بیگانگی۔۔۔رضی حیدر

ان الفاظ کا کیا جائے جو حلق تک آ کر رکے ہوئے ہیں، مگر ہائے وہ احترام کا رشتہ جس نے ہم سے بولنے کی صلاحیت چھین لی۔
یہ ناقابل بیان تکلیف ہے
وہ ہمارے سامنے ہمیں بے بس کر تے رہے اور ہمارا تماشا پھر دنیا نے دیکھا۔ وہ باتیں وہ فلسفہ جن کے ہم خود پیغبر تھے پھر وہی چیزیں ہمیں بدلے میں سننے کو مل رہی ہیں ۔
معاملہ کب سچ اور جھوٹ کا تھا مسئلہ بے بسی کا ہے اور ہمیں یہ اعتراف کرنے میں کوئی  حرج نہیں ،ہمیں ان سے الفت ہوگئی ۔پھر جہاں الفت ہوتی ہے کیا کریں ان گلِے  شکوؤں کا جو پیدا ہو گئے۔یقین مانو وہ میرے بس میں نہیں تھا۔مجھے تمہیں دیکھنے سے فرصت ملتی تو میں سوچتا ہم کس سمت کی جانب گامزن ہو گئے ہیں۔
اب اگرچہ میں اس راہ پر بہت دور نکل آیا اور مجھے آس پاس صرف تمہارے سائے کے علاوہ جس نے ہر چیز کا احاطہ کیا ہوا ہے۔پورا راستہ جو مجھے ہر قدم پر منزل کی جانب چلنے سے روکتا رہتا ہے ، تمہارے رنگ میں رنگا ہوا ہوا ہے ۔
میں آنکھیں بند بھی کر لوں تو ان ہواوں کا کیا جس کے ہر جھونکے میں تمہارے لمس کا احساس پنہاں ہے۔
اب دوہرا ہے میرے ہم نوا جس پر جانے سے پہلے میں تمہیں بتانا چاہتا ہوں اب تک جتنا بھی وقت گزرا مجھے یہی احساس رہا تمہاری میری منزل ایک ہی ہے ۔
ہائے یہ وقت کی ستم ظریفی ۔۔۔!
جو اب جھنجھوڑ رہی ہے اور یہ باور کر رہی ہے کہ تم اب راستہ بدلنے کو ہو۔۔۔
ایک بات اس سے پہلے ۔۔۔کہ میں مارے درد کے خاموش ہو جاؤں، بتلاتا جاؤں چاہے یہ تمہارے بچھڑ جانے کا فسانہ کتنا ہی سچا نہ ہو میں اس پر ایمان لانے سے قاصر ہوں۔۔۔!
میں کفر کی حالت میں مارا جانا پسند کروں گا۔

رضی حیدر
رضی حیدر
بارہواں کھلاڑی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *