پٹھانوں کی مہمان نوازی۔۔۔ذیشان چانڈیہ

کچھ دن پہلے  میں صبح دس بجے کے قریب اٹھا اور اپنے دوست خیام کو کال کی کہ ہم بٹ خیلہ ملاکنڈ جا رہے ہیں تم سامان لے کے میرے پاس آ جاؤ۔ ہم نے اپنے دوست مرتضیٰ کو کال کی کہ ہم تمھارے پاس آرہے ہیں تو اس نے کھلے دل سے خوش آمدید کہا اور ہم اسلام آباد سے سہ پہر تین بجے روانہ ہو گئے ۔ ہمارا سارا سفر آرام دہ گزرا مگر جب ہم بٹ خیلہ پہنچے تب میری طبعیت ناساز ہو گئی ۔ ٹرمینل پر موجود لوگوں کو ہم نہیں جانتے تھے ،مگر وہ اتنے اچھے اور مہمان نواز لوگ تھے کہ ہمارا سامان اپنے پاس رکھا اور قریبی ہسپتال لے گئے، اتنے میں مرتضیٰ خیل بھی وہاں اپنے کزن ڈاکٹر منصور کے ساتھ آگیا۔ کچھ دیر بعد ہم مرتضیٰ کے گھر پہنچ گئے ۔ وہاں سب نے گرم جوشی سے ہمارا استقبال کیا اور خیریت دریافت کی ۔ رات کے دس بج چُکے تھے، ہم کافی تھکن محسوس کر رہے تھے تو سوگئے ۔

اگلے دن صبح اٹھے، ناشتہ کیا، آڑو کے باغات دیکھے اور دریائے سوات کے کنارے چلے گئے، جو بہت ہی پُر سکون جگہ تھی ۔ دریا کے ایک طرف ملاکنڈ، ایک طرف دِیرلوئر اور باجوڑ ایجنسی تھی۔ بہت ہی دلکش نظارہ تھا ،ہم وہاں بیٹھے تاش کھیلتے رہے اور موسم سے لطف اندوز ہوتے رہے ۔ ہم دوپہر کو ایک مقامی ہوٹل پر گئے وہاں کھانا کھایا کیونکہ وہاں کی مچھلی بہت مشہور ہے ۔ مرتضیٰ خیل، ڈاکٹر منصور اور ان کے باقی کزنز نے کسی چیز کی کوئی کمی محسوس نہیں ہونے دی ۔کچھ دیر وہاں رکنے کے بعد ہم دِیر لوئر سے ہوتے ہوئے باجوڑ پہنچے ۔ باجوڑ انتہائی پُر امن اور خوبصورت جگہ ہے یہاں کے لوگ بہت اچھے اور مہمان نواز ہیں ۔ ہم دریائے پنجکور کے کنارے رُکے، کچھ تصاویر بنائیں۔ مقامی افراد انتہائی گرم جوشی سے ملے اور خوش آمدید کہا ، مجھے بہت خوشی ہوئی یہ سب دیکھ کر ۔ ان لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ایک عارضی چئیرلفٹ بنائی ہوئی ہے جس سے دریا عبور کرتے ہیں ۔ شام ہونے لگی تھی ہم کلنگی ، طوطہ کان سے ہوتے ہوئے مرتضیٰ کے گھر پہنچے اور میں راستے میں یہی سوچتا رہا کہ پٹھان قوم اتنی مہمان نواز اور عزت دینے والی ہے اور لوگ بغیر دیکھے پٹھانوں کے کلچر کو بدنام کر رہے ہیں ۔ ہم واپس پہنچے فریش ہوئے تو باہر مارکیٹ میں چلے گئے ،مغرب کا وقت تھا ،بچے گلیوں میں کھیل رہے  ہیں،ہنسی خوشی اپنے کام کر رہے ہیں ایک دوسرے کو مل رہے ہیں ۔ بچے بڑے سب ہمیں مل رہے ہیں اور سلام دعا کر رہے ہیں حالانکہ ہم نہیں جانتے صرف انہیں یہ پتا ہے کہ ہم یہاں مہمان آئے ہوئے ہیں ۔ میں اور خیام کچھ ضرورت کی چیزیں خریدنے دکان پر گئے انہوں نے پیسے لینے سے انکار کر دیا کہ آپ ہمارے مہمان ہیں۔ اسی طرح ایک میڈیکل اسٹور پر گئے تو انہوں نے بھی پیسے لینے سے انکار کر دیا ۔ مہمان نوازی کا یہ جذبہ دیکھ کر دل کو اتنی  خوشی ہوئی کہ شاید زندگی میں مجھے کبھی کسی بات پر ہوئی ہو۔ میں نے خیام سے کہا اللہ بیڑہ غرق کرے ان لوگوں کا جنہوں نے پٹھان قوم کے کلچر کو بدنام کیا۔ رات کا وقت ہے اور ہم مارکیٹ میں گھوم پھر رہے ہیں کسی قسم کی پریشانی نہیں کہ ایک وقت یہاں طالبان ہوا کرتے تھے یا کبھی کچھ ہوا ہوگا۔ اس سے زیادہ پر سکون اور پر امن جگہ میں نے آج تک نہیں دیکھی سب کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔ اپنی زندگی میں جو سکون میں نے یہاں پایا اس سے پہلے کبھی کہیں نہیں پایا۔ اگلے دن ہم صبح اٹھے اور سوات کے لئے روانہ ہوئے ۔ راستے میں بہت سے تاریخی مقامات دیکھے اور معلومات حاصل کیں ۔ ہم شامیزئی سوات پہنچے اور کھانا کھایا۔ یہ اتنہائی خوبصورت جگہ تھی پھر ہم وہاں سے مدین اور بحرین گئے ڈاکٹر منصور بھائی دو دن سے مسلسل گاڑی چلا رہے تھے وہ بھی کافی تھک چکے تھے اور ان کے پاؤں پر بھی چوٹ لگی ہوئی تھی تو ہم نے واپسی کا فیصلہ کیا۔ منگورہ سوات پہنچے تو ہم نے مرتضیٰ لوگوں کو خیرباد کہا اور اسلام آباد کے لیے روانہ ہوگئے ۔ یوں ہمارا سفر اختتام کو پہنچا۔ یہ میری زندگی کا انتہائی حَسین سفر تھا کیونکہ جو عزت اور محبت وہاں کے لوگوں نے دی میں کبھی اسکو نہیں بھُلا سکتا۔ ملاکنڈ، دیر، باجوڑ ،سوات آپ لوگ جائیں ان علاقوں میں یہ انتہائی خوبصورت علاقے ہیں اور آپ کبھی مایوس نہیں لوٹیں گے یہاں سے کیونکہ یہاں کے لوگ بہت پر امن ، خوش اخلاق، خوش مزاج اور مہمان نواز ہیں ۔

Zeeshan Chandia
Zeeshan Chandia
مسلم یوتھ یونیورسٹی اسلام آباد میں انٹرنیشنل ریلیشنز کا طلب علم ہوں ۔ Zeeshanchandia05@gmail.com

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *