• صفحہ اول
  • /
  • ادب نامہ
  • /
  • نوّے کی دہائی اوراس کے بعد کے کچھ نمایاں غزل گو (مختصرترین انتخابِ کلام کے ساتھ)۔۔۔۔۔۔ رحمان حفیظ/قسط2

نوّے کی دہائی اوراس کے بعد کے کچھ نمایاں غزل گو (مختصرترین انتخابِ کلام کے ساتھ)۔۔۔۔۔۔ رحمان حفیظ/قسط2

شاعر:عامر سہیل ( بہاول نگر ، پاکستان)

عامر سہیل ایک دور افتادہ اور چھوٹی سی جگہ پر رہ کر بھی بڑا کام کرنے کا متمنی رہا ہے اور اس کی دُھن دیکھیے  کہ اس نے محض ایک ڈیڑھ عشرے کے مختصر دورانیے  میں سات آٹھ شعری مجموعے ادبی دنیا کے سپرد کیے ہیں، جن میں عمدہ شعری نمونے بآسانی دستیاب ہیں۔ اس کا جتنا زیادہ کلام اس عرصے میں چھپا ہے اس میں اتنا ہی تنوّع موجود ہےسو یہ کلام آپ اپنا جواز پیش کرتاہے۔

عامر سہیل کہیں کائناتی مسائل کو موضوع بناتا ہے تو کہیں بین الاقوامی تناظر میں انسانیت کے مسائل پر لکھتا ہے۔ کہیں اس کی اپنی ذات کے آشوب کی جھلک ملتی ہے تو کہیں روحانیت اور تصوف کی طرف دھیان جاتا ہے ۔وہ کہیں اظہار کے لیے  غزل پہ تکیہ کرتا ہے تو کہیں نظم کے میدان میں جان مارتا ہے۔ انواع و اقسام کے اس شعری ذخیرے سے ایک سخت بے چین ، مضطرب مگر ہمت والے اور محنتی تخلیق کا ر کا تصوّر ابھرتا ہے جو نہ صرف اظہار کے قرینے میں تبدیلی کا خواہش مند ہے بلکہ وہ اپنی ہر جانب دیکھتی ہوئی آنکھ کی مدد سے پے در پےملکی و عالمی حالات وواقعات اور باطنی کیفیات کی منظر کشی میں مصروف ہے۔

عشق میں بھی وہ محض ایک روایتی رونے دھونے والا عاشق یا خود ترحمی اور عاجزی سے بھر پور شاعری کرنے والا شاعر نہیں بلکہ وہ عشق کو ایک معاشرتی حقیقت کے طور پر لیتا ہے۔ اس کا محبوب گوشت پوست کا انسان ہے جو اسی دنیا کا ہے جس میں عامر سہیل خود قیام پذیر ہے۔ اس کے عشقیہ حوالے وجودی اور حقیقی ہیں۔ جہاں تک اس کے فکری رویے کی بات ہے تو وہ ایک ایسا باغی ہے جو بغاوت میں سب کچھ تہس نہس نہیں کر دینا چاہتا ہے۔ وہ ایک ایسا دیوانہ ہے جو صاحبانِ شعور سے زیادہ حقیقت جاننے والاہے۔ گویا وہ ہمہ تن کشمکش کا شکار ایک ایسا تخلیق کار ہے جس کے لیے روایتی انداز اظہار اور پرانے سانچے ناکافی ہوں۔ مختصراً  یہ کہنا چاہیے  کہ اظہار کی دیانت اس کا سب سے بڑا مسئلہ  ہے جس پر وہ کوئی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہتا۔

تجھ حسن کی ترکیب میں کیا کیا ہیں عناصر
مٹی سے کوئی دوجا صحیفہ نہیں بننا

اعراف کے مجذوبوں یا غلمان میں رکھ لے
مجھ کو تری دنیا کا خلیفہ نہیں بننا

تمہارے بولتے اعضا پلک سے چھو چھو کر
یہ رات آئینہ کی ہے ، یہ دن تراشا ہے

میں بے زباں نہیں جو بولتا ہوں لکھ لکھ کر
مِری زبان تلے زہر کا بتاشہ ہے

جہان بھر سے جہاں گرد دیکھنے آئیں
کہ پتلیوں کا مِرے ملک میں تماشا ہے

ذرا نہ رات کا ہو شائبہ شبستاں پر
وہ آنکھ اٹھائے تو ہر سْو چراغ جلتا ہو

میں پڑھتا ہوں اکیلے میں یہ تختی
ترے ہونٹوں کی سینے پر سند ہے

جینے کی دوڑ میں مِرا سب سے یقیں اٹھا
پرہیز دھوپ سے ، کبھی چھاؤں کی احتیاط

محنت سب سے سستی ہے
کھیت نہیں دہقان خرید

میں مجید امجد سے ملتا تو انہیں کہتا کہ یار
شعر بھی ہو، چادرِ شالاط بھی میلی نہ ہو!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *