پاکستان کا قومی شناخت کا بحران۔۔۔عبداللہ خان چنگیزی

تعارف: ہم کون ہیں؟

دنیا کے ہر ملک میں وہاں کے رہنے والوں میں ایک پہچان اور شناخت کا ہونا ایک متحد قوم کی پہچان ہوتی ہے۔ زیادہ تر ممالک میں اپنی قومی پہچان ہی اصل پہچان سمجھی جاتی ہے۔ یہ بھی مُمکنات میں شامل ہے اور بعید نہیں کہ تمام ممالک میں یکتا اور وطن پرستی میں بحران کا کچھ نہ کچھ عنصر شاید موجود ہو مگر اِس طرح نہیں کہ وہ ظاہری طور پر کھلے عام دکھائی دینے لگے۔ اب ایک نظر اپنے وطنِ عزیز پر ڈال کر دیکھیں اور اپنی نگاہیں اِس ملک کے شہروں، گاؤں، قصبوں اور دیہاتوں پر مرکوز کرکے گہری سوچ و سمجھ کے ساتھ یہاں کا تجزیہ کریں۔ جب آپ کی ذہنی کیفیت تجزیے سے نکل کر حاصل شدہ نتائج میں کچھ ڈھونڈنے کی کوشش میں لگ جائی گی تب آپ کے سامنے پاکستانی عوام منتشر لوگوں کا ایک ہجوم دکھائی دے گا۔ اور اُس ہجوم میں آپ کو ترتیب کے ساتھ پنجابی، پٹھان، سندھی، بلوچی، سرائیکی اور دوسری بہت سی قومیتوں کا پرچار کرنے والوں کے ساتھ کچھ اَقلیتی گروہوں کے دیدار نصیب ہوں گے۔

پاکستان میں اِس مسئلے پر لاتعداد اہلِ علم لوگوں کا بحث و مباحثہ ہوچکا ہے اور اب بھی جاری ہے۔ یوں تو بطور ایک قوم ہم میں بھرپور  یگانگت   ہے مگر صرف کچھ خاص موقعوں پر۔ اگر دھرتی ماں پر کسی غیر کی بُری نظر پڑی ہے یا پھر کسی عالمی مقابلوں میں حصہ دار ہوتے ہیں تب ہمیں ہر جگہ ہر طرف ایک ہی نعرہ سننے کو ملتا ہے “پاکستان زندہ باد”۔ یہ نعرہ یا تو ہماری زبانوں سے اِن دو موقعوں پر ادا ہوتا ہے یا پھر ہماری یومِ آزادی کے دن۔ باقی کی تمام زندگی ہم اِس نعرے کے بول تک بھول جاتے ہیں اور اپنی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی بادشاہی  مسجد بنانے میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ اِس قومی مسئلے “پاکستان کا قومی شناخت کا بحران” کے ذمہ داری بہت سے عوامل پر ثابت ہوتی ہے مگر ہم یہاں کچھ خاص نکات کو زیر بحث لانے کی کوشش کریں گے اور یہ جاننے کے لئے مندرجہ ذیل نکات یا مسائل کو بیان کریں گے جِن کا کہیں نہ کہیں اِس بحران میں یا تو مکمل عمل دخل ہے یا کہیں نہ کہیں اِن کی جڑیں اِس بحران تک پہنچ چکی ہیں۔

1: امن۔

آج جس مقام پر ہم بطور ایک منتشر قوم کے کھڑے ہیں اِس میں بنیادی اور سب سے نقصان دہ جو وجہ ہے وہ ہے امن و امان کی ابتر صورتحال۔ کسی بھی ملک کی بنیاد تب تک قابلِ تعریف نہیں سمجھی جاسکتی جب تک کہ اُس ملک کے شہری ایک پُرامن ماحول میں سانس نہ لیتے ہوں۔ یہ بات طشتِ از بام کی مانند عیاں ہے کہ عام پاکستانی جس طرح سے امن و امان کی صورتحال سے متاثر ہوا ہے وہ قابل مذمت ہے۔ امن ہی وہ شے ہے جو کسی بھی ریاست میں جوڑ کا کام کرتی ہے۔ ایک پُر امن معاشرہ ہی اپنے شہریوں کے دلوں میں وطن کی محبت کو برقرار رکھ پاتا ہے اور ہر ایک شہری کے دل میں وطن کی رکھوالی اور اُس کی حفاظت کے جذبات قوی سے قوی تر ہوتے ہیں۔ جب اُس کی زندگی میں ہر آئے روز بم دھماکے شہری اور علاقائی صورتحال میں خوف و ہراس کی نمی کی افزائش ہورہی ہو تو کوئی بھی ایسی ریاست اور ریاستی عہدہ داروں کی طرف محبت کی نگاہ سے دیکھنا گوارا نہیں کرے گا۔ آج اگر ہم باریک بینی سے ایک جائزہ لیں تو زیادہ تر عوام میں یہی رجحان پایا جاتا ہے کہ وہ اپنے ملک سے کسی ایسے ملک کی طرف رختِ سفر باندھ لے جہاں اُس کی زندگی کو کوئی خطرہ لاحق نہ ہو۔ وہاں اُس کے دل کو یہ سکون حاصل ہو کہ ہر اُبھرتے سورج کے ساتھ ہی اُس کی بقا اور سالمیت کو کوئی خطرات درپیش نہیں ہوں گے۔ امن و امان کی ابتر اور خطرناک صورتحال ہی وہ بنیادی وجوہات میں سے ایک ہے جس سے متاثر ہوکر عام شہری میں وطن سے بیزاری اور ریاستی بیانیے سے متنفر سمت کی طرف سفر کا آغاز شروع ہو جاتا ہے۔

2: تعلیم اور تعلیمی اداروں میں تضاد۔

پاکستانیت کا نعرہ یوں تو ہم میں ہر کوئی ایک مخصوص انداز و موقع پر لگاتا ہے مگر جب اُس نعرے کی گہرائی میں جھانک کر دیکھا جائے تو سوائے ایک کھوکھلے پن کے ہمیں   کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ دگرگوں اور بٹے ہوئے ہجوم کو اگر کوئی حقیقی معنوں میں صحیح اور مثبت سمت دے سکتا ہے جس پر چل کر وہ اپنی مٹی سے محبت اور ایک منتشر قوم سے ہٹ کر متحد اور ایک پرچم کے سائے تلے مضبوط اور متحد قوت بن سکے تو وہ ہے تعلیم اور برابری کی سطح پر تعلیم۔ آج اگر ہم اپنے ملک کے طول و عرض میں دیکھیں تو ہر ایک تعلیمی مرکز کا نصاب الگ اور سلیبس میں تغیر پایا جاتا ہے۔ امیر اور غریب کی زندگی کو دو ٹکڑوں میں تقسیم کرتی اِس دو رخی تعلیمی نصاب نے قومی پہچان پر بہت برا اثر بنا رکھا ہے۔ سرکاری تعلیمی اداروں میں نصاب کو محدود اور وطن پرست بنایا گیا ہے جبکہ پرائیوٹ سیکٹر میں ایسا کچھ نہیں ملتا۔ یہ امر انتہائی حد تک خطرناک ہے کہ دو نوجوان ایک طرح کے نصاب سے دور ہیں۔ حکومتی ذمہ داری تو ایسی ہونی چاہیے  کہ تعلیم میں کوئی رکاوٹ اور روک ٹوک نہ ہو۔ سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ بولنے کی آزادی ہونی چاہیے تاکہ ایک مثبت تنقیدی معاشرہ پائے تکمیل تک پہنچے اور اپنی پہچان کو جان سکے، مگر ایسا نہیں ہوتا۔ نصاب پر یکجائی دکھائی نہیں دیتی۔ عام اداروں میں اقلیتوں کے بارے میں کافی منفی مضامین کو نصاب کا حصہ بنا دیا جاتا ہے اور ذات پات اور شخصیتوں کی سوانح حیات کو جبراً حصہ نصاب کیا جاتا ہے۔ جب ایسے دو مختلف سوچ کے حامل اداروں سے دو مختلف جوان مختلف اذہان اور رائے کے ساتھ باہر کی دنیا میں نکل آتے ہیں تو اُن کے آپس کے خیالات میں تضاد ہوتا ہے۔ یوں اگر ایک نے قومی بیانیے پر مشتمل نصاب پڑھا ہوتا ہے تو دوسرا اُس کے کسی قدر مخالف معلومات کے ساتھ سامنے کھڑا دیکھائی دیتا ہے۔ جب تک وطنِ عزیز کے تمام تعلیمی مراکز میں خواہ وہ کسی غریب کے لئے بنایا گیا ہو یا ایلیٹ کلاس کے لئے اُس میں نصاب کا معیار ایک جیسا نہ ہو یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ قومیت اور شناخت کے مسئلے پر ایک جیسی سوچ کو پروان چڑھا سکیں۔

3: سماج۔

ہم پاکستانی قوم اِس امر کو اپنی بدنصیبی سے اگر تشبیہ دیں تو ہرگز غلط نہ ہوگا کہ آج ہم سب سماجی اعتبار سے ہزاروں ٹکڑوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ سماج اور معاشرے کی برابری اور متوازن سطح ایک عمومی پہچان بن کر لوگوں اور ایک متحد قوم کی ترجمان بن جاتی ہے۔ یہ سماجی تقسیم صرف خاندانوں اور طبقوں تک ہی محدود نہیں بلکہ اِس میں عام شہریوں میں وطن کی محبت اور یگانگت بھی داؤپر لگ جاتی ہے۔ سماج میں رکھ رکھاؤ اور بنیادی اونچ نیچ کی پرکھ اِس المیے کو جنم دینے میں خاصے مددگار ہوتے ہیں کہ وہ عوام کو ایک قوم سے ٹکڑیوں میں تبدیل کردیں۔ یوں تو ہمارے معاشرے اور سماجی اقدار میں ہر ایک کو شخصی اعتبار سے آزادی حاصل ہے مگر حقیقی معنوں میں ہر پہلا دوسرے کو اپنے برابر قبول کرنے اور سمجھنے کے لئے تیار نہیں۔ کوئی بھی اِس جذبے کو ماننے کے لئے تیار نہیں کہ دوسرا شخص بطور ایک پاکستانی اُس کا بھائی اور برابر کا شہری ہے۔ شخصی تغیر کے اِس المیے نے قومی سالمیت اور قومی وقار کو انتہائی سنگین خطرات سے دوچار کر رکھا ہے۔ یہ مسئلہ پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد کا نہیں بلکہ برسوں پرانا ہے۔ کوئی بھی ایسا سماج جِس میں مختلف ذات پات اور برادری کے لوگ موجود ہوں وہاں پر اختلافات کا وقوع پذیر ہونا قدرتی عمل ہے۔ اِس زہر آلودہ ذہنیت سے نہ تو سماج ایک متفق طبقہ بننے کے لائق ہوتا ہے اور نہ ہی اُن میں قومیت اور وطن پرستی کی رمق پیدا ہو پاتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ قومیت اور وطن سے پہلے ہر کوئی اپنے سماجی رشتے ناطے نبھانے اور اُن کو پائے تکمیل تک پہنچانے میں اپنے مخالف ہر اُس آواز کو دبانے پر تُل جاتے ہیں جس میں اُس کی بنیاد پرستی پر ضرب پڑتی ہو۔ اور ایسے سماج میں اگر کوئی قومی پہچان کو ڈھونڈنے نکل پڑے تو اسے سوائے ایک بٹے ہوئے اور تقسیم در تقسیم خاندانوں اور کنبوں کے علاوہ کچھ نہیں ملے گا جِن کا مقصد اپنی خاندانی روایات کو زندہ رکھنا مقصود ہوتا ہے۔

4: معاشی اِستحصال اور سرمایہ دارانہ نظام۔

مملکت خداداد محنت اور مزدوری کرنے والوں کا وطن ہے۔ اور اِس وطن میں جس طرح ایک عام مزدور کی معاشی طور پر استحصال کیا جاتا رہا ہے اُس کی مثال نہیں ملتی۔ ایک عام پاکستانی کو کیا چاہئے؟ دو وقت کی روٹی اور ایک باعزت روزگار۔ مگر اِس سرمایہ دارانہ نظام اور سرمایہ داروں نے غریب کے منہ سے وہ نوالہ بھی چھیننے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ لوگ دن رات ہفتوں مہینوں اور سالوں تک ایک ہی کارخانے میں جوانی سے لیکر بڑھاپے تک کام کام اور بس کام کرتے رہتے ہیں مگر اُن کی قسمت بدلنے کا نام نہیں لیتی۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ امیر اور زیادہ امیر ہوتا جاتا ہے اور غریب کے پیٹ پر لات پہ لات پڑتی رہتی ہے۔ کسان اپنی زندگی کے دن رات محنت سے فصل تیار کرتا ہے اور جاگیردار اُس کی محنت سے اپنے خزانے بھرنے میں لگا ہوتا ہے۔ حکومتی پالیسیوں اور ناعاقبت اندیش منصوبوں نے اور زیادہ عوام کو شش و پنج میں مبتلا کردیا ہے۔ یہ آج کا مسئلہ نہیں برسوں سے یہی رواج چلا آرہا ہے کہ جس کے ہاتھ جو لگا وہ لے اُڑا اور غریب عوام کی قسمت میں اگر ریاستی جانب سے کچھ آیا بھی تو وہ مہنگائی کے دھکے اور روزگار کی عدم دستیابی۔ جس ماحول میں ریاستی جانب سے یا دیگر سرمایہ دارانہ نظام کی بدولت رزق کی تنگی کا سامنا ہو وہاں شخصی انتشار کے علاوہ کوئی دوسرا جذبہ پروان چڑھ ہی نہیں سکتا۔ مملکت اور ریاست کی ذمہ داری میں یہ لازم و ملزوم ہے کہ وہ ریاستی بیانیے کے ساتھ اپنی عوام کے ساتھ انصاف کا معاملہ کرے۔ جب ہر شہری کی جائز ضروریات اُس کے منشاء کے مطابق پوری ہو رہی ہوں تب معاشرے میں چین اور سکون کا سماں بندھ جانا بعید از قیاس نہیں رہتا۔ شناخت اور قومیت کا بحران وہی جنم لیتا ہے جب جائز حقوق کی پامالی وقوع پذیر ہوتی ہے۔ جب کسی ایسی ریاست کے ماتحت رہ کر انسان کا اُس کے شب و روز کے اشیائے ضروریات کے لئے ترسنا اور حصول ناقابل حصول بن جائے تب شہریوں میں ریاستی شناخت صرف لفظی جمع خرچ اور ایک بیانیے کے علاوہ کوئی فوقیت نہیں رکھتی۔

5:مذہب اور فرقہ واریت۔

مذہب کا انسان کی زندگی میں وہی عمل دخل ہے جس طرح کہ سانس کا جسم سے۔ پاکستانی عوام سمیت دنیا بھر کہ جہان میں ہر ایک ذی روح کسی نہ کسی طور پر کسی عقیدہ کا پیروکار ہے یا رہا ہے۔ پاکستان میں اگر ہم اِس بحث کو سامنے رکھ کر ایک جائزہ لینے کی کوشش کریں کہ کیا پاکستان ایک اسلامی ملک کے طور پر معرض وجود میں آیا یا بطور ایک سیکولر ریاست کے تو اِس میں ہمیں کسی ایک مُقام تک پہنچنے کے لئے طویل عرصہ درکار ہوگا۔ ظاہری طور پر اور قانونی و آئینی حیثیت سے پاکستان ایک اسلامی جمہوری ملک ہے۔ ریاستی بیانیے کی نظر میں ملک کی اکثریت کا تعلق اسلام سے ہے اور یوں اسلامی احکام اور قیود کو آئین کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔ یہ تو وہ بنیادی نقات ہیں جن سے کسی طور انکار ممکن ہی نہیں۔ ریاستی بیانیے اور حکومتی عقیدے کو سامنے رکھتے ہیں تو بطور ایک پاکستانی ہم سب مسلمان ہیں۔ مذہبِ اسلام میں کوئی شکوک و شبہات کی گنجائش نہیں۔ طبقات اور گروہوں میں بٹورا آج کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ صدیوں سے یونہی چلا آرہا ہے۔ آج کا ہر ایک پاکستانی اپنی شناخت کے حوالے سے سب سے پہلے اپنے مسلک اور عقیدے کے حوالے سے خود اپنی پہچان کراتا ہے۔ یہ ایک سچی حقیقت ہے کہ مذہب کا عمل دخل انسانی زندگی میں سب سے قوی تر رہا ہے اور رہے گا۔ اگر ہم اِس بحث میں پڑ جاتے ہیں کہ مسلکوں کو پسِ پشت ڈال کر ایک جھنڈے تلے ریاستی آئین اور قانون کے مطابق خود کو سب سے پہلے پاکستانی کے طور پر اپنی شناخت کروائیں تو یہ قطعی ممکن نہیں اور نہ ہوپائے گا۔ مذہب اور عقیدے کے اعتبار سے گروہ در گروہ تقسیم اور بٹوارا ہر ایک معاشرے کا حصہ ہوتا ہے۔ کوئی بھی قوم اپنی قومیت کو اولین طور پر بیان کرنے کی شروعات اپنے عقیدے سے کرتا ہے۔ پاکستان میں گروہی تقسیم ہر ایک کے لئے قابلِ احترام ہونا چاہئے اور اِس بحث سے نکل کر اپنی مذہبی شناخت کو مُقدم جان کر بھی ایک پاکستانی قوم کے طور پر خود کو ظاہر کرنا ہوگا۔ کوئی بھی ایک مَسلک کا پیروکار دوسرے مسلک کے پیروکار کو اگر صرف تنقید کا ہی نشانہ بنانے میں لگا رہے گا تو یوں معاشرے میں مذہبی شدت پسندی کا رجحان پیدا ہوتا ہے اور بطور ایک پاکستانی کی شناخت کو اپنی پہچان کے طور پر باقی دنیا کے سامنے کبھی پیش نہ کر پائے گا۔

پاکستانی قومی شناخت کے  بحران میں یہ ایک انتہائی مضبوط کڑی ہے کہ ہم بطور ایک قوم لاتعداد فرقوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ ہر کوئی یہ جانتا ہے اور اِس پر یقین رکھتا ہے کہ اُس کے عقیدے کی آڑ میں کوئی شے قابلِ عزت نہیں اور یہ بات سمجھنی ہوگی کہ ہم اور ہمارے مسلک و عقیدے پر کوئی ضرب پڑے بغیر بھی ہم اپنے قومی شناخت کو برقرار رکھنے کی سعی رکھتے ہیں۔ افسوس اِس مقام پر ہے کہ کچھ شدت پسند عناصر اِس کوشش میں آڑے آکر ایک عام انسان کو اپنی شیطانی چال کا شکار بنا کر اُس کو ایک سچے انسان اور محبِ وطن شہری سے ایک شدت پسند میں تبدیل کردیتا ہے۔ نہ صرف یہ کہ اُس کے سامنے مذہب کی اصلی ہیئت میں رد بدل کردیتا ہے بلکہ اُس کے ذہن میں مسلک اور عقاید کے بنیاد پر اقلیتی برادری کے خلاف ناقابلِ برداشت اور شرمناک تعلیمات کا پرچار کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا۔ اگر ہم سب اپنے اپنے مسلک اور عقیدے پر قائم رہ کر اور اسے اپنے لئے محترم جان کر ایک قوم اور ایک شناخت والی قوم بننے کی کوشش کریں تو کوئی بعید نہیں کہ ہم کامیاب نہ ہوں گے۔

6: قومیت اور نسلی تعصب۔

باہر کی دنیا میں ہم سب جِن کے پاس ہرے رنگ کا پاسپورٹ ہوتا ہے پاکستانی شناخت کے ساتھ پہچان لیئے جاتے ہیں۔ مگر وہی پاکستانی جب اپنے ملک اپنی مٹی پر قدم رکھتا ہے تو اُس کی شخصیت اور قومیت میں رد و بدل کا عنصر جھلکنے لگتا ہے۔ قومیت اور نسلی تقسیم کی وجہ سے معاشرے میں وہ یکسانیت پروان نہیں چڑھ پاتی جو ایک پہچان والی قوم کے لئے انتہائی ضروری ہے۔ ہم میں ہر ایک اپنی اپنی نسلی اور خاندانی پہچان کو معتبر مانتے ہیں اور اُس پر کسی صورت میں سمجھوتا کرنا گوارا نہیں کرتے۔ جہاں تک اِس پاکستانی شناخت کی بات ہے تو اِس کے لئے سب سے ضروری یہ ہے کہ معاشرے میں ایسی سوچ اور نظریہ پروان چڑھا ہو جس میں بھائی چارہ اور ایک دوسرے کے لئے عزت و توقیر کا فقدان نہ ہو۔ ہر ایک پاکستانی اپنی پہچان اور خاندانی نام بطور فخر استعمال کرتا رہا ہے۔ نسلی تعصب اتنا زیادہ ہے کہ ایک خاندان والا دوسرے کو خود سے افضل یا برابر سمجھنے پر تیار ہی نہیں ہوتا۔ صدیوں پرانی اپنی خاندانی روایات کو سینے سے لگائے رہتا ہے اور اُسی سہارے کے پیچھے معاشرے میں اپنی اونچ نیچ سیدھی کرنے میں لگا ہوتا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ کوئی بھی شخص اپنے خاندان کا نام بطور فخر دوسرے کے سامنے عیاں کرتا ہے اور اپنے سے چھوٹی ذات یا کمتر کو معاشرے میں اُس برابری کا درجہ نہیں دے پاتا جو بطور ایک پاکستانی شہری اُس کا حق ہوتا ہے۔ آج جو نسلی گروہ بندی کی لعنت پاکستان میں بلوچ قوم پرست اور پختون قوم پرست کی صورت میں سامنے آئی ہے اِس کے پیچھے یہی عوامل ہیں کہ ایک تو حکومتی اقدمات اِس طور پر شفافیت نہیں رکھتے جن میں ملک کے تمام شہریوں کو ایک برابر کر درجہ دیا جاتا ہے اور دوسرا مسئلہ ہر ایک علاقے میں پھیلی عام و خاص میں یہی قومیت پرستی اور نسلی گروہ بندی ہے۔ جب کسی ملک کے لوگ آپس میں اِس طرح کے بنیادی مسائل کا شکار ہوں اور رہے ہوں تو وہاں اجتماعی طور پر ایک شناخت پر متفق ہونا نا صرف دشوار ہے بلکہ اُس وقت تک ناممکن بھی ہے جب تک کہ معاشرے میں قانونی طور پر شعور و علوم کے لئے واسیع پیمانے پر اقدامات نہ کیئے جائیں۔

7: حقوق۔

کسی بھی ریاست میں بسنے والے شہریوں کا اُس ریاست سے محبت اور اُس کے لئے قربانی کے جذبات تب پروان چڑھتے ہیں جب اُنہیں ریاست کی جانب سے اُن کے بنیادی حقوق بغیر کسی روک تھام کے باآسانی سے ملتے ہوں۔ اِن حقوق میں تعلیم، انصاف، صحت، روزگار، امن و امان سمیت بہت سے حقوق شامل ہیں۔ یہ وہ نام ہیں جو ہر ایک شہری کو اپنی ریاست سے جڑے رہنے اور اُس پر جان قربان کرنے پر مجبور کیئے رکھتا ہے اور اِس مجبوری کو وہ وطن سے محبت اور اُس پر فخر کا نام دیتا ہے۔ پاکستان میں مندرجہ بالا تمام حقوق ایک عام آدمی کی پہنچ سے بہت دور ہیں۔ حکومت کی طرف سے اِن سب حقوق کی دستیابی کا تو دعوا کیا جاتا ہے مگر حقیقت میں اِن کا ایک عام شہری کو ملنا نا صرف مشکل ہے بلکہ بعض اوقات نامُمکن بن جاتا ہے۔ ظاہری طور پر تو ہر ایک حق شہری کی دسترس میں دکھائی دیتا ہے مگر جب وہ شہری اُس حق کو پانے کے لئے ہاتھ بڑھاتا ہے تو اُس کے ہاتھ سوائے ناکامی کے کچھ نہیں لگتا۔ یہ ہماری بڑی بدنصیبی ہے کہ سرکاری اداروں میں زیادہ تر عام شہری کی کوئی عزت نہیں ہوتی۔ آپ نظر اٹھا کر دیکھ لیں اور ہسپتال، عدالت، پولیس تھانوں اور دیگر سرکاری اداروں میں جھانک کر دیکھیں تو وہاں سب کو ایک عام شہری کے حقوق کو پامال ہوتے ہی دیکھیں گے۔ ہر طرف جب رشوت اور سفارش کی لعنت برس رہی ہو تو قدرتی طور پر حقوق پر غاصبانہ قبضہ وجود میں آتا ہے اور اِس طرح اپنا حق دوسرے کے پاس جاتے دیکھ کر کسی بھی شہری میں اپنے ملک و ملت کے بارے میں سوائے آہ و بکا کے کچھ نہیں بچتا۔ ہر ایک شہری یہی چاہتا ہے کہ اُس کو اُس کا اپنا حق پوری دیانتداری کے ساتھ ملے اور نا ملنے کی صورت میں اُس کے ذہن میں قومی شناخت اور اُس ملک میں اُس کے حقوق کی پامالی کو مدِنظر رکھ کر کبھی یہ خواہش جنم نہیں لے پاتی کہ وہ ایک ایسے ملک میں اپنی تمام شناختوں کو پسِ پشت ڈال کر یک جہتی اور ملکی نظام پر اطمینان کا اظہار کرسکے۔ جب خود اُس کے اپنے ہی اُس کا حق اُسے دینے کو تیار نہیں ہوتے اور قانون و عدالت سے اُسے انصاف نہیں ملتا تو وہ گروہ بندی اور عدم برداشت کا استعمال کرکے اپنے حقوق ہر ناجائز طریقے سے حاصل کرنے کی کوششوں میں لگ جاتا ہے۔ اور اِس راہ پر چلنے والوں سے اگر کوئی یہ کہہ دے کہ آپ اپنی قومی شناخت پر فخر کریں اور باقی سب بھول جائیں تو یہ ایک خام خیالی کے سواہ کچھ نہیں۔

8: سیاسی بحث و مباحثہ اور آپس کا ٹکراو۔

قومی شناخت کے بُحران میں سیاست کا عمل دخل کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ ہر ایک سیاسی جماعت دوسرے سیاسی جماعت سے الگ نظریہ اور فکر لیئے ہوئے ہے۔ اِس طرح سے ہر جماعت کے چاہنے والے دوسروں کے ساتھ متفق نہیں ہوپاتے۔ جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایک ہی معاشرے میں رہنے والے دو افراد آپس میں متصادم ہوتے ہیں۔ ایک پاکستانی کا نعرہ پسِ پشت چلا جاتا ہے اور اپنے اپنے لیڈران کی رہنمائی میں ہر اُس شے پر عملدرآمد کرتے رہتے ہیں جو دوسری جماعت کو نیچا دیکھا سکیں۔ اِس میں کوئی شک نہیں کہ تمام سیاسی جماعتیں قومی مفاد اور ریاستی پہچان کو مقدم رکھ کر ہی ملک میں سیاسی انقلاب لانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں مگر اِن سب جماعتوں کے متضاد بیانات اور ایک دوسرے پر طنز و تحقیر کے گھیراؤ میں آ کر ایک عام شہری یہی سمجھتا ہے کہ اُس کی پسند کی سیاسی جماعت ہی قابل قبول ہے۔ اِس نظریہ کے لپیٹے میں رہ کر معاشرے میں تقسیم کا عمل کافی خطرناک صورتحال اختیار کرجاتا ہے اور قائد اعظم کا وہ خواب جو ایک قوم اور ایک شناخت کا تھا وہ کرچی کرچی ہوکر کہیں بکھر جاتا ہے۔

اختتام۔

دیئے گئے موضوع پر لاتعداد تحاریر لکھے گئے ہیں اور لکھے جاسکتے ہیں۔ اِن کالے حروف میں وہ جادو نہیں اُبھارا جاسکتا جو عملی طور پر ہم سب بطور ایک پاکستانی کے ثابت کرسکتے ہیں۔ اِن سب سے افضل بات یہ ہے کہ ہم سب مل جل کر رہیں اور اپنے پیارے وطن کی عزت کریں۔ ایک دوسرے کو عزت و قدر کی نگاہ سے دیکھیں اور تعلیم پر زور دیں۔ بیشک ایک تعلیم یافتہ معاشرہ ہی اپنی پہچان میں کوئی جھجک محسوس نہیں کرتا۔ یہ ملک ہم سب کا ہے اور ہم سب کو اِس میں رہنا ہے ایک بن کر اور ایک شناخت کی ساتھ۔ یہ وطن ہم سب کا ہے اور ہم سب ہیں پاسبان اِس کے پاکستان پائندہ آباد۔

عبداللہ خان چنگیزی
عبداللہ خان چنگیزی
منتظر ہیں ہم صور کے، کہ جہاں کے پجاری عیاں ہوں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *