دیسی لبرلز کا مسئلہ ۔۔۔ فاطمہ حورین

ایک دیسی لبرل اپنی ہی ذات میں ایک خود ساختہ دانشور، کالم نگار اور بہت ہی جدید قسم کا تجزیہ نگار ہوتا ہے۔ ان کے ساتھ بحث ہو جائے تو یہ پہلے تو انگریزی زبان میں لیکچر شروع کر دیں اور اگر اس سے بھی بات نہ بنی تو اپنی علاقائی زبان میں گالیاں دینا شروع کردیں گے۔

دیسی لبرل جب تک ملک میں ہوتے ہیں صرف فوج اور اداروں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں پر ایک بار ملک سے باہر نکل جائیں یا اسائیلم لے لیں تو مذہب کو متنازع بنانا شروع کر دیتے ہیں۔ دیسی لبرلز کا یہ مخصوص ٹولا جن کا کوئی مذہب یا عقیدہ نہیں ہے ان کو یہ لگتا ہے خدا نے اس زمین پر تمام تر علم ان کے سپرد کر دیا ہے اور اس نایاب اور کام یاب علم کے یہ اکلوتے وارث ہیں۔ ہر موضوع چاہے وہ سیاسی ہو یا غیر سیاسی، سب سے الگ بات کرنا پسند کرتے ہیں۔ یہ اپنے آپ کو ماڈرن سمجھتے ہیں اور خود کو سب سے منفرد دکھانا چاہتے ہیں۔ کھلی گفتگو کرتے ہیں، مذہبی لوگوں کو کم علم سمجھتے ہیں اور خود کو عقل قل سمجھتے ہیں۔ یہ اپنے ماں باپ سے بھی تنگ ہوتے ہیں۔ ان کو اپنی خاندانی براؤن چمڑی بھی پسند نہیں ہوتی۔ یہ خود کو کوستے رہتے ہیں اور سب سے زیادہ سڑیل مزاج کہ ہوتے ہیں۔

ایک طرف جعلی لبرلز اور دیسی فیمنسٹ کہتے ہیں ہمارا جسم ہماری مرضی تو دوسری طرف خاتون اول کے پردے کا مذاق اڑاتے ہیں۔ ‏طنز و مزاح کے نام پر دیسی لبرلز کے پاس ہر کسی کا مذاق اڑانے کا لائسنس ہے اور اگر کوئی انہیں کوئی جواب دے تو “می ٹو” ہوجاتاہے۔ آزادی صحافت خطرے میں آجاتی ہے۔

دیسی لبرل خواتین کو سب ایسی ویب سائیٹس کا علم ہوتا ہے جو عام خواتین کو نہیں معلوم ہوتیں۔ مثلاً ان سے بحث ہو جائے تو یہ طعنہ مار دیں گی سارا دن VPN استعمال کرنے والی اور گندی فلمیں دیکھنے والی عوام اب ہمیں باتیں سنائے گی۔ چونکہ یہ خود یہ چیزیں دیکھتے رہتے ہیں اس لیے سب کو اسی نظر سے دیکھتے ہیں۔ پہلے تو بے حیائی پھیلاتے ہیں فوٹو شوٹ کرواتے ہیں پھر ان کو کوئی چھیڑ دے تو “می ٹو” اور “میرا جسم میری مرضی” جیسے نعرے لگائے جاتے ہیں۔

حالیہ دنوں میں یاسر اور اقراء کی وڈیو زیر بحث رہی۔ مذہبی طبقے نے شدید تنقید اور دیسی لبرلز نے حمایت میں قلم چلایا ہے۔ پاکستان اسلام کے نام پر بنایا گیا ہے اور اس طرح کی حرکات ٹی وی چینلز پر نشر کرنا قابل مذمت ہیں۔ بصورت دیگر آنے والی نسلوں میں ایسی حرکات عام نظر آئیں گی اور مزید بے حیائی پھیلے گی۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *