اٹھ ۔۔۔ معاذ بن محمود

ویسے عجیب بات یہ ہے کہ میں ابا جی کی قبر پر زیادہ دیر نہیں بیٹھ سکتا۔ ایموشنل انسٹیبلٹی جلدی آجاتی ہے۔

وہ جگہ ویسے بھی بہت تنہا ہے۔

ابا جی کی وہ قبر۔ اس کے پیچھے ایک چھوٹا سا آنگن ٹائپ ہے۔ اور وہاں اس آنگن میں ہے ایک کنواں۔ موت کی خاموشی کے درمیان زندگی کا بنیادی عنصر پانی۔ کنواں نہ ہوتا تو شاید اس کے ارد گرد کی قبریں بھی ویسی ہی پلین سی پیسو سی حقیقت لگتیں۔ مگر کنویں پر زندگی ہمیشہ حرکت میں ہوتی ہے۔ یوں زندگی کے کنٹراسٹ کے باعث موت کا استعارہ وہ قبر مزید تنہائی کا احساس دیتی ہے۔ جیسے بھوکے کے سامنے کوئی کھانا کھا رہا ہو تو بھوک اپنا تشخص شدت کے ساتھ ظاہر کرتی ہے۔ بس ویسے ہی۔

وہاں کئی لوگ پڑے سو رہے ہوتے ہیں۔ شاید ہر اک آہٹ پہ کئی ٹھنڈے اجسام اٹھ کر دیکھنا چاہتے ہوں کہ کون آیا۔ پھر جیسے اولاد کے دور ہوتے بھی پریشانی کا پتہ ماں کو چل جاتا ہے شاید ویسے ہی ان بہت سے لوگوں میں سے اپنے بیٹے کی آمد کا ابا جی کو بھی پتہ چل جاتا ہوگا۔

پتہ نہیں کتنی باتیں ہوں گی جو انہوں نے کرنی ہوں مجھ سے مگر زندگی میں جانے خول چڑھائے رکھنے کی مجبوری مانع رہی ہوگی۔ جیسے میرے دل میں کئی اظہار ہیں۔ محبت کے۔ پشیمانی کے۔ الفت کے۔ اپنائیت کے۔ جو میں نہیں بتا پاتا کہ ابا جی اور میرے درمیان قبر کا پردہ حائل ہے۔

قبر جو موت کا استعارہ ہے۔ قبر جو زندگی کی پہچان بھی ہے۔ قبر جو اپنی اصل میں اس قدر ذومعنی ہے کہ زندگی اور موت جیسے مختلف احساسات کو اپنے اندر سمائے رکھتی ہے۔ قبر جو بیک وقت تاریکی کا خوف بھی جگاتی ہے اور اگلے ہی لمحے ارحم الراحمین کی لامتناہی مہربانی کی آس بھی جگا ڈالتی ہے۔ قبر جو خدا کی عبرت اور رحمت دونوں کا احساس جگاتی ہے۔ قبر جو دوری اور قربت دونوں کا نشان ثابت ہوتی ہے۔ قبر جو نار اور نور دونوں کا تجربہ دینے کی اہلیت رکھتی ہے۔

کیسی عجیب بات ہے۔ پاکستان میں زندگی گزارنے کے لیے میرے پاس گھر ہے۔ گھر میں زندگی ہے۔ پھر بھی جب جب وقت کی قیود گھر یا ابا جی کی قبر میں سے کسی ایک کا انتخاب میرے سامنے رکھتی ہے میں پہلی ملاقات ابا جی سے کرنے جایا کرتا ہوں۔ خدا جسے یاد کرنے میں عموماً میں انتہاء درجے کی غفلت کا مرتکب ٹھہرا کرتا ہوں، قبر کے سامنے بیٹھ کر مجھے اسی خدا کے سامنے گڑگڑانے کا جی چاہنے لگتا ہے۔ اپنے لیے معافی اور ابا جی کے لیے مغفرت کی خاطر۔ جانے ملحد کے لیے لحد سے جڑے نظریات کو ٹھکرانا کس قدر بہادری کا کام ہوتا ہوگا؟

قبر جہاں میں اپنے ابا جی کی یاد کو تخیلاتی پردے پر ازسرنو تخلیق کیا کرتا ہوں۔ قبر جو مجھے مخلوق اور خالق دونوں کا احساس دیتی ہے کہ تخلیق کی معراج میرے ذہن میں اور زوال میرے سامنے قبر میں ہوا کرتا ہے۔ قبر جو مجھے ابا جی کے ساتھ پرلطف یادیں تازہ کرنے کا موقع دے کر ایک عجیب افسردہ سی خوشی سے روشناس کراتی ہے اور اگلے ہی لمحے مجھے یاد دلاتی ہے کہ کبھی میں بھی اپنے بچوں کو مغموم کر کے یہاں پہنچ جاؤں گا۔

جانے پھر کیا ہوگا؟ بچوں کے ساتھ۔ میرے ساتھ۔ جانے کیا ہوتا ہوگا ابا جی کے ساتھ۔

کئی برس پہلے جب میں اس قبر کی خلاء کو مٹی میں پر کر رہا تھا تو مجمع میں دو افراد ابا جی کے جنازے میں استعمال شدہ چٹائی کو پھینکنے یا خیرات کرنے کے بارے میں بحث کر رہے تھے۔ وہ لمحہ مایوسی کے زینے کی وہ آخری سیڑھی تھی جس کے بعد میں نے مایوسی کا نروان پا لیا تھا۔ ابا جی کو قبر کے سپرد کرتے ہوئے آخری مرحلہ اپنے ہاتھوں سے ان کی اس آخری آرامگاہ پر مشت بھر مٹی ڈالنے کا تھا۔ یہ لمحہ مایوسی کی حد تھی۔ شاید یہ کبھی پار نہ ہوپائے۔ اس سے بڑھ کر مایوسی بھلا کیا ہوگی کہ وہ شخص جو تمام زندگی آپ کی ذات کا محور رہا آپ اسے موت کی سرد مہری کے سپرد کر کے اب اس پر مٹی ڈالنے پر بھی مجبور ہوں؟ یہ میرا ذاتی تجربہ، فلسفہ، مشاہدہ، احساس کچھ بھی کہہ لیں، ہے کہ باپ کی لحد کو پر کرنا اپنے ہاتھ سے مٹی ڈالنا مایوسی کی پاتال میں گرا  دیتا ہے۔

اور پھر جب جب زندگی مجھے ٹھوکر مار کر نیچے گراتی ہے، میں مشکلات کی گرد جھاڑتا پھر اٹھ کھڑا ہوتا ہوں۔

“نہیں۔۔ یہ کوئی مشکل نہیں۔۔ یہ کوئی غم نہیں۔۔ یہ کوئی مایوسی نہیں۔۔ مایوسی تو وہ تھی جو میں نے ۲۹ جون ۲۰۱۳ کی صبح محمود الحسن صدیقی صاحب کو زمیں گور کرتے محسوس کی۔ اٹھ معاذ بن محمود۔ کہ زندگی میں زندگی کی رمق ابھی باقی ہے۔ اٹھ کہ جد ابھی باقی ہے جہد ابھی باقی ہے۔ اٹھ۔۔۔ کہ لڑائی ابھی باقی ہے۔”

معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”اٹھ ۔۔۔ معاذ بن محمود

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *