئے نئے لکھنے والے بشمول میرے آن ورد ہوئے ہیں۔ یوں تو اگر ہم صحافت اور قلم کی تاریخ دیکھیں تو ہمارے سامنے پاکستانی قوم میں ایسے ایسے نام آتے ہیں جِن کے  قلم کی للکار کسی بھی تخت کو زمین بوس کرنے کی قوت رکھتی ہے۔ مگر آج تک ہم نے اُن ناموں میں کسی ایک کے قلم سے بھی ایسا کچھ نکلتا نہیں دیکھا جس نے روشنائی کو انگارے بنا کر معاشرے میں قوتِ للکار و دہشت اور زور آزمائی کے لئے کسی کے جذبات میں وجدان پیدا کردیا ہو۔

کچھ لکھاری اپنی اِس خداداد صلاحیت کو ایسے انداز میں پیش کرنے پر اِس حد سے گزر جاتے ہیں جہاں سے آگے سوائے ایک انہونی کے   کچھ باقی نہیں بچتا۔ حق اور سچائی کو صرف بیان کرنے اور اُسی سچائی اور حق کو دوسروں کو سمجھانے میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ سچ اور حق کی اِس دوڑ میں یا تو صریحاً انصاف ملتا ہے یا پھر کسی انجانے میں موت کی اندھیری رات جیسی کوئی شے۔

ہم اپنی اِس سچائی اور حق پرستی میں ایک بات بھول جاتے ہیں کہ ہمارے آس پاس کے ہمارے چاہنے والوں کو ہماری اِس سچائی اور حق گوئی سے کیا خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ بظاہر تو ایسے بہت مل جائیں گے جو وقتی طور آپ کو آپ کی اُس حق بیانی پر داد و تحسین کے بُلند و بانگ  نعرے تحفے میں پیش کردیں۔ مگر خدانخواستہ اگر کل آپ کو آپ کی اِس سچائی اور حق پرستی سے کوئی نقصان پہنچے تو کچھ دن کے بعد ہر کوئی اپنی اپنی دنیا میں مشغول ہوکر آپ کو ایک قصہ پارینہ بنا دے  گا۔

پاکستانی معاشرے میں جہاں اولین صف کے دانشور اور تجزیہ نگار، مبصرین اور مبلغین موجود ہیں وہاں کچھ ایسے بھی ہیں جِن کے جذبات میں تو سچائی سب سے زیادہ ہوتی ہے ساتھ ساتھ اُن میں برداشت کا مادہ اِس قدر خام ہوتا ہے کہ کوئی بھی اُسے اپنا آلہ کار بنا سکتا ہے۔ معاشرے میں اگر ہم شِدت پسندی اور عدم برداشت پر بات کریں تو اُس کے لئے صرف ایک لفظ ہی کافی ہو گا وہ یہ کہ “خطرناک”۔

عدم برداشت اور تنقیدی نشستوں کی کمی کی بدولت آج ہمارے معاشرے میں شِدت پسندی کی جو اولین اور بدترین صورت ملتی ہے وہ اپنے آپ میں لاثانی ہے۔ حق بات کو سمجھنا اور اُس بات کو سمجھانے کے لئے تنقید کا سہارہ لینا باشعور اور مہذب اقوام کا شیوہ رہا ہے۔ جہاں شِدت پسندی کی لہر اِس انداز سے چل پڑی ہو کہ صبح کا گیا شام کو لوٹ آنے کی اُمید نہ رکھتا ہو وہاں تنقید و مباحثہ خاصا جان لیوا اور باعثِ نقصان ثابت ہوتا ہے۔

جس طرح کے واقعات معاشرے میں رونما ہوتے ہیں اُس تناظر میں آج اگر کوئی اپنے قلم کو “شمشیر” بنا کر جہاد کرنے پر تیار ہوتا ہے تو یہ اُس کی یا تو جذباتیت سے تعبیر کیا جاسکتا ہے یا غیر ذمہ داری سے۔ جس معاشرے میں عدم برداشت موجود ہو وہاں انسان کے لئے صرف یہی سوچنا سب سے افضل ہے کہ وہ اپنے گھر والوں کو سُکھ کیسے پہنچائے۔ جہاں تک بات ہے معاشرے کی اصلاح کی تو یہ آج کی بات نہیں۔ انسانی تاریخ اُٹھا کر دیکھ لیں کتنے ایسے ہیں جنہوں نے اصلاح کا بیڑا اُٹھایا اور وہ کامیاب ہو گئے؟ شاید کچھ ہی ایسے ہوں گے جنہوں نے یہ مشکل کام سرانجام دینے کے لئے کمر کسی  اور اُن کی راہ مخالفت سے نہ روکی گئی ہو۔

حق اور سچ کے لئے ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم اور ناموسِ صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین پر ہماری جان آج بھی قربان ہے اور انشاءاللہ ہمیشہ رہے گی۔ ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ ہم اپنا انداز ایسا بنائیں کہ مخالف اور مخالفت کرنے والوں کو علمی دلائل اور بُردباری سے اپنا ہمنوا بنا سکیں۔ اصلاح اور تنقید و بحث کو ایک علمی دائرے میں لاکر اُس پر بات کرسکیں۔ اگر آج  کچھ ہمارے عزیز بھائی ہم میں نہیں رہے تو ہمیں اُن کے  جذبات پر اللہ تعالی نہ کرے کوئی شکوک و شبہات نہیں بس یہ افسوس ضرور ہے کہ ہمارا ایک اور بازو ہمارے جسم سے کٹ گیا۔

اسلام اور اِس کی سربُلندی کے لئے اللہ تعالی نے ایسی قوم پیدا فرمائی ہے جس کے ہر سپوت میں جذبہِ ایمانی کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔ ہمیں اگر ضرورت ہے تو اِس امر کی کہ اپنا یہ جذبہ ہمیں کمزور نہ بنائے۔ ہم اپنے اِس جذبے کو اپنی طاقت بنائیں اپنی للکار بنائیں اور ایسی قوت بن کر سامنے آئیں کہ سامنے مخالف ہمارے دلائل اور علمی شناسائی سے یہ قبول کرے کہ وہ اگر خلاف بول رہا ہے تو وہ غلط ہے دروغ گو ہے۔

آج اگر ہمارے معاشرے میں کوئی ضرورت ہے تو وہ یہ ہے کہ ہم سب سے پہلے اپنے آپ میں اور پھر ہمارے اردگرد کے چاہنے والوں میں علمی چاہ، بنیادی عقائد پر تفصیلی علوم اور دلائل و میانہ روی کے ساتھ مکالمے کو کیسے فروغ دیں۔ جس دن ہم نے آپس میں ایک پرامن مکالمے کو فروغ دیا اُس دن ہمارے آپس کے اختلافات کسی لایعنی وجود کی طرح ہوا میں منتشر ہوجائیں گے۔ اور آپس میں موجود دینی و مسلکی مسائل و اختلافات پر ایک سچے مسلمان اور پیغمبر آخر الزماں محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے اُمتی ہونے کے ثبوت کے طور پر اُن مسائل کا حل ڈھونڈ پائیں گے۔

عبداللہ خان چنگیزی
عبداللہ خان چنگیزی
ایک کمزور سا انسان، جو تلاشِ معاش کے دوران حادثاتی طور پر لکھنے لگا جو محسوس ہوا لفظوں کے حوالے کر دیا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *