urdu - ٹیگ

قائد اعظمؒ کے دفاع میں ایک کتاب۔۔۔محمد اظہار الحق

’قائد اعظم کا پاکستان بنانے کا فیصلہ درست تھا۔ قائد اعظم کی بھارت پر اعتبار نہ کرنے والی بات آج درست ثابت ہو رہی ہے۔ قائد اعظم نے ٹھیک کہا تھا بھارت پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا‘‘ یہ الفاظ←  مزید پڑھیے

ادویات کا راشن کارڈ۔۔۔جاوید چوہدری

کیا آپ ڈاکٹر ہیں“ میں نے پوچھا‘ وہ چونک کر میری طرف مڑا‘ مجھے غور سے دیکھا اور ہنس کر بولا ”جی نہیں چودھری صاحب“ میں نے پوچھا ”پھر آپ میڈیکل سٹور چلاتے ہوں گے یا گھر میں فری ڈسپنسری←  مزید پڑھیے

عصمت چغتائی عورتوں کی اندھیری دنیا سے زیادہ مردوں کی چالاک دنیا کو اجاگر کرتی ہیں۔۔۔یاسمین رشیدی

عصمت نے نہ صرف زبان پر پدری اجارہ داری کو توڑا بلکہ اپنی مخصوص زبان اور لفظیات سے ایک ایسی دنیا تشکیل دی جہاں عورت،انسان بھی ہے اور آزادی سے سانس بھی لیتی ہے، زنجیروں کو توڑتی بھی ہے؛ دکھ←  مزید پڑھیے

میرٹ, سیاست اور جبی سیداں۔۔سید ذیشان حیدر بخاری

جبی سیداں آزاد کشمیر بلکہ پورے پاکستان کا سب سے زیادہ پڑھا لکھا گاؤں ہے۔اس گاؤں نے ریاست کی خدمت اور ترقی کے لئے بے شمار ڈاکٹرز, انجینئرز, وکلاء, بیوروکریٹس, اساتذہ مہیا کیے جواپنے اپنے متعلقہ میدان میں خدمات سرانجام←  مزید پڑھیے

ایک تصویر ایک کہانی۔۔۔شفیق زادہ/تیسری کہانی

میڈم ڈینگی سے بچ کے رہنا بابو ! سالا ایک مچھر آدمی کو ٹائیں ٹائیں فش کر دیتا ہے مگر مچھرنی، اُف توبہ ، پوچھیں مت، یہ نازک اندام پتلی کمر والی باربی ڈول پہلے بستر اور پھر بکسے میں←  مزید پڑھیے

بلیک میلر۔۔۔عنبر عابر

آج پھر اس کا فون آیا تھا۔اس کا دل کانپ رہا تھا اور وہ چور نظروں سے آس پاس دیکھتے ہوئے مدھم لہجے میں بلیک میلر سے بات کر رہی تھی۔وہ بول رہا تھا۔۔ “دیکھو شہزی! آج میری طرف سے←  مزید پڑھیے

ورلڈ کپ میں پاکستانی کھلاڑیوں کی مایوس کُن کارکردگی۔۔۔۔۔سجاد حیدر

کرکٹ ورلڈکپ 2019 کا اختتام ہوا اور کیا خوب ہوا۔ فائنل میچ صدیوں تک یاد رکھا جائے گا۔ اس ٹورنامنٹ کے آغاز سے ہی پاکستانی شائقین کی نظریں سیمی فائنلز پر مرکوز تھیں۔ اگرچہ پہلے میچ سے ہی پاکستانیوں کی←  مزید پڑھیے

ہن آرام اے؟۔۔۔۔سخاوت حسین

وہ پانچ بھائی تھے-ان کے گھر کا دستو ر تھا کہ ہر دو سال بعد ایک بھائی کو جوائنٹ فیملی سسٹم کا سربراہ بنایا جاتا تھا۔ جس کے فرائض میں گھر کے معاشی نظام سے لے کر معاشرتی نظام تک←  مزید پڑھیے

نیلم احمد بشیر کی کتاب “وحشت ہی سہی” کے بارے۔۔۔۔امجد اسلام امجد

عالمی ادب کی تاریخ میں خواتین لکھنے والیوں کا ذکر, اٹھاویں صدی عیسویں سے قبل خال خال ہی ملتا ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ یہ ایک بہت لمبی اور پیچیدہ داستان ہے۔ امرِ واقعہ یہی ہے کہ یونان کی سیفو, ہندوستان←  مزید پڑھیے

خواجہ سرا برادری اور ہمارا بے رحم سماج ۔۔۔۔۔محمدحسین ہنرمل

انسانوں کی اس قابل رحم کمیونٹی کے افراد کیلئے عربی زبان میں ”خنثیٰ“کا لفظ استعمال ہوتاہے۔ انگریزی زبان میں Transgenderجبکہ پاک وہند میں یہ خواجہ سرَا، ہیجڑے اور کُھسرے جیسے ناموں سے پکارے جاتے ہیں۔ کیا ہم نے کبھی غور←  مزید پڑھیے

پشاور کے غنڈے اور کراچی کی روبی۔۔۔۔۔عارف خٹک

رات کو محترمہ ڈاکٹر ساجدہ سلطانہ نے اکبر الہ آبادی کے حوالے سے منعقد کئے گئے ایک پروگرام میں مُجھے اور عابد آفریدی کو مدعو کیا۔ حالانکہ جامعہ بنوریہ سے سلمان ربانی صاحب کی دعوت تھی مگر سلمان ربانی بھائی←  مزید پڑھیے

رانی ۔۔۔ معاذ بن محمود

رانی کی نظر کونے میں لیٹی بیٹی شہزادی پر پڑی جس کی آنکھیں باپ کے خوف سے بند ہونے کے باوجود نم تھیں۔ اگلے کئی لمحات بشیرے کی جانب سے رانی کے بدن کو فتح کرنے کے سراب میں اپنی شکست سے آنکھیں پھیرنے میں صرف ہوئے۔ وہ لاکھ کوشش کے باوجود اب تک اس تمام عمل کی عادی نہ ہوپائی تھی۔ جس رات بشیرے کا نشہ زیادہ ہوتا یہ جنگ جیسے لامتناہی مدت پا جاتی۔ آج بھی یہی معاملہ تھا۔ ←  مزید پڑھیے

ول یو بی مائی ویلینٹائن؟ ۔۔۔ معاذ بن محمود

میرے ہونے والے نئے جانو۔۔۔ بعد سلام، جو میں نے کیا ہی نہیں، اور کروں بھی کیوں کہ میری ادائیں اور میرے نخرے مجھے روکتے ہیں، عرض ہے، بلکہ حکم سمجھو کہ میں اپنے موجودہ بوائے فرانڈ سے اکتا چکا←  مزید پڑھیے

منظور پشتین سے انٹرویو۔۔۔۔۔ عبدالحنان ارشد

ایڈیٹر نوٹ: ادارہ مکالمہ یہ بات واضح کرتا ہے  کہ  یہ انٹرویو  آزادی اظہار رائے  کی روح کے تحت شائع کیا جا رہا ہے۔  ادارہ انٹرویو کے مندرجات سے بری الذمہ ہے۔ انٹرویو ور نوٹ: اس انٹرویو کو کرنے کی←  مزید پڑھیے

باغی کون؟ آپ یا ہم گوبھیاں؟ ۔۔۔ معاذ بن محمود

حضور والا، راؤ انوار نے کون سا کشتہ یا کون سی سلاجیت کھائی ہے کہ اس کے پاس اس قدر طاقت آگئی کہ چار سو قتل کر کے بھی وہ اپنے گھر میں عیاشی کر رہا ہے؟ سرکار، آپ لوگ بندوق والوں کی جی حضوری کرتے ہوئے کہتے ہیں انہوں نے بالکل خواتین کی بے حرمتی نہیں کی۔ ہم آپ سے مکمل اتفاق کرتے ہیں۔ خواتین سے دراندازی کا امکان ہم کم از کم پاک فوج کی جانب سے مکمل رد کرتے ہیں۔ ہمارے جوان اس نہج پر ہرگز نہیں جا سکتے۔ لیکن حضور، آپ کے کئی حوالدار یہ بات برملا مانتے ہیں کہ آپ ہی کے لوگوں نے خیسور کے حیات خان کے گناہوں کے بدلے اس کے باپ اور بھائی کو اٹھایا ہوا ہے۔ اور پھر آپ کہتے ہیں نامعلوم افراد بندے غائب نہیں کرتے؟ جناب عالی، سانحہ ساہیوال بیج بونے والی ریکی کس نے کی؟ آپ نمبر ون ہیں، جہاں تک ہمیں آپ کے حوالدار بتاتے ہیں۔ کیا یہ سوال اٹھانا ناجائز ہے کہ ایسے کتنے اور واقعات پیش آئے جہاں معصوم افراد کو دہشتگرد بنا کر ان کے اہل خانہ کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ لگایا جا چکا ہے؟ حضور، کیا ہم نہیں جانتے کہ نقیب اللہ جیسے جوان سمیت چار سو افراد کو قتل کرنے والا راؤ انوار ذاتی حیثیت میں ہرگز اس قدر طاقتور نہیں ہو سکتا کہ اسے چھوا بھی نہ جا سکے؟ کیا ہم نہیں جانتے کہ ریاست پاکستان میں وہ کون سی واحد طاقت ہے جس کے آگے تمام ادارے تمام قانون اور ضابطے بے بس پڑ جاتے ہیں؟ سرکار، کیا یہ حقیقت نہیں کہ راؤ انوار نے یہ سینکڑوں قتل اس دور میں کیے جب رینجرز کو سندھ میں کھلی چھوٹ ملی ہوئی تھی؟ ←  مزید پڑھیے

ہمیں مزید لاشیں نہیں چاہییں ۔۔۔منصور ندیم

بچپن سے اکثر یہ دیکھا تھا کہ مختلف مذہبی مواقع پر ذاکرین حضرات یا ہمارے کچھ خطیب حضرات وعظ کے دوران کسی بھی واقع کو اس قدر مبالغہ اور جذباتی کیفیات کے ساتھ سنا کر اس واقعے کی اصل فکری←  مزید پڑھیے

ہو جس سے اختلاف اسے مار دیجیے ۔۔۔ معاذ بن محمود

آج اگر ہم سب اس بات پر متفق ہیں کہ پولیس کے زیر حراست قتل ناجائز ہے تو پہلے اس ناجائز کو منطقی انجام تک پہنچائیے۔ جب خود کش دھماکے ہو رہے تھے تو ہمیں بیک آواز ان کی مذمت کرنی تھی پھر چاہے خود کش کے ذہن میں ستر حوریں چل رہی ہوں یا پھر ان کی برین واشنگ ہوئی ہو۔ جو سوالات ایک کھلے قتل کو سازش ثابت کرنے کے لیے آپ اٹھا رہے ہیں وہ ذیلی ہیں۔ اصل اور اہم ترین مدعا یہ ہے کہ یہ قتل ہوا ہی کیوں۔ احتجاج کرنے والے کو پولیس اٹھا کر کیوں لے کر گئی۔ کیا دھاندلی کے خلاف کنٹینر پر احتجاج کرنے والا، یا عدلیہ بحالی لے لیے لانگ مارچ کرنے والا کسی پشتون کے احتجاج کی نسبت زیادہ حق رکھتا ہے؟ اگر نہیں تو جو حق انہیں تھا آج اپنا پرامن احتجاج کرنے والوں کو کیوں نہیں؟←  مزید پڑھیے

مردِ آہن ۔۔۔ معاذ بن محمود

یہ ایک وسیع ہال تھا جسے انگریز کے زمانے میں کوئلہ ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ یہاں دیواروں پر رنگ کی تہہ در تہہ جمی پڑی تھی جسے ذرا سا کھرچنے پر کوئلے کی کالک حال کو←  مزید پڑھیے

بدلتے رنگ اور کتے کے آنسو ۔۔۔ محمد اشتیاق

ہمارے وزیر اعظم صاحب جو پودوں کو پانی نہ ملنے پہ دکھی ہو جاتے تھے خاتون اول جو مذہبی طور پہ کتوں کو نحس سمجھتی تھیں لیکن ایک "کتے" کی آنکھ میں آنسو دے کہ اپنے مذہبی نکتہ نظر میں تبدیلی پیدا کر کے اسے گھر میں رکھنے پہ آمادہ ہو گئیں آج 3 بچوں کے کپڑوں پہ خون دیکھ کہ کتنی دکھی ہوئی ہوں گی۔←  مزید پڑھیے

ٹنڈو بہاول سے ساہیوال تک ۔۔۔ معاذ بن محمود

وہ دونوں اپنے ہنستے بستے گھرانے کی تباہی کے بدلے انصاف مانگنے سربازار کھڑی ہیں۔ زندگی کا بوجھ اٹھائے وہ حاکم وقت سے انصاف کی بھیک مانگ مانگ کر تھک چکی ہیں۔ رات ماں سے لپٹ کر دونوں جس قدر ممکن ہوا جی بھر کر رو چکی ہیں۔ آنسو ہیں کہ خشک ہیں۔ زندگی اب ویسے بھی بے معنی ہے کہ ان کے محافظ منوں مٹی تلے دفنائے جا چکے ہیں۔ ماں کی پتھرائی آنکھیں اور معاشرے کی بے حسی اب انہیں احساس سے ماورا اقدام کی چٹان پر کھڑا کر چکے ہیں۔ ان کا احتجاج اب ایک تماشے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔ شاید فیصلہ ہوچکا ہے تبھی تاخیری حربے آزمائے جارہے ہیں۔ مگر فیصلہ ان دونوں کے لیے ناقابل قبول ہے۔ شاید کوئی اور ہوتا تو رو دھو کر خاموش ہوجاتا لیکن ہر کوئی کہاں ان دونوں کی طرح ضدی ہوا کرتا ہے؟←  مزید پڑھیے