میڈیا کی گمراہ کُن رپورٹنگ۔۔۔عبدالحنان ارشد

‎تین دن سے ناران میں ہی ہوں اور   دیکھ رہا ہوں  کہ میڈیا نے بغیر کسی تحقیق کے نہ تھمنے والے جھوٹ کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ جس نے لوگوں کو خوفناک حد تک ڈرایا ہوا ہے۔ چار دن سے یہی خبریں سن رہا ہوں کہ ناران میں ایک نہ روکنے والا طوفان آیا ہوا ہے۔ اور بقول اِن کے بابوسر ٹاپ تو مکمل طور پر بند ہو چکی ہے اور بہت سی گاڑیاں اور لوگ اس کی زد میں آ کر جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ ایسا کچھ بھی نہیں ہے بلکہ یہ سب  جھوٹ  سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔

نہ ہی کوئی راستے بند ہیں  نہ ہی دریاؤں میں  رتی بھر طغیانی آئی ہے۔ میں مانتا ہوں کچھ دیر کے لیے بابو سر ٹاپ کا راستہ جمعرات کی رات کو بٹہ کنڈی سے آگے تک بند ہوا  تھا لیکن   انتظامیہ نے  محنت کرکے نہایت قلیل وقت میں عوام کے لیے راستہ دوبارہ بحال کر دیا تھا۔ اور ٹریفک اپنی پرانی روٹین پر رواں دواں ہو گئی تھی۔میں بابو سر ٹاپ بھی گیا ہوں نہ ہی کہیں  کا راستہ بند ملا اور نہ ہی کنہار میں کسی طرح کی طغیانی دیکھی بلکہ وہاں کثیر تعداد میں لوگ رافٹنگ کرتے نظر آئے۔

اور تو اور میڈیا نے یہاں تک خبر پھیلا کر لوگوں کو خوفزدہ اور پریشان کردیا کہ فیصل آباد الائیڈ   ہسپتال کے پندرہ سے بیس ڈاکٹر وہاں ناران میں پھنس گئے ہیں۔ جن کی کوئی خیر خبر ہی نہیں ہے۔ جب اُن ڈاکٹروں سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا ہم تو بالکل خیرو عافیت سے ہیں اور برکھا رانی کے برسنے پر موسم کی اداؤں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ نجانے کیوں میڈیا  نے ہمارے متعلق یہ گمراہ کب خبر پھیلائی ہے۔
اس سارے واقعہ میں میڈیا نے تو اپنا گمراہ کن کردار ادا کیا ہی باقی جھوٹ پھیلانے کی کسر پاکستانی عوام نے پوری کردی۔ ایسی ایسی خبریں سنیں کہ ماروں گھٹنا اور پھوٹے آنکھ والا حساب تھا۔ کوئی کہتا بیس ہزار گاڑی پھنس گئی ہے کوئی کہتا ابھی تک سڑک  کھلی  ہی نہیں ہے۔ کوئی خبر پھیلا رہا ہے اتنے لوگ جاں  بحق ہو گئے ہیں۔ کوئی اس جھوٹ سے خود کو تسکین پہنچا رہا ہے کہ  لینڈ سلائیڈنگ بہت زیادہ ہو گئی ہے اب مانسہرہ سے ہی راستہ بند ہو گیا ہے۔ اب میں کیا کہوں ایسے لوگوں کو ۔۔

مین سٹریم میڈیا کی اسی  فضول رپورٹنگ سے ہفتہ کی شام سارا ناران بازار خالی پڑا تھا۔ حالانکہ ان دنوں میں ہفتہ اتوار ناران میں تل دھرنے کو جگہ نہیں ہوتی۔ لیکن اب کیا ہوا لوگ ڈر چکے ہیں باہر نکلنے سے پرہیز کررہے ہیں۔ جو نکل چکے ہیں انہیں فون کر کر کے واپس بلوا رہے ہیں۔ حد تو تب ہو گئی جب لوگ ناران جا کر بھی آگے بابو سر ٹاپ کے راستے کھلے ہونے کے باوجود واپس جانا شروع ہو گئے۔
‎مین سٹریم میڈیا کو چاہیے اپنا حق ٹھیک طور پر ادا کرے۔ لوگوں کو درست خبر نہیں دے سکتا تو نہ دے لیکن ایسی ‎ رپورٹنگ سے   اجتناب  برتے۔

عبدالحنان ارشد
عبدالحنان ارشد
عبدالحنان نے فاسٹ یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنس کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ ملک کے چند نامور ادیبوں و صحافیوں کے انٹرویوز کر چکے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ آپ سو لفظوں کی 100 سے زیادہ کہانیاں لکھ چکے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *