شیطان۔۔۔۔فاطمہ حورین

شیطان کیا ہے؟ شیطان ہر انسان میں اس کی حیثیت کے مطابق پایا جاتا ہے چاہے وہ مرد ہو یا پھر خواتین۔ ویسے تو عام طور پر کوئی بچہ شرارت کردے تو اسے بھی شیطان کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ شیطان ایک ماہر نفسیات ہے یہ فرد کی ذہنی صحت پر حملہ آور ہوکر خاندانی نظام کو نشانہ بناتا ہے۔

دلوں میں وسوسے پیدا کرتا ہے یقین پر سوال پیدا کرتا ہے۔ خیال کو منتشر اور عمل کو کمزور کرکے لطف اٹھاتا ہے۔چونکہ شیطان کا کام ہی دلوں میں وسوسے پیدا کرنا ،انسان کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت پر حاوی ہو جانا ہے۔

اس سے شیطان انسان کو اپنے کنٹرول میں کرلیتا ہے اور انسانی رشتوں میں دوری کا باعث بنتا ہے ہر برے کام کی طرف انسان کو کھینچتاہے ،ہر جرم میں ملوث پایا جاتا ہے انسان تو اشرف المخلوقات ہے اور شیطان ازل سے انسان کا دشمن ہے۔ مثال کے طور پر میاں بیوی میں سرد مہری ہوجائے تو Extra_marital affairs کی راہ ہموار کرتا ہے احساس گناہ توجہ اور تحریک سے محروم کردیتا ہے اسی طرح عام زندگی میں بہت سے پہلو ہیں جو انسان کے اندر پائے جانے والے شیطان کے کنٹرول میں جیسا کہ کنوارے لڑکوں کو لڑکیوں کی طرف متوجہ کرتا ہے لڑکے اس طرح شیطان کے کنٹرول میں آجاتے ہیں کہ بہک کر لڑکیوں کا تعاقب شروع کر دیتے ہیں ان کو تنگ کرنا کسی بھی طرح موبائل نمبر یا سوشل میڈیا اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کرکے لڑکیوں کو تنگ کرنا شروع کر دیتے ،پیار محبت کے جال میں پھنسانے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔

اصل میں یہ سب ان کے اندر کا شیطان کر رہا ہوتا ہے ان کو خود اس بارے میں کوئی علم نہیں ہوتا ہے۔ شیطان کے پاس انسان کا ضروری Data موجود ہے اپنے مقاصد کے حصول کے لیے نفسیاتی حربے استعمال کرتا ہے۔ ذہنی پیچیدگیاں پیدا کرکے فرد کی نفسیاتی صحت کو نقصان پہنچاتا ہے۔ انسان اعصابی دباو محسوس کرتا ہے جس سے اس کی سماجی اور پیشہ وارانہ زندگی میں فیصلہ سازی کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔

میاں بیوی کے تعلقات کو خراب کرنے کے بعد اس کا اگلا نشانہ والدین اور بہن بھائی ہوتے ہیں یہ سب رشتوں کا آہستہ آہستہ کمزور کر دیتا ہے اب انسان کے اپنے ہاتھ میں ہے کہ یہ اپنے نفس پر کیسے قابو پاتا ہے شیطان خاص اپنے بارے میں شکوک پیدا کرتا ہے اگر ہم یقین کرلیں کہ شیطان کا کوئی وجود ہی نہیں ہے تو یہ ہمیں مزید گمراہ کرتا رہتا ہے اور اس سے کئی مذہبی تصورات پر انسانی عقیدہ کمزور پڑھ جاتا ہے خالص شیطان کے لیے متنازع بننا کوئی گھاٹے کا سودا نہیں ہے ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *