شعور والوں کا دہرا معیار۔۔۔۔۔امجد اسلام

مولانا طارق جمیل صاحب کی  وزیراعظم عمران خان صاحب سے ملاقات کا خوب چرچا ، ہونا بھی چاہیے، ایسے وقت میں جب قادیانیت کے قصّے سر چڑھ کر بول رہے ہیں، تو  دونوں صاحبان  کی یہ  ملاقات دل کے  سکون کے لیے کافی ہے ۔لیکن ٹھہریئے۔۔۔

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ انہی مولانا صاحب کی نوازشریف سے ملاقات ہوئی تھی، تب جو آج واہ واہ کر رہے ہیں، اِنہوں نے مولانا صاحب پر  لعن طعن کیا تھا، حالانکہ مولاناصاحب نے میڈیا پہ  آ کر ملاقات کا مقصد بھی بتا یا تھا، لیکن نہیں ،اس وقت مولانا صاحب دین کے ساتھ کھیلنے والا ایک گندا کھلاڑی تھا،جو دنیاوی مقاصد کے لیے کسی حاکم کی  چوکھٹ تک گیا تھا،لیکن آج کی ملاقات کی خیر ہے، یہ ملاقات خوش آئند ہے ۔

دوسری دفعہ کا ذکر ہے جب اسمبلی میں ایک لفظ بولا گیا تھا۔۔۔۔”ٹریکٹر ٹرالی”۔
پورا ایوان سراپا احتجاج بن گیا، ایوان سے باہر بھی اس لفظ اور بولنے والے کی سرزنش ہوئی،چونکہ بولنے والا مرد ڈیپارٹمنٹ سے تھا، اس وجہ سے خاص طور پر مستورات نے بھر پور احتجاج کیا، احتجاج بنتا بھی تھا، کیونکہ جہاں ایک عورت ذات کی تضحیک ہوئی تھی، وہی ٹریکٹر ٹرالی کی بھی بقول فرنگیوں کے بے عزتی  ہوئی تھی۔۔تب نشانہ بننے والی شیریں مزاری صاحبہ تھیں ۔

ایک اور دفعہ کا ذکر ہے، جب وینا ملک پاکستانی ڈراموں، فلموں اور ٹاک شوز میں بُری طرح ناکام ہو کر انڈیا کے ریالٹی شو بِگ باس میں جلوہ گر ہوئیں ، تب ناقدین کا کہنا تھا کہ انڈیا کے پاکستان سے تعلقات کشیدہ ہونے کی وجہ سے جان بوجھ کر وینا کو شو میں کاسٹ کیا گیا تاکہ کوئی ایسا کردار دلوایا جائے وینا ملک کو، جو پاکستانی ثقافت اور رسم و رواج کے متضاد ہو، جس کے ادا کرنے سے پاکستانیوں کی دل آزاری ہو،پاکستانی عوام شور مچائیں گے اور شو کی ٹی آر پی بڑھتی رہے گی، اور ایسا ہی ہوا۔

اس شو میں بھارت کے  مردوں کی وینا ملک اشمت پٹیل کو بھی کاسٹ کر لیا گیا تھا، جو باہر کی فلمی صنعت میں بری طرح ناکامی کے بعد پتہ نہیں کیسے بِگ باس تک آچکا تھا،شاید یہ بھی پڑوسیوں کا ایک پلان تھا، اشمت اور وینا کے معاشقے نےشو  کی کامیابی میں اپنا کردار خوب ادا کیا، اس شو کی جو اہم بات تھی وہ یہ کہ وینا ملک کو جان بوجھ کر نیچ کردار، بے ہودہ لباس اور گھٹیا ڈائیلاگ دئیے گئےتھے،تب پاکستانیوں کی نفرت آج کی مہنگائی کی طرح عروج پر تھی وینا جی کے لیے۔

اور آخری دفعہ کا ذکر ہے کہ جب وینا ایک بھارتی جریدے کی فرنٹ پیج کی زینت بنی،جس میں انہوں نے اپنے نیم عریاں جسم پر پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی، ایس، آئی کے ٹیٹوز بھی بنوائے تھے، تب بھی بہت شور مچا تھا وینا کے خلاف ۔

آج وہی وینا حکومت مخالف لوگوں کے خلاف ٹویٹ پہ  ٹویٹ کرکے اپنے پچھلے سارے صغیرہ و کبیرہ گناہوں کا کفارہ ادا کر رہی ہیں، ٹویٹ بھی ایسے کہ جنہیں  پڑھ کر بندے کو اس شدید گرمی میں ٹھنڈ لگ جائے۔۔۔اِن ٹویٹ میں رنڈی،گھر سے بھاگی، بھگوڑی، منحوس، بازاری عورت، مکّار عورت، پیلی ٹیکسی، سائیکو رنڈی، گیراج میں ملاقات جیسے غلیظ  الفاظ کا بے دریغ استعمال کیا جاتا  ہے،آج ان گالیوں کا نشانہ بننے والی مریم نواز ہے۔

لیکن آج نہ ایوان میں مذمت کی گئی نہ  ہی ایوان سے باہر،بلکہ خود کو خود ہی شعور کا لائسنس دینے والے تو ان گندے ٹویٹس کو بڑے فخر سے شیئر کر کے داد بھی وصول کر رہے ہیں۔مولانا صاحب کا نوازشریف سے ملنا گمراہ کن، جبکہ اُسی مولانا صاحب کی  عمران خان صاحب سے ملاقات قابلِ ستائش۔
شیریں مزاری کے لییے استعمال کیا گیا فقط ایک لفظ گالی سے بھی بد تر۔۔مریم نواز کے لیے بیسیوں  بیہودہ گالیوں پر تالیاں۔۔
وینا جیسے لوگوں پر فخر کرنا اور پارٹی کے مخلص کارکن کے جائز اعتراض پر اس کی سرزنش کرنا۔
جس نے بائیس سال اچھے برے حالات میں ساتھ دیا ہے، اس کی ناقدری، اور دوسرے پارٹی کے کرپٹ رکن کو ویلکم پارٹیاں۔
کیا پارٹی کا یہی منشور تھا؟

سوال یہ ہے کہ خود کو باشعور کہلوانے والے ہمارے انصافی بھائیوں کا یہ دوہرا معیار کہاں سے شعور کی عکاسی کرتا ہے،آپ کے مزاج کے خلاف کوئی بولے تو وہ صحیح ہو کر بھی غلط، جبکہ آپ کی  ہاں میں ہاں ملانے والوں کو جنت کا ٹکٹ تھمایا جاتا ہے۔پارٹی سے محبت اور پارٹی کا دفاع کرنا آپ کا حق ہے اور سماجی فریضہ بھی، لیکن غلط کو غلط کہنا آپ کا اخلاقی و مذہبی فریضہ ہے،اور آپ لوگوں کا سابقہ منشور بھی،ایک دفعہ مذہبی فریضہ انجام دیں ، وللّہ اس رات پُرسکون نیند نہ  آئے،تو ہم سزاوار!

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *