احتساب یا انتقام ۔۔۔۔۔ راجہ فرقان احمد

ملک پاکستان میں تبدیلی کے دعویداروں نے اپنا قدم رکھا  تو سب سے پہلے احتساب کی بات کی۔ خان صاحب اور ان کے کھلاڑیوں نے احتساب کے عمل کو شفاف طریقے سے انجام دینے کے وعدے کیے۔ چاہے وہ اپوزیشن کا ہو یا حکومت کا ،کوئی بھی شخص احتساب سے نہیں بچ سکتا۔ پی ٹی آئی نے الیکشن میں فتح حاصل کی تو حکومت بنانے کے لیے اس کو اتحادیوں کی ضرورت پڑی۔ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ پی ٹی آئی نے اپنے  جلسوں میں یہ کہا تھا کہ کہ ہم کسی کے ساتھ اتحاد نہیں کریں گے لیکن حکومت بنانے کے لیے لیے پی ٹی آئی نے اپنی پالیسی پر نظرثانی کی اور اتحادیوں کے ساتھ مل کر چلنے کا فیصلہ کیا۔ یہ مشکل وقت بھی گزر گیا  ۔ اب پی ٹی آئی جو اپنے منشور کے مطابق احتساب کی باتیں کرتی تھی احتساب کو فعل اور تیز کرنے کا اعلان کیا۔ یہ خان صاحب کے لیے   مشکل وقت تھا کیونکہ  جن  پارٹیوں  کا احتساب ہونا تھا ان میں  سے کچھ پی ٹی آئی  کی اتحادی جماعتیں بھی تھی۔ مجھے یہی لگا کہ شاید خان صاحب اس کے اوپر بھی مشہور زمانہ یوٹرن لے لیں ۔ احتساب کا عمل اپوزیشن سے شروع کیا گیا جس میں اپوزیشن جماعتوں کے بڑے بڑے نام شامل تھے۔ احتساب کا نعرہ تمام پارٹیوں نے اپنے منشور میں رکھا لیکن عملی طور پر پی ٹی آئی کو اس کا کریڈٹ دینا پڑے گا جو اپنے منشور کو عملی جامہ پہنانے میں مصروف ہے ،چاہے وہ اپوزیشن کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ پاکستان میں احتساب کی اشد ضرورت تھی کیونکہ جس طرح ملک کے حالات  نظر آ رہے تھے اس حکومت کا یہ فرض تھا کہ وہ پچھلی حکومتوں کا احتساب کریں۔ احتساب تو ہوجاتا مگر مسئلہ پی ٹی آئی کے اتحادیوں کا تھا کیونکہ وہ بھی ان کالے کرتوتوں میں شامل تھے۔ پی ٹی آئی کا PMLQ کے ساتھ اتحاد اور مل کر پنجاب اور وفاق میں حکومت بنانا  ،اس لیے اتحادیوں کو خوش رکھنے کے لیے حکومت کی جانب سے اتحادیوں کے ساتھ نرمی رکھی گئی۔ مگر اپوزیشن کے خلاف احتساب کا عمل تیز رکھا۔ کچھ لوگوں کے نزدیک پی ٹی آئی انتقام کی سیاست کر رہی ہے لیکن نون لیگ اور پیپلزپارٹی کے خلاف جو کیسز چل رہے ہیں درحقیقت ان تمام کیسز  میں میثاق جمہوریت کے بعد پی پی پی اور نون لیگ نے اپنے دور حکومت میں ایک دوسرے کے خلاف  کیسز بنائے ۔ لیکن جب عمران خان کے دورِ حکومت میں ان کیسز کو کھولا گیا اور  تحقیقات کروائی  گئی تو اپوزیشن کی جانب سے انتقام کی سیاست کے طعنے منے لگے ۔ پاکستان میں اداروں کو سیاسی مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے اس کی مثالیں موجود ہیں۔ یقینی طور پر حکومتی جماعت کا بھی احتساب ہونا چاہیے۔ احتساب کے عمل سے کوئی بچنا نہیں چاہیے،چاہے وہ جج ہو یا سیاستدان، جنرل ہو یا بیوروکریٹ   اور یقینی طور پر انتقام کی سیاست سے گریز کرنا چاہیے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *