آئی کو کون ٹال سکتا ہے؟ ۔۔۔ معاذ بن محمود

حضور اقدس کی تعلیم سادہ بی ایس سی ہے جبکہ دیگر تعلیمات میں جنگی علوم شامل ہیں۔ جناب کے پاس کمرشل ائیرلائن انڈسٹریاور کمرشل فلیٹ چلانے کے لیے درکار سول ایوی ایشن اور بین الاقوامی معاہدوں کے تحت تعین کردہ تجربہ بھی نہیں۔ وکیلِدرخواست گزار

آپ قومی ائیرلائن کو اس انداز میں چلا رہے ہیں جیسے یہ آپ کے اہل و عیال کا کاروبار ہو۔ آپ پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز کو کیسےچلا سکتے ہیں جبکہ آپ ہی وہ فرد ہیں جس نے شاہین ائیرلائن کو بری طرح ناکام کیا؟۔ جج سپریم کورٹ آف پاکستان

آپ ان سب  (چار عدد ائیر مارشل، دو عدد ائیر کموڈور، تین ونگ کمانڈر اور ایک فلائیٹ لیفٹیننٹ، کل دس باوردی حاضر سروسافسران) کی تعیناتی کیسے کر سکتے ہیں جبکہ آپ خود ڈیپیوٹیشن پر ہیں؟۔ جج سپریم کورٹ آف پاکستان

آپ کی تعیناتی واضح طور پر اقرباء پروری کا نتیجہ ہے، غیر قانونی ہے اور ضوابط کے برخلاف ہےآڈیٹر جنرل آف پاکستان

عدالت کسی کو بھی پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز کی قسمت سے کھیلنے کی اجازت نہیں دے گی۔ سپریم کورٹ آف پاکستان

آپ کے دور میں پاک فضائیہ سے ڈیپیوٹیشن پر آئے افسران کو دی جانے والی مراعات میں قریب ۷۲ ملین روپے کے غیر قانونیاضافے کیے گئے۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان

آپ کی جانب سے دو صرف دو ماہ قبل ریجسٹر ہوئی کمپنی کو دیے گئے کانٹریکٹ کے ضمن میں قومی ائیرلائن کو ۷۰۰ ملین روپے کاخسارہ ہوا، آپریٹنگ ریوینیو کی مد میں ۵،۲۸۲ ملین روپے کا خسارہ ہوا، پاک فضائیہ سے ڈیپوٹیشن پر آئے افسران کے الاؤنس اورمراعات میں غیر قانونی اضافے کی مد میں ۷۲ ملین روپے کا خسارہ ہوا، قواعد و ضوابط سے ہٹ کر اور جعلی ڈگریوں کے حامل سٹافکی تعیناتی کی مد میں ۲۵.۶۸ ملین روپے کا خسارہ ہوا، جبکہ جناب کی ذات کو دوہری مراعات کی مد میں ۲.۹۹۵ ملین روپے کا خسارہہوا۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان

ان تمام بیانات و مشاہدات میں مخاطب ایک ہی فرد رہا جس کے ذمے قومی ائیرلائن کو کامیابی سے چلانا تھا۔ آڈیٹر جنرل آفپاکستان، سندھ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سبھی ایک صفحے پر رہتے ہوئے قومی ائیرلائن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کو گستاخی معافگدی سے پکڑنے کے چکر میں رہتے ہیں۔ یہ سلسلہ فروری ۲۰۲۰ تک جاری رہتا ہے۔

پھر یوں ہوتا ہے کہ ولی اللہ وقت جسے آج کل حاکم وقت کے قلمی نام سے بھی جانا جاتا ہے اصل حاکم اعلی نیا پاکستانبرانچ، سکنہراولپنڈی کے آگے جھولی پھیلا کر مدد مانگتا ہے۔ غیب سے آواز آتی ہےنصر من اللہ و فتح قریب۔

اس کے بعد سی ای او پی آئی اے کے حق میں ٹھنڈی ہوائیں چلتی ہیں اور ان کی گدی کی جانب اٹھنے والے تمام ہاتھ ٹنڈے کردیے جاتے ہیں۔ نہ ہی آڈیٹر جنرل آف پاکستان سے پوچھا جاتا ہے کہ گستاخ بھلا تمہاری ہمت کیسے ہوئی اس قدر جلیل القدرشخصیت پر ایسی گھٹیا دشنام طرازی کی، نہ سندھ ہائی کورٹ سے استفسار ہوتا ہے کہ جنگی علوم پر مہارت رکھنے والے ہرے پوشکے لیے ایسا طرز تخاطب۔ سب چھوڑیے خود سپریم کورٹ کو بھی ویری سپریم کورٹ کی جانب سے ہدایت ملتی ہے اور ان کےشرپسند دماغ سے ماضی کی یادیں تلف کر دی جاتی ہیں۔ پھر وہی ہوتا ہے جو اصل حاکم اعلی نیا پاکستان برانچ، سکنہ راولپنڈی چاہتاہے۔ قومی ائیر لائن کے سی ای او سے باوردیملک و قومکےبہترین مفادمیں اپنیخدماتجاری رکھنے کی استدعا کی جاتیہے جس کی قیمت پہلے ہی قوم و ملت اربوں کھربوں روپے کی (نا)جائز مراعات کی شکل میں ادا کر چکی ہے۔

مجھے یقین ہے ان تمام تر قصے کے وہی گھسے پٹے جواب ملنے ہیں۔کتنے میں بکے؟،غدار،پہلے والے کرپٹ تھے،تمفوج کے خلاف ہو،پٹواری،کھوتا خوروغیرہ وغیرہ وغیرہ وغیرہ۔ اسے خوبی سمجھیں، ڈھٹائی یا دونوں، مجھے ان سے کوئی فرقنہیں پڑنے والا۔

البتہ ایک بار گزشتہ روز حادثے کا شکار ہونے والے جہاز میں سوار شہداء کےلواحقین کی جگہ خود کو رکھ کر ایک لمحے خود سے یہ سوالضرور کیجئے گا۔۔

آڈیٹر جنرل آف پاکستان ہو، قومی ائیرلائن ہو، سندھ ہائی کورٹ ہو، سپریم کورٹ آف پاکستان ہو، پاک فضائیہ ہو یا اس تمامڈرامے بازی میں ملوث اداروں سے نتھی کوئی اور متعلقہ افراد، ان سب کی طرف سے ڈکارے جانے والے حرام کو ٹھیک طرح سےاستعمال کیا جاتا تو کیا یہ تمام افراد اپنے عزیز و اقارب کے ساتھ عید منا سکتے تھے؟

میرا خیال ہے سوال مشکل ہے۔ چلئے میں آپ کو آسان سا جواب دیے دیتا ہوں۔

آئی کو کون ٹال سکتا ہے؟

شاید اب وقت آچکا ہے کہ ہم اپنے قومی سانحات پر اٹھنے والے سوالات کے لیے اسی ایک سطر کو “قومی جواب” کا درجہ دےڈالیں۔

معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *