الوداع۔۔مصنف:اعجاز احمد لودھی/تبصرہ:رحمٰن شاہ

“منقول ہے کہ سوچنے کی صلاحیت ہی علم کا اصل مقصد ہے،اور ظاہر ہے کہ بندہ اگر ایک جملہ بھی لکھے، اس کیلئے بھی سوچنا ہی پڑتا ہے، تو پھر ایک کتا ب لکھنے کیلئے کتنا سوچنا پڑے گا،اور کتاب اگر نثری نظموں پر مشتمل ہو تو سوچیں کتنا سوچنا پڑے گا۔۔غالب نے کہا تھا کہ نثر کی فکر نظم سے مشکل ہے ۔ بالکل سچ کہا تھا  کہ میرا نظم سے زیادہ نثر سے واسطہ پڑتا ہے۔
اعجاز بھائی کی نثری نظموں پر مشتمل کتاب”الوداع.”میں نے ایک عرصے پہلے پڑھی ہے اور میرا یہ یقین ہے کہ کسی بھی کتاب پر رائے دینے یا تبصرہ کرنے کا صحیح وقت وہی ہوسکتا ہے جب آپ وہ کتاب پڑھتے ہوئے اُ س کے آخری لفظ تک پہنچتے ہیں اور یوں وہ کتاب آپ کے ذہن پر ایک شوخ دھند کی طرح چھائی ہوتی ہے،جس پر آپ باآسانی تبصرہ کرسکتے ہیں، اس لیے ممکن ہے کہ میری اس تحریر میں آپ کو کہیں دل کے داغ نظر آئیں گے کہ کتاب میں نے ایک عرصہ قبل پڑھی ہے،بے شک میں شاعری کرتا ہوں،نظم لکھتا ہوں۔۔
لیکن میری دلچسپی ہمیشہ نثر سے ہی رہی ہے کہ اس میں قواعد کے کلہاڑے ہمارے خیالات کے ٹکڑے نہیں کرتے،بے شک نہیں بھی کرتے ہوں گے،لیکن میں فی الحال اُس درجے کا شاعر نہیں،اعجاز بھائی کی کتاب،اور اعجاز بھائی پر بات کرنے کیلئے کوئی بھی لکھاری الفاظ کا مختاج نہیں ہوتا۔۔
اعجاز بھائی سے میری پہلی ملاقات بٹ پل کے قریب بلوچی سجی ہاوس میں ہوئی تھی،ان ہی کے توسط سے میں پیارے دوست حمزہ حامی سے بھی ملا کہ بے شک بلایا مجھے حامی نے ہی تھا،لیکن اگر اعجاز بھائی مانسہرہ میں نہ رہتے تو حامی کبھی مانسہرہ نہ آتا کیوں کہ اعجاز بھائی اس سرائے کی طرح ہیں جہاں ہر کوئی ٹھہرنا پسند کرتا ہے،نثری نظموں پر مشتمل کتاب”الوداع”ایک دکھ اور رنج سے وجود میں آئی ہے۔یہ کتاب کئی رنگوں کا مجموعہ ہے،ایک گلستان ہے.،ایک منظر ہے  جس میں بہت کچھ ہے،نہیں ہے کوئی تنہا،بے دست نہیں کوئی، سب کے ساتھ  ایک خدا، ایک خدا۔۔ اللہ پاک کی ذات اقدس کے علاوہ تمام مسلمانوں کو حضور ﷺ کی ذات اقدس عزیز ہے اور مسلمانوں کیلئے یہ اعزاز کی بات ہے کہ وہ اپنے آقا پر درود بھیجے۔چنانچہ اعجاز بھائی نے بڑی ہی خوبصورتی کے ساتھ درود پاک سے آغاز کیا ہے۔۔
کبھی چاند کے ہالے میں
کبھی بادلوں کے سائے میں
نام محمد ؐ نظر آئے
حکمِ درود۔۔پھر اُتر آئے۔۔

اگر مطالعے کی جستجو اور ایک سچے قاری کی نیت سے کوئی الوداع کتاب پڑھے تو یقینا ًیہ کتاب سرشار کردینے والی ہے۔۔آنکھیں کیاہیں؟۔۔خوبصورت آنکھیں!۔۔ آنکھیں تو جھیل کی طرح ہیں،جس میں زمانے کے ماہر تیراک بھی ڈوب جاتے ہیں۔۔
مجھے تیرنا نہیں آتا
اس لیے لازم ہے کہ
میں بچا کر رکھوں۔۔
اپنی زندگی کو،
کہیں ڈوب نہ جائے،
تیری ان جھیل سے آنکھوں میں۔۔

چونکہ یہ کتاب پڑھنے والے پر ایک جہان کھولتا ہے.،اس لیے اس جہان میں بہت کچھ ہے۔۔کہیں بارش کا پہلا قطرہ انسان سے کہتا ہے۔۔
ہنسنا۔۔۔جب دیکھے دنیا،
اور پھر چھپ کر تم رونا!

کہنا در کی ساری باتیں۔۔در۔۔دریچوں۔۔دیواروں سے۔۔
کہ لاکھ ہیں راز پنہاں اس میں۔۔
الوداع کے اس جہان میں۔۔کہیں یار سے بچھڑنے کا دکھ۔۔ کہیں محبت کی اذیت کا دکھ۔۔اور کہیںِ  دلِ ناداں کی خواہشیں،کچھ اپنی کہو،کچھ اُن کی سنو۔۔دونوں آنکھیں نم ہوں،بے قراری بڑھتی ہے۔۔
الوداع کے اس جہان میں محبت پروموٹ کی گئی ہے، اداسی دور کرنے کا درس دیا گیا ہے۔
شہر کے اداس لوگوں سے
کوئی ملنے کی آرزو کیسے کرے
جب لوگ رستے بھو ل جائیں۔۔

الوداع کے اس جہان میں  ایک منظر میں بہت کچھ دیکھنے لائق ہے، کہیں  ویران شہر میں اُس کا نام پکارنا،کہیں اُداس شام میں کوئی پریشان بیٹھا  اور کہیں حسین پلو ں  میں گزریں یادیں، الوداع کے اس جہان میں تنہائی، کسی کا لوٹ آنا،کسی سے کچھ کہنے کی تمنا، بے سکونی  اور قہوہ وغیرہ شامل ہے۔۔
الوداع ایک منظر ہے۔۔اور اس منظر میں  ڈھلتے سورج کی یاددہانی، گمان، اک آرزو۔۔۔ میں کون؟ اور نظریں جیسے مناظر اپنی شوخی اور یکتائی لیے ہوئے نظر آتے ہیں۔۔

دوستو! الوداع کے اس جہان میں بہت کچھ اس منظر میں کئی نظارے، پر یہ سب آپ پر کیسے کُھلے؟۔۔یہ سب آپ پر تب کُھلتا ہے   جب آپ اس منظر میں قدم رکھتے ہیں، میں ابتداء میں عرض کرچکا تھا کہ یہ کتاب ایک غم سے وجود میں آئی ہے  اوروہ غم کیا ہوسکتا ہے، جدائی کا غم۔۔ اعجاز بھائی کی زوجہ مرحومہ کی جدائی کا غم۔۔
وقت رخصت میری بانہوں میں
تیری سانس کا نکلنا دیکھا
جان ِ اعجاز۔۔تیری سانسوں سے
میری روح کا رشتہ تھا۔۔
میری سانس بھی ساتھ ہی۔۔
نکل تو جاتی جاناں
مگر تجھ کو،
الوداع کون کہتا۔۔

اللہ پاک اعجاز بھائی کی زوجہ مرحومہ کی قبر پر رحمتیں نازل فرمائے۔ اور کروٹ کروٹ جنت الفردوس نصیب فرمائے.ل۔آمین!

Rehman Shah
Rehman Shah
سید رحمان شاہ۔۔۔ ایک لکھاری۔۔۔ سفرنامہ نگار۔۔۔ طنز و مزاح نگار۔۔۔۔ تبصرہ نگار۔۔۔۔ اور سب سے بڑی بات۔۔۔۔ فطرت پسند۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *