خودکشی ۔۔۔ حورین فاطمہ

انسان یہ کیوں نہیں سوچتا کہ زندگی بہت بڑی نعمت ہے اور ایک ماں کیسے درد برداشت کرتی ہوئی اپنی اولاد کو جنم دیتی ہے؟ یہ اولاد تو ماں کے گوشت کا حصہ ہوتی ہے۔ باپ کا خون ہوتی ہے۔ پتہ نہیں کتنے جتن کتنی مرادوں کے بعد اولاد اس دنیا میں آتی ہے۔ اولاد کے دنیا میں آنے سے پہلے ہی ماں باپ اس کے لیے نت نئے ملبوسات کی خریداری شروع کردیتے ہیں۔ اولاد کی پیدائش پر پورے علاقے میں مٹھائی تقسیم کی جاتی ہے تمام اہل و عیال کی مشاورت سے بچے کا نام رکھا جاتا ہے۔

پھر بچے کی پرورش شہزادوں کی طرح کی جاتی ہے۔ اس کی ہر ضرورت ماں باپ اپنا پیٹ کاٹ کر بھی پورا کرتے ہیں۔ بچہ تھوڑا سا سنبھلتا ہے تو اسے کھیلنے کے لیے طرح طرح کے کھلونے خرید کر دیے جاتے ہیں۔ باپ گھوڑا بن کر بچے کو سواری کرواتا ہے تو کبھی کندھوں پر بٹھا کر دنیا کی سیر کرواتا ہے۔ بچے کی ہر سال سالگرہ دھوم دھام سے منائی جاتی ہے۔

پھر جیسے ہی بچہ تھوڑا سا بڑا ہوتا ہے اسے کسی اچھے سے سکول میں داخل کروایا جاتا ہے تاکہ یہ اچھے طریقے سے علم حاصل کر سکے۔ اگلے کچھ سالوں تک بچہ جوان ہو جاتا ہے۔ سکول سے کالج تک پہنچ جاتا ہے اور کسی لڑکی کے عشق میں گرفتار ہوجاتا ہے۔ محبت کے وعدے عہد و پیمان کیے جاتے ہیں ساتھ جینے مرنے کی کسمیں کھاتی جاتی ہیں پھر ایک دن لڑکی کے گھر والے اس کی شادی کہیں اور کرنے لگتے ہیں۔ بچے یہ نہیں سوچتے کہ آج ہم جو کچھ ہیں والدین کی بدولت ہیں۔

جوانی کے جذبات میں بہہ کر کچھ تو راہ فرار حاصل کر لیتے ہیں۔ مگر کچھ زندگی کے آگے گھٹنے ٹیک دیتے ہیں اور فلمی محبتوں کے راستے پر چل کر ہمیشہ امر ہونے کے بہکاوے میں خودکشی کو ترجیح دیتے۔ اس دوران وہ ایک بار بھی اپنے ماں باپ کے متعلق نہیں سوچتے۔ کیا ہم اتنے خودغرض ہو چکے ہیں کہ ہمیں اپنے سوا کوئی دکھائی نہیں دیتا؟ ہم تو ذرا سا روتے ہیں تو ماں باپ کا سینہ چھلنی ہو جاتا ہے پھر ہم یہ کیوں نہیں سوچتے کہ اگر ہماری لاش کو کندھا ہمارے باپ کو دینا پڑا تو وہ ایک دن میں سو سال کے برابر بوڑھے ہو جائیں گے۔ انہیں کون سنبھالے گا؟ کون ان کا آسرا بنے گا؟ ہماری ماں زندہ لاش بن جائے گی۔ ہم کیوں نہیں سوچتے جب ہم کوئی ایسا قدم اٹھانے لگتے ہیں۔

ہمارے جوان انتہائی خود غرض کیوں ہو جاتے ہیں؟ کیوں ماں کی لوریاں اور بہن بھائیوں کا پیار اور بھائی کی شفقت ہمارے اس اقدام کے آڑے کیوں نہیں آتی؟ آخر کیوں؟ ایک بار تو سوچئے، زندگی پھر کبھی موقعہ نہیں دیتی، ایک ہی بار ملتی ہے۔ اسے خود کشی کرکے، حرام موت مر کے ضائع مت کریں۔ اپنے ماں باپ کے بارے میں سوچیں وہ زندہ لاش بن جائیں گے!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *