فاطمہ حورین کی تحاریر

دیسی لبرلز کا مسئلہ ۔۔۔ فاطمہ حورین

ایک طرف جعلی لبرلز اور دیسی فیمنسٹ کہتے ہیں ہمارا جسم ہماری مرضی تو دوسری طرف خاتون اول کے پردے کا مذاق اڑاتے ہیں۔ ‏طنز و مزاح کے نام پر دیسی لبرلز کے پاس ہر کسی کا مذاق اڑانے کا لائسنس ہے اور اگر کوئی انہیں کوئی جواب دے تو “می ٹو” ہوجاتاہے۔ آزادی صحافت خطرے میں آجاتی ہے۔←  مزید پڑھیے

خودکشی ۔۔۔ حورین فاطمہ

جوانی کے جذبات میں بہہ کر کچھ تو راہ فرار حاصل کر لیتے ہیں۔ مگر کچھ زندگی کے آگے گھٹنے ٹیک دیتے ہیں اور فلمی محبتوں کے راستے پر چل کر ہمیشہ امر ہونے کے بہکاوے میں خودکشی کو ترجیح دیتے۔ اس دوران وہ ایک بار بھی اپنے ماں باپ کے متعلق نہیں سوچتے۔←  مزید پڑھیے

شیطان۔۔۔۔فاطمہ حورین

شیطان کیا ہے؟ شیطان ہر انسان میں اس کی حیثیت کے مطابق پایا جاتا ہے چاہے وہ مرد ہو یا پھر خواتین۔ ویسے تو عام طور پر کوئی بچہ شرارت کردے تو اسے بھی شیطان کے نام سے پکارا جاتا←  مزید پڑھیے

زندگی ۔۔۔ فاطمہ حورین

میرے لیے زندگی احساسات کا نام ہے جو کسی بھی تعلق سے محبت سے جڑے رہنے میں نظر آتی ہے۔ زندگی تو چلتی گاڑی کا نام ہے جو اپنے ساتھ لوگوں کا ہجوم ہمہ وقت ساتھ لیے چلتی ہے اور مختلف جگہوں پر قیام کرتی مگر رکتی ہرگز نہیں ہے۔ زندگی خوشیاں بانٹنے کا نام ہے کسی کی خوشی میں خوش رہنے کا نام ہے۔ زندگی تو کسی عاشق کی محبوبہ کا نام ہے جو روٹھ جائے تو اسے لاکھ جتن کرکے پیار سے منایا جاتا ہے اس کی خواہشات پوری کرنے کے لیے جدوجہد مسلسل جاری رکھنی پڑتی ہے۔ زندگی کی گاڑی جس دن آخری سٹیشن پر پہنچ گئی اس دن صرف چار کندھوں کے اور مٹی کے ڈھیر کے اوپر چند پھولوں کی پتیوں کے سوا کچھ بھی نہیں۔۔۔!←  مزید پڑھیے

فاطمہ کی آخری سہیلی ۔۔۔ فاطمہ حورین

دنیا کا ماننا ہے کہ قدرت کی طرف سے انعم کی موت لکھ دی گئی تھی لیکن مجھے آج بھی کئی سوالات کے جوابات نہیں مل سکے۔ مجھے آج بھی لگتا ہے کہ اس کا قتل ہوا۔ اس کے شوہر اور ساس نے بیٹے کی پیدائش کے لیے اسے بہت اذیت پہنچائی اور وہ اسی صدمے کو ساتھ لیے دنیا سے رخصت ہو گئی!←  مزید پڑھیے

بندر نما دانشور۔۔۔فاطمہ حورین

ویسے تو سوشل میڈیا دانشوروں سے بھری پڑی ہے بلکہ یہ کہنا درست ہو گا کہ یہاں عام بندہ موجود ہی نہیں، سب ہی خاص ہیں مطلب دانشور ہیں یا یوں کہہ لینا بھی مناسب ہو گا کہ اپنے آپ←  مزید پڑھیے