پُرانا نعرہ،نئے چہرے۔۔۔۔۔عزیز خان

بطور سٹوڈنٹ لیڈر گورنمنٹ ایس اے کالج کئی دفعہ سٹو ڈنٹس کے جلوس کو لیڈ کرنے کا اتفاق ہوا۔۔لوگوں کو اکٹھا کرنا اور مجمع بنانا بہت آسان ہے ،پر اُس کو کنٹرول کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔

1975/76 کا دور تھا اور نعرہ تھا۔۔۔

لا ٹھی گولی کی سرکار نہیں چلے گی
ظالموں جواب دو، خون کا حساب دو

ظُلم کے ضابطے ہم نہیں مانتے
گرتی ہوئی دیوار کو ایک دھکا اور دو

اور بعد میں ایک نعرہ آیا
بھٹو کو رہا کرو
یا اللّٰہ یا رسول بینظیر بے قصور

اور اب نعرہ ہے ۔۔۔
نواز شریف کو رہا کرو
آرمی چیف میری مدد کرو
اعلیٰ عدالتیں نوٹس لیں
وغیرہ وغیرہ

حمزہ شریف کے گھر کے باہر 40 سال بعد وہی نعرے گونجتے دیکھے
لاٹھی گولی کی سرکار نہیں چلے گی
گرتی دیوار کو ایک دھکا اور دو

ظُلم کے ضابطے ہم نہیں مانتے
اور یا اللہ یا رسول نواز شریف بے قصور،

شہباز شریف بے قصور ، حمزہ شریف بے قصور ،آصف زرداری بے قصور، رانا ثنا اللہ بے قصور ،شاہد خاقان بھی بے قصور غرض سارے بے قصور۔۔۔
مریم بی بی بھی اپنی قمیص پر 55 سال پُرانا نعرہ لکھ کر عدالت میں پیش ہوئیں۔۔

نواز شریف کو رہا کرو

نواز شریف نے ایسے تو رہا نہیں ہونا، قانون اپنا راستہ خود بناتا ہے، اسی لیے تو کہتے ہیں قانون اندھا ہے۔۔

رانا ثنا اُللہ سے ANF والوں نے 15 کلو ہیروئین برآمد کی تو بہت شور  مچا کہ یہ سیاسی کیس بنا یا گیا ہے۔۔۔وجہ یہ بتائی گئی کہ  رانا صاحب حکومت اور عمران کے خلاف بہت  بولتے تھے، اس لیے انتقام لیا گیا ہے۔
اب مسلم لیگ ن بہاولپور کی ایک MPA فوزیہ ایوب قریشی کے گھر سے چار من چرس منشیات برآمد ہوئی ،فوزیہ ایوب کا بیٹا گرفتار کیا گیا ہے، یہ چھاپہ بھی ANF والوں نے مارا ہے۔

اب اس کی بھی یہی دلیل دی جائے گی کہ برآمدگی سیاسی ہے کیونکہ فوزیہ ایوب عمران خان کے خلاف نہیں بولتی تھی اس لیے انتقام لیا گیا ہے اور نہ بولنے پر برآمدگی ڈالی گئی ہے۔۔۔اب فوزیہ ایوب پر نہ تو کوئی پروگرام ہو گا اور نہ ہی ہمارے اینکرز بھائی شام کو سات سے گیارہ تک چینلز پر دھاڑیں گے۔

میری کسی پارٹی یا لیڈران سے کوئی مخالفت نہیں مگر جب ان سے پوچھا جائے یہ دولت کہاں سے آئی ہے جوابی وار ہوتا ہے آپ بھی تو کرپٹ ہو۔۔ہر انسان اپنے اعمال کا خود جوابدہ   ہے اس دنیا میں بھی اور اُس دنیا میں بھی۔مرنے کے بعد اور قیامت کے دن یوم ِ حشر میں ہر کسی نے اپنا جواب دینا ہے وہاں ہم یہ نہیں کہہ سکتے اللہ تعالیٰ پہلے عمران خان سے پوچھیں اُس نے پشاور میٹرو میں کتنی کرپشن کی ہے۔

شام کو تمام چینلز پر چند مخصوص چہرے روزانہ کبھی ایک چینل پر کبھی دوسرے چینل پر آکر بیٹھتے ہیں۔ہر پارٹی کا نمائندہ چاہے جیسا بھی ہے اپنی پارٹی کے لیڈران کی کرپشن کو چُھپانے اور دوسرے کی کرپشن کو اُجاگر کرنے کی کوشش میں مصروف ہوتا ہے۔خواتین بھی اپنے بھر پور میک اپ کے ساتھ موجود ہوتی ہیں اور ان سب کا کام صرف جھوٹ بولنا ہوتا ہے جس کی ہدایت وہ صُبح اپنے لیڈران سے لے کے آتے ہیں۔اور یہ بے وقوف قوم دن میں رپیٹ ٹیلی کاسٹ کے ساتھ چار بار یہی جھوٹ سنتی ہے۔چالاک اینکرز ان کو آپس میں لڑوا کر اپنے چینلز کی ریٹنگ بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں جس میں وہ اکثر کامیاب ہوتے ہیں۔

اور اب یہ سب اور ان کے لیڈران باوجود اس کے ان میں سے اکثر جیل میں ہیں سب کے سب بے قصور معلوم ہوتے ہیں اور لگتا ایسے ہے کہ ہماری نیب ، پولیس ، عدلیہ سب ادارے ان کے دشمن ہیں ان سے سیاسی انتقام لیا جا رہا ہے۔اور میں یہ سوچ رہا ہوں یہ تو سب بے قصور لوگ ہیں جنہوں نے 70 سال سے اب تک اس مُلک کو لوٹا، مُلک کے ٹکڑے کر دیے، مُلک کو مقروض کر دیا ،اپنی دولت میں اضافہ کیا، مُلک سے باہر جائیدادیں بنائیں۔۔۔آج وہ زندہ بھی ہیں شہید بھی اور بے قصور بھی  ہیں۔۔ تو قصور تو ہمارا ہے جو انہیں سر پہ بیٹھاتے ہیں ان کو ووٹ دے کر حکمران بناتے ہیں قصور تو اس قوم کا ہے۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *