ڈئیر مایا ۔۔۔ کامران طفیل

ڈئیر مایا!
تمہارا خط ملا،جواب دینے میں تاخیر ہوئی۔
دراصل خط کو ایک نشست میں پڑھنا دشوار لگ رہا تھا،پڑھائی والی عینک بھیگ جاتی تھی،لرزتے ہاتھوں سے شیشہ ٹوٹنے کے ڈر سے عینک سوکھنے کا انتظار کرنا پڑتا تھا۔
سامان کی تفصیل مل گئی ہے۔
ایک سو سولہ چاند کی راتوں میں سے کچھ راتیں خرچ ہوچکی ہیں،میں نے بہت احتیاط سے خرچ کی ہیں ورنہ کچھ باقی نہ بچتا۔
دیکھتا ہوں کتنی لوٹا سکتا ہوں،کہو تو کچھ رکھ لوں،جینے کی خواہش ابھی باقی ہے۔
کاندھے کا تِل پہلے سے مدہم ہوچکا ہے،اسے کھرچا تھا ایک بار اور سہلایا تو بہت بار ہے۔
گیلی مہندی کی خوشبو کہاں رکھتا؟جھوٹ موٹ کے وعدے البتہ یاد ہیں وہ بھجوا دیتا ہوں۔
گیلا من بستر کے پاس ہی پڑا تھا لیکن اب میرے سینے میں دھڑکتا ہے،بھجوا دوں؟
اور بھی کچھ سامان پڑا ہے،بخار سے پھنکتی پیشانی پر تم جو ایک بوسہ پیوست کیا تھا،بھجوا دوں؟
بالوں کی ایک لٹ ماچس کی ڈبیا میں پڑی ہے،ہوسکے تو میرے پاس رہنے دو۔
ایک اجازت دے دو بس!
جب ان کو بھجواوُں گا،میں بھی وہیں سو جاوُں گا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *