پٹواری صاحب کدی ہس وی لیا کرو۔۔۔۔۔۔۔۔فراست محمود

ویسے تو پاکستانی سیاست میں “ڈگری ،ڈگری ہوتی ہے اصلی ہو یا نقلی”,اذان بج رہا ہے”,مجھے کیوں نکالا”,میرے پاکستانیوں گھبرانا نہیں” اور اس جیسے کافی سارے ضرب الامثال مل جائیں گے جو پاکستانی سیاست کو چار چاند لگاکر اس کے چودہ طبق روشن کرنے کے لیے  کافی ہیں مگر جس لفظ نے میدان ِ سیاست میں سب سے زیادہ ترقی اور مقام حاصل کیا ہے وہ چھ حرفوں کا مجموعہ اور پانچویں سکیل (اب ناواں سکیل) کا خوبصورت لفظ “پٹواری” ہے۔

ماضی بعید میں اندرونی طور پہ پٹواری خواہ کتنے بھی گھناؤنے کردار کا مالک ہوتا تھا مگر بظاہر جب کسی پٹواری کو “پٹواری صاحب” کہہ کر پکارا جاتا تھا تو اس پٹواری کا سر فخر سے مزید دو انچ اوپر ہو جاتا تھا۔(اور تھا کا مطلب تمہیں آتا ہو گا)۔۔پٹواری کا کام زمین و جائیداد کا ریکارڈ برقرار رکھنا اور زمین و جائیداد کی خرید و فروخت کے متعلق تمام معلومات تحریری صورت میں سنبھال رکھنا ہوتا ہے۔
پاکستان کی بے رحم سیاست میں ہر دور میں پٹواری کا کردار بھی اہم رہا ہے حتٰی کہ جلسے جلوسوں میں شمولیت اور اخراجات بھی پٹواریوں سے حاصل کیے جاتے رہے  ہیں۔
چونکہ آج سیاسی پٹواری کا ذکر مقصود ہے جس کا مطلب گوگل پہ چیک کریں تو اربن ڈکشنری کے مطابق”ایک ایسا طبقہ جو کرپشن کی حمایت کرتا ہے اور جس کی اپنی کوئی مرضی نہیں ہوتی بلکہ کٹھ پتلی ہوتا ہے”۔

یہ اصطلاح عمومی طور پہ پاکستان مسلم لیگ نواز کے ووٹروں اور سپورٹروں کے لیے استعمال کی جاتی ہے اور خصوصی طور پہ یہ لقب تحریک انصاف کے ورکروں کی طرف سے ان لوگوں کے لیے بولا جاتا ہے جو پی ٹی آئی کی ہاں میں ہاں نہ ملاتے ہوں  اور پکے پٹواری وہ ہوتے ہیں جو عمران خان صاحب سے اختلاف بھی رکھتے ہوں۔اس کے مقابلے میں جو لفظ مسلم لیگیوں کی طرف سے تحریک انصاف کے ورکروں کو سننا پڑتا ہے وہ ہے “یوتھیا”۔
بظاہر یہ لفظ ان لوگوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جو مسلم لیگ ن کی ہاں میں  ہاں نہ ملاتے ہوں  اور لیگی قیادت کو سر عام چور کہتے ہوں۔یہ چھوٹے  نظر آنے والے دونوں لفظ   “نفرت،تعصب ،گالی،حسد”جیسے قبیح جذبات اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں۔

میری نظر میں پٹواری کو پٹواری جہالت،ضد،ہٹ دھرمی اور انا کی وجہ سے کہا جاتا ہے جو کسی کی بات سننے کے لیے تیار ہی نہیں ہوتا۔بظاہر یہ لفظ  ایک سیاسی جماعت کے ورکروں کے لیے  استعمال کیا جاتا ہے مگر پٹواری ایک خاص سوچ کا نام ہے جو کسی بھی پارٹی کا حصہ ہو سکتے ہیں۔جو اختلاف رائے کو گناہ سمجھتے ہوں۔جو شور مچا کر خود کو سچا ثابت کرنا چاہتے ہوں۔جو اخلاق کا دامن چھوڑ کر بد تہذیبی و بد تمیزی کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہوں  ۔جو بے مروتی کو سچ کا درجہ دیتے ہوں۔جن کے پاس دلیل نہ ہو تو فوراً گالی کا سہارا لیتے ہوں جو ظلم کو ظلم کہنے کی جرات نہ رکھتے ہوں ۔جو مظلوم کے بجائے ظالم کے ساتھ کھڑا ہونے کو فخر سمجھتے ہوں۔

معاشرے میں آپ کو ہر جگہ دودھ میں پانی ملاتے،ناپ تول میں کمی کرتے،بڑوں سے بد تمیزی کرتے ،چھوٹوں پہ ظلم کرتے، استادوں سے بے ادبی کرتے،شاگردوں سے زیادتی کرتے،چھوٹے منجھلے اور بڑے پٹواری نظر آجائیں گے۔اپنے نظریات خواہ کسی پارٹی کے ساتھ رکھیں مگر پٹواری بننے سے گریز کریں اور جنہوں نے پٹواری بنایا ہے انہیں بھی رانگ نمبر سمجھیں۔
نفرتیں بڑھ گئیں ہیں ان کا خاتمہ کیجئے۔۔محبتوں کا قحط ہے محبتیں بانٹیے۔۔

پرانے پاکستان کے پرانے پٹواری ظالم ہوتے تھے نئے پاکستان کے نئے پٹواری اخلاق سے عاری بے ادب اور بد تمیز ہیں۔
ظلم اور بداخلاقی دونوں پٹواریوں کی دونوں خوبیاں مدینہ جیسی ریاست میں قابل مذمت ہیں کیونکہ میں نے پڑھا ہے “کفر کا نظام تو چل سکتا ہے مگر ظلم کا نہیں”اور دوسری جگہ یہ بھی پڑھا ہے کہ “اگر ایمان کی تکمیل چاہتے ہیں تو اخلاق کو اپنا شعار بنا لو۔
(کچھ پٹواری ناسمجھی میں ضد لگا کر رکاوٹوں کو عبور کرکے سیدھا چلنے کی ضد پکڑ لیتے ہیں اور اپنا کیرئیر تباہ کر لیتے ہیں اور کچھ پٹواری سمجھداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے رکاوٹیں آنے پہ یو ٹرن لے کر  بڑے    عہدے پہ ترقی پا جاتے ہیں)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *