ویڈیوز کی چھان بین کب ہوگی؟۔۔۔عبدالحنان ارشد

ن لیگ کی ایک ہفتہ پہلے ہونے والی پریس کانفرنس میں شہباز شریف کی باڈی لینگویج سے صاف ظاہر تھا انہیں ترلے واسطے کے ساتھ اُدھر بیٹھایا گیا تھا۔ میرا ماننا ہے شہباز شریف اس پریس کانفرنس کے بالکل بھی حق میں نہیں تھے۔ کیونکہ وہ اداروں کے ساتھ اعتدال کا راستہ اپنانا چاہتے ہیں۔ جبکہ مریم نواز کافی عرصہ سے تصادم کی طرف بڑھ رہی تھی اور یہ پریس کانفرنس اسی تصادم کا طبل گردانا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مریم نواز نے مزید ویڈیوز بھی منظرِ عام پر لانے کا عندیہ دیا ہے۔

لیکن سوال پھر وہی اٹھتا ہے جو پاکستان میں اس طرح کی واردات کے بعد اٹھتا ہے۔ مریم نواز کے پاس پہلے یہ ثبوت تھے تو پہلے کیونکہ نہیں سامنے لائے گئے۔ یا پھر پہلے یہ سارے ثبوت پسِ پردہ ڈیل اور این آر او لینے کے لیےاور پریشر بڑھانے کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔ جب ادُھر سے بات نہیں بنی تو ہنڈیا کو بیچ چوراہے پر پھوڑنا مناسب سمجھا گیا۔

جب کے دوسری طرف میرے بھولے بھالے روٹی کو چوچی کہنے والے جج ارشد ملک صاحب ہیں۔ جو پہلے تقریباً ڈیڑھ دو سال تک چپ کا روزہ رکھے رہے ہیں۔ اس ویڈیو کے منظرِ عام پر آنے کے بعد موصوف کو یاد آیا کہ مجھے تو میاں نواز شریف کے خلاف کیس سنتے ہوئے فیصلہ میاں صاحب کے حق میں دینے کے لیے رشوت کی پیش کش کی گئی تھی۔ پیار سے بھی سمجھانے کی کوشش کی گئی تھی۔ بات نہ ماننے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی گئیں تھیں۔ جناب کو آج یہ ساری باتیں یاد آ گئیں۔ جب نواز شریف کا کیس سنتے وقت ہر پندرہ دن بعد احتساب عدالت نے عدالتِ اعظمیٰ کو اپنی رپورٹ پیش کرنا ہوتی تھی۔ تب وہاں وہ یہ رشوت اور سنگین نتائج کی دھمکیاں لکھنا شاید بھول گئے ہوں گے۔ جب کہ  اُن دنوں ثاقب نثار صاحب کا جوڈیشل ایکٹیووزم بھی بہت مشہور تھا۔ لیکن اب بات اُن پر آئی تو انہیں بھی وہ ساری پرانی گم گشتہ باتیں یاد آ گئیں۔ اب بھی محترم نے انصاف کی دُہائی دی ہے وہ شاید بھول گئے۔ انصاف فراہم کرنا اُن کا اپنا ہی کام ہے۔

اب ہونا یہ چاہیے  کہ اِن ویڈیوز کی انکوائری کی جائے تاکہ عوام کے سامنے سب دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے۔ مریم نواز کے پاس مزید جو ویڈیوز ہیں اُن کی بھی مکمل چھان بین ہونی چاہیے۔ تاکہ عوام کو کسی بھی طرح کے مخمصے میں مبتلا نہ کیا جا سکے۔

عبدالحنان ارشد
عبدالحنان ارشد
عبدالحنان نے فاسٹ یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنس کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ ملک کے چند نامور ادیبوں و صحافیوں کے انٹرویوز کر چکے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ آپ سو لفظوں کی 100 سے زیادہ کہانیاں لکھ چکے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *