urdu - ٹیگ     ( صفحہ نمبر 3 )

قارئین کرام کی مختلف اقسام ۔۔۔ معاذ بن محمود

پچھلے چند سالوں میں انٹرنیٹ پر اردو لکھت پڑھت کے حوالے سے کافی مثبت پیش رفت ہوئی۔ تیزی سے معدوم اور رومن رسم الخط کے ہاتھوں برباد ہوتی اردو نے ایک بار پھر سوشل میڈیا کے ذریعے عام آدمی تک←  مزید پڑھیے

کون سا والا تِل؟ ۔۔۔ محمد اشتیاق

  “سب سے پہلے ہم ہارڈ ڈسک کو فارمیٹ کرتے ہیں”، خرم نے اپنی آنکھوں کی چمک کو کم کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے پیشہ ورانہ انداز اپنانے کی کوشش کی۔   عمل نے آنکھ کے کونے سے ٹھنڈی←  مزید پڑھیے

پستان اور مرد ۔۔۔ حسن کرتار

“تیرے پستانوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے!” ہائے  تمہاری آنکھیں تمہاری زلفیں تمہاری کمر یہ چال۔۔۔ ایسی یا اس سے ملتی جلتی باتوں سے اردو شاعری اور لٹریچر بھرا پڑا ہے۔ مگر پستانوں کے متعلق بہت کم باتیں←  مزید پڑھیے

سوشل میڈیا کے خودساختہ دانشوروں کے نام ۔۔۔ عبد اللہ خان چنگیزی

سوشل میڈیا یا سادہ الفاظ میں سماجی رابطوں کے ذرائع پر آج کل لاتعداد ایسے حضرات کی بھر مار ہے جو خود کو کسی بھی موضوع پر بحث و مباحثہ کرنے کا اہل سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک ایسا کوئی←  مزید پڑھیے

موٹیویشنل سپیکنگ ۔۔۔ معاذ بن محمود

آپ نانبائی ہیں اور گاہک آپ سے بدتمیزی سے بات کر رہا ہے تو آپ تندور میں خاموشی سے تھوکنا شروع کر دیجیے۔ گاہک جا وقت تھوک والی روٹی خوشی خوشی آپ کو ذلیل کر کے اپنی جیت کے احساس کے ساتھ گھر لے جا رہا ہوگا عین اسی وقت آپ ایک کمینی سی خوشی محسوس کر رہے ہوں گے جو آپ کو موٹیویٹ کرے گی۔ آپ انفارمیشن ٹیکنالوجی سے وابستہ ہیں اور کسی بات پر غصہ ہے تو پروڈکشن سرور ڈاؤن کر کے نیٹورک ٹیم پر الزام لگا دیجیے۔ آپ خاتون خانہ ہیں اور بچوں پر تپی ہوئی ہیں تو اپنے شوہر سے الجھنا شروع کر دیں اسے ٹھنڈا ٹھنڈا جلانا شروع کر دیں، سکون پائیں گی۔←  مزید پڑھیے

روم کیسے تباہ ہوا؟ ۔۔۔ رؤف کلاسرہ

  امریکہ دو سال سے نہیں آیا تھا۔ سچ پوچھیں تو پچھلے دو سال پاکستانی سیاست اور میڈیا میں ایسے گزرے جیسے آپ رولر کوسٹر پر بیٹھے ہوں ۔ کئی دفعہ باہر جانے کا پروگرام بنا لیکن ہر دفعہ ملکی←  مزید پڑھیے

ووٹ بھٹو سائیں کا ۔۔۔ کمیل بن زیاد

رپورٹر:- چھا حال ہے بابا۔۔ غریب ہاری:- سائیں اللہ بھلی کرے اچھی گزر رہی ہے۔ رپورٹر :- بابا کتنے بچے ہیں۔ ہاری:- سائیں چار بچے ہیں۔ ایک اسکول میں پڑہتا ہے، دو بیٹیاں میرے ساتھ وڈیرے کے کھیتوں میں کام←  مزید پڑھیے

کتھارسس یا قانون کی حکمرانی؟ ۔۔۔۔۔۔آصف محمود

دو خواتین کے لاشے سڑک پر پڑے ہیں ۔ ایک بوڑھی ماں ہے اس کا لاشہ اوندھے منہ پڑا ہے ، دوسری شاید اس کی بیٹی ہے ۔ ہجوم جمع ہے ۔ ایک صاحب کے ہاتھ میں موبائل ہے ،←  مزید پڑھیے

شاید خضر بچ جاتا ۔۔۔ راشد جلیل

حکومت کو چاہیے کہ ایک سیفٹی ریگولیشن بورڈ بنائے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ غیر معیاری ہیلمٹ کی فروخت کسی صورت نہ ہو سکے۔ دنیا کے تقریبا تمام ممالک میں سیفٹی بورڈز ہیں جو باقاعدہ ٹیسٹ کے بعد ایک سیفٹی سرٹیفکیٹ جاری کرتے ہیں کہ یہ ہیلمیٹ محفوظ ہے اور اس کا استعمال حادثے کی صورت میں آپ کو محفوظ رکھے گا۔ ←  مزید پڑھیے

سکونِ قلب کے متلاشی: عبداللہ یوسف علی ۔۔۔ آصف جیلانی

۱۰ دسمبر کو اس مفلس پر دل کا دورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ہوا۔ اس شخص کا کوئی عزیز رشتہ دار اس کی میت لینے نہیں آیا۔ پولس نے جب پاکستان ہائی کمیشن سے شناخت کے لئے استفسار کیا تو انکشاف ہوا کہ یہ مفلس ، ممتاز مسلم دانشور ، مشہور تاریخ دان ،ماہر تعلیم او ر قران پاک کے انگریزی مترجم اور مفسر، عبداللہ یوسف علی تھے۔ ←  مزید پڑھیے

رجوع کے فضائل اور پچیس ایمان افروز مثالیں ۔۔۔ معاذ بن محمود

پاکستانی سیاست میں یوٹرنز کے مؤجد جناب حضرت پیر، کپتان، لیڈر، راہنما، منزل، قائداعظمِ ثانی، مہاتیرِ پاکستان، منڈیلا دوئم، جانشینِ مہاتما، مقابل گدی نشینِ پاک پتن، خاتمِکرپشن، بانیِ ریاستِ مدینہ ثانی، فاتحِ عالمی کپ، مجاہدِ بائیس سالہ جد و جہد، وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان جناب عمران احمد خان نیازی مد ظلہ علیہ کہلائے جاتے ہیں۔ناعاقبت اندیش و خبیث مخالفینِ کا اگرچہ اس روایت پر اجماع ہے البتہ مقلدین و مجاہدین ناموسِ نیازی کے ثقہ راویان میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ مقلدین کے نزدیک یوٹرن کیاصطلاح مختلف ناموں سے زمانۂ جاہلیت یعنی جولائی ۲۰۱۸ سے پہلے تاریخ کے سیاہ پنوں میں ملتی رہی ہے۔ ←  مزید پڑھیے

پی جا ایام کی تلخی کو ۔۔۔ نسرین غوری

ہم بچیوں کو کب اس ضمن میں بریف کیا جائے اور کیا اور کیسے بریف کیا جائے پر مواد جمع کرنے پر لگے ہوئے ہیں۔ یہ پہلا کالم یا پہلا قدم صرف اور صرف اس موضوع پر سے شرمندگی کی دھول اتارنے کی غرض سے لکھا گیا ہے۔ کہ یہ انسانی زندگی کا ایک نارمل لازمہ ہے۔ جس سے جڑی پریشانیوں اور الجھنوں سے ہر خاتون کو گزرنا پڑتا ہے۔ ہم کب تک اس موضوع پر شرم اور شرمندگی کا پردہ ڈالے رکھیں گے۔ اور نارمل انسانوں کی طرح اس پر بات نہیں کریں گے۔←  مزید پڑھیے

دوسرے کی جنگ ۔۔۔عبدالحنان ارشد

الیکشن سے بات نکلی، بحث چل نکلی بڑے بھائی کا “مہاتما” ٹھیک، یا چھوٹے کا “چائنا کا نظریاتی”۔ لیڈروں سے شروع ہوئی لڑائی اس حد تک بڑھ گئی، کہ گھر جدا کرنے کی نوبت آن پہنچی۔ ساتھ کزنوں میں پروان←  مزید پڑھیے

بیادِ یوسفی۔۔۔ مبشر علی زیدی

’’یہ جیو کے پروڈیوسر ہیں، آپ سے ملنے آئے ہیں۔‘‘ سروش صاحب نے کمرے کے دروازے سے میرا تعارف کروایا۔ یوسفی صاحب نے خالی خالی نگاہوں سے مجھے دیکھا۔ میں جھجکتا ہوا اس کمرے میں داخل ہوا جو پرانی کتابوں←  مزید پڑھیے