• صفحہ اول
  • /
  • مشق سخن
  • /
  • سَلّو کی چائے،اُس کا ہنر ،میرا ٹھکانہ۔۔۔۔۔۔حسین خالد مرزا

سَلّو کی چائے،اُس کا ہنر ،میرا ٹھکانہ۔۔۔۔۔۔حسین خالد مرزا

ایک چیز  اپنی ضرورت اپنی کمائی سے حاصل کی جائے تو اُس کی قدر ہوتی ہے، جس طرح کسی نے محنت کر کے اپنے وزن میں توازن برقرار رکھا ہو تو اُسے معلوم ہوتا ہے کہ کیا اُس نے منہ میں چبانا اور کیا نگلنا ہے۔ ہمارے ہاں لڑکوں سے ایسا مطالبہ کیا جاتا ہے کہ جا کچھ پیسے کما کر لا، میرے خیال سے اس مطالبے کے پیچھے کئی وجوہات میں سے ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اُسے پیسے کی اہمیت پتا لگے، میرے خیال سے بہتر ہی ہے کیونکہ اس کا یہ بھی فائدہ ہوتا ہے کہ جب گھر سے باہر یا دوسرے کمرے میں جانا ہے تو پنکھا، لائٹ یا پھر ٹی۔وی بند کر کے جانا ہے، یہ چیزیں آہستہ آہستہ بڑھتی عمر کے ساتھ سمجھ میں آنے لگتی ہیں۔ اب یہاں میں یہ بھی بات کرتا چلوں کہ  کمانے میں اور مل جانے میں فرق ہوتا ہے، جس طرح ہمارے یہاں پر رواج یہ بھی ہے کہ اپنی بچوں کو تتی ہوا نہ لگنے دی جائے، وہ ساری باتیں ٹھیک ہیں، پیار اور لاڈ انسان کو ایسا کرنے پر مجبور کر دیتا ہے، مگر ہمارے ملک کی بڑھتی ہوئی آبادی اور مہنگائی، ( مہنگائی کا لفظ استعمال کرنے کا دل نہیں کر رہا تھا، کیونکہ میں پی۔ٹی۔ آئی کا سپورٹر ہوں)اس بات کا مطالبہ کر رہی ہے کہ ہر فرد جی جان مار دے۔
لیکن بات وہی آگئی ناں! جو ہمیشہ کہتا ہوں کہ لڑیں گے تو جیتیں گے، ہاتھ پر ہاتھ دھرے رہنے سے اور مسیحا کا انتطار کرنے سے، پھر دوبارہ سے کوئی مسیحا آئے گا اور ہم پر  مسلط ہو جائے گا۔ اسی لیے بہتر ہے کہ اپنی حالت خود ہی سنبھال لیں، پہلے، ڈگمگا تو ہم گئے ہیں بس اِس بات کا خیال کرنا ہے کہ  کہیں لُڑک ہی نہ جائیں۔
میں نے کہیں پڑھا  ہے کہ  آپ کوئی ہُنر سیکھنا چاہو، اور پوری نیت سے سیکھنا چاہو تو پانچ ہزار گھنٹوں میں عبور حاصل کر سکتے ہو، پانچ ہزار گھنٹے تقریباً چھ ماہ، تین ہفتے اور چار دن بنتے ہیں۔ یہ وہ وقت ہے جو آپ مشق میں صرف کرتے ہو یا یوں کہہ لیں کہ مکمل طور پر کام کے جو اوقات ہوتے ہیں، وہ چھ ماہ، نہیں سات ماہ لگ ہی جاتے ہیں، بس نیت ہونی چاہیے کہ  کرنا ہے۔ اب بات پھر آگئی  ہنر سے کمانے کی، جب وقت آتا ہے ،جب جیب میں کچھ نوٹ ہوتے ہیں تو وہ خوشی آپ کو بتاتی ہے  کہ  واقعی آپکی محنت رنگ لائی، پھر وہی بات کہوں گا جو پہلے بھی کسی آرٹیکل میں کہی تھی کہ  بس یہ تعین کر لیں کہ  آپ نے کرنا کیا ہے۔
ہم ہر  فن مولا  نہیں بن سکتے، لیکن اگر ہمیں ہر کام میں اپنا رنگ جمانے کا اتنا  ہی شوق ہے تو یوں کر لیں کہ  کسی ماہر سے پوچھ لیں کہ  یہ جو میں ہر سڑک پر پلٹ پلٹ کے جا رہا ہوں کیا میرا کوئی ایسا ٹھکانہ ہو گا، جسے میں منزل کہہ سکوں۔
ٹھکانے سے یاد آیا، ایک میرے بہت ہی قریبی دوست نے پونچھ روڈ پر اپنا ٹھکانہ بنایا ہے، چائے بنانے میں مہارت تھی اُسکو،اب پونچھ روڈ پر میرا  نہیں خیال سے سلمان سے بہتر کوئی اسلوب سے چائے بیچتا ہے، وہ کر رہا ہے کام اور بہتر سے بہتر کرنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے، میں ہر روز اُس کی دکان کے پاس  سے گزرتا ہوں، ایک کام کی بے چینی  اُس کے چہرے پر نظر آتی ہے، وقت کے ساتھ ساتھ اللہ اُسے ترقی سے گا، دوستوں کی دعائیں تو ہیں  ہی اُس کے ساتھ ۔
اسی وجہ سے کہتا ہوں نوٹوں کو لے کر پریشان تب ہونا جب ہاتھ میں ہنر نہ ہو۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *