آگے بڑھنا ہے، تو پڑھنا ہے۔۔۔۔جاوید بلوچ

کرہ ارض پر رہنے والا ہر شخص کامیاب ہونا چاہتاہے ۔اور آگے بڑھنے کی جستجو ہمیشہ سے موجود رہتی ہے مگر بہت سے لوگ کامیابی کی خواہش اور تڑپ رکھنے کے باوجود ناکام ہوتے ہیں اور مطلوبہ مقصد کو حاصل نہیں کر پاتے اور اس کے برعکس بہت سے افراد خواب دیکھ کے ان خوابوں کو  تعبیر بھی کرتے ہیں اور کامیاب زندگی گزارتے ہیں ۔اب دونوں قسم کے لوگ کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں مگر کچھ کامیابی سے ہمکنار تو دوسرے ناکامی سے دوچار ہوتے ہیں ،وجہ صرف اور صرف کامیابی کے اصول ہیں، جس بندے میں کامیابی کی خواہش تو ہو مگر وہ اصولوں سے ناواقف ہو تو ایسے لوگوں کو صرف اتنا پتا ہوتا ہے   کہ انہیں کہاں جانا ہے، مگر کیسے اور کب جانا ہے،یہ معلوم نہیں ہوتا۔موجودہ وسائل کو کس طرح بروئے کار لاتے ہوئے آگے بڑھنا ہے؟ اس بات کا علم نہیں ہوتا۔

اب جب کامیابی اور آگے بڑھنے کی بات ہورہی ہے، تو اس فلسفے کو سمجھنا تھوڑا سا مشکل  ہے۔ کیونکہ ہر کسی کے لیے کامیابی کا مفہوم مختلف ہے ۔کوئی کامیابی علم، کوئی شہرت، دولت تو کوئی عزت احترام کو کامیابی سمجھتا ہے ۔اب یقیناً ان سب میں جہاں علم کامیابی ہے وہیں علم کی فضیلت بھی اپنی جگہ ایک اہمیت کی  حامل ہے جس کی وجہ سے شعوری اور لاشعوری طور پر انسان میں کئی تبدیلیاں رونما ہوتی  ہیں ۔

اب ان ساری باتوں کو نوجوانوں کے دل و دماغ میں لانے کے لیے ہر ذی شعور  کو آگے بڑھ کر ان دوستوں کو تھامنا ہوگا جو کسی بھی معاشرتی مسئلے کی وجہ سے علمی میدان سے دور ہیں، جنہیں اپنے آج کا بھی نہیں پتا۔۔مستقبل کی تو  بات چھوڑیے۔
جنہیں اس بات کا بھی علم نہیں کہ ان کے وجود سے کسی اور وجود کو کیا مل رہا ہے۔اور جنہیں اپنے دن رات کی  فضولیات سے وقت ہی نہیں ملتا کہ وہ معاشرے کی فلاح کے لیے سوچیں۔

بہرحال آگے بڑھنا ہے تو پڑھنا ہے والی بات پہ  عمل پیرا ہوکے ہم معاشرے کی بہتری کے لیے کچھ خاص کر سکتے ہیں۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *