میں بکرا ہوں

میں ہنسی خوشی اپنے مالک کے ساتھ زندگی گزار رہا تھا۔ میرا مالک میرا بہت خیال رکھتا تھا۔ مجھے مختلف اقسام کا ترو تازہ چارہ کھلایا کرتا تھا۔مجھے روزانہ باہر گھمانے لے کر جایا کرتا تھا۔ ادھر میرے بہت سے دوست بھی اپنے مالکان کے ساتھ گھومنے آتے تھے۔ ہم روزانہ ساتھ مل کر چارہ کھاتے اور بہت کھیلتے لیکن میرے دوست مجھے ڈرایا کرتے تھے کہ انسان بہت برے ہوتے ہیں۔ مجھے کبھی بھی اس بات کا یقین نہیں آیا کیونکہ میرا مالک اور اس کے بچے خود تو بہت غریب تھے لیکن میرا بہت خیال رکھا کرتے تھے۔ ایک دن میں جب باہر گھومنے گیا تو میرے کچھ دوست نظر نہیں آئے۔ ایک بزرگ بکرے سے پوچھا آج میرے دوسرے دوست نہیں آئے کیا وجہ ہے؟ اس نے بتایا کہ مسلمانوں کی عید الضحی ہے اس پر گائے، بیل اور ہم جیسے بکروں کی قربانی دی جاتی ہے اس لئے ان کے مالکان انہیں فروخت کرنے کے لئے منڈی لے گئے ہیں۔ ایک دن کوئی آئے گا مجھے بھی لے جائے اور تمہارا مالک بھی ایک دن تمہیں اچھے داموں میں فروخت کر دے گا۔ میں جب واپس گھر لوٹا تو اپنے مالک کو اور اس کے چھوٹے بچوں کو پریشان دیکھا۔ شاید میرے بھی منڈی جانے کے دن قریب آگئے تھے اور وہ سب میری جدائی میں افسردہ تھے۔

پھر عید کے دن قریب آگئے۔ میرے مالک نے میرے گلے میں رسی ڈالی میرے جسم پر مہندی لگا کر مجھے تیار کیا اور اور منڈی کے لئے روانہ ہونے لگا۔ میں نے جاتے جاتے پیچھے مڑ کر دیکھا۔ چھوٹے بچوں کی آنکھیں نم نظر آئیں مگر مجھے جانا تھا۔ مجھے اپنے مالک کا قرض اتارنا تھا۔

جیسے ہی شہر کی منڈی میں پہنچے تو ادھر ہر طرف میری براداری کے جانور موجود تھے۔ بہت سے لوگوں کا ہجوم تھا۔ اتنے میں ایک آدمی اپنے بچوں کے ساتھ میری طرف آتا ہے اور میرے جسم پر اپنے گندے ہاتھ پھیرنے شروع کر دیتا ہے۔ کبھی میرا منہ کھول کر میرے دانت چیک کرتا ہے کہ صاف ہیں یا نہیں۔ مجھے بہت عجیب سا لگتا ہے۔ اس کے ہاتھ بہت گندے تھے۔ مجھے کافی دیر ٹٹولنے کے بعد وہ آدمی چلا جاتا ہے اور میں شکر ادا کرتا ہوں۔ اس گندے ہاتھوں والے نے کم سے کم مجھے نہیں خریدا ہے۔ یونہی رات کا وقت ہو جاتا میرا مالک میری رسی اپنے ہاتھ کے ساتھ باندھ کر لیٹ جاتا ہے۔ میں کچھ دیر بعد سو جاتا ہوں۔

صبح سورج کی پہلی کرن جونہی میرے بدن پر پڑتی ہے میری آنکھ کھل جاتی ہے۔ شہر کا باسی چارہ کھانے کو بھی دل نہیں کرتا میں گاؤں کا تازہ چارہ کھانے والا گبرو جوان بکرا گاؤں کی بکریاں دیکھ کر مجھے عش عش کرتی تھیں۔ منڈی میں میرا آج دوسرا دن تھا۔ بہت سے لوگ آتے رہے۔ کبھی منہ کھول کر دانت دیکھیں کبھی ٹانگوں کو چیک کریں۔ میں بھی اب تھک گیا تھا مگر میں نے حوصلہ نہیں ہارا۔ مجھے اپنے مالک کا قرض چکانا تھا۔

شام کے وقت ایک صاحب گاڑی میں اپنے بچوں کے ساتھ آئے میرے مالک کو رقم ادا کی اور مجھے خرید کر لے گئے۔ نئے مالک کے گھر پہنچتے ہی شور شروع ہوگیا بکرا آگیا بکرا آگیا۔ اتنے میں سب گھر والے جمع ہوگئے۔ مجھے صحن میں ایک کونے میں باندھ دیا گیا۔ اب بہت سے بچے جمع ہو گئے۔ میرے ساتھ شرارتیں کرنے لگے۔ میں نے ایک بچے کو ہلکی سی ٹکر ماری پھر سب بچے ڈر کر پیچھے ہو گئے اور میں نے شکر ادا کیا اور آرام کرنے لگا۔ اتنے میں ایک بچہ ہنستا ہوا میرے پاس آیا مجھے چارہ کھلایا اور جی بھر کر پانی پلایا اور چلا گیا۔

مجھے وہ بچہ بہت پیارا لگا۔ شاید میں بھی اسے بہت اچھا لگا تھا اس لئے میرا اتنا خیال رکھ رہا تھا۔ اس کا نام علی تھا۔ وہ اپنی امی کو کہنے لگا کیا یہ بکرا ہمیشہ ہمارے ساتھ رہے گا؟ اس کی امی اس کو پیار کرتی ہیں اور کہتی ہیں بیٹا ہم مسلمان ہیں ہمیں اللہ کی راہ میں قربانی دینی پڑتی ہے یہ سنت ابراہیم علیہ السلام جو ادا کرنی پڑتی ہے۔ میں یہ سب سن رہا تھا۔ میں نے اللہ کا شکر ادا کیا اور قربانی کے لئے خود کو آمادہ کیا۔ صبح عید تھی۔ آج علی بھی اداس تھا۔ میں نے اپنی قدرتی آواز کے ذریعے اسے سمجھانا چاہا تم فکر مت کرو ہر سال میری براداری سے کوئی نہ کوئی فرد آیا کرے گا۔ تم بس اس کا خیال رکھنا میں کسی نہ کسی روپ میں ہر سال تمہارے گھر آیا کروں گا۔۔۔!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *