• صفحہ اول
  • /
  • سائنس
  • /
  • تاثر کیسے انسانی تعلقات میں مداخلت کرتا ہے؟۔۔۔۔ایم جبران عباسی

تاثر کیسے انسانی تعلقات میں مداخلت کرتا ہے؟۔۔۔۔ایم جبران عباسی

انھوں نے کوشش کی بات کو سمیٹیں ، مختصر لفظوں میں اپنا مدعا بیان کیا ، بے جا ’’ میں میں ‘‘ سے پرپیز برتا ، اپنی شخصیت کا مبالغہ آمیز تاثر چھوڑنے کی کوئی کوشش نہ کی ۔ اور بولے میری نظر میں مختصر مکالمہ کرنے والوں کی پرسیپشن بڑی اچھی ہے ۔ ایسے گفتار سے کبھی تعلق نہیں  بنا اگرچہ کچھ لڑکے چند خصوصیات کے حامل دیکھے ہیں ۔

کسی دانش ور سے پوچھا گیا ، اتنے خوش و خرم زندگی کاٹ رہے ہو ، راز کیا ہے ؟۔ اس نے جواب دیا ، ’’ میں بے وقوف لوگوں سے بحث نہیں  کرتا‘‘ ۔ پھر کیا کرتے ہو ؟۔ میں انھیں جواب دیتا ہوں ’’آپ ٹھیک کہہ  رہے ہیں‘‘ ۔ پوچھنے والے نے پھر چول ماری ! پھر بھی آپ کو اپنی بات یا موقف منوانے کیلئے اپنے سامعین کو کچھ دلائل تو دینے پڑتے ہوں گے۔ دانش ور نے تاریخی جواب  دیا ’’ آپ ٹھیک کہتے ہیں ‘‘۔

انسان کی جبلت ہے برتری کی ، نفسیاتی احساس کامیابی کو محسوس کرنے کی اور اپنی شخصیت کو منوانے کی ۔ دو طریقے انسان اختیار کرتے ہیں اول تو حقیقی جہدو جہد کر کے  زندگی کو کسی اچھے مقام تک لانا ، ایسے لوگ بڑے ناسٹیلجک ہوتے ہیں ، وہ یہ باور نہیں  کروانا چاہتے ،وہ اب کون ہیں ۔۔بلکہ کیوں اور کیسا ہوں، ان کیلئے اہم ہے ۔

دوئم کچھ لوگوں کی خصلت ہوتی ہے باتوں باتوں میں اپنی شخصیت کا مبالغہ آمیز تاثر چھوڑ کر سامع کو متاثر کیا جائے ۔ وہ بار بار یہ باور کروانا چاہ  رہے ہوتے ہیں کہ  وہ کتنے ’’ اہم ‘‘ ہیں ۔

مسٹر بارک حسین اوبامہ نے اپنی آٹو بائیو گرافی میں اپنے کینیائی  والد کی شخصیت کا تفصیلاً نقشہ کھینچا ہے حالانکہ باپ بیٹے کا تعلق دو چار سالوں تک ہی براہ را ست رہا اور بیشتر خط و کتابت ہی رہی ۔ پھر بھی اوبامہ لکھتے ہیں کہ میرے باپ نے اپنا تاثر بہت اونچا بنا رکھا تھا ۔ میرے لیے  اسے نظر انداز کرنا بہت مشکل تھا ۔

تاثر یعنی امپریشن ہی دراصل کامیابی کی پہلی کنجی ہے ، خاص کر کارپوریٹ سیکٹر اور کمرشلز بناتے وقت اس کا خاص خیال رکھا جاتا ہے ۔ مگر انسانوں کا سوشل ریلیشن میں اس کا خاص خیال رکھنا بھی خاصا دلچسپ ہے ۔

تاثر انسانی نفسیات کو کیسے متاثر کرتا ہے ؟ انسان جلد یا بدیر دوسرے انسان سے فتح ہو جاتا ہے ؟۔

انسان ہر وقت مقابلے کی کیفیت ، برتری اور کمتری کے احساسات کے نیچے کام کر رہا ہے ، وہ اپنے کام سے زیادہ مدمقابل کے کام کو فوکس کر رہا ہے ۔ جیسے جابز کمپٹیشن اور سیلری ڈیفرنسز وغیرہ ۔ انسان سچائی  کے ساتھ  زیادہ دیر تک گزارا نہیں  کر سکے گا ، لازماً وہ جھوٹ کی ڈھال بھی بنانا چاہے گا ۔ اب سارے لوگ جھوٹ بولنا پسند نہیں  کرتے ، وہ صرف سچ میں ہی تھوڑی سی ترمیم کر کے اپنا نظام چلا لیں گے  ۔ یہی مبالغہ آرای کا منبع ہے ، اب یہ چیزیں باقائدہ کارپوریٹ سیکٹر میں پراڈکٹ کی فروخت کیلئے ، بینکرز ، ایجنٹ ، سیاستدان وغیرہ باقاعدہ سیکھ رہے ہیں ۔ ان کاموں کے لیے  ’’ اچھا تاثر ‘‘ ضروری ہے ۔

لوگ جنھوں نے حقیقی معنوں میں کام کرنا ہو وہ ان چیزوں میں شامل نہیں  ہوتے البتہ متاثر ضرور ہو جاتے ہیں جیسا کہ سوشل میڈیا کے  ای   پروپیگنڈہ دور میں ہمیں ہر دوسرا آدمی اپنی ایکٹوٹیز شئیر کرتا نظر آتا ہے ۔

تاثر مثبت بھی ہے منفی بھی ، یہ مقصد تک محدود ہے کہ آپ کا کیا مقصد ہے ۔ یہ صرف  ذاتی تشہیر تک محدود نہیں  بلکہ اس سے خیالات ، اپروچ اور  زندگی کے نظریات تک بھی رسائی  ہو جاتی ہے ، یہ تاثر بہت مفید ہے اور آپ کو ہم خیال لوگوں کے ملنے کا امکان بھی بڑھ جاتا ہے ۔  ذاتی تشہیر جیسا کہ سوشل میڈیا کی ساٹھ فیصد سے زائد کمیونٹی اپنی تصاویر وغیرہ ہی شائع کرنے تک محدود ہے ۔ پھر چند ادارے یا لوگ پیڈ پروپیگنڈہ پھیلا کر سچائی  کو متاثر کر دیتے ہی ۔

بہترین تاثر وہ لوگ بنا سکتے ہیں جن کے اندر سوشل سینس ہے ، جو تحزیوں اور خبروں کے علاوہ کئی دیگر  ذرائع سےبھی معلومات حاصل کرتے ہیں جن میں ایک اہم  ذریعہ اپنے دماغ کا استعمال بھی ہے

کیا اچھے تاثر کیلئے شعور کا ہونا لازمی ہے ؟۔۔۔

دیکھیں آپ کا تاثر یا شخصیت کا امپریشن آپ کے علم کے درجے پر منحصر ہے اور پھر صحبت وغیرہ ۔ اچھے تاثر کیلئے شعور و آگاہی کا ہونا یوں بھی لازمی ہے جتنا زیادہ آدمی سمجھدار ہو گا اتنا زیادہ مختصر بولے گا اور وائس پولیشن کم ہو گا ۔ زیادہ بولنے والے آدمی صرف خود کو مطمئن کر رہے ہوتے ہیں اور جسٹیفائی کر رہے ہوتے ہیں ۔

تاثر امپریشن یہ ایک پُراسرار راز ہے ، اسے سب سے زیادہ قدرت یا قادر مطلق کی ذات نے موثر ترین استعمال کیا ہے ، قادرمطلق کی  ذات کیسی دکھتی ہے کوئی  خیال تک نہیں  کر سکتا مگر تاثر یہ ہے وہ   انسان کے سینوں میں رہتا ہے اور زمینوں اور آسمانوں سے وسیع ترین ہے ۔ غور کیا جائے ہم کسی دوسرے کو نہیں  جانتے ماسوائے اس کے دیے گئے تاثر کو ۔

میرا ذاتی تجربہ ہے ۔ میرے کالج کے دو پروفیسر ہیں ، دونوں سے لیکچر لیے  ، ایک کا مضمون چونکہ میرے مزاج سے ہم آہنگ تھا تو میں بھرپور دلچسپی لیتا رہا ، دوسرا مضمون فضول سا لگتا تو میری دلچسپی بھی مفقود رہی ۔ ایک ہی دن اتفاقاً دونوں کا ریو سننا ۔ دونوں کے ریویوز سے مجھے واقع یہ فرق محسوس ہوا آپ کے ہاں تاثر کی کیا اہمیت ہے ۔ جتنی  بڑی  شعبدہِ باز ی اتنی  کامیابی ۔ یہ اصول آج سیاست اور معشیت سے لے کر انفرادی شخصیت تک رائج ہے اور رہے گا ۔

تاثر اور رویے انسانی تعلقات بنانے میں بہت اہم کردار بناتے ہیں ، تعلقات کی نوعیت کے لحاظ سے امپریشن اور رویہ اپنایا جاتا ہے ، یہ انسان کا سوشل سینس ہے جو ارتقا ء شُد ہ ہے اور غیر اختیاری ہے ۔ بہرحال سچائی  سادہ ہے بالکل وائٹ بورڈ جیسی جسے ہم مارکر سے سیاہ کرتے ہیں ، حالانکہ ہم پُرخلوص ہوتے ہیں کہ زندگی کے بورڈ پر بہت سے آنے والے دوسروں انسانوں کی ’’ حقیقتوں ‘‘ کو یاداشت میں محفوظ  کریں مگر دراصل وہ دوسرے انسان کی سچائی نہیں  ،اس کا تاثر یعنی امپریشن ہوتا ہے ، دھوکہ نہ دیجیے نہ کھائیے ۔

Avatar
جبران عباسی
میں ایبٹ آباد سے بطور کالم نگار ’’خاموش آواز ‘‘ کے ٹائٹل کے ساتھ مختلف اخبارات کیلئے لکھتا ہوں۔ بی ایس انٹرنیشنل ریلیشن کے دوسرے سمسٹر میں ہوں۔ مذہب ، معاشرت اور سیاست پر اپنے سعی شعور و آگہی کو جانچنا اور پیش کرنا میرا منشورِ قلم ہے ۔ تنقید میرا قلمی ذوق ہے ، اعتقاد سے بڑھ کر منطقی استدلال میری قلمی میراث ہے ۔ انیس سال کا لڑکا محض شوق سے مجبور نہیں بلکہ لکھنا اس کا ایمان ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *