وقت کا پرندہ ۔۔۔ فاطمہ حورین

وقت زندگی میں کبھی رکتا نہیں ہے۔ نہ ہی کسی کا انتظار کرتا ہے۔ یہ بس چلتا ہی جاتا ہے چاہے اچھا ہو یا برا پر کسی کے لئے یہ تھم نہیں سکتا۔ اس کی رفتار میں کمی کبھی نہیں آتی ہے۔ اس لئے ہمیں چاہئے وقت کی رفتار کے ساتھ ساتھ آگے بڑھتے جائیں اور پیچھے مڑ کر ماضی کی تلخیوں کو یاد مت کریں اور نہ ہی گزرے ہوئے اچھے وقت کو تلاش کرتے رہیں۔

وقت ایک خوبصورت دولت ہے۔ اور یہ دولت تقاضا کرتی ہے کہ اس کی قدر کی جائے اس کو ضائع مت کیا جائے کیونکہ انسان کی سستی اور کاہلی سے اگر وقت ہاتھ سے نکل گیا تو کبھی واپس نہیں آئے گا۔تاریخ گواہ ہے کامیابی اور کامرانی انہی کو نصیب ہوتی ہے جو وقت کی قدر کرتے ہیں اور ہاتھ پر ہاتھ در کے بیٹھے رہنے والوں اور خیالی پلاؤ پکانے والوں کی وقت بالکل قدر نہیں کرتا اور چپ چاپ سے ان کے پاس سے گزر جاتا ہے۔ ایک مشہور کہاوت ہے ہاتھ سے گیا وقت اور کمان سے نکلا تیر کبھی واپس نہیں آتا آج ہماری زندگی میں کمپیوٹر، مابائل فون اور بہت سے جدید آلات ہیں جن کے صحیح استعمال سے بہت سے فوائد حاصل ہوسکتے ہیں وہاں ان کا غیر ضروری اور بے جا استعمال آپ کا بہت سا قیمتی وقت ضائع کر دیتا ہے۔

وقت ایک ایسا آزاد پرندہ یہ ایک بار اڑ جائے تو کبھی لوٹ کر واپس نہیں آتا اس پرندے کو اپنے قابو میں رکھنا پڑتا ہے اور اس کے لئے بہت سی محنت درکار ہے۔ کسی انسان کی زندگی میں ہو سکتا ہے گزرا ہوا وقت ایک حادثہ ہو اور کسی کے لئے آج یہ وقت حادثہ ہو پر ہمیں ماضی کے حادثوں کو بھلا کر اپنا آنے والا وقت بہتر اور خوشگوار بنانا چاہئے ناکہ ماضی کی تلخ یادوں کو گلے سے لگائے رکھیں۔ اگر دولت چھن جائے تو انسان دوبارہ حاصل کر سکتا ہے لیکن اگر وقت گزر جائے تو دنیا کی کوئی بھی طاقت اسے واپس نہیں لاسکتی ہے۔ ہر گمشدہ چیز واپس مل سکتی ہے مگر وقت کا پرندہ اتنا ظالم ہے ایک بار ہاتھ سے نکل گیا تو کبھی واپس نہیں آسکتا ہے۔۔۔!

(بقول گلزار)
وقت رہتا نہیں کہیں ٹک کر
عادت اس کی بھی آدمی سی ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *